
بسم الله الرحمن الرحيم
حمد و ثنا، شکر و تعریف، سب اللہ رب العالمین کے لیے ،جو خالقِ کل اور عالمِ کل ہے مالک الملک اور حقیقی الٰہ اور رب ہے۔درود و سلام، صلاۃ وتسلیم سرورِ انبیاء کے لیے جو امامِ کائنات، رحمتِ کائنات اور سید کائنات ہیں۔
ہمارے دین اسلام کی دو بنیادیں ہیں۔ دو وہ چیزیں ہیں جن سے اسلامی شریعت کے احکام لیے اور معلوم کیے جاتے ہیں اور وہ کیا ہیں: ایک اللہ کا قرآن اور دوسری نبی اکرمﷺ کی حدیث۔
آج ان شاءاللہ بات کریں گے حدیث کی کہ حدیث کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے اور اس کی ضرورت کیا ہے؟
سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ جس طرح قرآن پاک اللہ کی وحی ہے، اسی طرح حدیث بھی اللہ کی طرف سے وحی ہے۔ نبی اکرم ﷺ جو کچھ ارشاد فرماتے تھے، دین کے بارے میں، اسلام کے بارے میں اور شریعت کے بارے میں، وہ اللہ کی طرف سے ہوتا تھا۔ اللہ آپ کے دل میں ڈالتا تھا اور آپﷺ اپنی زبان مبارک سے اس کو ادا فرماتے تھے۔ آپ کا بحیثیت رسول کے فنکشن اور کام صرف یہ نہیں کہ نعوذ باللہ اور خدانخواستہ ایک ڈاکیے کی طرح آپ اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیں اور آپ کا کام ختم۔بلکہ اس پیغام کا مفہوم بتانا، معنی بتانا اور تقاضا بتانا یہ بھی آپﷺ کا کام تھا، جیسا کہ قرآن نے کہا:
﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾ (سورة الجمعه: 2)
یہ نبیﷺ آپ کو اللہ کی آیتیں پڑھ کے بھی سناتا ہے۔ لوگوں تک اللہ کی آیتیں اور قرآن کو بھی پہنچانا اور اس کی تعلیم دینا بھی ،اس کی ذمہ داری ہے ۔کہ اس کے اندر حکمت کیا ہے؟ اس کے معنی کیا ہیں؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ سب بیان کرنا بھی منصب نبوت میں شامل ہے۔ رب العالمین نے یہی بات اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی، جو ابھی خطبہ مسنونہ کے ساتھ میں نے پڑھی تھی۔ ارشاد ہوا:
﴿ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ﴾ (سورة النحل: 44)
ہم نے یہ ذکر حکیم، یہ قرآن پاک آپ پر اس لیے نازل کیا ہے، تاکہ آپ اسے لوگوں کے لیے کھول کر، واضح کر کے بتائیں، لوگوں کو یہ بتائیں کہ ان کی طرف کیا اتارا گیا ہے؟ ان کی طرف قرآن کا حکم کیا آیا ہے؟ یہ بتانا، اس کا بیان کرنا بھی آپ کے ذمے ہے اور وہ بیان ہی حدیث ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے بعد کہ حدیث بھی وحی ہے جو دوسری بات سمجھنی اور ذہن میں رکھنی چاہیے ، وہ یہ ہے کہ اس وحی کی پیروی بھی ضروری ہے۔ جس طرح قرآن والی وحی کی پیروی ضروری ہے، ان میں فرق کرنے کے لیے علماء نے قرآن کو ’وحی جلی‘ کہا ہے ، یعنی ظاہر قسم کی وحی اور حدیث کو ’وحی خفی‘ کہا ہےکہ آپ کے دل میں خفیہ طریقے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے کوئی بات ڈال دی۔
وحی جلی یعنی قرآن کی طرح اس وحی خفی کی پیروی، اتباع اور اطاعت بھی ضروری ہے۔ قرآن سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً سورہ آل عمران میں جنگ بدر کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُنزَلِينَ﴾ (سورة آل عمران: 124)
’’آپ جنگ بدر کے میدان میں مومنوں کو فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے یہ اچھا اور کافی نہیں ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ ‘‘
بعد میں فرمایا: ’’پانچ ہزار فرشتوں سے۔‘‘ یہ آپﷺ نے کیوں فرمایا؟ کیسے فرمایا؟ آپﷺ نے ایک غیبی بات کیسے بتا دی کہ عنقریب اے مسلمانو! صحابیو! تمہاری فرشتوں سے مدد ہونے والی ہے ؟ قرآن میں تو یہ بات نہیں ہے۔ قرآن نے تو اس کی خبر دی ہے کہ یہ بات آپ نے فرمائی۔ یہ آپ کو اسی وحی کے ذریعے بتایا گیا، وہ وحی جو قرآن میں نہیں ہے۔ اس وحی کے ذریعے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ ان مومنوں کی مدد کرنے والا ہے۔
پتہ چلا کہ وحی خفی بھی اسی طرح سر ماتھے پہ رکھنے اور پیروی کرنے والی چیز ہے جس طرح قرآن والی وحی ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس وحی پر عمل ضروری ہے۔ اس کی ایک اور مثال سورۂ حشر میں ہے، اٹھائیسویں پارے کی سورۂ حشر میں ، اس کے شروع میں ایک واقعہ کا ذکر ہے کہ یہودیوں کے ایک قبیلے کو ان کی بد عملی، بغاوت اور غداری کی سزا دینے کے لیے نبی اکرم ﷺ صحابہ کی جماعت کے ساتھ گئے۔ وہ محاصرے میں تھے لیکن ان کی فصلیں ان کے قلعے کے محاصرے کے باہر تھیں تو آپ نے حکم دیا کہ ان کھیتوں اور فصلوں کو کاٹ کے رکھ دو۔
قرآن کریم کے الفاظ ہیں :
﴿مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ﴾ (سورة الحشر: 5)
یہ کام کرنے کے بعد شاید کچھ صحابہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ عام حالات میں نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جنگ کی حالت میں بھی دشمن کی فصلیں، کھیتیاں، حتی الامکان نہ اجاڑو، ان کو برباد نہ کرو تو آج یہ حکم دیا کہ اس کو کاٹ دو۔ تو ہم نے کاٹ دیا، اب کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا ، یہ آپﷺ نے اپنی مرضی سے نہیں کہا بلکہ اللہ کے حکم سے کہا ہے۔
سوال یہ ہے اللہ کا یہ حکم کہاں ہے ؟ اللہ کے حکم ہونے کی بات تو کی جا رہی ہے، اس کی خبر تو دی جا رہی ہے، لیکن وہ حکم کہاں ہے، جس میں اللہ نے قرآن کے اندر فرمایا ہو کہ ان کھیتوں کو کاٹنا ہے، ان فصلوں کو اجاڑنا ہے۔ قرآن میں یہ بات کہیں نہیں ہے، بلکہ یہ بات آپ کی زبان مبارک سے نکلی، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ حدیث سے یہ بات نکلی اور اس کی بھی پابندی، پیروی اور اطاعت بہی صحابہ نے اسی طرح کی جس طرح وہ قرآن کی کرتے تھے۔
اس واقعہ اور اس آیت سے یہ بھی پتہ چلا کہ حدیث اسی طرح واجبِ اتباع ہے، جس طرح کہ قرآن پاک ہے۔ ان باتوں سے جو میں کر رہا ہوں، ان سے نبی اکرم ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ قرآن نے تو واضح کر دیا کہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ کی اطاعت ہے:
﴿ مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ﴾ (سورة النساء: 80)
جو اللہ کے رسول کی مانے گا، وہ اصل میں اللہ کی مان رہا ہوگا۔
آپ کی ماننا اللہ کی ماننا ہے، کیونکہ آپ کی بات اپنی طرف سے نہیں، اللہ کی طرف سے ہے:
﴿ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ﴾ (سورة النجم: 3)
آپ جو کچھ فرماتے ہیں، وحی کی بنیاد پہ اللہ کے حکم سے فرماتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک عورت مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آ کے کہتی ہے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ عورتوں کو جسم گدوانے یعنی ان پر مستقل نشان بنانے سے منع کرتے ہیں، جیسا کہ کچھ لوگ جسم پر کالے یا نیلے رنگ کے مستقل نشان (ٹیٹو) بناتے ہیں اور منع کرتے ہوئے قرآن کا حوالہ دیتے ہیں کہ قرآن کی وجہ سے میں منع کر رہا ہوں۔ عورت نے کہا کہ میں نے تو سارا قرآن پڑھا ہے، مجھے اس میں کہیں ایسی بات لکھی ہوئی نہیں ملی۔ تو آپ قرآن کا حوالہ دے کر کیوں اس سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: تم نے قرآن پڑھا ہے لیکن سوچ سمجھ کے نہیں پڑھا۔ کیا تم نے وہ آیت پڑھی ہے، جس میں اللہ نے فرمایا ہے :
﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ﴾ (الحشر: 7)
جو اللہ کے رسول تمہیں دیتے ہیں، یعنی جس چیز کا حکم دیتے ہیں، جو چیز عطا کرتے ہیں بطور حکم، اس کو مانو، اس کو لے لو اور جس سے منع کرتے ہیں، اس سے منع ہو جاؤ۔
صحابیہ نے کہا، آیت تو پڑھی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر آپ نے جس چیز سے منع کیا، سمجھ لو کہ وہ آپ منع نہیں کر رہے، اللہ منع کر رہا ہے اس لیے وہ تمہیں کرنی پڑے گی، اگر تم مسلمان ہو۔
حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ حدیث کی یعنی آپﷺ کے فرمان کی اور آپﷺ کے عمل کی، آپ کے نمونے کی اگر ضرورت تھی تو آپ کی زندگی میں تھی اور اب قرآن کو ہم آپ کے بغیر ایسے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ نہیں سمجھ سکتے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے حدیث لازمی ہے۔ اس کے بغیر قرآن سمجھ میں نہیں آتا۔
اگر ہم صرف عربی زبان اور عربی لغت سے قرآن سمجھنے کی کوشش کریں تو کامیاب نہیں ہوں گے۔ عربی ایک وسیع زبان ہے اور اس کے ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنیٰ ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ عربی کی ایک مشہور لغت ’لسان العرب‘ جو ہمارے آبائی کتب خانے میں موجود ہے، اس میں ، میں نے ’الصلاۃ‘ کا مطلب دیکھا کہ یہ جو بار بار اللہ نے فرمایا:
﴿ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ (سورة البقره: 43)
’’صلاۃ قائم کرو۔‘‘
تو ’صلاۃ‘ کہتے کسے ہیں؟ مجھے اس ایک لفظ ’الصلاۃ‘ کے بیس سے زیادہ، تقریباً بائیس معانی ملے اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف۔
صلوۃ کا ایک معنی دعا کا ہے۔ تو ایک آدمی بیٹھے بیٹھے دعا کرے جس میں نہ رکوع ہو، نہ سجدہ ہو، نہ نماز کی باقی چیزیں ہوں، وہ کہے کہ میں نے دعا کر لی، تو میری صلاۃ ادا ہو گئی، بات ختم تو کیا اس کی نماز ادا ہو جائے گی ؟ ہرگز ادا نہیں ہوگی۔
ایک معنیٰ لکھا تھا، سردی میں آگ جلانا ، آگ تاپنا، آگ سینکنا، ایک معنیٰ لکھا تھا آگ پر کباب بنانا، یہ بھی صلوۃ کا معنیٰ لکھا تھا۔ اب ایک آدمی سردی میں آگ بھی تاپتا ہے، سردی بھی دور کرتا ہے، کباب بناتا ہے، مزے اڑاتا ہے اور کہتا ہے جی میری صلاۃ ادا ہو گئی، نہیں ہوگی۔
ایک طرح کی گھڑ دوڑ کو بھی صلوۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مصلیٰ نمازی کو بھی کہتے ہیں اور مصلی اس گھوڑے کو بھی کہتے ہیں جو ریس میں سیکنڈ آئے اور اس طرح سیکنڈ آئےکہ اس کا سر پہلے آنے والے گھوڑے کی گردن کے ساتھ لگا ہو، یعنی جسے انگریزی میں Neck To Neck Race کہتے ہیں، یعنی پہلے اور دوسرے گھوڑے میں تھوڑا سا فرق بھی نہ ہو ۔
اب ایک شخص ریس کھیلتا ہے، گھوڑے دوڑاتا ہے، اس میں اس کا گھوڑا سیکنڈ آتا ہے، پہلے کے قریب رہتا ہے ، وہ کہتا ہے جی میں مصلی بن گیا، نمازی بن گیا، میری نماز اسی طرح ادا ہوگی تو کیا اس کی نماز ادا ہو جائے گی؟ نہیں ہوگی۔ کیسے ہوگی؟ نماز تو اس وقت ادا ہوگی، جب وہ اللہ کے رسول ﷺ کے اس فرمان پر عمل کرے گا:
«صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ» (صحیح بخاری:631) ’’ نماز اس طرح ادا کرو جس طرح میں نے ادا کی ہے، جس طرح میں نے سکھائی ہے۔‘‘
اسی طرح زکوٰۃ کی مثال ہے۔ زکوٰۃ کہتے ہیں پاکیزگی کو، زکوٰۃ کا لغوی معنی اور مطلب پاکیزگی ہے۔ اب کس چیز کی پاکیزگی؟ جگہ کی پاکیزگی ؟ جسم کی یا لباس کی پاکیزگی؟ کس چیز کی پاکیزگی؟ قرآن کو دیکھیں تو اس میں ایک مقام پہ سورہ مریم میں حضرت یحییٰ کا ذکر آیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کچھ خوبیاں اور ان کے کچھ فضائل بیان کیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا 0 وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَاةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا ﴾ (سوره مريم: 12-13)
’’ہم نے یحییٰ کو چھوٹی عمر میں فیصلے کرنے کا فن اور گُر بتا دیا، یہ فن چھوٹی عمر میں ہی انہیں عطا کر دیا ۔ آگے اور کیا دیا؟ طبیعت میں نرمی دی ، شفقت دی، مہربانی سکھائی اور زکوٰۃ دی۔‘‘
تو کیا اللہ تعالیٰ نے ان معنوں میں وہ زکوۃ ادا کی، جو ہم اپنے مال سے ادا کرتے ہیں ؟ نہیں، یہاں زکوٰۃ کا اصل معنیٰ اور ہے، یعنی پاکیزگی، مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پاکیزگی بھی عطا کی، کردار کی پاکیزگی۔ تو زکوٰۃ کا معنی پاکیزگی ہے، لیکن حدیث نے بتایا کہ وہ زکوٰۃ جس کا حکم اللہ تعالیٰ دے رہا ہے، اس سے مراد مال کی پاکیزگی ہے اور مال کی پاکیزگی کس طرح ہوتی ہے؟ کتنے مال میں سے کتنا دے دیں تو مال پاک ہو جاتا ہے اور اس کی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ یہ قرآن نہیں بتاتا، یہ حدیث بتاتی ہے۔ قرآن نے اس کے مسائل ضرور بتائے کہ فلاں فلاں آٹھ جگہ پہ تم اسے خرچ کر سکتے ہو، باقی تفصیل حدیث میں ہے، کتنا سونا ہو؟ کتنی چاندی ہو؟ کتنا مال ہو؟ کتنے جانور ہوں؟ کتنی پراپرٹی ہو؟ تو اس میں سے کیا اور کتنا دیا جائے گا؟ یہ قرآن نہیں بتاتا، یہ حدیث بتاتی ہے۔
پتہ چلا کہ حدیث قرآن کی تفصیل ہے، تفسیر ہے، بیان ہے اور وضاحت ہے۔ قرآن کو سمجھنا ہے تو حدیث کا سہارا لازماً لینا پڑے گا، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
حدیث کی اہمیت اور ضرورت کے حوالے سے اگلی بات یہ کہ بعض آیاتِ قرآنی کو اس وقت تک پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک حدیث نہ پڑھی جائے۔ حدیث کا سہارا نہ لیا جائے، اس لیے کہ ان کا ایک پس منظر ہوتا ہے، ان کی ایک Background ہوتی ہے۔
آیات کی شان نزول ہوتی ہے کہ وہ آیات آئیں تو کس ماحول میں آئیں، کس وجہ سے آئیں؟ اس پس منظر کو حدیث واضح کرتی ہے، یہ بھی حدیث کی ایک ضرورت ہے قرآن سمجھنے کے لیے۔ مثلاً قرآن نے کہا :
﴿ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ (سورة التوبه: 40)
اللہ اپنے دو خاص بندوں کا ذکر فرما رہا ہے، جو غار میں تھے۔
کس غار میں تھے؟ بندے کون تھے؟ ان کے حالات کیا تھے؟ آج تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ ان سے مراد نبی اکرم ﷺ اور ان کے یارِغار، رفیقِ خاص سیدنا ابوبکر مراد ہیں، لیکن یہ کہاں سے پتہ چلا؟ قرآن سے نہیں، اس کا پس منظر، اس کی تفصیل، اس کی شان نزول حدیث نے بتائی۔ قرآن نے اس تفسیر کو نہیں بیان کیا، اس سے پتہ چلا کہ آیتوں کے Background کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اٹھائیسواں پارہ آپ دیکھیں:
﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ (سورة المجادله: 1)
اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی، اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے تکرار کر رہی تھی، ایک معاملے میں بات کر رہی تھی اور اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی۔ یہ کون عورت تھی؟ اس کی شکایت کیا تھی؟ اس کا مسئلہ کیا تھا؟ اس کا معاملہ کیا تھا؟ قرآن یہ نہیں بتاتا۔ اگلی آیتیں پڑھیں تو کچھ نہ کچھ پتہ چلتا ہے کہ مسئلہ کیا تھا، لیکن اس کی پوری تفصیل قرآن سے معلوم نہیں ہوگی، بلکہ حدیث سے معلوم ہوگی۔
اس کے بعد اگلی بات یہ ہے کہ صرف اور صرف لغت اور Dictionary کا سہارا لینے والا قرآن کو سمجھنے کے حوالے سے کئی مقامات پہ مشکل میں پڑے گا ۔ قرآن نے دوسرے پارے کے شروع میں قبلے کی تبدیلی یا تحویل قبلہ کے حوالے سے کہا ہے:
﴿وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (سورة البقره: 149)
لفظی معنیٰ بنتا ہے ، جہاں سے بھی آپ نکلیں، اے نبی! یا اے قرآن کے پڑھنے والے ! جہاں سے بھی تم نکلو، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لو۔
لغت کے اعتبار سے ان الفاظ کو پڑھ کے ظاہری او رلفظی معنی ٰ سے تو یہ احساس ہوتا ہےکہ جہاں سے بھی نکلو، گھر سے نکلو یا کہیں اور سے جہاں بھی جانا ہو، تمہارا رخ قبلے کی طرف ہونا چاہیے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے، نہ ایسا ہو سکتا ہے، یہ صرف نماز کی بات ہے تو معلوم ہوا کہ لفظی معنوں پہ جائیں تو کہیں کے کہیں پہنچ جائیں گے۔ حدیث کی روشنی میں دیکھیں گے تو صحیح نتیجے پر پہنچیں گے۔اسی طرح قرآن نے کہا:
﴿ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴾ (سورة الأعراف: 31)
نماز کے وقت اپنی زینت لے لو، اختیار کر لو، اوڑھ لو۔ زینت لباس کو بھی کہتے ہیں، زیور کو بھی کہتے ہیں اور آرائش کو بھی کہتے ہیں تو یہاں ان میں سے کیا مراد لیں گے؟ ظاہر ہے لغوی معنوں پر جائیں گے تو کہیں اور پہنچ جائیں گے۔ صحابہ جو زبان دان تھے، جو عرب تھے، وہ بھی حدیث کے بغیر صرف زبان دانی کی بنیاد پہ قرآن کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے تھےاور اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مشہور واقعہ ہے، آپ نے علماء سے رمضان کے حوالے سے سنا ہوگا ، سورہ بقرہ میں آتا ہے، جس میں سحری کے اختتام کا وقت بتایا گیاکہ کا سحری کب ختم ہوتی ہے؟فرمایا:
﴿حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ (البقره: 187)
جب سفید اور کالا دھاگہ الگ نظر آنے شروع ہو جائیں۔
ایک صحابی نے یہ آیت سن کے اہتمام کیا کہ اپنے تکیے کے نیچے رات کو دھاگہ رکھا، ایک کالے رنگ کا رکھا، ایک سفید رنگ کا۔ صحابی رات بھر اٹھ اٹھ کے تکیہ اٹھا کے دیکھتے رہے، ان کا خیال تھا کہ اندھیرے میں کالے اور سفید دھاگے کو جب میں پہچان لوں گا تو وہ سحری کا وقت ہو گا۔ صبح اٹھ کے بات کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ دھاگے نہیں ہیں، ان سے مراد آسمان میں وہ لکیریں ہیں جو صبح سحری کے اختتام کے وقت کالی اور سفید الگ نظر آتی ہیں۔ صحابی بھی صرف زبان دانی کی بنا پر قرآن کے ان الفاظ کو نہیں سمجھ سکے۔
چور کی سزا کے بارے میں قرآن نے کیا کہا؟ فرمایا:
﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ (سورة المائدة:38)
چوری ثابت ہو تو ان کا ہاتھ کاٹ دو۔ عورت ہو یا مرد ہو۔ چور ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دو۔
اب ہاتھ کہاں سے کاٹیں؟ عربی زبان کے مطابق تو انگلیوں سے لے کے کندھے تک ’ید‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ تو کیا کندھے سے کاٹیں؟ کہنی سے کاٹیں؟ یا صرف ہاتھ کا اگلا پنجہ کاٹیں، یہ قرآن نہیں بتائے گا۔ اس کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت ہے، وہی بتائے گی کہ ہاتھ کہاں سے کاٹنا ہے۔
تو حدیث کیا ہے؟ قرآن کی تفسیر ہے، توضیح ہے، اس کی وضاحت ہے لیکن اگلی بات یہ ہے کہ حدیث خود دینی احکام کا، احکام شریعت کا ایک مستقل Source اور منبع ہے ۔ قرآن میں کوئی بات نہ بھی آئی ہو، حدیث میں آئی ہو تو پہلے بھی میں کہہ چکا کہ وہ بھی اسی طرح قابلِ اطاعت اور قابل اعتبار ہے یعنی احکامِ شریعت کو معلوم کرنے کا حدیث ایک مستقل Source ہے، قرآن کی طرح ایک مستقل ذریعہ ہے ۔
اس کی مثال، سورۂ جمعہ،قرآن پاک کی مشہور سورتوں میں سے ہے۔ اٹھائیسویں پارے کی سورت ہے، اس کے آخری رکوع کی آیات واضح طور پہ بتا رہی ہیں کہ ان آیات کے آنے سے پہلے جمعہ جاری تھا۔نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جمعہ شروع ہو چکا تھا ، آیات بعد میں آئیں، جمعہ اس سے پہلے جاری تھا۔ کیسے پتہ چلتا ہے؟
﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ﴾ (سورة الجمعه: 9)
اور اس سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ جمعہ ہو رہا تھا کہ خرید و فروخت کا مسئلہ آگیا، اناج باہر سے آیا تھا، لوگوں کو اناج کی ضرورت تھی، جمعہ کے کچھ نمازی اٹھ کے باہر چلے گئے کہ جو غلہ فروخت ہو رہا ہے، وہ ختم نہ ہو جائے، ہم فورا خرید لیں، تب اللہ نے فرمایا:
﴿ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ﴾ (سورة الجمعه: 11)
آپ کو، اے نبی! انہوں نے خطبے کی حالت میں کھڑے کا کھڑا چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ فرمایا آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ پتہ چلا جمعہ ہو رہا تھا۔ اب کس کے حکم سے ہو رہا تھا؟ پورے قرآن کو دیکھیں، جمعہ شروع کرنے کا اور جمعہ پڑھنے کا حکم جو کہ مسجد نبوی میں ہو رہا تھا، ان آیتوں کے آنے سے پہلے وہ حکم کہیں بھی آپ کو نہیں ملے گا۔ وہ کہاں سے آیا؟ نبی اکرم ﷺ کی حدیث سے آیا، آپ کی زبان مبارک سے آیا، آپ نے ارشاد فرمایا، آپ نے عمل کیا، اس طرح جمعہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح تحویل قبلہ کا میں نے پہلے بھی حوالہ دیا، یہاں بھی اس کی بات آتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جب مدینے ہجرت فرمائی تو آپﷺ اور آپ کے ساتھی، صحابہ کرام بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ آپﷺ کی خواہش تھی کہ مکے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں، لیکن اپنے طور پہ کر نہیں سکتے تھے، اللہ کے حکم کا انتظار تھا۔ خواہش تھی، دعا تھی، آسمان کی طرف رخ کر کے خواہش کا اظہار کرتے تھے۔ رخ اس وقت مکے کی طرف پھیرا ،جب نماز میں اللہ کا حکم آیا:
﴿ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ﴾ (البقره: 144)
اب سوال یہ ہے کہ بیت المقدس سے رخ پھیرنے کا حکم تو واضح ہے، اللہ نے حکم دے دیا ہے، قرآن میں آ گیا کہ اب مکے کی طرف منہ کر کے، بیت الحرام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔ سوال یہ ہے کہ بیت المقدس کی طرف جو منہ کرتے تھے، وہ حکم قرآن میں کہاں ہے؟ وہ قرآن میں کہیں بھی نہیں ہے لیکن اسے بھی اللہ تعالیٰ اپنا حکم قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ صحابہ کرام آپ کے حکم کے تحت حدیث کے حکم کے مطابق بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے تھے ۔
پتہ چلا کہ حدیث بھی اسی طرح قابل عمل اور واجب الا تباع ہے جس طرح کہ قرآن پاک ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ حدیث کی جتنی بھی قسمیں ہیں، وہ سب کی سب قرآن سے Supported ہیں۔ قرآن ان کی تائید کرتا ہے، قرآن ان کو واضح بھی کرتا ہے اور ان کو ثابت بھی کرتا ہے۔ کون سی قسمیں ہیں؟ محدثین نے حدیث کی تین بڑی قسمیں بیان کی ہیں: حدیث قولی ہوتی ہے، نبی کریم ﷺ نے جو ارشاد فرمایا، آپ کا قول، آپ کا ارشاد، آپ کی زبان سے، آپ کا فرمان زبانی یا قولی حدیث ہے۔ حدیث عملی وہ ہوتی ہے، جو آپﷺ نے عمل فرمایا اور صحابہ نے نوٹ کیا اور آگے امت تک پہنچایا، وہ بھی حدیث ہے۔ اسی طرح حدیث تقریری ہوتی ہے جو عمل آپ کے سامنے ہوا اور آپ اس پر خاموش رہے، اس کی تردید نہیں فرمائی۔ اب ان تینوں کے ثبوت قرآن سے کیا ہیں؟ جہاں تک قولی اور زبانی حدیث کا تعلق ہے، قرآن نے کہہ دیا:﴿ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴾ (سورة النجم: 3)’’آپﷺ جو کچھ فرماتے ہیں وہ ہماری طرف سے ہوتا ہے۔‘‘
ایک صحابی ہیں، جو خود بھی صحابی ہیں اور صحابی کے بیٹے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ، ان کی عادت تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں جو کچھ سنتے ، وہ لکھ لیتے ۔ بعض دوستوں نے کہا کہ ایسا نہ کیا کرو، آپ نبی تو ہیں لیکن قرآن کے بتائے ہوئے عقیدے کے مطابق بشر بھی ہیں۔ تو بشر ہونے کے، انسان ہونے کے ناطے مختلف بندے کی کیفیات ہوتی ہیں ، کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی غم میں ہوتا ہے، کبھی افسوس میں ہوتا ہے، کبھی کسی اور Mode اور کیفیت میں ہوتا ہے، کبھی پریشانی میں ہوتا ہے ، تو ہر بات نہ لکھا کرو۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ہدایت اور رہنمائی چاہی اور کہا کہ میرے دوست اس طرح کہتے ہیں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟ تو آپﷺنے اپنی زبان مبارک، اپنے منہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
«اُكتُبْ فَوَالَّذِيْ نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنْهُ إلَّا الحَق» (مسنداحمد:6802)
’’عبداللہ، میری باتیں لکھتے رہو ۔‘‘
یہاں سے جو بات نکلتی ہے، وہ سچی ہوتی ہے تو جو قولی حدیث ہے، اس کی تائید بھی قرآن میں ہے، بات اللہ کے بندے کے منہ سے نکل رہی ہے، لیکن وہ اللہ کی بات ہے اور یہاں یاد رکھیں کہ اللہ کی ذات اور نبی کی ذات بالکل الگ ہیں۔ ان میں جو فرق ہے، اس کو ہمارا محاورہ بھی صحیح طور پہ ادا اور بیان نہیں کر سکتا کہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اس سے بھی کہیں زیادہ فرق ہے، ذات بالکل الگ ہے۔ اللہ معبود ہے، آپ عابد ہیں، اللہ مسجود ہے، آپ ساجد ہیں، اللہ رب ہے۔آپ بندے ہیں اور اپنی بندگی کا آپ نے بار بار اظہار کیا ہے، ایک سفر میں پانی ختم ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: تھوڑا بہت پانی پیالے میں کچھ پانی موجود ہے تو وہ لے آؤ۔ ایک پیالے میں پانی لایا گیا، آپ نے اپنی مبارک مقدس انگلیاں اس میں ڈبوئیں اور پھر اس چھوٹے پیالے سے لوگوں نے اپنی بالٹیاں بھر لیں اور دیکھنے والوں نے کہا، ہم نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کو اللہ تعالیٰ نے چشمے اور نہریں بنا دیا۔ آپ کی انگلیوں سے پانی اس طرح بہہ رہا تھا جس طرح نہروں میں پانی بہتا ہے۔
اس موقع پہ بھی، اس حیران کن معجزے کے وقت بھی آپ نے اپنی زبان سے کیا فرمایا؟ آپﷺ نے کہا: اللہ اکبر میری طرف نہ دیکھو، یہ میرا کام نہیں، یہ اللہ کی قدرت ہے۔ میں تو اللہ کا بندہ ہوں۔ اس کا رسول ضرور ہوں لیکن اس کا بندہ ہوں۔ آپﷺ نے اپنی بندگی کو خود بھی تسلیم کیا ، لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ بندگی کے باوجود جو یہاں سے، اس زبان سے نکلتا ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ بندہ بیان کرتا ہے، لیکن بات اللہ کی کہتا ہے۔ تو میں یہی کہہ رہا تھا کہ آپ کی بات اور اللہ کی بات ایک ہے، ذاتیں مختلف ہیں۔ ذات میں بہت فرق ہے، بات ایک ہے۔ بات دونوں کی ایک ہے ۔
یہ حدیث قولی کی بات تھی، حدیث فعلی کی مثال قرآن سے دیکھیے:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (سورة الممتحنه: 21)
حدیث فعلی کی دلیل آگئی قرآن میں کہ آپ کا نمونہ عمل بہترین ہے۔ اس کو follow کرو، اس کے پیچھے لگو، اس کو اختیار کرو اور تقریری حدیث کیا ہوتی ہے؟ کہ آپ کے سامنے کوئی کام ہوا، کوئی بات ہوئی، آپ نے بول کر نہیں لیکن خاموش رہ کے اس کی تائید کی۔ قرآن کہتا ہے: ﴿ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾ (سورة البقرة: 119)
ہم نے آپ کو بشیر اور نذیر ڈرانے والا اور خوشخبریاں دینے والا بنا کے بھیجا ہے۔ مولوی کسی غلط بات پہ خاموش رہ سکتا ہے، حاکم کسی غلط بات پہ خاموش رہ سکتا ہے لیکن اللہ کا بھیجا ہوا، اللہ کا بنایا ہوا نذیر خاموش نہیں رہ سکتا۔ اس کے سامنے غلط بات ہو، تو وہ اس کی لازماً تردید کرے گا، اسے لازماً منع کرے گا، تو اس سے پتہ چلا کہ آپ کی جو تقریری حدیث ہے یعنی آپ کے سامنے کوئی کام ہوا، آپ نے خاموش رہ کے اس پہ مہر لگائی، اس کی مذمت نہیں کی، اس کی تردید نہیں کی، اس کی نفی نہیں کی، وہ بھی حدیث بن گئی۔ اس کی تائید بھی قرآن سے ہو گئی۔
اب اگلی بات یہ ہے کہ یہ تو حدیث کی فکری، نظری اہمیت کی باتیں تھیں۔ اصولی باتیں تھیں۔ عملی طور پہ قدردانوں نے حدیث کی کیا قدر کی ہے؟ حضرت جابر مشہور صحابی ہیں۔ وہ خود پندرہ سو سے زیادہ حدیثوں کے راوی ہیں لیکن ایک حدیث کے بارے میں انہیں پتہ چلا۔ حدیث کا مفہوم انہیں پتہ تھا، لیکن انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ایک ساتھی جو اب مدینہ چھوڑ کے شام میں جا بسے ہیں اور ان کا نام عبداللہ بن انیس ہے، وہ حدیث ان کے پاس ہے۔ اصل الفاظ ان کے پاس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس ایک حدیث کے الفاظ جاننے کے لیے اونٹ خریدا، Special ایک ماہ تک میں اس پر سفر کر کے عبداللہ بن انیس کے پاس شام پہنچا۔ انہوں نے میرا استقبال کیا، مل کے بڑے خوش ہوئے،انہوں نے کہا کہ میں اس مقصد کے تحت آیا ہوں کہ فلاں حدیث جو آپ کے پاس ہ،ے اس کے اصل الفاظ مجھے بتائیں۔ یہ تھے حدیث کے قدردان۔ یہ سمجھتے تھے کہ حدیث کی اہمیت اور عظمت کیا ہے؟
اسی طرح ابو ایوب انصاری نبی اکرم ﷺ کے میزبان، مدینے میں اولین میزبان، انہیں بھی اسی طرح ایک حدیث کا پتہ چلا جو عقبہ بن عامر کے پاس تھی، جو مصر جا چکے تھے۔ تو یہ صرف ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے مدینے سے مصر پہنچے۔ یہ حدیث کے قدردان تھے اور یہ حدیث کی اہمیت ہے۔
جامع بیان العلم ایک کتاب ہے، جس میں علماء کے اور بڑے لوگوں کے واقعات درج ہیں۔ اس میں یہ واقعہ موجود ہے ۔
اب حدیث کی اہمیت کو نہ جاننے والوں کی بات کرلیں۔ منکرین حدیث جو حدیث کا انکار کرتے ہیں یا اس کی قدر نہیں پہچانتے، انہوں نے اعتراض کیا کہ جی حدیثیں تو جعلی بھی ہیں، موضوع بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں،تو کیوں آپ حدیث کی اہمیت پر اتنا زور دیتے ہیں کہ اس کے بغیر قرآن نہیں سمجھا جا سکتا؟ تو بات یہ ہے کہ اگر Market میں جعلی نوٹ اور جعلی سکے چل رہے ہوں تو کیا اصلی سکوں کو پھینک دیں؟ ان کو دریا برد کر دیں؟ جعلی سکے آ جانے سے اصلی سکوں کی اہمیت ختم تو نہیں ہوتی۔ صرف پہچان کی ضرورت ہوتی ہے اور پہچان کے لیے محدثین پر اللہ تعالیٰ رحمتیں فرمائے، انہوں نے طریقے بتا دئیے ہیں، اصول وضع کر دیئے ہیں کہ صحیح اور ضعیف حدیث میں پہچان کیسے ہو سکتی ہے اور ان میں امتیاز کیسے ہوگا۔
اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جی حدیث سے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ہر فرقے کے لوگ، مختلف طرح کے لوگ اپنی اپنی تائید میں کوئی نہ کوئی حدیث لے آتے ہیں۔ تو یہ بات تو قرآن کے متعلق بھی کی جا سکتی ہے۔ قرآن کی آیتیں بھی لوگ اپنے اپنے مقصد کے لیے غلط یا صحیح Quote کر دیتے ہیں۔ حدیث اختلاف پیدا نہیں کرتی، حدیث اختلاف ختم کرتی ہے۔ حدیث پر آ جائیں تو اختلافات مٹ جاتے ہیں۔
حدیث کی اہمیت کو نظریاتی طور پر ماننے کی حد تک مسلمانوں کے سارے فرقے مانتے ہیں، سارے مسلک مانتے ہیں لیکن عملاً جب اس کے اطلاق کا اور ایپلی کیشن کا وقت آتا ہے تو پھر کئی فرقے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سارے اس بات پہ اتفاق کرتے ہیں کہ قرآن کے بعد حدیث ہی دوسرا منبع اور دوسرا ذریعہ اور Source ہے، احکام شریعت کا۔
حدیث کی کتابوں کے بارے میں بھی کم از کم اہل سنت کے تمام مسالک کے اندر اتفاق ہے کہ کون سی کتابیں معتبر ہیں، بخاری اور مسلم کی اہمیت اور صحت پر سارے متفق ہیں۔ تو اگر متفق ہیں تو پھر جس طرح قرآن کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس سے احکام لیتے ہیں، اسی طرح حدیث اور بخاری اور مسلم کے مطابق اپنی زندگیاں بنا لیں، اپنے عمل بنا لیں۔ اس پر جس طرح نظریاتی طور پہ اتفاق ہے، عملی طور پہ اتفاق کر لیں تو اختلاف مٹ جاتے ہیں۔
تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح حدیث نے اختلافات کو ختم کیا۔ نبی اکرم ﷺ کے بعد اختلاف ہوا کہ آپ کو دفن کہاں کرنا ہے؟ مدینے میں؟ مکے میں؟ یا بیت المقدس میں؟ کہاں دفن کرنا ہے؟ یہ اختلاف بھی ہوا کہ آج آپ کے بعد خلیفہ کون بنے گا؟ یہ اختلاف بھی ہوا کہ منکرین زکوٰۃ یعنی زکوٰۃ نہ دینے والوں سے کیا سلوک کرنا ہے؟
اسامہ بن زید کے لشکر کو، آخری عمر میں، آخری دنوں میں آپ نے سرحد پر جانے کے لیے تیار کیا تھا ۔ اس کے بارے میں اختلاف ہوا کہ اس کو اب بھیجنا ہے یا نہیں بھیجنا۔ یہ سارے اختلافات حدیث کی رو سے طے ہوئے۔ آپ کو دفن کہاں کرنا ہے؟ حدیث اس سلسلے میں سامنے آئی کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے، وہیں دفن ہوتا ہے، بات ختم ہوگئی۔
خلافت کے بارے میں حدیث سامنے آئی ہے:
“اَلْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَیْش” (مستدرك حاكم :6962)
عرب کے قبیلے ، سوائے قریش کے کسی اور کی سیادت اور خلافت تسلیم نہیں کریں گے، اس حدیث نے معاملہ طے کیا۔ پھر ابوبکر پہ بات آئی، وہ بھی حدیث کی روشنی میں آپ کے جو فضائل ہیں اور آپ کو جو نبی کریمﷺ نے اہمیت دی ہے اور نماز وغیرہ میں آگے کیا ہے، اس حوالے سے آپ کی خلافت پر اتفاق ہوا۔ مانعینِ زکوٰۃ کے بارے میں بھی ابوبکر نے کہہ دیا کہ جو زکوٰۃ، حتی کہ جانور کے گلے میں جو رسی ہوتی ہے، وہ بھی لوگ اگر پہلے دیتے تھے تو اب میں ان سے لوں گا، کیونکہ نبی کریم ﷺ ایسا کرتے رہے۔ یہ بھی حدیث کے ذریعے طے ہوا۔ لشکرِ اسامہ کے حوالے سے بھی طے ہوا کہ چونکہ یہ آپ کا حکم ہے، اس لیے لشکر بھیجنا چاہیے لازماً۔
تو حدیث نے اسلامی تاریخ کے ابتدائی زمانے ہی سے اپنا یہ کردار ادا کیا ہے، اختلافات کو مٹانے کا اور طے کرنے کا کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر سکتی ہے، جیسا میں نے کہا کہ
عملی طور پہ حدیث پہ آ جائیں، قرآن کے ساتھ، حدیث پہ آ جائیں تو اختلافات مٹ جائیں گے۔ تو آج یہ حدیث کی اہمیت، فضیلت، عظمت اور ضرورت کے بارے میں چند باتیں تھیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حدیث کی اہمیت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین
٭٭٭
تبصرہ کریں