
کتاب الصلاۃ ۔ صلاۃ خسوف وکسوف کے متعلق
حدیث نمبر: 144
عَنْ أبي مسعود ــ عُقْبَةَ بن عمرو ــ الأنصاري البدري رضي الله عَنْه قال : قال رسول اللَّه ﷺ : «إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّه، حَتَّى يَنْكَشِفَ مَا بِكُمْ» (رواه البخاري بنحوه، كتاب الكسوف، باب الصلاة في كسوف الشمس، برقم 1041، ومسلم، كتاب الكسوف، باب ذكر النداء بصلاة الكسوف (الصلاة جامعة)، برقم 911)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ انہیں لوگوں میں سے کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم ان دونوں میں کوئی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے جو تمھیں لاحق ہوا ہے۔ (بخاری و مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – آيَتَانِ : دو نشانیاں
2 – يُخَوِّفُ : وہ ڈراتا ہے۔
3 – وَادْعُوْا : دعا کرو۔
4 – حَتى يَنْكَشِفَ : یہاں تک کہ گرہن ختم ہوجائے۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1 : سورج یا چاند گرہن کے موقع پر نماز پڑھنا سنت ہے۔
2 : جب تک سورج یا چاند گرہن باقی ہو اس وقت تک نماز ، دعا ذکرو استغفار میں مصروف رہنا چاہئے۔
3 : چاند یا سورج کو گرہن لگنا اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے ہے اور یہ اللہ کے بندوں کو خوف دلانے اور انہیں اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور اپنی اصلاح کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے لائی جاتی ہے۔
4 : مومن ہر وقت اللہ کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ کی رضا اس کا حکم ماننے میں ہے اور ناراضگی اس کی نافرمانی میں ہے۔
حدیث نمبر: 145
عَنْ عائشة رضي الله عَنْها قالت : «خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ــ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ــ ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ــ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ. فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : «إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لا يَنخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ، وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا» ثُمَّ قَالَ : «يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، من أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ، أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاَللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيراً». وفي لفظٍ، «فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ».
(رواه البخاري، كتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف، برقم 1044، واللفظ له، ومسلم، كتاب الكسوف، باب صلاة الكسوف، برقم 1- (901). رواه البخاري في كتاب الكسوف، باب خطبة الإمام في الكسوف، برقم 1046، ومسلم، كتاب الكسوف، باب صلاة الكسوف، برقم 3- (901)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ پہلے آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو بڑی دیر تک کھڑے رہے، قیام کے بعد رکوع کیا اور رکوع میں بہت دیر تک رہے۔ پھر رکوع سے اٹھنے کے بعد دیر تک دوبارہ کھڑے رہے لیکن آپ ﷺ کے پہلے قیام سے کچھ کم، پھر رکوع کیا تو بڑی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر، پھر سجدہ میں گئے اور دیر تک سجدہ کی حالت میں رہے۔ دوسری رکعت میں بھی آپ ﷺ نے اسی طرح کیا، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو گرہن کھل چکا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ جب تم گرہن لگا ہوا دیکھو تو اللہ سے دعا کرو تکبیر کہو اور نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے محمد کی امت کے لوگو! دیکھو اس بات پر اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت اور کسی کو نہیں آتی کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرے، اے امت محمد! واللہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہو جائے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔
بعض الفاظ کے معانی
1 – خَسَفَتِ الشٍمْسُ : سورج کو گرہن لگا۔
2 – أَطَالَ الْقِيَامَ : لمبا قیام کیا۔
3 – ثُمٍ رَكَعَ : پھر رکوع کیا۔
4 – دُونَ : کم۔ 5 – ثُمٍ سَجَدَ : پھر سجدہ کیا۔
6 – تَجَلٍتِ الشٍمْسُ : سورج روشن ہو گیا۔
7 – اِنْجَلٍتِ الشٍمْسُ : سورج روشن ہو گیا، صاف ہو گیا۔
8 – حَمِدَ اللٍهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ : اللہ کی حمد بیان کی۔
9 – لَا يَنخْسِفَانِ : دونوں کو گرہن نہیں لگتا۔
10 – أَغْيَرُ : زیادہ غیرت مند۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1 : نبی کریم ﷺ کے مبارک زمانہ میں بھی سورج کو گرہن لگا تھا۔
2 :راجح قول کے مطابق سورج اور چاند گرہن کی نماز کی ادائیگی سنت موکدہ ہے۔
3 : سورج گرہن کی نماز دو رکعتوں پر مشتمل ہوتی ہے ہر رکعت میں دو قیام دو رکوع اور دو سجدے سنت ہیں اس طرح دو رکعتوں میں چار قیام چار رکوع اور چار سجدے ہوں گے۔
4 : سورج گرہن کی نماز میں پہلا قیام اور پہلا رکوع بنسبت دوسرے قیام اور دوسرے رکوع قدرے لمبا کرنا سنت ہے ۔
5 : سورج گرہن کی نماز میں قیام رکوع اور سجدے لمبے کرنا سنت ہیں۔
6 : نماز کسوف کے وقت کی ابتداء سورج یا چاند گرہن لگنے سے ہوتی ہے اور انتہا اس وقت ہوتی ہے جب سورج یا چاند روشن ہو جائیں۔
7 : نماز کے اختتام پر خطیب و امام کا لوگوں سے خطاب کرنا مستحب عمل ہے۔
8 : جب سورج یا چاند کو گرہن لگے تو ضروری ہے کہ لوگوں کو نماز کسوف پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے۔
9 : نماز کسوف اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی جائے گی۔
10 : نماز کا اعلان “اَلصٍلٰوةُ جَامِعَةُ” کے الفاظ سے کیا جائے۔
11 : ایسے مواقع پر دعا، گریہ زاری، نماز، صدقہ و خیرات اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ٹالنے کا اور اس کے غضب کو زائل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
12: کسوف اور خسوف احادیث کی رو سے ہم معنی ہیں اور سورج و چاند دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اگرچہ بعض نے (فقہاء نے)
شمس کے لیے کسوف اور قمر کے لیے خسوف کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ کسوف کا معنی سیاہی مائل ہونا ہے اور خسوف کا کم ہونا گھٹنا،
ان کی روشنی مکمل طور پر بھی ختم ہو سکتی ہے جزوی طور پر بھی۔
13: سورج یا چاند گرہن کا لگنا کسی حکومت وغیرہ کے لئے منحوس نہیں ہے جیسا کہ بعض جہلاء سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 146
عَنْ أبي موسى الأشعري رضي الله عَنْه قال : «خَسَفَتِ الشَّمْسُ في زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَقَامَ فَزِعاً، يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ، وَرُكُوعٍ، وَسُجُودٍ، مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ : «إنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُهَا اللَّهُ تَعالى لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئاً فَافْزَعُوا إلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ».(رواه البخاري، كتاب الكسوف، باب الذكر في الكسوف، برقم 1059، ومسلم، كتاب الكسوف، باب صلاة الكسوف…برقم 24- (912)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو نبی کریم ﷺ بہت گھبرا کر اٹھے اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ ﷺ نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبا قیام، لمبا رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی/ پڑھائی۔ میں نے کبھی آپ ﷺ کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا تھا۔ آپ ﷺ نے نماز کے بعد فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے استغفار کی طرف لپکو۔ (بخاری و مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – فَزِعاً : گھبرانا۔ 2 – السٍاعَةُ : قیامت۔
3 – أَتَى الْمَسْجِدَ : آپ مسجد تشریف لائے۔
4 – بأَطْوَلِ: زیادہ لمبا۔
5 – مَا رَأَيْتُهُ : میں نے آپ کو نہیں دیکھا۔
6 – قَطُّ : کبھی بھی۔
7 – يُرْسِلُهَا اللہ:اللہ انہیں بھیجتا ہے۔
8 – يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ : ان کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔
9 – فَافْزَعُوْا إلَى ذِكْرِہِ: اس کے ذکر کی طرف گھبرا کر دوڑو۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے
1 : سورج گرہن دیکھتے ہی نماز کسوف کا اہتمام سنت ہے۔
2 : نماز کسوف میں دوسری نماز کی نسبت قیام رکوع اور سجود لمبے کرنا سنت۔
3 : چاند اور سورج اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے بڑی نشانیاں ہیں۔
4 : یہ کسی بڑے چھوٹے کی موت یا پیدائش کی وجہ سے گرہن کی لپیٹ میں نہیں آتے ہیں۔
5 : سورج یا چاند گرہن کے موقع پر ڈرنا ایمان کی نشانی ہے۔
6: نبی کریم ﷺ کا اس موقع پر ڈرنا اپنی امت پر شفقت ہے کیونکہ آپ سے پہلے بہت ساری امتیں مختلف عذابوں سے ہلاک ہوگئیں۔
تبصرہ کریں