دشمنوں کےلئے بھی رحمت میرے ر سول کریمﷺ۔ پروفیسر سینیٹر ساجد میر

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ‎﴾ (سورة التوبة: 128)

حمد و ثنا، شکر و تعریف، بزرگی، جلالت اور عظمت سب اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک اور خالق کل ہے ،عالم کل ہے ، درود و سلام سرور انبیاء کے لیے، جو امامِ کائنات، سیدِ کائنات، رحمتِ کائنات ہیں۔ امام ہدیٰ، سید الانبیاء سرتاجِ اتقیا، محمد مصطفیٰ ہیں، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں اللہ کا یہ فرمان گزشتہ مرتبہ ہمارے سامنے تھا کہ

لوگو! تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں، نوع بشر میں سے، تم ہی میں سے، ایک رسول، جن پر تمہاری مصیبتیں، مشقتیں سختیاں جو بھی تم پر گزرتی ہیں، وہ انہیں بھی تکلیف دیتی ہیں اور وہ اس بات کے بہت خواہش مند ہیں کہ تم نجات اور جنت پا جاؤ، جہنم سے بچ جاؤ اور پھر فرمایا کہ وہ خاص طور پر سب کے لیے شفیق ہیں، رحیم ہیں۔ مہربان ہیں، خیر خواہ ہیں مگر ظاہر ہے کہ بالخصوص مسلمانوں اور مؤمنوں کے لیے، اپنی امت کے لیے اور اپنے ماننے والوں کے لیے، ان کی شفقتیں، مہربانیاں فطری طور پر قدرتاً بہت زیادہ ہیں،مطلب یہ ہوا کہ مؤمنوں سے ان کی مہربانی کا ایک خاص تعلق ہے، لیکن غیر مسلم بھی آپ کی شفقتوں اور مہربانیوں سے محروم نہیں رہے اور یہی ہم آج ان شاءاللہ بات کریں گے کہ

غیر مسلموں اور کافروں سے آپ نے خود کس طرح کا سلوک کیا۔ امت کو ان سے سلوک کی کس طرح کی تعلیم دی۔ یہ سلوک جو غیروں سے تھا، کافروں سے تھا، یہ بھی شفقت کا سلوک تھا، محبت کا سلوک تھا،خیر خواہی اور ہمدردی ہی تھی۔ سب سے بڑی ہمدردی اور خیرخواہی تو یہ تھی کہ آپ کی یہ دلی خواہش اور پھر اس خواہش کے لیے بھرپور کوشش تھی کہ یہ سارے ہدایت پا جائیں، مسلمان ہو جائیں، جیسے میں نے کہا، جہنم سے بچ جائیں، جنت اور نجات مل جائے، یہ آگ سے کسی طرح بچ جائیں ۔اس کے لیے آپ کی دن رات پُرخلوص کوشش تھی، جیسے پہلے میں نے کہا تھا کہ

آپﷺ نے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ، خلوص کے ساتھ، گھر میں، بازار میں، دعوت دے کر ،خود جا کر، میلوں میں، اجتماعات میں، صفا کی پہاڑی پہ بلا کر، غرض ہر طریقے سے آپ نے دعوت عام کرنے کی، دعوت پہنچانے کی ،جنت کی طرف لانے کی ہر موقع پر نبوت ملنے کے بعد کوشش کی۔

جیسے پہلے ایک بات ہوئی تھی کہ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس میں رکاوٹیں تھیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ دشمنیاں پیدا ہوئیں، آپ سے،آپ کے ماننے والوں اور قبول کرنے والوں کے خاندانوں میں دشمنی پڑ گئی، باپ اور بیٹے میں، بھتیجے اور چچا میں، ماں اور بیٹے میں، بھائی اور بھائی میں، اختلافات پیدا ہو گئے۔ جس کا قریش اور اس کے سرداروں کو بہت رنج تھا اور وہ چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ کہیں رک جائے۔ آگے نہ بڑھے لیکن جب اسے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تو پھر انہوں نے تشدد اور ظلم کے حربے استعمال کیے، مار پیٹ ایذا، تکلیف، گلیوں میں گھسیٹنا گرم ریت پہ لٹانا ، گرم کوئلوں پہ لٹانا، ہر حربہ اختیار کیا، آپ پر بھی ظلم اور تشدد ہوا، زیادتیاں ہوئیں۔

آپ ﷺنماز پڑھ رہے ہیں، اللہ کے سامنے سجدہ کیا ہوا ہے، اوپر سے ظالموں نے آ کے جانور کی ایک بھاری وزنی اور گندی اوجڑی آپ کی کمر پر رکھ دی۔ ظالمانہ مذاق کیے، گلے میں یا کندھوں میں کپڑا ڈال کے اسے مروڑا کھینچا، گلا دبانے کی کوشش کی، آپ سے اور آپ کے ساتھیوں سے کئی دفعہ اس طرح کی باتیں ہوئیں ، اور وہ آپ کا فرمان میں یاد دلانا چاہتا ہوں، جو آپ نے فرمایا تھا:

«لَقَدْ أُوْذِيْتُ فِي اللهِ مَا يُؤْذَى بِهَا أحدٌ» (جامع ترمذي: 2472)

مجھے ایسی ایسی ایذائیں دی گئی ہیں، اس طرح کی ایذائیں دی گئی ہیں کہ کسی کو ایسی ایذائیں نہیں دی گئیں۔ وجہ اس کی یہ کہ آپ کی اپنی جسمانی ایذائیں بھی تھیں اور دوسروں کی ایذائیں بھی،جیسا کہ قرآن کی آیت کہتی ہے، جو آپ کے ساتھیوں کو ایذا ملتی تھی وہ بھی گویا آپ کو ملتی تھی ۔ آپ اسے بھی اپنے قلب وجگر پر محسوس کرتے تھے، معلوم ہوا کہ آپ کو اتنی ایذا دی گئی کہ جو کسی اور کو نہیں دی گئی۔ لیکن اس سب کا جواب کیا تھا؟ جواب میں آپ نے ایذا دی ، نہیں، بد دعا دی ؟نہیں! گالیاں دیں، نہیں! دشمنی کی؟ نہیں! اگر دی تو دعا دی۔ ہدایت کی دعا دی۔ جو سب سے بڑی دعا ہے، جو سب سے بڑا تحفہ ہے۔ طائف اور شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوا؟

شعب ابی طالب کا جب بائیکاٹ ہوا، دو ڈھائی سال یا زیادہ، تو آپ اور آپ کے ساتھیوں کو کوئی چیز پہنچنے نہیں دی جاتی تھی، ان کو نہ بیچنے کی اجازت تھی۔ اتنی پابندی تھی قریش کی طرف سے، سرداروں کی طرف سے کہ کوئی چیز ان کو نہ بیچی جائے گی، نہ دی جائے گی۔ فاقےتھے، جڑی بوٹیاں کھانا تھا، کچے چمڑے کو بھون کر کھانا تھا، یہ سب حالات تھے جن میں سے آپ کے ساتھی گزرے ، لیکن اصولوں پر قائم رہے۔ تبلیغ کا سلسلہ چھوڑا نہیں۔ دعوت اللہ کی طرف دیتے رہے اور طائف کے بارے میں، میں نے بتایا تھا کہ جب ظلم و تعدی، ظلم و ستم حد سے بڑھا ،پتھر مارے گئے، زخمی کیا گیا، بدزبانی کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں پر مامور فرشتے کو، جس کی ڈیوٹی پہاڑوں پر تھی، اس کو بھیجا۔ ملک الجبال، کو کہ آپ اشارہ فرمائیں، آپ حکم فرمائیں یہ طائف کے دائیں بائیں جو پہاڑ نظر آ رہے ہیں، ان کو چلا لوں گا اور یہ سب کو پیس کر رکھ دیں گے۔

آپ ﷺنے فرمایا:

«بَلْ أرْجُو أنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِن أصْلابِهِمْ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ وحْدَهُ لا يُشْرِكُ به شيئًا.» (صحيح بخارى: 3231)

یہ نہیں مانتے تو میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی اولادیں مانیں گی ،اس لیے ان کو چھوڑ دو ان کو زندہ رہنے دو ،یہ نہیں تو ان کی اولادیں مسلمان ہوں گی اور پھر وہ خود بھی ہوئے، ان میں سے بھی لوگ مسلمان ہوئے اور ان کی اولادیں بھی اچھے اور سچے مسلمان بنیں، پھر انہی غیر مسلموں یعنی دشمنوں کی طرف سے جنگیں مسلط کی گئیں۔ آپ لڑے، دفاع کے لیے یا تبلیغ کے، بند راستے کھولنے کے لیے، دفاعی جنگ کی یا تبلیغ کا راستہ کھولنے کے لیے لڑے۔ لیکن لڑائی میں بھی شفقت کے اصول،مہربانی کے اصول دیئے اور مقرر کیے۔ عورتوں کو نہیں مارنا،یہ حکم تھا ،بچوں کو نہیں مارنا ،بوڑھوں کو نہیں مارنا ،راہبوں کو جو اپنے مذہب کے دوسروں سےمعاملے میں پکے ہیں، راہب وہ جو دنیا ترک کرتے ہیں، یا پادری بنتے ہیں، عیسائیوں میں سے، یا اسی طرح دوسرے مذاہب میں سے، یعنی یہ سمجھ لیں کہ مذہبی پیشواؤں کو بھی نہیں مارنا ،حالانکہ وہ غلط مذہب کی تبلیغ بھی کر رہے ہیں اور تلقین بھی کر رہے ہیں اور یہ تو بندوں کی بات تھی۔ اب تو یہ ہے کہ بمباری کرتے ہیں، بلا دریغ، بلا سوچے سمجھے، جو مر جائے، مر جائے لڑنے والے بھی، نہ لڑنے والےبھی، عورتیں بھی، بچے بھی، اب تو کوئی تمیز ہی نہیں، کھیت برباد ہوں،باغ برباد ہوں، پیداوار ختم ہو بلکہ دشمن کو تنگ کرنے کے لیے انہیں Target کیا جاتا ہے، تاکہ انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں ، مگر آپﷺ کا فرمان یہ ہوتا تھا، دشمن کی کھیتیاں مت اجاڑو، دشمن کے باغ مت برباد کرو، ان کو ہر طرح سے جہاں تک ممکن ہے بچاؤ ۔

پھر آپﷺفرمایا کرتے، لڑنا اس سے جو لڑنے کے لیے مقابلے پر آتا ہے،جو گھر بیٹھا ہے، جو ہتھیار ڈال دیتا ہے، اس کو نہیں مارنا ، اس سے پھر نہیں لڑنا ، اس کو چھوڑ دینا ہے جو امان طلب کرتا ہے کہ مجھے امان دے دیں، میں نہیں لڑنا چاہتا، میں لڑنے والا نہیں ہوں، میں آپ سے نہیں لڑنا چاہتا، اس کو چھوڑ دیں، جو جزیہ دینے پر تیار ہو جائے۔ جزیہ تھوڑا سا ٹیکس ہوتا تھا۔معمولی سا، تو جو جزیہ دینے پر تیار ہو جائے، اس کے باقی مال کی طرف دیکھنا بھی نہیں، اسے اس کے حوالے کر دینا ہے، اسی کے پاس رہنے دینا ہے۔ پھر بات آتی ہے، اسیران جنگ سے ، ان سے آپ کی شفقت، قیدیوں سے، جو جنگ میں پکڑے جاتے ہیں، تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے، دیکھا جائے تو تقریباً ساری جنگوں میں آپ کے سارے جہاد، غزوات اور سرایا میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار قیدی آپ کے سامنے پیش ہوئے۔ ساری جگہوں میں مل ملاکر، ساڑھے چھ ہزار ، کیا آپ یقین کریں گے کہ ان میں سے صرف دو کو ساڑھے چھ ہزار میں سے صرف دو کو ان کے سابقہ بڑے بڑے جرائم کی سزا دی گئی ،باقی سب کو یا تو ویسے ہی آزاد کر دیا گیا، یا فدیہ لے کے چھوڑ دیا گیا ،تھوڑا سا مال لے کے، جرمانہ کہہ لیں یا مال کہہ لیں، لے کے چھوڑ دیا گیا ، یہ اسیران جنگ سے یعنی ان سے جو جنگ میں لڑتے ہوئے، مسلمانوں کو شہید اور زخمی کرتے ہوئے پکڑے گئے، یہ ان سے سلوک ہے ۔ سب سے پہلی جو جنگ ہوئی اس کے جو قیدی تھے ، بدر کے قیدی ، وہ جیل میں تو تھے نہیں، جیلوں کا اس وقت رواج نہیں تھا ، تو یہ قیدی گھروں میں تقسیم کیے گئے، ایک اس صحابی کے پاس، دو اس صحابی کے پاس، ان کے مالی حالات کے مطابق ،جو صحابی ذرا اچھا ہے ،مالی طور پر اچھا ہے اس کو دو دے دیئے، تین دے دیئے۔ حکم یہ تھا، تاکید کیا تھی کہ اس کو وہی کچھ کھلاؤاور پہناؤ جو خود کھاتے ہو۔ اچھی طرح حسن سلوک کرو۔ جن کو یہ تاکید تھی، وہ بھی ماننے والے تھے، اطاعت کرنے والے تھے، تب ایسے بھی واقعات ہوئے۔

ابن ہشام سیرت نگار لکھتا ہے کہ

دیکھنے والوں نے دیکھا کہ انصاری صحابی جس کے پاس ایک قیدی ہے۔ اس کے پاس کھانا کم ہے، روٹی کم ہے تو اس نے روٹی قیدی کو دے دی اور خود کھجور پر گزارا کر لیا۔ چند کھجوروں پر گزارا کر لیا کہ مجھے حسن سلوک کی تاکیدہے، کافر قیدیوں کے ساتھ۔ ایک دفعہ ایک ہجو گو، یعنی مذمتی شاعری کا شاعر ہر زبان میں اس کا رواج رہا ہے اور عرب بھی ہجو یا مذمتی شاعری کرتے تھے۔ کسی کے خلاف شعر ،نظم لکھنا۔ نبی کریم ﷺ کی بھی ہجویں کی گئیں۔ آپ کو نعوذ باللہ شعر و شاعری میں برا بھلا کہا گیا۔ غلط الزام اور بہتان آپ کی ذات پر لگائے گئے۔ اور پھر وہ مقبول ہو جاتے تھے، نظمیں یا شعر، یہ شاعری پاپولر ہوجاتی تھی اور لوگ انہیں پڑھتے تھے اور خود ہنستے تھے اور دوسروں کو، اپنے ساتھیوں کو ہنساتے تھے ، توایک ہجو گو پکڑا گیا، حضرت عمر نے کہا، جی اس نے تو آپ کے خلاف بہت بڑی توہین آمیز شاعری کی ہے، مجھے اجازت دیں، میں اس کے دانت نکالتا ہوں تاکہ آئندہ یہ صحیح طرح بولنے کے قابل ہی نہ رہے۔ اپنا شعر دوسروں کو سنانے کے قابل نہ رہے، آپﷺنے فرمایا: نہیں، اگر ہم اس کے اعضاء، دانت یا کوئی اور اعضاء بگاڑیں گےکہ کافر ہیں، تو بدلے میں اللہ ہمارے اعضاء بگاڑے گا،اس کی اجازت نہیں، دانت بگاڑنے کی یا سخت سزا دینے کی۔ کئی غزوات میں اس طرح قیدیوں کو چھوڑا، ایک غزوہ ہوا، جسے بنو مصطلق کہتے ہیں، دو سو کے قریب، ایک سو نوے قیدی، اس میں بغیر فدیئے کے رہا کیے گئے۔ حنین کی جنگ سخت جنگوں میں سے ایک تھی۔ قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا﴾ (سورة الأحزاب: 10)

خندق کی جنگ اور حنین کی جنگ یہ بڑی سخت تھیں، پہلے تو وہ کافروں کے حق میں جا رہی تھیں ،ان کے حق میں نتیجہ نکل رہا تھا، ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، مسلمانوں کی بہت کم تھی، کچھ یہ بھی تھا کہ اس جنگ میں نو مسلم حتیٰ کہ بعض غیر مسلم بھی شامل تھے، مسلمان ہونے سے پہلے وہ یہ دیکھ کر کہ اب اسلام جیت رہا ہے، مسلمان جیت رہے ہیں، وہ جنگ میں شامل ہو گئے، دوسرے کافروں کے خلاف۔ تو ظاہر ہے کہ ان میں وہ لگن نہیں تھی، وہ جذبہ نہیں تھا، جہاد کا ،پامردی نہیں تھی، وہ بہادری نہیں تھی، تو ان کے پاؤں اکھڑنے لگے، پھر نبی کریم ﷺ خود میدان میں آئے اور آپ نے جوش دلانے کے لیے جوش سے کہا کہ

«أنا النبيُّ لا كَذِبْ، أنا ابنُ عبدِ المُطَّلِبْ» (صحيح بخارى: 4316)

میں سچا نبی ہوں، خدانخواستہ کوئی جھوٹا نبی نہیں ہوں، نہ بھاگوں گا،نہ بھاگنے دوں گا۔ نبی کا کیا کام ہے بھاگنے کا، اور جہاں تک دنیوی لحاظ سے بات ہے، تو میں بہادروں کا بیٹا ہوں، بہادر خاندان سے ہوں، عبدالمطلب میرا دادا، میرا باپ ہے۔ جن کے قدم اکھڑ گئے تھے، یہ سن کر جم گئے، سب آپ کے گرد اور میدان جنگ میں اکٹھے ہو گئے اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے پانسہ پلٹا، مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ قیدی بھی بہت پکڑے گئے، مال غنیمت بھی بہت ملا۔ کئی دن تک آپ نے مال غنیمت تقسیم نہیں کیا، انتظار کرتے رہے، بنو ہوازن سے یہ لڑائی تھی، طائف والے تھے، کچھ دنوں کے بعد وہ آئے، آپﷺنے فرمایا:

میں تمہارا انتظار کر رہا تھا، اسی لیے میں نے مجاہدوں میں مال تقسیم نہیں کیا کہ اگر تم آؤ اگر مہربانی کی درخواست کرو تو میں اسے مانوں گا اور آپ نے ان کے مطالبے سے پہلے ہی فرمایا کہ اپنا اور اپنے خاندان کا جو مال غنیمت میں حصہ ہے ،وہ میں چھوڑتا ہوں۔ باقی کے مالک میرے ساتھی ہیں، مجاہد ہیں۔ ان سے پوچھے بغیر میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ تو صبح نماز کے بعد تم ذرا بات کرنا، میں بھی وہیں ہوں گا، بات کرنا میرے ساتھیوں سے، مجاہدوں سے اور ان سے درخواست کرنا کہ بھائی وہ اپنا اپنا حصہ چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا، یہ ٹھیک ہے، ایسا ہی کریں گے۔ اس پر سب انصار اور مہاجرین نے اپنے اپنے حصے چھوڑ دیئےلیکن ابھی میں نے بتایا کہ کچھ غیر مسلم بھی ساتھ تھے۔ ان کے اندر تو اسلام اور وہ جذبہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، جی ہم تو نہیں اپنا حصہ چھوڑیں گے، ہمیں حصہ ملنا چاہیے۔ اب آپ ذرا دیکھیں کہ آپ نے کیا کیا۔ ان کو بھی مجبور نہیں کیا، ان کو بھی پابند نہیں کیا۔ اپنی طرف سے سرکاری طور پر ہر قیدی کے بدلے میں ان غیر مسلموں کی طرف سے چھ اونٹوں کا معاوضہ آپ نے خود ادا کیا ، ان کو ان کا حصہ دیا اور جو دشمن تھے ان کا فدیہ خود ادا کیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ حنین کے یہ جو قیدی تھے ، ان کی تعداد چھ ہزار تھی۔

اب اگلی بات جو آپ نے کی، وہ بھی بڑی حیران کن ہے،ایک تو ان کو مال واپس مل گیا۔ دوسرا آپ نے جوڑے دے کر، حلے دے کر ان کو رخصت کیا۔ چھ ہزار قیدیوں کو لباس اور جوڑے تحفے دے کر آزاد کیا۔ پھر خاص طور پہ جب بہن آئی، اس کی بڑی عزت کی۔ حلیمہ کی بیٹی شیمہ۔ آپﷺ نے اپنی نبوت والی چادر بچھائی، اس کی عزت کی ، پیار محبت کا سلوک کیا۔ حاتم طائی کی بیٹی آئی، بتایا میں فلاں کی بیٹی ہوں۔ آپ نے فرمایا:

حاتم مسلمان نہیں تھا ، لیکن میں نے سنا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑا سخی تھا، لوگوں سے بڑا اچھا سلوک کرتا تھا، دیتا دلاتا تھا۔ اس کی وجہ سے ہم تمہاری بھی عزت کریں گے اور تمہیں بھی بغیر کسی معاوضے کے چھوڑیں گے۔ وہ بھی حاتم طائی کی بیٹی تھی۔ اس نے کہا، جی میں اکیلے تو نہیں اس طرح جاؤں گی، سارے قبیلے کو چھوڑیں، پھر میں جاؤں گی۔ آپﷺ نے فرمایا:

واقعی،تو اس کی بیٹی ہے، اس سخی کی بیٹی ہے۔ اس نے سخی کی بیٹی بن کے دکھایا ہے۔ سب کو چھوڑ دیا ۔ پھر فتح مکہ کا واقعہ آتا ہے۔

کیفیت یہ ہے کہ دشمن آپ کے ساتھیوں کی تعداد دیکھ کے ،ان کی ہمت حوصلہ دیکھ کے ،ہتھیار ڈالنے کے لیے پہلے ہی تیار ہیں۔ مسلمانوں کے قدم بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ لشکر کے جو مختلف حصے ہیں، ٹکڑیاں ہیں، ان پر رواج کے مطابق اس کا کوئی نہ کوئی لیڈر مقرر ہے، اس کا سردار ہے، تو یہ جو ان میں سے ذیلی سردار تھے ، سرداروں کے ہاتھ میں جھنڈا ہوتا تھا، وہ علمبردار ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک نے نعرہ لگایا:

«اليومَ يَوْمُ المَلْحَمَةِ» (صحيح بخارى: 4280)

آج خون بہانے کا دن ہے، آج کافروں کا خون بہے گا۔ آپﷺنے سنا، توفرمایا : یہ کون ہے؟ اس سے جھنڈا واپس لو، سرداری واپس لو اس سے۔

“اليَومُ يَومُ وفاءٍ.”

یہ خون بہانے کا دن نہیں، یہ اچھا سلوک کرنے کا دن ہے، وفا نبھانے کا اور نیکی کرنے کا دن ہے۔ یہ فتح کے موقع پہ آپﷺ نے فرمایا اور پھر حکم ہوا، جو ہتھیار پھینک دے، جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے، جو کعبے میں داخل ہو جائے ،ان سب کو امان ہے۔ ان سے نہیں لڑنا، ان کو نہیں مارنا اور اسی طرح جس طرح باقی جنگوں کے بارے میں آپﷺفرمایا کرتے تھے، بوڑھوں کو نہ چھیڑو، بچوں کو نہ چھیڑو، عورتوں کو نہ مارو، زخمیوں کو بھی نہ مارو، قیدیوں کو بھی نہ مارو۔ اور ابو سفیان جیسا دشمنوں کا سردار ، اسے سزا کی بجائے عزت ملی۔

«مَن دَخَلَ دارَ أَبِي سُفْيانَ فَهو آمِنٌ» (صحيح مسلم: 1780)

ابوسفیان کو بھی امان اور جو اس کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امان۔ حکیم بن حزام ایک اور سردار تھا، اسے بھی عزت دی۔ حباربن اسود، آپ کا داماد رہا تھا۔ زینب آپ کی صاحبزادی نے جب ہجرت کی تو اس نے روکنے کی کوشش کی، نیزہ مارا، جس سے پیٹ کا بچہ ضائع ہو گیا، اس نے نبی کی بیٹی پر ظلم کیا۔ اس کو بھی معافی ملی۔ عکرمہ، دشمن کا دشمن بیٹا، ابو جہل کا بیٹا، اس کو بھی امان دی۔ وحشی، سیدنا حمزہ کا قاتل، اس کو بھی امان دی۔ ابو سفیان کی بیوی جس نے وحشی کو رقم دے دلا کر مروایا تھا، حضرت حمزہ کو شہید کروایا تھا ، اس کو بھی معافی ملی۔ کتنی بڑی بات ہے، کہنا آسان ہے، کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ تو خاص لوگ تھے۔ جو عام مجرم تھے، ان کے لیے حکم ہوا، فرمایا:

«لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُم اليَوْمَ، اِذْهَبُوا فَأَنْتُم الطُّلَقَاءُ» (مستدرك حاكم: 4359)

جاؤ تم سب آزاد ہو۔ میں سزا تو درکنار، تمہیں یاد بھی نہیں دلاتا، ملامت بھی نہیں کرتا کہ تم کیا کرتے تھے۔ پھر منافقوں سے آپ کا سلوک، وہ ایک الگ مضمون ہے۔ عمر جیسے ساتھیوں کو کئی مرتبہ آپ نے روکا، منافقوں کے قتل سے، منافقوں کو سزا دینے سے اور جو ان کا سردار تھا ، عبداللہ بن اُبی، اس کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ اس کے جرائم اتنے ہیں، اسلام دشمنی اتنی زیادہ ہے، نبی سے اس کی دشمنی اتنی زیادہ ہے کہ اگر نبی بھی اس کے لیے استغفار کریں، تو ہم قبول نہیں کریں گے، ہم نہیں مانیں گے۔

﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ (سورة التوبة: 80)

اللہ ان کو نہیں بخشے گا لیکن نے آپ نے اس آیت کی جو تعبیر کی، وہ بڑی عجیب تھی۔

آپﷺ نے فرمایا :

’’اللہ تعالیٰ نے مجھے منع تو نہیں کیا نہ، یہ کہا کہ میں نہیں مانوں گا، لیکن میرا کام درخواست کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنے اعلان میں کوئی ترمیم کرنا پسند کرے۔‘‘

أَتى النبيُّ ﷺ عَبْدَ اللَّهِ بنَ أُبَيٍّ بَعْدَ ما أُدْخِلَ قَبْرَهُ، فأمَرَ به فَأُخْرِجَ، ووُضِعَ على رُكْبَتَيْهِ، ونَفَثَ عليه مِن رِيقِهِ، وأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ (صحيح بخارى: 5795)

آپ نے اپنی قمیض اسے پہنائی کہ شاید یہ عذاب سے بچ جائے یا اس میں کمی ہو جائے۔ سپرد خاک کرنے سے پہلے اپنے گھٹنوں پر اسے لٹایا ۔ یہ وہی تھا جس نے اُحد کی جنگ میں ہزار میں سے تین سو آدمیوں کو بہلا پھسلا کے، دھوکہ دے کے الگ کر دیا تھا، جنگ سے نکال دیا تھا، اپنے ساتھ واپس لے گیا تھا ۔ یہ وہی تھا جو کہتا تھا کہ

﴿ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ﴾ (سورة المنافقون: 8)

نعوذ باللہ، نعوذ باللہ، مدینے میں کم عزت والے لوگ آگئے ہیں، ہم ان کو نکال کر دم لیں گے، یہاں عزت والے رہیں گے اور باہر سے آنے والے، نعوذ باللہ، بے عزت ہوں، ان کو نکالا جائے گا۔

اس کے سارے جرائم کے باوجود ، آپ نے اس سے یہ حسن سلوک کیا۔ تو یہ ہے آپ کا غیر مسلموں کے ساتھ، منافقوں کے ساتھ، کافروں کے ساتھ سلوک، جو واضح اور ثابت کرتا ہے کہ

آپﷺ واقعی رحمت عالم تھے، رحمت للعالمین اور آپ کی رحمتیں، شفقتیں، مہربانیاں، محبتیں صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ غیروں کے لیے بھی تھیں۔ ﷺ

آپ سب کے لیے رحمت تھے

سب کے لیے رحمت ہیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں