
قرآن حکیم کی یہ 80 ویں سورۃ ’’عبس‘‘مکہ میں نازل شدہ سورت ہے اس میں ایک رکوع اور 42 آیات کریمہ آئے ہیں۔ یہ قرآن پاک کے تیسویں پارہ کی ایک مشہور و معروف سورہ ہےجس کا آغاز عَبَسَ وَ تَوَلٰی کے کلمات سے ہوتا ہے ،اس سورہ مبارکہ میں آنحضور ﷺ کو اللہ تبارک و تعالیٰ عزوجل نے دعوت وتبلیغ کے پہلو سے تعلیم مرحمت فرمایا ہے کیونکہ نبی مکرم ﷺ کی ذات گرامی کو داعی اعظم ، رحمت عالم کی حیثیت سے مبعوث فرمایا گیا ہے۔اس طرح آپﷺ، دعوت الی الخیر والے مقام بلند پر فائز ہیں۔ چنانچہ آپ کی آمد کا مقصد نوع انسانی کوجہالت وگمراہی کے اندھیروں سے نکال کر نورِہدایت کی شمع فروزاں کی طرف لےچلنا ہے۔
مذکورہ بالا سورہ کا ایک خاص، سببِ نزول ہے جو بالاتفاق مفسرین و محدثین نے بیان فرمایاہے۔
چنانچہ ایک اہم موقع پر نبی مکرم ﷺ کی محفل میں مکہ مکرمہ کے چند بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھےایسے میں آپ ﷺ ان کودین اسلام کی دعوت پیش فرماتے ہوئے اسلام قبول کرنے کی طرف مائل فرمارہے تھے۔ جو آپ کے منصب رسالت کا عین تقاضہ بھی تھا۔ ایسے موقع پرایک مبارک شخصیت جن کا نام ابن ام مکتوم ؓ تھا۔ حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دین کے بارے میں کچھ پوچھنے لگے،چنانچہ اس موقع پر ابن ام مکتوم (نابینا صحابی) کا حضوراقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جانا، رسالت مآبﷺ کو کچھ ناگوار سا ہوا۔
چونکہ عبداللہ ابن اُم مکتوم نابینا ہونےکی وجہ سے حضورکی مجلس کی نوعیت سےناواقف تھے۔ اور آتے ہی سوال کر بیٹھے کہ
اے اللہ کےرسول مجھے وہ علم سکھایئے جو اللہ تعالی نےآپ کو عطا کیا ہے(یعنی دین کی باتیں) اس موقع پرحضرت عبداللہ ابن ام مکتومؓ کے آپﷺ کی مجلس میں حاضر ہو نے (Inquiry،Approach) سے حضور ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کےآثار ظاہر ہوگئے۔ چونکہ آداب مجالس کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ پہلےسے کلام کا ایک سلسلہ چل رہا ہے ، یہ ختم ہونے پر دوسری بات پیش کی جائے اوریہ بھی ایک حقیقت کہ حضورﷺ اپنا کوئی ذاتی یا شخصی کام نہیں فرمارہے تھے بلکہ ٫٫بلغ ما انزل الیک،، کے حکم کی تعمیل میں دین اسلام کی تبلیغ کا ایک اہم فریضہ ادافرمارہےتھے۔دوسری چیز یہ کہ حضرت عبداللہ ابن اُم مکتومؓ تو اپنےآدمی تھے۔دین کی بات کسی دوسرے وقت بھی پوچھ سکتے تھے۔اِدھرآنحضور ﷺ کی دلی خواہش یہ تھی کہ،مکہ کے یہ بڑے بڑے سرداراسلام قبول کرلیں تو بہت اچھا ہے۔ایسے موقع پر یہ سورۃ عَبَسَ نازل ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ کو تعلیم ہے کہ کون آپؐ کی نظرالتفات کے اولین مستحق ہوسکتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ حضرت عبداللہ ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کی دلجوئی بھی فرمائی گئی۔ گویا دنیا کو یہ بتادیا گیا کہ ایک نابینا بندہ ہے مگر اسلام کی تعلیم حاصل کرنےکیلئے فکرمند ہے،ایسے شخص کی اللہ کی نگاہ میں کیسی قدر قیمت ہے۔
دوسری جانب مکہ کے بڑے سردار ہیں اور اپنے نزدیک یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اسلام قبول کریں توہی اسلام کا بھلا ہوگااس طرح ان کی غلط فہمی کو ان آیات کے ذریعہ دور فرمادیا گیا۔ دراصل کفار قریش کے ان سرداروں پر ایک عتاب ہے جو اپنے تکبر؛ ہٹ دھرمی اور حق و صداقت سے بے نیازی کی بناء پر رسول اللہ ﷺ کی تبلیغ اور دعوت حق کو حقارت کے ساتھ رد کررہے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت ٗابن اُم مکتومؓ کی(طلب علم میں)آمد پر جس طرح کا انداز”Bearing “اختیار فرمایاتھاوہ سراسر اخلاص اوردعوت حق کو فروغ دینےکا جذبہ تھا۔
غرض یہ کہ اس سورت میں جو اصل بات بتلانامقصود ہے وہ یہ کہ
دعوت Call to islam کے نقطہ سے ہروہ انسان اہمیت کا حامل ہے جوطالب حق ہو،اگرچیکہ وہ معاشرے میں کمزور اور بے اثر ہو یا معذور، اس کے بالمقابل ہر وہ شخص غیر اہم ہی قرار پائے گا جو حق سےبے نیازی برتے ،خواہ وہ سماج میں کتنا ہی بڑا مانا جاتا ہو یا اونچا مقام رکھتا ہو۔ چنانچہ آپؐ اسلام کی تعلیمات تو سب کے سامنے رکھیں، مگر آپؐ کی توجہ کے اصل مستحق وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر قبولیت حق کا جذبہ رکھتے ہوں، اس طرح سورت کے آغاز سے آیت کریمہ 16 تک یہی مضمون چلا آیا ہے۔ اس سلسلہ میں مفسرین کرام نے اس کے کئ پہلو پیش فرماے ہیں،ٗ ان کے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں۔۔۔
﴿عَبَسَ وَتَوَلّٰی﴾(سورة عبس: 1)
(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُوہوئےاور منہ پھیر بیٹھے۔
علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ
”تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر!
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دین اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتےہی سوالات شروع کئےاور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطرگزرا اور پیشانی پربل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنےکے لئےآئےاور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اوراُن کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں، مغرور و متکبر ہیں۔(ابن کثیر)
مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں:
”شان نزول میں جو واقعہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی کا نقل کیا گیا ہے اس میں بغوی نے یہ مزید روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ کو نابینا ہونے کے سبب یہ تومعلوم نہیں ہوسکا کہ آپ کسی دوسرے سے گفتگو میں مشغول ہیں، مجلس میں داخل ہوکر آنحضرت ﷺ کو آواز دینی شروع کی اور بار بار آواز دی۔ (مظہری)اورابن کثیر کی ایک روایت میں یہ بھی ہےکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سےایک آیت قرآن پڑھوانےکا سوال کیا اور اس سوال کےفوری جواب دینے پراصرارکیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت مکہ کے کفار سرداروں کو دین کی تبلیغ کرنے اور سمجھانے میں مصروف تھے۔یہ سردار عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل ابن ہشام اور آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس تھے، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺکواس موقع پر عبداللہ ابن ام مکتوم کا اس طرح خطاب کرنا اور ایک آیت کے الفاظ درست کرنیکے معمولی سوال پر فوری جواب کے لئےاصرار کرنا نا گوارہوا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ ابن ام مکتوم پکے مسلمان اور ہر وقت کے حاضر باش تھے دوسرے اوقات میں بھی سوال کر سکتے تھے۔ ان کے جواب کے موخر کرنے میں کسی دینی نقصان کاخطرہ نہ تھا بخلاف روسائے قریش کے کہ نہ یہ لوگ ہر وقت آپ کی خدمت میں آتے ہیں اور نہ ہر وقت ان کو اللہ کاکلمہ پہنچایا جاسکتا ہے، اس وقت یہ لوگ آپ کی بات سن رہے تھے جس سے انکے ایمان لانے کی توقع کی جاسکتی تھی اور ان کی بات کاٹ دی جاتی تو ایمان ہی سے محرومی ان کی ظاہر تھی۔ ان مجموعہ حالات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ابن ام مکتوم سے رخ پھیرکر اپنی ناگواری کا اظہارفرمایا اور جو گفتگو تبلیغ حق کی روسائے قریش کے ساتھ جاری تھی اس کو جاری رکھا، اس پر مجلس سے فارغ ہونے کے وقت سورة عبس کی آیات مذکورہ نازل ہوئیں جس میں آپ کےاس طرز عمل کو ناپسندیدہ قرار دے کر آپ کوہدایت کی گئی۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ طرز عمل اپنے اجتہاد پر مبنی تھا کہ جو مسلمان آداب مجلس کیخلاف طرز گفتگو اختیار کرے اس کو کچھ تنبہ ہونی چاہئے تاکہ آئندہ وہ آداب مجلس کی رعایت کرے اس کےلئے تو آپ نےحضرت ابن ام مکتوم سے رخ پھیرلیا،اوردوسری بات یہ تھی کہ بظاہر کفر و شرک سب سے بڑے گناہ ہیں انکےازالہ کی فکر مقدم ہوناچاہئےبمقابلے دین کے فروعی احکام کی تعلیم کےجوعبداللہ ابن ام مکتوم چاہتے تھے مگر حق تعالیٰ جل شانہ نےآپ کے اس اجتہاد کو درست قرار نہیں دیا اور اس پر متنبہ فرمایا کہ یہاں قابل غور یہ بات تھی کہ ایک شخص جو آپ سے دینی تعلیم کا طالب ہو کر سوال کررہا ہے اسکے جواب کافائدہ تو یقینی ہے اور جو آپکا مخالف ہے آپ کی بات سننا بھی پسند نہیں کرتا اس سے گفتگو کا فائدہ موہوم ہے، موہوم کو یقینی پر ترجیح نہیں ہونا چاہئے اورعبداللہ بن ام مکتوم سےجو آداب مجلس کیخلاف بات سرزد ہوئی ان کا عذر قرآن نے لفظ ”عمی“ کہ کر بتلادیا کہ وہ نابینا تھے اس لئے ان کو نہ دیکھ سکتےتھےکہ آپ اس وقت کس شغل میں ہیں، کن لوگوں سے گفتگو چل رہی ہےاسلئےوہ معذور تھے، مستحق اعراض نہیں تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ
کسی معذورآدمی سے بیخبری میں کوئی بات آداب مجلس کے خلاف ہوجائے تووہ قابل عتاب نہیں ہوتا۔عبس وتولی، عبس کے معنیٰ تر شروی اختیار کرنا یعنی چہرہ سے اظہار ناگواری کرنا اور تولی کےمعنیٰ رخ پھیر لینے ہیں۔ اس جگہ موقع اس کا تھا کہ یہ الفاظ آپ کو بصیغہ خطاب کہے جاتے کہ آپ نے ایسا کیا۔ لیکن قرآن کریم نے صیغہ خطاب کے بجائے صیغہ غائب اختیار کیا جس میں عتاب کی حالت میں بھی رسول اللہﷺ کا اکرام ملحوظ رکھا گیا اور صیغہ غائب اختیار کر کے یہ ایہام ( ایہام کے معنی وہم میں ڈالنا) کیا کہ جیسے یہ کام کسی اورنےکیا ہواشارہ اس طرف ہے کہ یہ کام آپ کے شایان شان نہیں اور دوسرے جملے میں خود رسول اللہ ﷺ کےعذر کی طرف اشارہ فرمادیا : ﴿وَمَا يُدْرِيكَ ﴾ (یعنی آپ کو کیا خبر) اس میں بتلا دیا کہ اعراض کی وجہ یہ پیش آئی ہے کہ آپ کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ یہ صحابی جو کچھ دریافت کررہے ہیں اس کا اثر یقینی ہے اور غیروں سے گفتگو کا اثر موہوم اور اس دوسرے جملے میں صیغہ غائب چھوڑ کر صیغہ خطاب کا اختیارفرمانے میں بھی رسول اللہ ﷺ کی تکریم اوردلجوئی ہے کہ اگر بالکل خطاب کا صیغہ استعمال نہ ہوتا تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اس طرز عمل کی ناپسندیدگی ترک خطاب کا سبب بن گئی جو آنحضرت ﷺ کےلئےایک ناقابل برداشت رنج والم ہوتا، اس لئے جس طرح پہلے جملہ میں خطاب کے بجائے غائب کاصیغہ استعمال کرنا رسول اللہ ﷺ کی تکریم ہےاسی طرح دوسرے جملے میں خطاب کرنا بھی آپ کی تکریم اور دلجوئی ہے۔(معارف القرآن)
اور اسی طرح ﴿ أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ ﴾(سورة عبس: 2)
اِس با ت پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔
مولانا مودودی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ترش روئی اور بےرخی برتنے کا یہ فعل حضورﷺ ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ
گویاحضورنہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سےاس فعل کا صدور ہوا ہے۔
اس طرز بیان سےایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایساکام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کےاخلاق عالیہ کو جاننے والااسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپﷺ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویےکامرتکب ہو رہا ہے۔(آپ ﷺ کےاخلاق حسنہ کی بلندی اور لوگوں کے ساتھ آپ کے حسن سلوک بےمثال تھے جس کی گواہی بشمول مخالفین کہ ہر آدمی دے سکتا تھا ”مرتب“)۔
جن نابینا کایہاں ذکر کیا گیا ہےان سے مراد، جیساکہ ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں،مشہور صحابی حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ہیں۔
حافظ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں بیان کیا ہے کہ
یہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پھوپھی زاد بھائی تھے،ان کی ماں ام مکتوب اور حضرت خدیجہؓ کے والد خویلد آپس میں بہن بھائی تھے۔ حضورﷺ کے ساتھ ان کا یہ رشتہ معلوم ہو جانے کے بعد اس شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ نےان کو غریب یا کم حیثیت آدمی سمجھ کر ان سے بے رخی برتی اور بڑےآدمیوں کی طرف توجہ فرمائی تھی، کیونکہ یہ حضور کے اپنے برادر نسبتی تھے، خاندانی آدمی تھے، کوئی گرے پڑے آدمی نہ تھے۔
اصل وجہ جس کی بنا پر آپ نے ان کے ساتھ یہ رویہ اختیارکیا،لفظ ’اعمی‘ (نابینا) سے معلوم ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی بےاعتنائی کےسبب کی حیثیت سے خود بیان فرما دیا ہے۔ یعنی حضور کا یہ خیال تھا کہ میں اس وقت جن لوگوں کوراہ راست پر لانے کی کوشش کر رہاہوں ان میں سے کوئی ایک آدمی بھی ہدایت پالے تو اسلام کی تقویت کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، بخلاف اس کے ابن مکتوم ایک نابینا آدمی ہیں، اپنی معذوری کے باعث یہ اسلام کےلیے اس قدر مفید ثابت نہیں ہو سکتے جس قدر ان سرداروں میں سے کوئی مسلمان ہو کر مفید ہوسکتا ہے، اس لیےان کو اس موقع پر گفتگومیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، یہ جو کچھ سمجھنایا(دین کی بات) معلوم کرنا چاہتے ہیں اسے بعدمیں کسی وقت بھی دریافت کرسکتے ہیں۔ (تفسیرتفہیم القرآن)
آیت کریمہ﴿وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ﴾
’’اورآپ کیاجانیں شائد وہ پاکیزہ تر ہوجاتا۔‘‘ اس کی تشریح فرماتے ہوئے علامہ پیر محمد کرم شاہ علیہ الرحمہ یوں رقم طراز ہوئے کہ
”حضرت عبداللہ کے پاسِ خاطر کی وجہ بتائی جارہی ہے کہ وہ کفار جن کی طرف آپ ہمہ تن متوجہ تھے۔ان میں سے کسی کے دل میں طلبِ حق کا جذبہ نہ تھا۔ انہیں تو اپنی دولت کا گھمنڈ اور اپنے رئیس ہونے پر ناز تھا۔ وہ آپ کی دعوت کو سمجھنے اور سمجھ کر اس کو قبول کرنے کی نیت سے حاضر نہیں ہوے تھے۔ بلکہ آپ کی خصوصی توجہ کے باعث وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اسلام کو ان کی بڑی ضرورت ہے۔ اگر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو اسلام کی ترقی اور عروج کے امکانات ختم ہوکر رہ جائیں گے۔ ان نادانوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا کہ بیماروں کو مسیحا کی ضرورت ہوتی ہے، پیاساچشموں کا محتاج ہوا کرتا ہے نہ کہ اس کے برعکس۔ غیرت خداوندی یہ کب گوارا کرسکتی تھی کہ وہ اپنے دل میں اسلام اور ہادی اسلام کے بارے میں اس قسم کے تصورات جگہ دیں اور یہ درویش تو (عبداللہ بن ام مکتومؓ) پہلے ہی حق کی شمع اپنے سینہ میں فروزاں کرچکا تھا اور حضورکی غلامی(تابعداری) سےعہد وفا باندھ چکا تھا۔ ان ازلی محروموں کے ساتھ جو کوشش ہورہی تھی، انہیں اس کا کوئ فائدہ پہنچنے والا نہ تھا۔البتہ اسےآپ جو سیکھاتے،وہ اسے حرز جان بناتا۔صدق دل سے اس پر عمل کرتا، اس کاآیئنہ دل اورشفاف اورتابناک ہوجاتا۔“ (ضیاءالقرآن : حاشیہ 3)
اور آگے یہ بات بھی صاف طور پرفرمادی گئی کہ ”ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے!یعنی ان لوگوں کو اہمیت نہ دو جو اپنی وجاہت ،تکبراور غرور میں مبتلا ہو کر آپﷺ کی دعوت حق پر توجہ نہیں دیتے اور اپنے کو کچھ اورسمجھ بیٹھے ہیں، کہ انکے مسلمان ہوئے، بغیراسلام کا قافلہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حقیقت یہ ہےکہ
حق ان سے اتنا ہی بے نیاز ہےجتنے یہ حق سے بے نیاز رہنا چاہتے ہیں۔ پس آپ کی دعوت تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے وہ اسے قبول کرلے۔ یہ بات تمہارے سامنے جو رکھی جارہی ہے یہ تو ایسے صحیفوں میں درج ہےجو ،Honorable Respected مکرم ہیں: بلند مرتبہ ہیں،پاکیزہ ہیں: یعنی یہ بلند و بالا ہونے کے ساتھ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر طرح کی ملاوٹ و آمیزشوں سے بالکل پاک ہےخواہ انسانی تخیلات ہوں یا شیطانی وساوس، ان سب چیزوں سے یہ صحیفےپاک رکھے گئے ہیں۔ اوریہ بھی فرمایا(قرآن کے) ان صحیفے براہ راست اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کے، معزز اور نیک کاتبوں کے ذریعہ لکھے جارہے ہیں جو ﴿كِرَامٍ بَرَرَةٍ﴾ ان کے ہاتوں میں رہتے ہیں۔ یعنی ان صحیفوں کو لکھنے، ان کی حفاظت کرنے اور رسولﷺ برحق تک ان کو پہنچانے کی جو ذمہ داری ان کے سپرد کی گئ ہےاس کا حق وہ پوری دیانت کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ مقصود کلام یہ کہ یہ عظیم الشان کتاب ہر نقص و کمی سے بلکل پاک ہے اور اتنی بلند وبالا ہے، جسکی قدر کرو گے تو تمہیں ہدایت کا راستہ بتلا تی ہے اور ناقدری کروگے تو پھر تمہارا سارا گھمنڈ خاک میں مل جائےگا اور اُن لوگوں پر لعنت کی گئ ہے جو سخت منکر حق ہوتے ہیں، کیونکہ یہ اپنے مالک کے مقابلہ میں ناشکری کا رویہ اورباغیانہ روش اختیار کرتے ہیں:
﴿ قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ﴾
انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔ یعنی عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے،یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے۔
ابن منذر نے عکرمہ سےاس آیت کے بارے میں روایت کی ہے کہ
یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے کہا تھا میں ستاروں کے رب کاانکارکرتا ہوں۔ (تفسیر ابن عباسؓ: ترجمہ حافظ محمد سعید احمد عاطف)
آیت کریمہ 18 سے مضمون کارُخ تبدیل ہوتا ہے جس میں کفار پر راست طور پر عتاب کیا گیا جو آنحضور ﷺ کی دعوت حق کو رد کررہے تھے یعنی اپنے مالک ، خالق و پروردگار اور رازق کے ساتھ ان کا جو رویہ ہے اور ان کی ناشکری کی جو کیفیت ہے اس کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلہ میں ایک ایک چیز کی یاد دہانی کروائی گئی جو اللہ نے انسانوں کیلئے مہیا فرمائی ہے۔ چنانچہ چھوٹے چھوٹے فقروں میں انسان کے کبر و غرور پر ضرب لگائی گئی کہ انسان خود اپنی حیثیت پر غور کرلے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا؟
مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ
﴿مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ﴾یہ ان مغروروں کے کبر و غرور پرضرب لگائ ہے لیکن مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں انسان خلقت، مادہ خلقت، مراحل خلقت، وسائل معیشت غرض زندگی، موت، قبر سے لے کر حشر ونشر تک ساری باتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے تاکہ ان پر اپنے غرور کی بے ثباتی بھی واضح ہوجاے اور وہ خود اپنی زندگی کے آئینہ میں اس جزا و سزا کو بھی دیکھ لے۔(تدبر قرآن) اختتامی طور پر آیت کریمہ 33 سے لوگوں کو اصل انجام کی طرف متوجہ کیا گیا کہ دعوت حق کو ٹھکرانے کا کیا ہولناک انجام قیامت کے روز دیکھنا پڑے گا یعنی روز قیامت منکرین حق کی جو مختلف کیفیات ہوں گی اس کا بھرپور نقشہ کھینچا گیا، یہ ہوش میں آجائیں یعنی قیامت کے دن ایسا کان پھاڑنے والا شور بلند ہو گا۔جس کے بعد تمام مرے ہوے انسان جی اٹھیں گے، اس دن آدمی کو اپنی ہی فکر پڑی ہوگی، وہ اپنے بھائی اوراپنی بیوی اور اولاد سے بھاگےگا۔ان میں سے ہر شخص پراس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسےاپنے سواکسی کا ہوش نہ ہوگا۔
اہل ایمان کا ذکر خیر ہوا کہ وہ کس طرح خوش وخرم Joyful،Carefree ہشاش بشاش ہوں گے۔
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اس کی مختصر وجامع تشریح فرمائى کہ
”یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے،جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے، جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت و کامیابی کا یقین ہوجائے گا،جس سے ان کے چہرے خوشی سے تمتا رہے ہونگے۔‘‘ (احسن البیان)
اور پھر کافر وفاجر لوگوں کا حال بیان فریا کہ،اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود Covered with dust ہوں گے،ان پر سیاہی Blackness چھائى ہوگی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انہوں نےالٰہی ونبوی تعلیمات سے رو گردانی کی اورمن مانی زندگی میں مگن رہے۔
٭٭٭
ڈاکٹر ادریس زبیر کی مرکز میں تشریف آوری
الہدیٰ انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر ادریس زبیر کناڈا، مرکزی جمعیت اہل حدیث برمنگھم تشریف لائے، مولانا محمد عبد الہادی العمری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، ڈاکٹر خرم بشیر امین اور بہت سے ذمہ داروں نے ان کا استقبال کیا اور تبادلہ خیال۔
آخر میں جمعیۃ کی جانب سے ان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا اور ان کی مساعی جمیلہ میں برکت کے لیے دعا کی گئی۔
٭٭٭
تبصرہ کریں