
آج ہم نے اپنے قدیم کا رکن، دیرینہ رفیق محمد اسلم چوہدری رحمہ اللہ خادم مسجدکی قبر پر مٹی ڈالی، یہ بڑی عبرتناک گھڑی تھی کہ کل تک جس شخص کو تکلیف پہنچتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتے، ان پر خود ان کےاکلوتے فرزند اور قریبی عزیز آنسو بہاتے ہوئے بھی مٹی ڈال رہے تھے، مرنے والے کی جدائی کا غم نہیں تڑپا رہا تھا۔ آنکھوں سے آنسؤوں کی لڑیاں جاری تھیں مگر ہاتھوں ہیں بیلچے لئے مٹی ڈال رہے تھے ، جو ان کے کپڑوں کو زندگی میں گرد آلود ہوتا ہوا دیکھنا پسند نہیں کرتے وہ بھی کفن پربڑھ بڑھ کر مٹی ڈالتے رہے ، پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے قبر مٹی سے بھر دی گئی اور جمعیت کے وفادارساتھی اور مخلص کارکن کو منوں مٹی کے اندر دبا دیا گیا، اورلمحوں میں نوے برس کے ساتھی کی قبر تیار ہوگئی، ایسے ہی وقت اور گھڑی کے لیے سید المرسلین رحمۃ للعالمین ﷺنےتلقین فرمائی کہ اس دن کے لیے پیشگی تیاری کرو۔
« يَا إِخْوَانِي لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا» ( سنن ابن ماجہ :4195؛ مسند احمد : 4؍294)
اور ترغیب دی کہ عذاب قبر سے پناہ مانگا کرو۔
«اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» (سنن ابوداؤ: 4753)
نماز کی آخری رکعت میں جن چار اہم چیزوں سے پناہ مانگی جاتی ہے، ان میں ایک عذاب قبر ہے۔
«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ» (صحیح بخاری :832؛ صحیح مسلم : 589)
یہی وقت ہے جب ابتدائی سوالات مرنے والے سے کئے جاتے ہیں، تفصیلی جانچ پڑتا ل روز قیامت ہوگی ، اسی لیے تربیت یافتگان نبی ﷺ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اس منزل سے خوفزدہ رہتے، خلیفہ ثالث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تازہ قبر کو دیکھتے تو بہت زیادہ متاثر اور پریشان ہوتے اور کہتے کہ آخرت کی یہ پہلی سیڑھی ہے، یہاں کوئی عذاب سے محفوظ رہے تو اگلی منزلیں اور سیڑھیاں آسان ہو سکتی ہیں اور اگر کوئی یہاں پھسل جائے تو آگے کے مراحل سخت اور جاں گسل ہوں گے ۔
«إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ» (جامع ترمذی: 2308؛ سنن ابن ماجہ: 4267)
تدفین کے بعد کی ایک اہم دعا آسانی حساب اور ثبات کے لئے کی جاتی ہے۔ یہ حکم ربانی اور آداب شریعت کا تقاضا ہے۔
مرنے والے سے چاہے تعلق کی نوعیت کچھ بھی ہو ، وفات کے ساتھ ہی تجہیز و تکفین و تدفین میں ممکنہ حد تک عجلت ہوتی ہے۔
کل تک جو عزیز ترین تھا، روح پرواز کرتے ہی اس کی تدفین اولین ترجیح ہوتی ہے، اس کے لیے احباب ضروری کا روائی کی انجام دہی میں آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں تاکہ جلد سے جلد سپرد خاک کر دیا جائے ۔ یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات کوششوں اور خواہشات کے باوجود تدفین میں تاخیر ہو جاتی ہے، اس کا بڑا سبب یہاں یورپ میں رائج قوانین کی پا بجائی ہے ۔ ہاسپٹل کی رپورٹ کے بغیر رجسٹری سے موت کا تصدیق نامہ نہیں ملتا اور اس تصدیق نامہ کے بغیر قبرستان میں تدفین کی اجازت نہیں ملتی، مختلف اداروں سے مربوط کا روائی مکمل ہونے پر ہی تدفین کا وقت متعین کیا جا سکتا ہے، اگر چہ کہ اس کا روائی میں احتیاط کا پہلو ہی ہے لیکن تکلیف دہ بات اس کی انجام دہی میں ہونے والی تاخیر ہے ، کبھی اس میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں، اگر درمیان میں ویک اینڈ یا سرکاری چھٹیاں ہوں تو ہفتہ بھی لگ سکتا ہے، ظاہر ہے تدفین تک متعلقین کربناک صورتحال سے دو چار رہتے ہیں، یہاں شرعی احکام اپنی جگہ کہ غم کی ظاہری کیفیت تین دن تک رہے پھر بتدریج معمولات زندگی بحال ہوتے جائیں لیکن جب تک تدفین نہ ہو ان کی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔ ان حالات میں تین روز کی تحدید اور بعض احکام پر عمل حسب استطاعت ہی ممکن ہے ، تاخیر کا یہ پرابلم یہاں کےتمام باشندوں کا ہے مسلم اور غیر مسلم ، لیکن بہت سے غیر مسلم مراسم تدفین کی انجام دہی بھی ایک تقریب کے طور پر بجا لاتے ہیں، بلکہ تدفین کا باقاعدہ پروگرام مرتب ہوتا ہے. جنازہ میں شرکت کرنے والوں کے لیے ڈریس کوڈ ہوتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کا انتخاب وغیره وغیره ، ان کے لیے تو جتنا زیادہ وقت ملے درست ہے۔ بہر حال ہمارے بھائی اسلم صاحب کی کا روائی میں تا خیر نہیں ہوئی،جمعہ 27 جون 2025ءکی سہ پہر وفات ہوئی اور ہفتہ کی نماز عصر کے ساتھ صلاة الجنازہ ادا کردی گئی، نمازجنازہ میں شرکت کے لیے مختلف شہروں میں پھیلے افراد خاندان کے علاوہ دوست احباب کا جم غفیر جمع ہو گیا تھا جو ان کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت کا ثبوت تھا ، بھائی اسلم صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جو پچاس کی دہائی میں طلب روزگار کے لیے کشمیر کے علاقہ میر پور سے برطانیہ پہنچے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب برطانیہ کو لیبر افرادی قوت کی ضرورت تھی اور علاقہ میرپور ( کو روزگار کی، یہاں مزدوری کے لیے علمی قابلیت کی ضرورت نہیں تھی۔روزگار کے لیے وافر ذرائع تھے، یہاں پہنچتے ہی کسی فیکٹری یا کارخانہ میں کام مل جاتا، زبان دانی سے زیادہ جسمانی محنت کرنے والوں کی ضرورت ہوتی، آنے والوں کی اکثریت کا رجحان ہوتا کہ مختصر عرصہ محنت کر کے کچھ کمائیں گے اور اپنے ملک واپس جا کر آرام دہ سکونت اختیار کریں گے، ورنہ یہاں کی یخ بستہ سردی اور موسم کی شدت میں یہ جسمانی مزدوری آسان نہیں تھی، پھر گزرتے دنوں کے ساتھ ترجیحات تبدیل ہوتی گئیں اور اہل و عیال کے بغیر رہنے والوں نے اپنے اپنے بچوں کو یہاں بلانا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خاندان کے خاندان یہاں آباد ہوتے گئے ، بھائی اسلم ان لوگوں میں تھے جنہوں نے اپنی فیملی کو طویل عرصہ تک اپنے وطن میں ہی رکھنا پسند کیا لیکن بالآخر انہیں اپنا فیصلہ بدلنا پڑا اور بچوں کو یہاں بلا کر ساتھ رکھا۔
جمعیت اہلحدیث کے ساتھ وہ ابتدائی زمانہ سے وابستہ تھے ۔جماعتی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا کرتے ، جمعیت کی مرکزی عمارت 20 گرین لین برمنگھم خریدی گئی اس وسیع عمارت کے ایک حصہ میں مسجد اور مدرسہ سلفیہ قائم کیا گیا،اس کے انتظام و انصرام کے لیے ایک مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی،جس کے یہ باقاعدہ ممبر تھے، ان رضا کاروں کی کوششوں سے بہت جلد مسجد اور مدرسہ پھلتا پھولتا گیا اور یہ قافلہ آگے بڑھتا گیا۔ ان ممبران کی اکثریت دامے درمے سخنے ہر طرح تعاون کیا کرتے ، قرآن و سنت کی خالص دعوت کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کی سپورٹ کرتے ، اس راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا پامردی سے مقابلہ کرتے اور الحمد للہ اب یہ درخت اتنا تناور ہوگیا کہ اس کی شاخیں ملک کے طول و عرض میں چھاؤں فراہم کر رہی ہیں، اس کے برگ و بار سے نوجوان نسل خوب مستفید ہو رہی ہے اور اب یہ دعوت حق و باطل کا معیار اور پہچان بن گئی۔
بر طانیہ میں درآمد شدہ بدعات و خرافات مرور ایام کے ساتھ دم توڑتی گئیں، بھائی اسلم حق شناسی اور حق گوئی کی علامت تھے، انہوں نے اپنے خاندان اور برادری کے اکثر لوگوں کی پرواہ کئے بغیر نہ صرف سچ کو سچ کہا بلکہ حق وصداقت کے قافلہ میں شامل رہے، گو کہ اس موقف کی انہیں وقتی طور پر کچھ قیمت چکانی پڑی، لیکن انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔
برمنگھم کے مسلم گنجان علاقہ میں واقع مسجد محمدی کی توسیع کے لیے ملحقہ پلاٹ خریدنے کی ضرورت پیش آئی، علاقہ کی اہمیت کے اعتبار سے ان کے بہتیرے خریدار تھے، خریداروں کی دلچسپی کے سبب قیمت بھی چڑھتی گئی لیکن بھائی اسلم نے کچھ احباب کے ساتھ مل کر خریداروں کو پیچھے ہونے پر اخلاقی طور پر مجبور کیا کہ ہمیں مسجد کی توسیع کے لیے یہ جگہ مطلوب ہے ، لہٰذا مسجد کے مقابلہ میں کوئی آگے نہ بڑھے، کچھ تو برادری کا اثر اور کچھ علاقائی تعلقات کا سبب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کوششوں کو کامیاب بنایا اور مذکورہ پلاٹ مناسب قیمت پر مسجدکے حصہ میں آیا، جہاں اس وقت مسجد آباد ہے۔
یقیناً ان تمام اخوان و احباب جنہوں نے خریداری میں تعاون کیا ان سب کے لیے فرمان نبوی ﷺ کے بمصداق یہ عمل صدقہ جاریہ ہوگا:
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ» (صحیح مسلم: 1631 ؛ جامع ترمذی: 1376)
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ عزوجل اپنے آخری نبی ﷺ کی بشارت کے مطابق ان کے لیے جنت میں گھر عطا کرے۔
«مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ » (جامع ترمذی: 318)
بھائی اسلم نوے برس کی عمر پا کر وفات پائی ، جب تک ہوش و حواس درست رہے، پابندی سے مسجد آتے رہے نہ صرف نمازوں کے لیے بلکہ مسجد کے انتظامات میں ہاتھ بٹانے کو سعادت سمجھتے، مسجد کے ٹرسٹی اور مرکزی مجلس شوری کے رکن تھے، لیکن مسجد کا کام حتی کہ صفائی تک رضا کارانہ کرتے ہوئے راحت محسوس کرتے ۔اللهم اغفر له وارحمه
٭٭٭
آخری بدھ کی خرافات
بعض حضرات و خواتین صفر المظفر کے آخری بدھ کو تعطیل(چھٹی) کرکے کاروبار اور دکانیں بند کردیتے ہیں اور عید کی طرح خوشیاں مناتے ہیں اور سیر سپاٹے کے لیے گھروں سے نکل جاتے ہیں جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جناب نبی اکرمﷺاس آخری بدھ میں صحت یاب ہوئے تھے اور سیر و تفریح کے لیے باہر تشریف لے گئے تھے حالانکہ اس دعوی کی اصل نہ حدیث میں ہے اور نہ ہی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ ساری بدعات لغو اور دین حنیف میں اضافہ ہیں، شریعت میں ان کا کوئی جواز نہیں۔ اسی بات کو واضح کرتے ہوئے علامہ رشید احمد گنگوہی حنفی رقم طراز ہیں: ’’آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں بلکہ اس دن جناب رسول اللہﷺ کو شدتِ مرض واقع ہوئی تھی۔ یہودیوں نے خوشی منائی تھی، وہ اب جاہل ہندوٴں میں رائج ہوگئی ہے۔ ‘‘ (تالیفات رشیدیہ: 154)
فاضل بریلوی احمد رضا خان چہار شنبہ کے بارے لکھتے ہیں:’’آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں، نہ اس دن صحت یابی حضور کا کوئی ثبوت بلکہ مرضِ اقدس جس میں وفاتِ مبارک ہوئی اسکی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے۔‘‘(احکام شریعت: 2؍189)
تبصرہ کریں