سیاست، سیادت وقیادت میں منہج سلف۔ ڈاکٹر سید حسین مدنی

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله و صحبه ومن والاه ثم أمابعد:

ابتدائے سخن

فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر سعید احمد بری مدنی حفظہ الله امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش نے کچھ ماہ قبل اطلاع دی کہ دوروزہ کنونشن بعنوان ’’ منہج سلف دنیا کے لیے رحمت‘‘ منعقد کرنا طے پایا ہے، جس میں مجھے سیاست و سیادت میں منہج سلف کے حوالے سے ایک مختصر سا رسالہ یا مقالہ تیار کرنا اور اس کا خلاصہ پیش کرنا ہے بنا بریں حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ۔ بفضلہ

تعالی ۔ میں نے از سر نو اس موضوع کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور اس کی کچھ علمی خدمت کی ۔ تاریخ نے بار ہا ثابت کیا ہے کہ قوموں کی قیادت جب بھی اہل علم کے ہاتھ رہتی ہے تو بڑی ہی خوب صورتی وسلیقہ مندی کے ساتھ اور انتہائی انوکھے انداز سے تاریخ ساز علمی کارنامے انجام پاتے ہیں اس کی بجائے جب کبھی قوموں کی زمام بے لگام تھامتے ہیں تو’’ اندھی نگری چوپٹ راجا ‘‘ والا معاملہ ہوتا ہے۔

سارا وطن عزیز نوٹ بندی سے پریشان تھا طے شدہ کام منسوخ ہو رہے تھے ایسی نازک صورت حال میں دو سال قبل ’’فلاح انسانیت ‘‘ کے عنوان پر تاریخی اور مثالی کانفرس منعقد کی گئی اور ماضی قریب میں – بحمد اللہ منہج سلف دنیا کے لیے رحمت کے حوالے سے دو روزہ کنونشن بڑی ہی خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔

مشہور شاعر نواز دیوبندی نے کہا :

انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کر کے دیکھ

بھیگے ہوئے پروں سے ہی پرواز کر کے دیکھ

ذاتی تجربے اور مینی مشاہدے سے پتا چلا کہ جب میر کارواں مقامی ہو، اہل زبان و بیان ہو، علمی عملی و میدان ہو تو یقیناً کام ہوتا ہے، کام یاب کام ہوتا ہے، منفرد اور مؤثر کام ہوتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے معاشرے کی نفسیات، ضروریات اور ترجیحات کو بخوبی جانتا ہے اور اس کے لیے اپنے سینے میں اوروں کی بہ نسبت زیادہ دردمند دل رکھتا ہے۔

موضوع کے حسن انتخاب پر میں فضیلۃ الشیخ دکتورسعید احمد عمری مدنی حفظہ اللہ اور ان کے جملہ رفقائے کار کو دلی مبارک باد دیتا ہوں اور اگر میں کہوں تو قطعاً مبالغہ نہ ہوگا کہ عمومی طور پر ہندوستان اور خصوصی طور پر جنوبی ہند میں منہج سلف کی اصطلاح معروف کرنے میں شیخ محترم کو سبقت اور ید طولی حاصل ہے اور میزبان ذمہ داران اس حیثیت سے بھی قابل مبارک باد ہیں کہ

ان کی نظر صرف اپنے صوبے پر نہیں بلکہ انہیں عالم اسلام کی خبر اور فکر ہے کہ کس قدر آج دنیا کو منہج سلف کی ضرورت ہے، اسی لیے انہوں نے عنوان میں وسعت نظری اور اعلیٰ ظرفی سے کام لیا، حسن اتفاق بلکہ حسن مقدر کہیے کہ

بین الاقوامی حکیمانہ قیادتوں نے بھی اس موضوع کو وقت کی ضرورت جانا جیسا کہ سعودی عرب نے 27؍ 28 صفر 1440ھ کو منہج السلف الصالح فی الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ودور المملكة العربية في تعزيزہ کے عنوان پر کانفرس رکھی اور اسی حکومت نے رابطة العالم الإسلامی کے ذریعے تقریباً چھے سال قبل أحكام النوازل السياسية کے حوالے سے ایک کانفرس منعقد کی جس میں دنیا جہاں سے 150 سے زائد علما نے شرکت کی۔

اقبال نے کہا:

کون ہے تارک آئین رسول مختار

مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار

کس کی نگاہوں میں سمایا ہے شعار اغیار

ہو گئی کس کی نگہ طر ز سلف سے بے زار

موضوع کے حسن انتخاب کی طرح مخاطبین ( علما، ائمہ مساجد ودعاة ) کا انتخاب بھی بڑا لا جواب ہے کیوں کہ ایک عالم کی تربیت ایک عالم کی تربیت ہے۔

دعا گو ہوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ساری خدمات کو شرف قبول سے نوازے اور منہج سلف کی خدمت گزار وعلم واہل کی قدر دان اس صوبائی جمعیت کو دیگر جمعیات کے لیے دعوتی و تربیتی امور میں سنگ میل بنائے۔ آمین

ساتھ ہی میں اپنے محسن ومربی علمائے کرام کا بھی احسان مند ہوں جنہوں نے عدیم الفرصتی و ہجوم مشاغل کے باوجود اس کتاب کی نظر ثانی فرمائی اور اپنے زریں مشوروں سے نوازا ۔

علاوہ ازیں صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ کے سارے رفقائے کار کا بھی شکر گزار ہوں، جنہوں نے صوبہ تلنگانہ کے امرا ونظما و دیگر ذمہ داران کی تنظیمی تربیت کے لیے اس کتابچے کی طباعت میں دل چسپی لی اور اس کارخیر میں شریک رہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ انہیں دونوں جہانوں میں جزائے خیر عطافرمائے۔

خیر اندیش:سید حسین بن عثمان عمری مدنی (ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ اسٹیٹ و سابق نائب امیر متحدہ AP)

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على إمام الأنبياء والمرسلين محمد و على آله وصحبه أجمعين و من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين

تقریظ

بقلم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر آر کے نور محمد عمری مدنی حفظہ اللہ،صدر شعبۂ عربی و دینیات ، اکا ڈیمی چنئی

آج کے پرفتن دور میں اہل علم کا فریضہ ہے کہ زندگی کے سارے شعبوں میں سلف صالحین کے منہج کو واضح کریں تا کہ خواص و عوام دلیل کی روشنی میں حق کو دیکھیں اور باطل سے دوررہیں۔

برادر محترم فضیلۃ الشیخ / سید حسین بن عثمان عمری مدنی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ اسٹیٹ کا زیر نظر یہ مقالہ بعنوان ’’سیاست سیادت و قیادت میں منہج سلف ‘ اپنے موضوع میں ایک منفرد کتا بچہ ہے، جس میں فضیلۃ الشیخ نے مختلف گوشوں پر مختصر مگر مدلل بحث کی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ موضوع آج کے زمانے میں انتہائی اہم ہے، کیوں کہ تحریکیوں کے ناقص تصور کی وجہ سے دین حق صرف سیاست وحکومت میں گھر کر رہ گیا ہے اور ان کے ہاں اسلام کا جز یعنی سیاست کا باب کل اسلام کی شکل اختیار کر گیا ہے، اسی وجہ سے وہ عبادات کو ثانوی حیثیت کی حامل اور تشکیل حکومت کو اساسی و ترجیحی امر گردانتے ہیں جب کہ از روئے قرآن معاملہ بالکل برعکس ہے جیسا کہ فرمان باری ہے:

﴿‏ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‎﴾ (سورۃ الحج : 41)

برادر محترم ! بحمد الله ، میدان تالیف کے شہ سوار ہیں اور میری دلی دعا ہے کہ

یہ مقالہ اس موضوع پر موصوف کی ایک مفصل کتاب کا پیش خیمہ ثابت ہو اور اللہ انہیں جلد ہی تفصیل کے ساتھ اس موضوع پر تصنیف و تالیف کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ و صحبہ وسلم

اخوکم:آر کے نور محمد عمری مدنی ۔ ( حفظہ اللہ )

منہج سلف ایک فراموش کردہ فریضہ

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور کامل دستور زندگی ہے، جس کا کمال بے مثال و لازوال ہے، جو اپنے ماننے والوں کو ایسی شاہ راہ سے گزارتا ہے جس کی رات بھی راہ گزر کے لیے روز روشن لگتی ہے، بنا بریں جس طرح ان خصوصیات کے حامل اسلام کو یک لخت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے بالکل اسی طرح ایمانیات، عبادات، معاملات عادات نظریات و افکار اور طریقہ کار میں منہج سلف سے چشم پوشی اور پہلو تہی بھی یکسر نہیں کی جاسکتی ہے۔

منہج بالکل واضح اور سیدھے راستے کو کہتے ہیں اور سلف سے مراد صحابہ کرام اور خیرالقرون ہیں۔

جس طرح ہم کتاب وسنت پر عمل کرنے کے پابند ہیں، اس طرح دین فہمی، دین پر عمل آوری اور اس کی نشر و اشاعت ان تینوں کاموں کے لیے منہج سلف کو اختیار کرنا ہم پر فرض ہے، کیونکہ

٭ اللہ نے اللہ کی طرف رجوع ہونے والوں کی پیروی کرنے کا حکم دیا جیساکه فرمایا :

﴿وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ﴾

’’اور اس کے راستے کی پیروی کرنا جو میری طرف رجوع ہوا۔ ‘‘ (سورہ لقمان: 15)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ان سے مراد اہل ایمان ہیں۔ (تفسیر القرآن العظیم)

اور سب سے پہلے مؤمن صحابہ کرام ہیں، اس اعتبار سے ان کی پیروی کرنا فرض ہے۔

٭ اللہ کو ساری انسانیت سے صحابہ کے ایمان کی طرح ایمان مطلوب ہے جیساکہ فرمایا :

﴿‏ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا﴾ (سورۃ البقرہ: 137)

’’ اور اگر یہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم (صحابہ) نے ایمان لایا ہے تویقیناً ہدایت یافتہ ہو جا ئیں گے۔‘‘

٭ منہج صحابہ پر چلنے والوں سے اللہ راضی ہے اور ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں ، جیسا کہ فرمایا:

﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ‎﴾ (سورة التوبہ: 100)

’’اور مہاجرین و انصار میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں اور بحسن وخوبی ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے اللہ راضی ہوا اور یہ بھی اللہ سے راضی ہوئے اور اس (اللہ ) نے ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بہت بڑی کام یابی ۔‘‘

امام طبری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ

’’ انصار و مہاجرین کی بحسن و خوبی پیروی کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح اللہ اور اس کے رسول پر ان کا ایمان تھا اسی طرح ایمانیات کے باب میں ان کے راستے کو اختیار کریں۔‘‘ (جامع البیان فی تاویل القرآن للطبری)

واضح رہے کہ درج بالا آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دینی امور میں بڑی سلیقہ مندی خوش اسلوبی اور باریک بینی سے منہج صحابہ اختیار کرنے پر رضامندی کی شہادت، جنت کی بشارت اور بڑی کام یابی کی ضمانت دی ہے۔

٭ اللہ نے منہج صحابہ فراموش کیے جانے پر جہنم رسید کرنے کی وعید سنائی جیسا کہ فرمایا:

﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴾ (سورۃ النساء: 115)

’’جو ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول کی خلاف ورزی کرے اور اہل ایمان کے راستے کے علاوہ دوسری راہ پر چلے تو ہم اسے ( زندگی میں ) من مانی کرنے دیں گے اور ( موت کے بعد ) جہنم رسید کر دیں گئے اور جہنم بڑی بری جگہ ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ سب سے اول وافضل اہل ایمان صحابہ ہیں جن کے منہج کی خلاف ورزی کرنا حرام ہے جو مخالفین منہج سلف کو جہنم رسید کر دیتی ہے۔

٭ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

« إنَّهُ مَن يعِشْ منْكم بعدي فسيَرى اختِلافًا كثيرًا فعليكُم بسنَّتي وسنَّةِ الخلفاءِ الرَّاشدينَ المَهديِّينَ من بعدي تمسَّكوا بِها وعضُّوا عليها بالنَّواجذِ»

’’در اصل بات یہ ہے کہ میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا، بڑا اختلاف دیکھے گا تو ایسی صورت میں تم انتہائی بڑی مضبوطی کے ساتھ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت ( منہج) کو تھامے رہو۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 4607)

٭ رسول اللہﷺکی سنت اور صحابہ کے منہج پر چلنے والے ہی جنت میں داخل ہوں گے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

« وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً”قَالُوا: مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:”مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي» (جامع ترمذى: 2641)

’’بنی اسرائیل (72) فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت (73) فرقوں میں بٹے گی، سارے فرقے جہنم رسید ہوں گے، بجز ایک کے۔ صحابہ کرام نے سوال کیا ، اے اللہ کے رسول (ﷺ)! وہ (جہنم سے نجات پانے والا) فرقہ کون سا ہے؟ فرمایا :

جو میری سنت اور میرے صحابہ کے منہج پر رہے گا۔‘‘

٭ منہج صحابہ کو تھامے رہنے والوں کے لیے پچاس صحابہ کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ لِلْمُتَمَسَكِ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَ مِنْهُمْ؟ قَالَ : بَلْ مِنْكُمْ »

’’تمہارے بعد صبر آزما دن آئیں گئے، ایسے عالم میں تمہارے منہج کو تھامے رہنے والے کے لیے تم میں سے پچاس افراد کے برابر اجر ملے گا، صحابہ نے سوال کیا، اے اللہ کے نبی! کیا ان میں سے پچاس افراد کے برابر اجر ملے گا تو فرمایا: نہیں، بلکہ تم میں سے (پچاس صحابہ کے اجر کے برابر اجر ملے گا)۔ ‘‘ (السنۃ لمحمد بن نصر المروزی: ح 23)

٭ قرآن وحدیث سے منہج صحابہ یا منہج سلف کی ضرورت و اہمیت کو جاننے کے ساتھ ساتھ صحابہ کے اقوال کی رو سے بھی اس کی اہمیت و افادیت کو جاننا چاہیے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

«مَنْ كَانَ مُسْتَنَّا فَلْيَسْتَنَ بِمَنْ قَدْمَاتَ أُولَئِكَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا خَيْرَ هذِهِ الْأُمَّةِ أَبَرَهَا قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَفَلَهَا تَكَلَّفَا قَوْمَ اخْتَارَهُمْ اللهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صلّى الله عليه وسلم وَنَقْلِ دِينِهِ فَتَشَبَهُوا بِأَخْلَاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ فَهُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيمِ »

’’ جس کسی کو پیروی کرنی ہو تو وہ ان کی پیروی کرے جو گزر چکے ہیں یعنی اس امت کے بہترین طبقے کی پیروی کرے جو محمد ﷺ کے صحابہ ہیں، انتہائی نیک دل گہرا علم رکھنے والے، تکلف سے بہت دور ( اور صحابہ ) ایسی قوم ہیں جنہیں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت اور اپنے دین کی نشر و اشاعت کے لیے پسند فرمایا، لہٰذا تم ان کے منہج و اخلاق کی نقل کرو، کیونکہ وہ محمد ﷺ کے صحابہ ہیں جو سید ہی راہ پر گامزن تھے۔‘‘ (حلیۃ الأولياء وطبقات الأصفياء : ج1 305)

٭ صحابہ کرام بعد والوں کی بہ نسبت سب سے بہتر ہیں، کیونکہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

« خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ »

’’تم میں سب سے بہترین لوگ میری صدی کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے لوگ بہترین ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے لوگ بہترین ہیں۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 2651)

امام نووی اور امام ابن حجر رحمہما اللہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی صدی کے لوگوں سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج و فتح الباری شرح صحیح البخاری)

٭ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

“اصبر نَفْسَكَ عَلَى السُّنَّةِ وَقِف حَيْثُ وَقَفَ الْقَوْمَ وَقُلْ فِيمَا قَالُوا وَكَفَ عَمَّا كَفَوا عَنْهُ وَاسْلُك سَبِيلَ سَلَفِكَ الصَّالِحِ فَإِنَّهُ يَسَعُكَ مَا وَسِعَهُمْ .”

’’تم سنت پر اپنے آپ کو جمائے رکھو، قوم ( صحابہ ) جہاں رکے تم بھی وہاں رک جاؤ، وہ جس کے قائل تھے تم بھی وہی کہو جن امور سے انہوں نے اپنے آپ کو روکے رکھا تم بھی ان سے اپنے آپ کو روکے رکھو اور تم اپنے سلف صالحین کے راستے پر چلو، کیونکہ جو عقائد منہج و اعمال ) ان کے لیے کافی تھے وہ تمہارے لیے بھی کافی ہو جائیں گے۔ ‘‘

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

“وَلَا يُصلِح آخر هذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا مَا أَصْلَح أولَهَا .”

’’اس امت کے آخری طبقے کو وہی (افکار وطریقہ کار ) سدھارے گا جس نے اس امت کے پہلے طبقے کو صالح بنایا۔‘‘

( الشفا بتعريف حقوق المصطفى للقاضی عياض القسم الثانی الباب الرابع فصل فی حكم)

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

“قد ثبت وجوب اتباع السلف رحمة الله عَلَيْهِم بالكتاب والسنة وَالْإِجْمَاع وَالْعَبْرَة دلَّت عَلَيْهِ .”

’’قرآن حدیث اجماع اور قیاس کی رو سے سلف صالحین رحمہم اللہ کی پیروی کرنا یقینی طور پر واجب ہے۔‘‘ ( ذم التأويل لابن قدامة الباب الثاني في بيان وجوب … : اثر ؍ 73)

تبصرہ کریں