
افراد ساز شخصیت: مولانا سید امین عمری رحمہ اللہ
مولانا عبد الہادی العمری
جامعہ میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے۔ نماز فجر کے بعد کچھ ساتھی تلاوت قرآن کے بعد چہل قدمی کے لیے باہر کا رخ کرتے ، کچھ مطالعہ اور کتب بینی میں لگ جاتے اور کچھ اپنی نیند کی قسط ثانی کے لیے لیٹ جاتے۔ ایک جمعہ فجر کے بعد کمرے میں آیا اور بستر پر دراز ہونا چاہتا تھا کہ جامعہ کے صحن میں ہلچل سی ہوئی ۔ مولانا سید امین صاحب کی آواز بلند ہو رہی تھی ۔ خطبہ جمعہ کے لیے متبادل خطیب کی تلاش تھی۔ کسی نے چپکے سے وہاں راقم کا نام لے دیا۔ پھر اچانک کئی آوازیں بلند ہوئیں کہ عبدالہادی کو بلاؤ! ماتھا ٹھنکا اللہ خیر کرے کہ صبح تڑکے کیا خبر ہے، ناچیز کو اس سرعت سے کیوں طلب کیا جا رہا ہے، ابھی تو مسجد سے لوٹا ، سب کچھ نارمل تھا۔ جھٹ سے پہنچا۔ استاذ گرامی صحن میں کچھ پریشان سے منتظر تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ آج آپ کو مسجد عمر آباد میں خطبہ دینا ہے، ہمیں ایک جنازے میں شرکت کے لیے ابھی روانہ ہونا ہے ۔ یہ سب گویا ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا۔ میں نے تردد کرتے ہوئے دو ایک متبادل نام پیش کیے، لیکن استاذ گرامی کچھ سننے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ ان کا جو انداز ہوا کرتا کہ ” بھائی! آپ کا نام لیا تو کچھ سوچ کر ہی لیا ہوگا نا ۔” منظر کچھ ایسا تھا کوئی حیلہ کارگر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ خطیب مسجد کی مجبوری تھی، انھیں فوری روانہ ہونا تھا۔
خطبہ جمعہ، وہ بھی عمر آباد میں، بغیر کسی پیشگی تیاری کے، ساری نزاکتیں اکٹھی جمع ہوگئی تھیں۔ ہمارے استاذ مولانا حفیظ الرحمن اعظمی نے جامعہ کے سالانہ جلسے میں حالیہ خطیب مسجد مولانا حافظ محمد ابراہیم عمری کا مجموعہ خطبات ” صدائے منبر“ کے اجرا کے موقع پر تاثراتی کلمات میں کہا تھا کہ مسجد عمر آباد کا خطبہ بال سے زیادہ باریک تحقیق کا متقاضی ہے ۔ اس ناگہانی ذمہ داری کے ساتھ ہی بھول گیا کہ نیند کی دوسری قسط باقی ہے۔
کمرے میں واپس آیا، اپنی نوٹس بک اٹھائی جس میں چھوٹے موٹے مضامین تھے۔ کھیل کے میدان کا رخ کیا۔ وہاں ایک گوشہ عافیت تلاش کر کے بیٹھ گیا اور اکیلے میں کسی کنارے بیٹھ کر ذہن پر زور دیتا رہا کہ خطبے کا عنوان اور اس کے مندرجات کیا ہونے چاہئیں۔ اس وقت دماغ نے جتنی یاوری کی میں نے خاکہ بنالیا، یہ ذہن سے نکال کر کہ مجھے مسجد عمر آباد میں خطبہ دینا ہے جہاں مسجد جامعہ، اساتذہ کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوگی، مجھے آج خطبہ دینا ہے کسی مسجد میں اور بس۔ اس سے پہلے کئی چھوٹی مساجد میں خطبہ دے چکا تھا لیکن اس کی نوعیت مختلف تھی۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ نہا دھو کر بروقت مسجد پہنچا۔ جوں جوں وقت قریب آتا گیا دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔ اُس وقت کے مسجد کے موذن صرف ٹمل ہی جانتے تھے۔ دو چار ہی اردو کے جملے بول سکتے تھے۔ وہ موسمی پھلوں کا جز وقتی کاروبار بھی کرتے ۔ طلبہ ہی ان کے گاہک ہوتے ۔ عمر آباد کے مضافات میں پپیتے کی پیداوار خوب ہوتی ۔ ہم جس پھل پر ہاتھ رکھتے وہ دکنی انداز میں کہتے: ”اچھا رھنگا، میٹھا رھنگا۔“ جمعہ کا وقت ہوتا تو آواز لگاتے : ” اب چلیے۔“ خطیب جمعہ کے لیے یہ ان کا اشارہ ہوتا کہ منبر پر بیٹھیے ، میں اذان دینے لگا ہوں ۔ اب چلیے کہنا یہ غالبا استاذ محترم مولانا عبدالسبحان اعظمی نے انھیں سکھا دیا تھا۔
اُن دنوں مسجد میں ایک ہی گھڑی ہوتی جو مسجد کے درمیانی حصے میں تھی، اگلی صفوں سے دکھائی نہیں دیتی ۔ موذن صاحب کبھی اوقات صلاۃ کی تبدیلی کا اعلان کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو ضرور ایسی غلطی کرتے کہ طلبہ کی ہنسی چھوٹ جاتی۔ پھر جو جملہ اردو میں یاد کر کے آئے ہوتے بھول جاتے۔ اس کا یہ حل نکالا گیا کہ ان کی طرف سے کوئی طالب علم اعلان کر دیتا۔ بہر حال ! اب چلیے کی صدا کے ساتھ راقم کو منبر پر بیٹھنا پڑا۔ اذان مکمل ہونے تک ہوش و حواس بھی قابو میں آچکے تھے۔ پھر جو کچھ خطبہ میں کہا گیا عنوان اور بیان کے اعتبار سے قابل قبول ہی سمجھا گیا۔
ڈاکٹر ضیاء الرحمن صہبا اعظمی عمری جو ہماری انگریزی کے ابتدائی استاذ اور خارجی معلومات کے فری لانسرس مدرس کی حیثیت رکھتے تھے، یعنی کلاسوں کے اوقات کے علاوہ بہت سی خارجی معلومات اور اخبار عالم بڑی عمدگی سے بیان کرتے رہتے ۔ وہ جب کبھی حدود جامعہ میں پہنچتے طلبہ کی ایک ٹکڑی ساتھ ہو لیتی۔ وہ جمعہ میں حاضر تھے۔ میں نے ملاقات کر کے ان سے دریافت کیا کہ آج خطبہ میں کوئی بڑی غلطی تو نہیں رہ گئی؟ مسکراتے ہوئے مناسب حوصلہ افزائی کی کہ کوئی غلطی نہیں کی ، سب کچھ ٹھیک تھا۔ یہ تو میں جانتا تھا کہ میری حوصلہ افزائی ہو رہی ہے، ورنہ من آنم کہ من دانم۔
استاذ گرامی مولانا عبدالسبحان اعظمی جو کچھ بیمار تھے لیکن جمعہ میں شریک تھے ، وہ مسجد سے اخیر میں نکلا کرتے۔ ان سے بھی دریافت کیا۔ کمال شفقت سے کہا: ”ایسے نہیں پوچھا کرتے ، ابھی تو خطبہ سے فارغ ہوئے ہو ، جاؤ کھانا کھا کر آرام کرو ، چند خطبات کے بعد مزید منجھ جاؤ گے۔“ ساتھ ہی نصیحت فرمائی:
”آیات قرآنی پڑھتے ہوئے کوشش کیجیے کہ پوری آیت پڑھیں۔“ میں نے آیت کا صرف مطلوبہ حصہ پڑھا تھا۔
میں نے یہ جو کچھ تفصیل لکھی یہ بتانے کے لیے کہ بعد میں نہ جانے کتنی بڑی مساجد میں خطبات دروس اور اہم کانفرنسوں میں متعدد تقریروں کے مواقع ملتے رہے مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے بیسیوں دروس بفضلہ تعالیٰ نشر ہوتے رہے، ان سب کی خشت اول کہاں اور کیسے رکھی گئی ، اور اس کے معمار اول کون تھے: اللهم اجعل هذا في ميزان حسناتهم
استاذ گرامی مولانا سید امین عمری علیہ الرحمہ نے جس انداز سے مجھ پر ذمہ داری ڈالی یہ دراصل تیراکی سکھانے کا قدیم اصول ہے کہ خواہش مند کو کم پانی کی جگہ دھکا لگا دو۔ جب پانی میں گرے گا خود ہی ہاتھ پاؤں ہلا کر پیراک بن جائے گا ۔ الحمد للہ اس کے بعد اسی مسجد میں کئی بار جمعہ پڑھانے اور امامت کی سعادت ملتی رہی۔
یہاں کے خطبہ جمعہ کے متعلق ہمارے ایک ہر دل عزیز ساتھی نے جو عمری مدنی تھے، انتقال کر گئے ، اللہ مغفرت فرمائے ، اپنی ایک آپ بیتی سنائی کہ ایک جمعہ انھیں خطبے کی زحمت دی گئی، وہ اسٹیج کے آدمی نہیں تھے لیکن احباب اور متعلقین نے راضی کر لیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے چند تفاسیر کا مطالعہ کیا اور کچھ کتابیں پڑھیں ، ذہنی طور پر تیاری مکمل کر لی اور کافی مواد جمع ہو گیا۔ وقت مقرر پر حسب روایت موذن صاحب نے صدا لگائی : اب چلیے، تو وہ منبر پر جا بیٹھے۔ اذان ختم ہوئی۔ جب خطبہ مسنونہ کا آغاز کیا تو ان کے بقول آگے دیکھا تو سارے لوگ میری ہی طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شروع میں ہی کیا گڑ بڑ کر دی کہ سب مجھے گھور رہے ہیں !۔ اسی کش مکش میں مضمون کا خلاصہ ذہن میں کہیں کھو گیا۔ بہر حال ساری قوت مجتمع کر کے میں نے تقریر شروع کی ، اور پسینہ ہے کہ بہتے جا رہا تھا، اور سارا بدن شرابور ہو گیا۔ کچھ دیر بعد خیال گزرا کہ وقت پورا ہو چکا ہوگا ، کیوں کہ جو کچھ تیاری کی تھی وہ تو کہہ دیا۔ پھر گھڑی پر نظر ڈالی کہ کہیں مقررہ وقت سے آگے تو نہیں نکل گیا، لیکن حیرت ہوئی کہ ابھی تو صرف پانچ منٹ ہوئے ہیں، یعنی پچیس منٹ مزید باقی ہیں۔ یا اللہ ! جو کچھ تیاری کی تھی وہ تو پانچ منٹ کا مواد ثابت ہوا، پچیس منٹ کے لیے کیا کروں ؟ کسی طرح کچھ اور مزید وقت لگا کر خطبہ سے فارغ ہو گیا۔ لوگ بھی خوش کہ آج خطبہ مختصر کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے دوبارہ یہ غلطی نہیں کی ۔ وہ اپنے خاص انداز سے جب یہ واقعہ سناتے تو ساتھیوں کے قہقہے بلند ہوتے اور محفل زعفران زار بن جاتی۔
مولانا سید امین صاحب اپنی باری میں خطبہ جمعہ کے لیے تشریف لاتے تو سفید لمبا کرتا ، چوڑے پائینچے کا پاجامہ ، عام حالات میں لنگی ، زلفوں پر اونچی جناح کیپ، چہرے کو پُر نور کرتی ہوئی بھر پور ڈاڑھی اور خاص مناسبتوں میں شیروانی زیب تن کر لیتے ۔ آپ کا مرکزی عنوان فکر آخرت اور دنیا کی بے ثباتی ہوتا۔ انداز گفتگو میں ٹھہراؤ تھا۔ کبھی متعلقہ آیات ایسے ترنم سے پڑھتے کہ سماں بندھ جاتا۔
ممکن ہے یہ اسلوب آپ کے استاذ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (وفات: 1956ء) کی دین ہو، کیوں کہ مولانا سیالکوٹی ہی نے ہمارے شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالواجد عمری کو، جس زمانے میں وہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی میں طالب علم تھے، ان کی حسن تجوید اور مترنم اشعار کو سن کر مشورہ دیا تھا کہ تقریر میں آیات قرآنی بھی اسی انداز سے پڑھیے۔ مولانا سید امین رحمہ اللہ بھی دار السلام سے فراغت کے بعد مولانا میر سیالکوٹی کے درس میں شامل ہوئے اور پھر مولانا احمد علی لاہوری (وفات: 1962ء) کے درس سے کسب فیض کیا تھا، یا ہو سکتا ہے یہ موصوف کا اپنا ہی اسلوب رہا ہو۔ دورانِ خطبہ ان بزرگوں کا نام نہایت احترام سے لیتے اور ان کے فرمودات سنایا کرتے۔ اس کا تذکرہ فکر و نظر کے سفر کی ایک صدی والے مضمون میں گزر چکا ہے۔)
کبھی جہری نمازیں پڑھاتے ہوئے ، خصوصاً مغرب کی نماز میں سورہ آل عمران کی آخری آیات :
﴿لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾
ایسی اٹھان کے ساتھ تلاوت فرماتے کہ دل چاہتا تلاوت طویل سے طویل تر ہوتی جائے۔
آپ کے ساتھ رابطہ کرنے میں طلبہ کے لیے تکلفات کے پردے نہیں تھے۔ گھر ، جامعہ بلکہ راستے میں بھی اپنی ضرورتوں کے لیے تعاقب کرتے رہتے ۔ رخصت کے لیے وہیں جیبی بیاض (Pocket-size notebook) نکال کر پرچی لکھ دیا کرتے۔ یہ نہیں کہ آفس میں مخصوص اوقات میں بیٹھیں گے تو کام ہوگا ۔ آپ کا یہ بے تکلفانہ انداز دوران تدریس بھی رہتا۔ دیگر مضامین تو آگے پیچھے بدلتے رہتے لیکن ”تفسیر جلالین“ کی گھنٹی آپ ہی کے پاس ہوتی ۔ ہم طلبہ کو بھی گویا اپنی اولاد کی طرح چاہتے اور بہت سی باتیں گھریلو قسم کی بھی بتا دیا کرتے ۔ جب گھر والوں کو اس کی اطلاع ملتی تو مولانا سے احتیاط برتنے کی خواہش کی جاتی ، اور آپ وہ بھی کلاس میں بتا دیا کرتے۔ کبھی مالی مسائل درپیش ہوتے ، چاہے جامعہ کے لیے یا ذاتی نوعیت کے، فرماتے کہ کچھ مسائل بے چین کر رہے تھے، آج تہجد میں عرض کیا ہوں ، (یعنی بارگاہ الہی میں دعا کی ہے کہ یہ مشکل آن پڑی ہے ، ادھر سے سوال بھی ہوتا کہ کہاں سے دوں؟ میں جواب دیتا ہوں کہ تیرے خزانوں میں کمی نہیں ، تو رزاق ہے، جہاں سے بھی عطا فرما میری مشکل حل کر دے، اور پھر یہ مشکل ایسے حل ہوئی کہ غیر متوقع فلاں صاحب نے اتنی رقم لادی، فلاں جگہ سے یہ چیک پہنچا۔ پھر ہمیں تاکید فرماتے کہ پریشانی ہو تو رات کے آخری پہر کا وقت اذکار اور دعا کے لیے خاص کرو، ضرور قبول ہوگی اور اس خاموشی سے جاگو کہ شور نہ ہونے پائے ، چپکے سے یہ عمل ہو ۔ گویا اسی آخری عمل کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ ساری باتیں ہوتی۔
مولانا نہ صرف خود دعائیں کرتے بلکہ اہل خیر سے دعائیں کروایا کرتے کہ نہ جانے کب کس کی دعا شرف قبولیت پائے ۔ ویسے تو وہ اپنے سبھی بچوں کے لیے دعا کرتے رہے ہوں گے مگر دو کے متعلق تو وہ ذکر بھی کرتے۔ ایک یہی برادرم سید ریاض احمد ، جو اس غیر مسلم کی ہدایت کا سبب بنے ، اور پھر وہ نو مسلم دینی علوم سے آراستہ ہونے اور مقامی ماحول کے منفی رد عمل سے بچنے کے لیے شمالی ہند کی درس گاہ جامعۃ الفلاح بھیج دیے گئے۔ دینی علوم سے فیض یاب ہو کر جب وہ واپس ہوئے تو دار السلام ہی میں انھیں سکون ملا۔ سوچیے کہ وہ منظر کس طرح کا ہوگا کہ جو ماضی قریب تک اس دین ہی کے خلاف تھے آج اسی دین کے نہ صرف پیروکار بلکہ پرچارک بن رہے تھے۔ جو خود اسلامی علوم سے نا آشنا تھے، آج تشنگان علوم کی پیاس بجھا رہے تھے۔ یہاں فرمان نبوی ﷺ کو ذہن میں رکھیے: الدال على الخير كفاعله. (ترمذی: ۲۶۷۰) کسی کو خیر کی طرف بلانے والے کا اجر بھی اس پر عمل پیرا شخص کے برابر ہے۔
مولانا کے دوسرے فرزند جن کے لیے مولانا کی دعائیں خصوصی طور پر رہیں حافظ سعید احمد (رحمہ اللہ) تھے۔ غضب کے ذہین تھے ، بلا کا حافظہ تھا ، تلاوت بھی عمدہ تھی لیکن وہ حفظ کے بعد مولانا کی خواہش کے مطابق سلسلہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ مولانا اگر ہم طلبہ کے لیے اتنی تڑپ رکھتے تھے تو یہ لخت جگر کا معاملہ تھا، ان کے لیے کیا کچھ جتن نہیں کیے ہوں گے۔ کبھی کلاس میں ذکر کرتے کہ آج میں نے دیکھا کہ سعید تہجد کے وقت جاگ کر نماز پڑھ رہا تھا، بڑی خوشی ہوئی۔ آج وہ گھر میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ مولانا اپنے صاحب زادے کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ ہم عمر طلبہ کا ذکر گھر میں کرتے کہ وہ فلاں مضمون میں آگے جا رہا ہے وغیرہ لیکن بتاتے کہ ”جب میں اس کے سامنے کچھ طلبہ کا نام لیتا ہوں تو اس کی غیرت جواب دے جاتی ہے، وہ اس تنافس کو برداشت نہیں کر سکتا، فوری کہتا کہ میں ان سب سے آگے ہوں اور کچھ دن اس پر عمل کر کے بتاتا لیکن طبیعت میں ٹھہراؤ نہیں ہے۔ رب ذوالجلال کے فیصلے اور حکمتیں وہی بہتر جانے، بڑی کوششوں کے باوجود وہ عمری نہیں بن سکے۔
مولانا ہمارے ساتھ بے تکلف ہونے کے باوجود کتنے حساس اور خود دار تھے اس واقعے سے اندازہ لگائیے۔ اس کا شاید کسی کو علم نہ ہو۔ ایک مرتبہ نماز عشا کے بعد مولانا گھر تشریف لے جا رہے تھے۔ میرا سامنا ہوا۔ مولانا نے آواز دی۔ جب قریب گیا تو جیب سے دو روپے نکال کر دیے اور کہا: ”آگے ریاض گاڑی پر سیب فروخت کر رہے ہیں، ایک سیب خرید کر لاؤ، اور بتانا مت کہ کس کے لیے ہے، ورنہ ہو سکتا ہے وہ پیسے نہ لے، پیسے دیے بغیر میں لینا نہیں چاہتا۔“ ہدایت کے مطابق میں گیا اور کہا کہ اچھا سا سیب دیجیے، ایک اہم شخصیت کے لیے مطلوب ہے ۔ ہو سکتا ہے انھیں کچھ اندازہ ہو گیا ہو۔ میں نے پیسے دے دیے اور سیب جیب میں رکھ لیا، چپکے سے مولانا کے پیچھے ہولیا۔ جب مولانا گھر کے قریب پہنچے تو میں نے وہ انھیں دے دیا۔
بعض احباب کے لیے اگرچہ یہ معمولی واقعہ ہو سکتا ہے لیکن میرے لیے سبق آموز ہے، حالاں کہ یہ فرزند اپنا کام ختم کر کے مولانا ہی کے گھر واپس جاتے ، وہیں ان کا ٹھکانا تھا مگر ہمارے مولانا کسی پر کسی قسم کا بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے ، خود پریشانیاں جھیل لیتے لیکن اولاد کی راحت کی فکر ہوتی۔ میں والد کا ذکر کرتا تو ریاض صاحب یقیناً پیسے ہی قبول نہ کرتے اور مولانا ادائی کے بغیر مفت میں کھانا نہیں چاہتے ۔ یہ وہ شخصیتیں ہیں جو کھلانا جانتی تھیں، دوسروں سے کھانا نہیں۔
مولانا کے گھر کوئی تقریب یا خوشی ہوتی تو اس کا کچھ حصہ چند طلبہ تک بھی پہنچتا۔ مشہور ہے کہ لڈو ٹوٹتا ہے تو چورا گرتا ہی ہے ۔ برادر گرامی مولانا حافظ سید عمیر احمد عمری کا جب ولیمہ ہوا تو جامعہ کے طلبہ کے لیے باقاعدہ ضیافت کا اہتمام جامعہ ہال میں کیا گیا ، اور جب مولانا کی دختر کا عقد نکاح مسجد عمر آباد میں ہوا تو طلبہ تک کھجور اور مٹھائی پہنچی ۔ اس شادی کی مناسبت سے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ہمارے مولانا طلبہ کے حق میں کتنے مشفق اور بے تکلف تھے ، لگتا کہ وہ اپنی صلبی اولاد اور ہم شاگردوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں کرتے ۔ دوران درس بتایا کہ کل نکاح کے بعد مجھے دولہا دلہن کے درمیان بٹھا دیا گیا کہ رخصتی کے موقع پر کچھ نصیحت کی جائے۔ اس موقع پر زبان سے کچھ کہنا آسان نہیں کہ بیٹی جا رہی ہے، کیا کہوں ، زبان کھولنا چاہا تو آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ، آگے کیا کہتا ؟ اتنا ہی کہہ سکا کہ جو کچھ گھر میں تربیت کی گئی اسی پر عمل کرو، اور بس۔!
مولانا مہمان نواز اور علما کے قدردان تھے ۔ مولانا عبدالحمید رحمانی کی ضیافت کے حوالے سے لکھ چکا ہوں ( تذکرہ ایک مشہور قریہ کا ) جامعہ میں مختلف علما اور زائرین تشریف لایا کرتے۔ عموماً انھیں حسب موقع اپنے گھر کھانا کھلانے کے لیے لے جاتے۔ یہی انداز ان کے فرزند ارجمند مولانا سید عمیر احمد عمری، مدیر المعهد الثانوی میں بھی پایا جاتا ہے: الولد سر لأبيه۔
دوران نظامت جامعہ کے اندر ہونے والی چھوٹی بڑی باتوں پر کس طرح نظر ہوتی ، اسے اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم ابتدائی جماعتوں میں تھے۔ مدراس کے ایک عزیز مولوی بلال جو مولوی حافظ طفیل عمری کے والد ہیں، ایک سال قبل ہی فارغ ہوئے۔ مولوی بلال زیر تعلیم تھے ، ان کے بھائی دو ایک دن کے لیے جامعہ آئے تا کہ یہاں کا انتظام دیکھیں اور اپنے بھائی بلال کے بارے میں تسلی کر لیں کہ وہ یہاں رہ کر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ میرے ساتھ ان کی شناسائی تھی، گویا میری وساطت سے وہ جامعہ پہنچے۔ میں نے سوچا کہ دو دن ہی کی تو بات ہے، اس کے لیے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے؟ پہلا ہی دن گزرا ، آپ نے مجھے آواز دی ، دریافت کیا کہ آنے والے نوجوان کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟ میں حیران کہ ہجوم طلبہ میں ایک نو وارد اور وہ بھی عمر اور انداز میں طلبہ جیسا ہی، ناظم صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں ہوا۔ میں نے وضاحت کر دی۔ کچھ کہا نہیں لیکن یہ سوال خود اپنی جگہ جواب اور تنبیہ تھی کہ یہاں ہر چیز نظام سے چلتی ہے۔
ایک مجلس میں عمر آباد کا تذکرہ کرتے ہوئے عمید کلیۃ الحدیث مدینہ یونی ورسٹی ڈاکٹر پروفیسر ضیاء الرحمن اعظمی عمری (وفات: ۲۰۲۰ء) نے اپنا ذاتی واقعہ سنایا کہ جب وہ دار السلام پہنچے تو اُس وقت وہ فقہ حنفی کے مطابق نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ یہ ان کے ابتدائی زمانہ اسلام کی بات ہے۔ یہاں آنے کے بعد جب حدیث پڑھی تو نماز کا طریقہ بدلا۔ اس کی اطلاع ہوئی تو مولانا نے ( جو ان کی سرپرستی فرما رہے تھے) انھیں اپنے کمرے میں بلایا اور اس تبدیلی کا سبب دریافت کیا کہ کہیں کسی نے اس کے لیے زبردستی تو نہیں کی ؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے حدیث پڑھی اور چاہتا ہوں کہ میری نماز حدیث کے مطابق ہو۔ یہ کسی جبر و اکراہ کے سبب نہیں بلکہ میرا اختیاری عمل ہے ۔ اس جواب پر مولانا نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: ”بلا خوف و خطر تم اس پر عمل کر سکتے ہو ، حالاں کہ مولانا کا عمل فقہ حنفی پر تھا۔‘‘
ایک مرتبہ درسی کتب کی تقسیم کرتے ہوئے حدیث پڑھانے والے تجربہ کار استاذ کی کمی محسوس کی گئی۔ ناظم جامعہ مولانا سید امین صاحب عمری سینئر اساتذہ سے تدریسی بوجھ کچھ کم کرنا چاہتے تھے۔ کلاس میں جب مولانا نے اپنی اس پریشانی کا تذکرہ کیا تو ہم طلبہ نے سادگی سے مختلف قابل اساتذہ کے نام گنوائے ۔ مولانا نے مسکراتے ہوئے بتایا:
حدیث کی تدریس کسی معتبر اہل حدیث عالم ہی کے ذریعے بھلی لگتی ہے۔
حدیث پڑھاتے ہوئے استاذ کے عمل اور حدیث میں کسی قسم کا تعارض نہیں ہونا چاہیے، ورنہ بسا اوقات ایسا استاذ مضمون کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔
رواداری کی یہ مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے أولئك أبائى فجئنى بمثلهم
طلبہ کی نمازوں میں حاضری کو یقینی بنانے کے لیے گاہے گاہے مسجد میں حاضری لی جاتی، اور کبھی کوئی ذمہ دار دار الاقامہ میں اچانک پہنچ کر جائزہ لیتے کہ جماعت چھوڑ کر کون محو استراحت ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں کی کبھی ہلکی پھلکی سرزنش بھی ہوتی ۔ ایک دن مولانائے محترم جماعت ختم ہوتے ہی قدیم عمارت کے دونوں دروازے بند کر کے خود جائزہ مہم پر جامعہ میں داخل ہوئے۔ ایک دو کمروں کا جائزہ لے رہے تھے کہ پیچھے رہنے والوں کو اندازہ ہو گیا کہ محترم ناظم صاحب گشت پر ہیں۔ جسمانی طور پر تندرست وتوانا ایک طالب علم محو خواب تھے۔ جوں ہی اطلاع ملی وہ تیزی سے بستر چھوڑ کر چھت کی طرف دوڑے۔ انھیں اندازہ تھا گیٹ تو بند ہوگا، لہذا چھت پر پہنچ کر جہاں سے نسبتاً زمینی مسافت کم تھی چھلانگ لگا دی۔ ناظم صاحب کو یہ تو اندازہ ہو گیا کہ ایک طالب علم ادھر دوڑا ہے، وہ سمجھ رہے تھے کہ آگے کی راہ مسدود پا کر رک جائے گا، اسے پکڑیں گے۔ جب وہاں پہنچے تو طالب علم ندارد، گیا کدھر؟ کسی نے خبر دی کہ وہ تو چھلانگ لگا کر چلا گیا۔ پھر کیا تھا، محترم ناظم صاحب اس غیر متوقع حادثے پر بہت پریشان ہوئے کہ وہ صحیح سلامت ہے، یا کوئی نازک صورت حال تو پیش نہیں آگئی لیکن طالب تندرست بھی تھا اور بہادر بھی ، وہ تو بعافیت چمپت ہو چکا تھا۔ یہ خبر بڑی عام ہوئی۔ ناظم صاحب نے اس کے بعد اس قسم کی تفتیش ہی کو ختم کر دیا ۔ جب یہ خبر اہل خانہ تک پہنچی تو ان کا پریشان ہونا بھی لازمی تھا۔ یہاں تک مشورہ دیا کہ آپ اس ذمہ داری ہی سے دست بردار ہو جائیے ۔ ناظم صاحب نے خود ہی دوران تدریس اس کا تذکرہ اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ ہمیں کن کن مسائل سے گزرنا ہوتا ہے۔ کار نظامت اور مروت کے درمیان توازن برقرار رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ چھلانگ لگانے والے ساتھی کچھ دنوں تک طلبہ کے درمیان ہیرو بنے رہے۔ ان کے حوصلے اور جرات کی داد دی جا رہی تھی ۔ بعد میں بڑے منازل طے کرتے ہوئے نیک نامی کے ساتھ جوانی ہی میں وفات پائی، اور عجیب اتفاق کہ استاذ گرامی مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی، جب کہ مولانا بہت کم امامت فرمایا کرتے ، رحمہم اللہ وغفر لهم – زمانہ طالب علمی کی یادیں بھی کتنی دل گداز ہوتی ہیں۔
طلبہ کے لیے فکرمندی کے حوالے سے سب سے موثر واقعہ استاذ محترم مولانا ابوالبیان حماد صاحب عمری کے تعلق سے ہے۔ مولانا ہی کے قلم سے پڑھ لیجیے:
فضیلت سال آخر میں پہنچا تو میں نے اپنے دو اساتذہ مولانا بختیاری صاحب اور مولانا سید امین صاحب کو گھر تشریف لانے کی دعوت دی۔ اُن دنوں جامعہ محمدیہ رائید رگ کے بانی مولانا سید اسماعیل صاحب بھی ہمارے علاقے میں تشریف لائے تھے۔ اُنھیں بھی دعوت دی ۔ میری مخلصانہ دعوت پر تینوں بزرگ ہمارے گھر مہمان ہوئے۔ اس وقت رحیم آباد میں مسجد نہیں تھی ۔ ہم لوگ گھر ہی پر پنج وقتہ نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے۔ تینوں بزرگوں کے قیام کے دوران ایک دن نماز مغرب کے لیے صف باندھی گئی تو امامت کے لیے مولانا سید امین صاحب کو آگے بڑھا دیا گیا۔ مولانا محترم نے نماز شروع فرمائی۔ پہلی ہی رکعت میں جب سجدے میں پہنچے تو آپ پر رقت طاری ہو گئی اور بے اختیار رونے لگے، یہاں تک کہ آپ کی ہچکی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے آپ نے نماز مکمل کی۔ سلام پھیر کر اذکار و سنن سے فارغ ہوئے تو میں نے رونے کا سبب دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا:
’’میں جب مصَلے پر پہنچا تو بے ساختہ آپ کا خیال آیا کہ کئی سال قبل اس جنگل سے ایک لڑکا علم دین حاصل کرنے کے لیے عمر آباد پہنچا ، اور اس سال جامعہ دار السلام سے فارغ ہو رہا ہے۔ معلوم نہیں فراغت کے بعد اس کے مستقبل کا کیا ہوگا۔ میں نے آپ کے روشن مستقبل کے لیے سجدے میں دعا شروع کی تو بے اختیار رونا آگیا۔‘‘ (از كردار ساز شخصیت)
جشن طلائی کی ہمہ جہت تیاریوں میں مولانا سید امین صاحب کا کردار کلیدی اور نہایت مثالی رہا۔ آپ ایک طرف تو طلبہ کے ساتھ ایسی شفقت اور اپنائیت سے پیش آتے کہ وہ فرط مسرت اور جوش و خروش کے ساتھ ہر ذمہ داری کو اپنی سعادت سمجھتے ہوئے نباہتے ، تو دوسری طرف کام کرنے والوں کی ایسی دل جوئی اور حوصلہ افزائی فرماتے کہ تمام تر تکان کافور ہو جاتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی حیثیت ایک ایسی ہمہ گیر اور قد آور شخصیت کی تھی، جن کا سایہ عاطفت سب کے لیے باعث اطمینان تھا اور جن کی مربیانہ سرپرستی نے نہایت کامیاب رول ادا کیا۔
ماشاء اللہ ، مولانا کے چھے فرزندان حافظ قرآن مجید ہوئے۔ ان میں سے پانچ نے تو جامعہ دار السلام سے فراغت پائی، بلکہ ان میں ایک عالم اسلام کی مشہور یونیورسٹی مدینہ منورہ کی فیکلٹی آف قرآن مجید سے تخصص کیا۔ مولانا رسول اکرم ﷺ کے فرمان : خيركم من تعلم القرآن وعلمه کا مصداق ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ
یہ بھی حسن اتفاق ہی کہیے کہ ایک لڑکا جو حفظ نہیں کر سکا، اس سے وہ کارنامہ انجام پایا جو صرف طلبہ ہی کے لیے نہیں بلکہ دیگر بہت سوں کے لیے نمونہ قائم کر گیا۔ ہوا یوں کہ جامعہ کی قدیم عمارت کے بالمقابل ایک چائے خانہ تھا جس کا ذمہ دار ایک غیر مسلم خاندان تھا۔ برسہا برس سے طلبہ چائے پینے کے لیے اس کا رخ کرتے ۔ آپس میں رواداری کا تعلق ہونے کے باوجود انھیں راہ حق پر لانے کی سنجیدہ کوشش شاید کسی نے نہیں کی۔ ممکن ہے کہ کسی کا دھیان اس جانب نہ گیا ہو۔ بڑے ذہین نام ور علما یہاں آتے رہے لیکن مولانا کے اُس واحد بیٹے نے ، جو حفظ قرآن کی سعادت سے محروم رہا، وہ کام کر دکھایا جو دنیا اور آخرت میں اس کی بلندی درجات کا سبب بنے گا، ان شاء اللہ۔ اس غیر مسلم خاندان کے جواں سال بیٹے کی راہ حق کی ہدایت کا وہ ظاہری ذریعہ بنا۔ اس نے اسلام کی محبت اس کے دل میں اتاری اور جب وہ قلب و دماغ سے مطمئن ہوا، تو اپنے ابا حضور کی خدمت میں لے جا کر عرض گزار ہوا کہ اسے کلمہ پڑھا کر ہماری صفوں میں داخل کیجیے۔ یہ وقت شاید مولانا کی زندگی بھر کی دعاؤں کی قبولیت کا رہا ہوگا ۔ دعائیں تو قبول ہوتی ہیں لیکن اللہ عالم الغیب ہی فیصلہ کرنے والا ہے کہ دعا کس صورت میں قبول کی جائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مولانا کے دوسرے فرزند جن کے لیے مولانا کی دعائیں خصوصی طور پر رہیں حافظ سعید احمد (رحمہ اللہ) تھے۔ غضب کے ذہین تھے ، بلا کا حافظہ تھا ، تلاوت بھی عمدہ تھی لیکن وہ حفظ کے بعد اس واقعہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا محترم کو اپنے شاگردوں سے کتنا تعلق تھا اور اُن کی کتنی فکر آپ فرمایا کرتے تھے۔
ایک واقعہ مولانا محترم کی وفا شعاری کا بھی پڑھ لیجیے۔ ہم چھٹی جماعت میں تھے۔ سال ۱۹۷۵ء کا تھا، جب جامعہ کے اپنی نوعیت کے منفرد استاذ مولانا قاری حافظ عبید اللہ صاحب عمری کی طبیعت ناساز ہوگئی ۔ حافظ صاحب کی مساعی جمیلہ کا ذکر گزر چکا ہے ( تذکرہ ایک مشہور قریہ کا ) ۔ ان کے اکلوتے فرزند ہمارے ہم سبق تھے۔ اس عمر میں وہ کچھ زیادہ کر نہیں سکتے تھے۔ لیکن مولانا سید امین صاحب گویا جامعہ کے ناظم ہی نہیں ان کے گھر کے سرپرست کی حیثیت سے ان کے علاج معالجے کی فکر کرتے۔ حافظ صاحب کو فوری آمبور کے امریکن ہسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن مزاج سنبھل نہیں سکا، تیزی سے بگڑتا گیا اور بالآخر اپنی جہد مسلسل سے جامعہ کے معہد القرآن کو چار چاند لگانے والے فرزند جامعہ کا وقت موعود آپہنچا۔ اس خبر کے ساتھ اساتذہ اور طلبہ کی جو کیفیت ہوئی وہ اپنی جگہ لیکن مولانا سید امین صاحب کی تڑپ اشک بار کر گئی۔ محترم حافظ صاحب کی نعش جس گاڑی میں عمر آباد لائی گئی اس میں اہلِ خانہ کے ساتھ شریک معتمد مولانا کاکا سعید احمد صاحب عمری بھی سوار تھے۔ اس مشکل گھڑی میں منتظمین جامعہ ساتھ ساتھ تھے۔ گھر پہنچ کر ضروری انتظامات میں لگے تھے۔ کسی نے خبر دی کہ شاید زندگی کے آثار باقی ہیں، جسم میں حرارت ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی حزن و ملال کی کیفیت بیم و رجا میں بدل گئی۔ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا ہسپتال والوں نے مناسب تسلی کے بغیر ہی موت کا پروانہ جاری کر دیا ؟ کیا کسی کی دعا قبول ہو گئی ؟ غرض دسیوں باتیں گردش کرنے لگیں۔ مولانا محترم خود بھی حکیم تھے۔ اس نازک موقع پر مولانا کے ساتھ ڈاکٹر عزیز الرحمن رونق اعظمی ، ڈاکٹر ضیاء الرحمن صہبا اعظمی مل کر بہتیرے کوشش کرتے رہے۔ کسی نے ناک سے شیشہ لگا کر چیک کیا کہ کہیں سکتہ کی حالت میں تو نہیں ، کسی نے ہاتھ پاؤں کی نبض دیکھی اور ہم طلبہ کی متجسسانہ نگاہیں گھر کی طرف تھیں۔ کافی دیر تک گومگو کی کیفیت رہی ۔ بالآخر مولانا محترم کے اعلان نے سب کی امیدیں ختم کر دیں کہ حافظ صاحب دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ چوں کہ موت کے بعد بھی جسم میں کچھ گرمی رہتی ہے اس سے یہ غلط فہمی ہو رہی تھی۔ ہسپتال والوں نے موت کی جو تصدیق کی ہے وہ درست ہے۔ اس کے ساتھ ہی جامعہ میں چھٹی کا اعلان خود مولانا کی اس پرچی کو چسپاں کر کے کیا گیا: ”جامعہ کے لائق فرزند اور قابل استاذ مولانا قاری عبید اللہ صاحب کی وفات پر جامعہ کو تعطیل رہے گی۔“
تجہیز و تکفین کے انتظامات تیزی سے مکمل ہوئے۔ تدفین سے واپسی پر مولانا محترم حافظ صاحب کے گھر تشریف لے گئے ، اور پھر کلاس میں دوسرے دن بتایا کہ ” اس نازک موقع پر مجھ سے کچھ تلقین کرنے کی خواہش کی گئی لیکن میں نے گھر کے اندر جو ماحول دیکھا کہ حافظ صاحب کی اہلیہ محترمہ جو زندگی بھر صبر و شکر کا پیکر بنی رہیں بھلا وہ پاکیزہ صفت خاتون شوہر نام دار کی وفات کے بعد کیسے بے صبری کا مظاہرہ کر سکتی تھیں۔ اگرچہ یہ مصیبت ان کے لیے کوہ گراں تھی ، مگر اس نازک موقع پر بھی زبان سے صبر و شکر کے کلمات ہی ادا ہو رہے تھے۔ اس خاتون خانہ کا حوصلہ اور ان کے صبر و ضبط کو دیکھ کر اپنے اندر برداشت کی قوت پا رہا تھا۔ مجھ پر اور میرے گھر والوں پر حافظ صاحب کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میرے چھے فرزندان کے سینوں کو انھوں نے نور قرآن سے منور کیا۔ میں اس دنیا میں اس کا بدلہ کیسے ادا کر سکتا ہوں۔ میں اس درنایاب کی شان میں کیا کلمات کہہ سکتا ہوں، اور اس خاتون کے سامنے جس نے حافظ صاحب کا سہارا بن کر قدم قدم پر ساتھ دیا ہو اور جس کی ذاتی کوششوں سے قرب و جوار کے کئی معصوم بچے زیور قرآن سے آراستہ ہوئے ہوں ۔ پھر مولانا نے گھر والوں کی مالی مدد کے لیے جامعہ سے انتظام کروایا ۔ ذمہ داران جامعہ نے بھی محسوس کیا کہ حافظ صاحب کے بعد ان کی فیملی کو بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ احباب اور شناساؤں کو اس کی طرف متوجہ کروایا کہ ان کی بیوہ اور یتیم بچوں کو کسی کمی کا احساس نہ ہونے پائے ۔ کسی کے سامنے یا جیتے جی دوستی اور وفاداری کی باتیں آسان ہوتی ہیں، یا اس کے پیچھے ذاتی اغراض پوشیدہ ہو سکتے ہیں، مرنے کے بعد محبت اور وفاداری کو سوائے خلوص کے اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
حکومتی قانون کے مطابق منصب نظامت سے ریٹائر ہوئے تو آپ کے بعد آپ کے برادر صغیر جامعہ کے قابل قدر استاذ مولانا حافظ سید عبدالکبیر صاحب عمری کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی۔ پھر بتدریج مولانا سید امین صاحب تدریسی ذمہ داریوں سے بھی فارغ ہونے لگے۔ ۱۹۷۷ء کے جشن طلائی میں شرکت کے لیے آنے والے مختلف احباب اور فارغین گھر جا کر ہی اپنے استاذ گرامی سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ شوگر کا مرض جسمانی کم زوری کا سبب بنتا گیا۔ علاج معالجے میں کسر نہیں چھوڑی۔ ان دنوں حیدر آباد کے ایک حکیم صاحب نے شوگر کی دوا تیار کی اور اس کا خوب اشتہار کیا گیا۔ مولانا نے مجھ سے وہ دوا منگوائی، اور میں نے پہنچائی ۔ مولانا نے اہتمام سے استعمال کیا۔ پھر کہنے لگے کہ اس دوا کے ساتھ جو کچھ پرہیز تجویز کیا گیا ہے دراصل مرض اسی کے سبب قابو میں رہتا ہے، ورنہ دوا بجائے خود زیادہ سود مند نہیں ہے۔ مختلف جگہوں سے علاج کی کوشش کی مگر زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ہم مدینہ منورہ میں زیر تعلیم تھے۔ ایک دن ہمارے ایک ساتھی مولانا عبدالرشید عمری ملیباری نے اطلاع دی کہ ملیالم اخبار میں مولانا محترم کی وفات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ اُس وقت کسی اور ذریعے سے خبر کی تصدیق نہیں ہو سکتی تھی۔ اس اطلاع کے بعد موت کی تصدیق تو ہو گئی لیکن ان کے فرزند اور بھتیجوں کو نہیں معلوم تھا۔ بھائی حافظ سید عمیر احمد عمری کو احباب نے ایک کمرے میں بٹھا کر اس غم ناک خبر کی اطلاع دی۔ اسی مجلس میں مولانا سید ندیم الحق عمری اور مولانا حافظ سید علیم الحق عمری رحمہ اللہ بھی تھے۔ موبائل کی سہولتیں نہیں تھیں۔ ذرائع اطلاع محدود تھے۔ چند دنوں بعد شیخ التفسیر مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری کا خط موصول ہوا۔ خط کیا تھا درد دل کا مرقع تھا: ’’مرحوم میرے صرف بڑے بھائی ہی نہیں میرے لیے والد اور سرپرست اعلیٰ کا مقام رکھتے تھے۔ قدم قدم پر ان کی شفقتیں اور رہ نمائی میں میں آگے بڑھتا رہا۔ وہ میرے سر پر گھنی چھاؤں اور بازوؤں کے لیے مضبوط سہارا تھے۔ میرا غم دوسروں سے سوا ہے، لیکن ہم قضا و قدر کے فیصلوں پر راضی برضا ہیں، مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ۔‘‘
جامعہ ایک لائق استاذ، مسجد عمر آباد ایک قابل امام، منجھے ہوئے خطیب اور عمر آباد ایک مرد صالح سے محروم ہو گیا، جن کے دم سے راستوں میں اجالا تھا۔ اللہ تعالیٰ بشری لغزشوں سے عفو و درگذر کا معاملہ کرتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے – اللهم اغفر لهم وارحمهم….
یہ تھا مولانامحمد عبد الہادی العمری صاحب ( مجلس القضاء الاسلامی، برطانیہ) کا معرکۃ الآراء مضمون ، استاذ و ناظم جامعہ دار السلام عمر آباد ، مولاناسید امین احمد عمری رحمہ اللہ پر، مولانا سینئر اساتذہ میں سے تھے ، درمیانہ قد کچھ طوالت میں نکلتا ہوا، گورا رنگ، مناسب خدو خال ، نہ بہت زیادہ موٹے اور نہ دبلے درمیانہ بدن ، کشادہ سینہ پر خوبصورت اور گھنی داڑھی اور خوبصورت زلفیں ، سفید لباس پر سفید لنگی، خاص مناسبتوں پر پیجامہ اور شیروانی زیب تن فرماتے۔ ہمیشہ کندھے پر ایک ٹاول نما شال تاکہ وضو کے بعد استعمال کر سکیں۔ بڑی نفیس طبیعت کے مالک ، اپنے کبار اساتذہ سے خاص طور پر تہذیب وادب سیکھتے تھے، وہ اپنے تلامذہ کو بھی اپنے کبار اساتذہ کے ادب واخلاق کو روشناس کرانا چاہتے تھے خاص طور پر مونا احمد لاہوری اور مولانا ابراہیم سیالکوٹی وغیرہما سے جو انہوں نے حاصل کیا تھا۔
بعض اساتذہ کرام صلاحیت کے اعتبار سے بہت اونچے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور بعض اساتذہ عظام صالحیت کے اعتبار سے بہت بڑے مراتب پر فائز المرام ہوئے ہیں، ان بزرگ استاذ کو نا چیز صالحیت کے اعتبارے دیکھتا ہے۔ وہ طلبا میں عمل اور صالحیت دیکھنا چاہتے تھے اور اس کی زیادہ تلقین بھی فرماتے تھے، اگر کسی طالب علم کو وہ اس کے لباس اور چہرہ مہرہ سے نیک اور صالح دیکھتے تو وہ بہت مسرور ہوتے ہماری کلاس میں کچھ طلبا ملیشیاء کے بھی تھے، ان میں ایک دو وہ طالب علم تھے جو اس سے پہلے دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے تھے ، مکروہ وہاں سے فارغ نہیں ہوئے تھے اور آخر میں چند سال تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہ جامعہ دار السلام عمر آباد کارخ کئے تھے۔ وہ ہماری کلاس میں تھے جن کی داڑھی خاصی طویل تھی اور زلفیں بھی ، مولانا ان طلبا سے بہت کی خوش ہوتے تھے ۔
وہ فرماتے تھے کہ اگر مولوی عالم فاضل بن کر بھی اپنے چہرہ مہرہ سے صالحیت اور دینداری کا اظہار نہ ہو تو اس کا کیا فائدہ ہے ، جامعہ اپنی توانیاں خرچ کر کے طلبا کو تیار کرے اور ان سے دینداری عیاں نہ ہو تو اس عظیم قربانی کا کیا فائدہ؟
بحر حال وہ طلبا میں صالحیت اور دینداری دیکھنا چاہتے تھے اور اپنی ہدایتوں اور نصحیتوں اور دعاؤں میں اسی نیک عمل کو مقدم رکھتے تھے کیونکہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
مولانا کا اللہ سے مانگنے کا کیا انداز تھا وہ آپ پڑھ چکے ہیں ۔ بس اللہ کے اولیاء کی یہی شان اور ان کا یہی وطیرہ اور تجربہ رہا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ذریت طیبہ عطا فرمایا تھا ، جن میں 6 تو حافظ قرآن تھے اور کئی عمری تھے جو مخلوق خدا خصوصاً ملت اسلامیہ کی فلاح وبہبود کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں ۔مولانا کے بڑے فرزند مولانا حافظ سید شبیر احمد عمری جن سے اللہ کریم نے وہ کام لیا ہے جو ان کے حق میں ان شاءاللہ صدقہ جاریہ اور باقیات الصالحات ہوں گے۔
میری طالب علمی کے زمانہ میں شروع سال میں تقریباً ڈیڑھ سو طلبا جامعہ میں ہوتے تھے، سال کے اختتام پر تقریباً سو اسو طلبا رہ جاتے تھے، مگر حافظ سید شبیر کے شعبہ حفظ میں 2 سو سے زیادہ طلبا تھے، مزید داخلے اس شعبہ میں روک دیئے تھے اور پورے جامعہ میں میں ایک ہزار سے زائد طلباء تھے۔ ماشاء الله لا قوة الا بالله
مولاناحافظ سید زبیر احمد صاحب عمری مولانا کے دوسرے نمبر کے فرزند تھے ہماری طالب علمی کے زمانہ میں کبھی کبھی وہ بنگلور سے عمر آباد آتے تو عمر آباد کے اساتذۂ کرام انہیں امامت کے لئے آگے بڑھاتے تھے، کیونکہ وہ خوش الحان حافظ و قاری تھے۔
اپنی بہترین تلاوت سے ایک سماں باندھ دیتے تھے اور دیکھنے میں وہ زندہ دل باڈی بلڈر لگتے تھے اور ہمیشہ بہترین عطریات سے معطر رہتے تھے ، مولانا کے ایک فرزند حافظ سید عمیر احمد عمری مدنی صاحب کسی کام سے حیدرآباد کے محلہ مشیر آباد آئے تھے اور ایک دوست کے مہمان تھے، مجھے معلوم ہوا تو میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لئے پہنچا ، دوران گفتگو انہیں جب معلوم ہوا کہ مدراس کی عظیم شخصیت مولانا عبد الوهاب بخاری صاحب یٹائر منٹ کے بعد حیدر آباد دکن کو اپنا مستقر بنا لئے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ’’ ہاتھی زندہ رہے بھی تو ایک لاکھ کا ہے اور مر گیا بھی تو وہ ایک لاکھ کا ہے ۔‘‘ اسی طرح مولانا بخاری کا حال ہے، ٹاملناڈو میں بھی وہ بڑا نام کمائے اور حیدرآباد میں بھی اس سے زیادہ نام کمائے ہیں۔ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کے قریب دائرۃ المعارف ہے جو علمی اور تحقیقی ادارہ ہے، عالم اسلام میں بہت مشہور ہے، اس ادارہ کے وہ ڈائریکٹر بنا دیئے گئے اور حیدرآباد جلسے جلوسوں اور کا نفرنسوں کا شہر ہے، اس اعتبار سے روزانہ ان کا رابطہ عوام اوراہل علم سے تھا اور کئی بڑی بڑی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داران میں شامل کرلئے گئے تھے، اس اعتبار سے مولانا سید عمیر مدنی کی مثل ان پر کس طرح صادق آتی تھی، مولانا عمیر خود بڑے ہی متواضع اور مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں ، مولانا عمیر ایک سال تفسیر قرآن میں سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے پر جامعہ کا خصوصی انعام حاصل کئے تھے ، وہ مجھ سے ایک سال سینئر تھے، جب نا چیز چھٹی جماعت میں تھا (عالمیت سال آخر میں) تو ناچیز کو بھی تفسیر قرآن میں سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے پر جامعہ کا خصوصی انعام ملا تھا۔ الحمد للہ علی ذالک
سنا تھا کہ اس سال تفسیر قرآن کا پرچہ حضرت شيخ الحديث وناظم جامعہ مولانا حافظ عبد الواجد رحمانی کے پاس تھا۔ و اللہ اعلم بالصواب
مولانا سید زہیر احمد عمری جو مجھ سے ایک دوسال جونیئر تھے، معلوم ہواکہ وہ اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، دعا ہے کہ مولانا کے جو بچے اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، اللہ کریم ان سب کو اپنے والدین کریمین کے ساتھ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جتنے باحیات ہیں، اللہ پاک ان کی عمر و اقبال میں مزید ترقی اور برکت عطا فرمائے۔ آمین
الغرض سارے ہی بچوں پر والد صاحب کی خوبصورتی اور اور نور نمایاں ہے ، ایک گھر کے 6 بجے جن کے حافظ و عالم و فاضل ہوں، ان کا اللہ پاس کتنا اونچامقام ہوگا۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مولانا سید امین احمد عمری صاحب رحمہ اللہ اللہ کے ولی تھے اور ﴿الذين آمنوا و كانوا يتقون﴾(سورہ یونس: 63) کی سچی تصویر تھے۔
اللهم اغفر لهم وأدخلهم فى الجنة الفردوس يا رب العالمين (جاری ہے)
تبصرہ کریں