
گالی گلوچ کا معنی و مفہوم:
’’گالی‘‘ در اصل ’’سنسکرت‘‘ زبان کا لفظ ہے جو ارادو زبان میں مستعمل ہے، جس کی جمع ”گالیاں اور گالیوں“ ہے، اس کا معنی : ”دشنام درازی ، بدزبانی، فحش گوئی، شرم کی بات ، بری بات، کے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ محاورے بھی مستعمل ہیں، جیسے: بھر منہ گالی دینا، منہ بھر کے گالیاں دینا، بازار کی گالی کس کی، جس نے سنی اس کی اور بھی محاورے بیان کئے گئے ہیں۔
عربی زبان میں گالی کے لئے ”سَبابٌ“ اور ”شَتَمَ“ کے الفاظ مستعمل ہیں، اسی سے اردو میں بھی یہ لفظ ”سب وشتم کے مستعمل ہے۔ لفظ ” گالی ‘‘ کو مختلف شعراء نے بھی اپنے اپنے انداز میں یوں ذکر کیا ہے، جیسے :
گالی، جھڑ کی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیں
لطف گیا، احسان گیا، انعام گیا، اکرام گیا
ہوئے ہو تیز ہم پر سنگ دل تم گالیاں دے کر
زباں کی تیغ کو خوب آپ نے پتھر چٹایا ہے
گالی گلوچ کی برائی :
گالی گلوچ سماج کو مشتعل کرنے والی زبان ہے، جس میں لعن طعن، ملامتی الفاظ انتہائی ، درجے گرادینے والے الفاظ ، رشتوں ناطوں کو یا ان کے حوالے سے برا بھلا کہنا یا عام الفاظ سے ماخوذ سوقیانہ معانی شامل ہو سکتے ہیں، کچھ قدیم اور ادبی پیرایوں سے گالی گلوچ کو ادب و احترام میں کمی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
ہر قوم کا طرزِ کلام اس کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتا ہے، طرز کلام کی متانت اور شستگی قومی عظمت اور اخلاقی پاکیزگی ظاہر کرتی ہے اور بد زبانی اخلاقی سیاہی اور قومی پستی کا پختہ ثبوت ہے، جتنے گندے الفاظ ہماری زبان سے نکلتے ہیں شاید ہی کسی مہذب قوم کی زبان سے نکلتے ہوں گے ، ہماری زبان سے گالیاں ایسی بے تکلفی سے نکلتی ہیں گویا ان کا زبان پر آنا ایک ضروری امر تصور کیا گیا ہے ہم بات بات پر گالیاں بکتے ہیں اور ہماری گالیاں دنیا کی گالیوں سے نرالی ، مکروہ اور ناپاک ہوتی ہیں ، ہم ہیں کہ ایک دوسرے کے منہ سے پاکباز ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں کے متعلق گندی ترین گالیاں سنتے ہیں اور ہمیں کچھ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہماری کچھ تحقیر ہوئی ہے، جن گالیوں کا جواب کسی دوسری قوم کا آدمی تیغ و تفنگ سے دے گا لیکن اس سے زیادہ بدرجہا مکروہ و نفرت انگیز گالیاں ہم ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے اڑا دینے کے عادی ہو چکے ہیں ، ہماری گالیوں سے ، ہماری ماں، بہن، بیٹی، بیوی، بھائی ، والد کوئی پاکدامن رشتے نہیں بچے، ہم اپنی نا پاک زبانوں سے ان پاک رشتوں کو پامال کرتے رہتے ہیں۔
یوں تو گالیاں بکنا ہمارا سگار ہے، اور گالیوں سے ہمیں عشق سا ہو گیا، ہمارے علاقوں میں گالیاں نثر ہی میں نہیں نظم میں بھی دی جاتی ہیں، اور ہمارے یہاں زبان کی شوخی گالی بکنے کا دوسرا نام ہو گیا ہے، گالی ہمارا قومی خمیر ہو گیا اور یہ قومی زوال کا سبب بھی ہے قومی پستی دلوں کی عزت اور خود داری کا احساس مٹا کر لوگوں کو بے غیرت اور بے شرم بنادیتی ہے، گالیوں کوسن کر ہمارے خون میں جوش آنا چاہئے لیکن جب احساس کی طاقت زائل ہو جائے تو خون میں جوش کہاں سے آئے گا؟ غصہ میں ہم گالیاں بکیں ، دل لگی میں ہم گالیاں بکیں ، گالیاں بک کر زور لیاقت ہم دکھا ئیں گیت میں گالی ہم گائیں، زندگی کا کوئی کام اس سے خالی نہیں حتی کہ مذہبی معاملات اور مدھمی لوگوں میں بھی ہمارے یہاں گالی بکنے کی عادت ہے۔
آپ کو یہ جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ انگلستان میں ’’بلنکس گیٹ‘‘ نام کا ایک بازار ہے وہاں کی بد زبانی ہمارے انگلستان میں مشہور اور کتابوں میں اس کی نظیر دی جاتی ہے، مگر ہمارے یہاں کی معمولی بول چال بھی ’’بلنگس کیٹ‘‘ کی گندی اور ناشائستہ گالیوں کو شرمسار کر دیں گی۔
ہمارا تو عام طرہ یہ ہے کہ مکان ، دکان ، ہوٹل ، سواری ، آٹو ڈرائیور، کار ڈرائیور، محکمات منتظمین سب کے سب نہ جانے کیسی کیسی گالیاں بکتے ہیں اور ستم تو یہ ہے کہ بعض ناہنجار و نا پکار خصلت کے لوگ اپنے بچوں کو گالیاں سکھاتے ہیں اور ان معصوموں کی زبان سے ادا ہونے والی گالی پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور اسے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ہم گالی بکنے کو امارت کی شان سمجھتے ہیں یہی نہیں ہمارے یہاں تو گالی بکنا ریاست اور شرافت میں داخل ہو چکا ہے، حالانکہ گالیاں ہمارے اخلاق وکردار پر بہت برا اثر ڈالتی ہیں اور ہمارے نفس کو مشتعل کرتی ہیں، اور خودداری و پاس عزت کا احساس دلوں سے کم کرتی ہیں۔
رسول الله ﷺنے کبھی گالی نہیں دی:
بلاشبہ رسول اللہ ﷺ اخلاق کے پیکر تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز کیا تھا، آپ کی زندگی کائنات کے لئے مشعل راہ بنائی گئی ، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی کسی کو بھی گالی نہیں دی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
«لم يكن النَّبِيُّ ﷺ سَبابًا وَلَا فَحَاشًا وَلَا لَعَاناً ، كَانَ يَقُولُ لأَحَدِنَا عِنْدَ المَعْتَبَةِ: مَالَهُ تَرِبَ جَبِيْنَهُ » (صحیح بخاری: 6031)
رسول اللہ ﷺ نہ گالی دیتے تھے نہ بد گو تھے نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے، اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے تو اتنا فرماتے تھے اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس کی پیشانی میں خاک لگے۔‘‘
لہٰذا نبی کے امتیوں کو بھی چاہئے کہ وہ گالی گلوچ سے اجتناب کرتے رہیں تا کہ وہ غیروں کے لئے مثالی امت ثابت ہوں۔
گالی گلوچ دینے کا آغاز کرنے والا :
گالی گلوچ کرنا گناہ کا کام ہے سب سے زیادہ گناہگاروہ آدمی ہے جس نے گالی گلوچ کا آغا ز کیا ہو گا، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
«المُسْتَبانُ مَا قَالَا فَعَلَى البَادِى مِنْهُمَا مَالَمْ يَعْتَدِ المَظْلُوْمُ »
’’ گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہوگا، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے۔‘‘ (جامع ترمذی:1981 ، حسن صحیح)
گالی گلوچ دین میں ناپسندیدہ عمل:
دین اسلام نے گالی دینے کا سخت نا پسند کیا ہےاور جو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں انہیں تنبیہ کی گئی ہے اور وعید سنائی گئی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «سِبَابُ المُسلم فَسُوْقَ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ » ’’مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے ؟‘‘ (صحیح بخاری:6044؛ صحیح مسلم:221)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ سِبَابُ المُؤْمِن كَالْمُشْرِفِ عَلَى هَلَكَةِ ’’مؤمن کو گالی دینے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ہلاکت پر سوار ہے ۔‘‘ (السلسلۃ الصحیحۃ : 343)
ہر مؤمن کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں اور بعض فرشتے مؤمن کے معاون و مددگار بن جاتے ہیں گالی دینے سے وہ فرشتے مؤمن سے دور ہو جاتے ہیں ، اگر کوئی کسی مومن کو گالی گلوچ کرتا ہے تو مومن کو چاہئے کہ وہ صبر کرے اور خاموشی اختیار کرے کیونکہ اس کا جواب فرشتے دیتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ایک واقعہ یوں منقول ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ” ایک آدمی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی ، نبی ﷺبیٹھے ہوئے تھے ، نبی ﷺ خوش ہورہے تھے اور مسکرا رہے تھے جب اس نے بہت زیادہ گالیاں دیں تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دے دیا، رسول اللہ ﷺ غصہ ہو گئے اور وہاں سے کھڑے ہو گئے ، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو کر کھڑے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو شیطان آ گیا ، اور میری صورتحال یہ ہے کہ میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔ الخ (سلسلہ صحیحہ : 1310)
گالی گلوچ کرنے والوں کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
”میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری قوم کا ایک آدمی مجھے برا بھلا کہتا ہے، جبکہ وہ مجھ سے کم مرتبہ والا آدمی ہے، اب اگر میں اس سے انتقام لوں تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’گالی گلوچ کرنے والے دو افراد شیطان ہیں وہ بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد : 10130)
گالی دینے کو نا پسند کئے جانے کا اندازہ اس حدیث سے کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی روزہ دار کو گالی گلوچ کرنے سے منع کر دیا گیا ہے کیونکہ روزہ عظیم عبادت ہے اس عبادت کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اسے ہرلغو سے پاک وصاف رکھا جائے اگر روزہ دار لڑائی جھگڑا اور گالی گلوچ کرے تو روزہ رکھنے کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ «الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَلاَ يَرْفُتْ، وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرَو قَاتَلَهُ وَشَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّى صَائِمٌ مرَّتَيْنِ»
’’روزہ دوزخ سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے اسی لئے روزہ دار نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ، یہ الفاظ دو مرتبہ کہے۔‘‘ ( صحیح بخاری: 1904؛ 1894)
گالی گلوچ کرنا یہ منافقین کی عادات میں سے ہے اور منافقین ایک ایسا طبقہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام کو سب سے زیادہ اذیتیں دیں وہ ایمان کا دعوی کرتے تھے لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ چار عادتیں کسی شخص میں جمع ہو جائیں تو وہ پکا منافق ہے، وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب معاہدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے، اور جب کسی سے لڑے تو گالی گلوچ پر اتر آئے اور اگر کسی شخص کے اندران چاروں عادتوں میں سے ایک ہی عادت ہے تو اس کے اندر نفاق کی ایک عادت ہے جب تک کہ وہ اسے نہ چھوڑ دئے۔‘‘ (صحیح بخاری: 3178)
اگر کوئی انسان کسی کو گالی دیتا ہے تو گالی سننے والے کے جذبات برانگیختہ ہو جاتے ہیں اور وہ غصہ کا شکار ہو جاتا ہے اس کے بعد کسی بھی رد عمل کا مظاہرہ کر بیٹھتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت سلیمان بن صردرضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ : ” میں رسول اللہ صلی کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور قریب ہی دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں ، آپﷺ نے فرمایا:
مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا فرمایا : ”اعوذ باللہ من الشیطان میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان ہے ۔ تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس پر اس سے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمارہے ہیں کہ تمہیں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنا چاہئے ، اس نے کہا، کیا میں کوئی دیوانہ ہوں۔‘‘ (3282)
گالی گلوچ سے ہر ایک کو بیچ کر رہنا چاہئے کیونکہ گالی گلوچ قتل و غارتگری کا موجب بن جاتی ہے ایسے حادثات ہر زمانے میں پیش آتے رہے حتی کہ عہد نبوی میں بھی ایسے حادثات واقع ہوئے ہیں ، ایک واقعہ حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ کے والد بیان فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کو مینڈھی کی طرح بنی ہوئی رسی سے کھینچتے ہوئے لایا اور کہا کہ: اے اللہ کے رسول ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:
کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ تو اس کھینچنے والے) نے کہا: اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں اس کے خلاف شہادت پیش کروں گا ، اس ( قتل کرنے والے ) نے کہا: جی ہاں ! میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے اسے کیسے قتل کیا ؟ اس نے کہا:
میں اور وہ ایک درخت سے پتے توڑ رہے تھے اس نے مجھے گالی دی اور غصہ دلا دیا تو میں نے کلہاڑی سے اس کے سر کی ایک جانب مارا اور اسے قتل کر دیا۔ الخ۔ (صحیح مسلم: 4387)
گالی دینے کے انداز و اسلوب :
انسان نادانستہ طور پر اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیتا ہے جس کا اسے احساس نہیں ہوتا جیسے گالی دینے کے مختلف اسلوب بھی ہیں جیسے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اللہ کی بیوی ، اولاد تسلیم کرنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف ہے جیسا کہ حدیث شریف ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
قَالَ اللهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذالِكَ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذالِكَ، فَأَمَّا تَكذِيْبُهُ إِيَّايَ فَزَعَمَ أَنِّي لا أَقْدِرُ أَنْ أُعِيْدَهُ كَمَا كَانَ . وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ، فَقَوْلُهُ لِيْ وَلَدٌ فَسُبْحَانِى أَنْ أَتَّخِذْ صَاحِبَةً أَوْ وَلَداً
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ مجھے گالی دیتا، اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لئے یہ بھی مناسب نہ تھا ، اس کی گالی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، میرا بیٹا ہے اور اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پہلی بار پیدا کیا وہ دوبارہ مجھے زندہ نہیں کر سکے گا۔ ‘‘ (صحیح بخاری :4482/3193)
گالی گلوچ کرنا یہ مشرکین کی عادت تھی جب بھی مشرکین قرآن مجید کو سنتے تو قرآن مجید کو بھی گالی دیا کرتے تھے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَ لا تُخَافِتْ بِهَا﴾ اور آپ نماز میں نہ تو بہت بلند آواز میں ( چیخ کر پکار کر) پڑھئے اور نہ بالکل چپکے چپکے (خاموش من ہی من میں ) ۔ ( اس آیت ) کے متعلق فرمایا : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی، جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں (کافروں کے ڈر سے) چھپے رہتے تو اس زمانے میں جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تو قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کرتے ، مشرکین سنتے تو قرآن کو بھی گالی دیتے اور اس کے نازل کرنے والے اور اس کے لانے والے کو بھی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ نماز نہ تو بہت پکار کر پڑھیں کہ مشرکین سن کر گالیاں دیں اور نہ بالکل چپکے ہی چپکے کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں ، بلکہ درمیانی آواز میں پڑھا کریں۔ (صحیح بخاری: 4722)
بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ زمانہ کی تبدیلی اور حالات کو دیکھ کر زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں، زمانے کو گالی دیتے ہیں زمانے کو گالی نہیں دینا چاہئے زمانے کو گالی دینا گویا اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
«قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ : يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِى الأمْرُ أُقَلّبُ الليْلَ وَالنَّهَارَ » ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، اور وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے میں رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری:4826)
اکثر ہمارے محلوں ، سڑکوں ، ہوٹلوں اور نجی مجلسوں میں ایک دوسرے کے محترم والدین و پاکباز، قابل احترام بہنوں کے نام کی گالی دینے کا رواج عام ہے، یہ انتہائی بد خصلت و بداخلاق لوگ ہیں جو اپنے والدین کو گالیاں دینے کا موجب بن جاتے ہیں، دوسروں کی زبان سے اپنے ماں ، باپ، بہنوں کو گالی دلاتے ہیں حالانکہ نہ جانے جس کو گالی دی جارہی ہے وہ کتنے نیک اور صالح ہوں گے اس کا اندازہ گالی دینے والوں کو نہیں رہتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مِنَ الكَبَائِرِ شَتمُ الرَّجُل وَالِدَيْهِ ، قَالُوا : يَارَسُوْلَ اللهِ وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمُ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُل فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أَمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ» آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے صحابہ کرام کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے؟؟ فرمایا : ہاں ! انسان کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم :263)
بعض لوگ باعث لعنت قرار دئے گئے ہیں ان میں سے ایک والدین کو گالی گلوچ کرنے والا بھی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
« وَمَنْ سَب وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللهُ »
’’ جس نے اپنے والدین کو گالی دی اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے۔‘‘(سلسلہ صحیحہ: 150)
بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو مردوں یعنی مرے ہوئے لوگوں کو بھی گالی گلوچ کرتے ہیں ،جس کے سبب ان کے لواحقین کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اختلاف و فساد نمودار ہو جاتا ہے ایسی حرکت سے رسول اللہ ﷺنے منع کیا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«لَا تَسُبُّوا الأمْوَات فَتُؤْذُوْا الأحياء»
’’مردوں کو گالی دے کر زندوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ ۔‘‘ (جامع ترمذی: 1982)
سماج میں بعض ایسے بھی نادان پائے جاتے ہیں جو اللہ کی مخلوقات میں سے کسی نہ کسی کو گالی دیتے ہیں، جب ہوائیں تیز چلتی ہیں ، بارش برستی ہے، بجلی کڑکتی ہے ، بادل گرجتے ہیں تو ایسے موقع کے لئے مختلف دعا ئیں سکھائی گئی ہیں مسلمان دعا ئیں کریں لیکن بعض جاہل قسم کے لوگ گالی دیتے ہیں، حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«لا تَسُبُوا الرِّيْحَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ، فَقُوْلُوْا: “اللّهُمَّ إِنَّا نَسْئَلْكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيْهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّهِذِهِ الرِّيْحِ وَشَرِّمَافِيْهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ به»(جامع ترمذی: 2252)
”ہوا کو گالی مت دو اگر اس میں کوئی نا پسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو اے اللہ ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہیں، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کے شر سے اور اس شہر سے جو اس میں ہے اور شر سے جس کے لئے یہ مامور ہے ۔ ‘‘
بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ماتحت رہنے والے نوکر چاکر ، خادموں کو گالی دیتے ہیں ، ہم نے میکانک شاپ ، کسی بھی دکان، کمپنی وغیرہ میں اس کا مشاہدہ کیا ہوگا، گالی کے بغیر کام نہیں لیا جاتا، یہ طریقہ بالکل غلط ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کوئی بھی مسلمان کسی کو بھی گالی گلوچ نہ کرے، اسی طرح لوگ جانوروں کو بھی گالیاں دیتے ہیں جانور چرانے والوں اور قصاب برادری میں ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے (ایک طویل حدیث میں ہے ) ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ یا رسول اللہ مجھے نصیحت کیجئے آپ ﷺ نے فرمایا:
« لَا تَسُبْنّ أَحَداً . قَالَ : فَمَا سَبَبتُ بَعْدَهُ حُرّاً ، وَلا عَبْداً وَلَا بَعِيراً ، وَلَا شَاةَ »
’’کسی کو بھی گالی نہ دو، اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی ، نہ آزاد کو نہ غلام کو ، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 4084)
بعض ایسے بھی نادان پائے جاتے ہیں لاحق ہونے والی بیماریوں جیسے بخار وغیرہ کو گالی دیتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں کہ بیماری کو گالی دینا گویا اللہ کی رحمت کو گالی دینا ہے کیونکہ جب بھی کوئی بیماری مسلمان کو لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں، گویا بیماری گناہوں کا کفارہ ہے اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر بیماری اللہ ہی کے حکم سے آتی ہے، وہی بیماری دینے والا اور وہی بیماری سے نجات و شفا دینے والا ہے ، حدیث شریف میں ہے:
«ذك رت الحمّى عِندَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَسَبَّهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لا نسبها فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَتَ الحَدِيدِ» ’’ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اسے گالی نہ دو، اس لیئے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کیچڑ صاف ہو جاتا ہے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :3469)
شیطان ابلیس لعین ہے مردود ہے جو مؤمنوں کا کھلا دشمن ہے ہر مؤمن کو چاہئے کہ اس کو اپنا دشمن سمجھیں، شیطانوں کی شرارتیں مسلسل مؤمن کے ساتھ لگی رہتی ہیں وہ انھیں برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا چاہتا ہے ، فاقہ کشی سے ڈراتا ہے، لہٰذا اس کی شرارتوں سے تنگ آکر کوئی مؤمن شیطان کو گالی نہ دے، بلکہ صبر کرتا رہے اور اللہ سے پناہ طلب کرتا رہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا حدیث یوں مذکور ہے: «لا تَسُبُّوْا الشَّيْطَان وتعوذُوا بِاللهِ مِنْ شَرِّهِ»’’شیطان کو گالی مت دو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ ‘‘ (سلسلہ صحیحہ :2991)
بعض نادان قسم کے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن بعض صحابہ کرام کو گالی گلوچ کرتے ہیں ، جو انتہائی لعنت کی بات ہے، نبی ﷺ کے تمام صحابہ نفوس قدسیہ ہیں جن کے ساتھ اللہ کی رضامندی ہے لیکن بعض لوگ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت امیر معاویہ، حضرت ابو ہریرہ ، ام المؤمنین حضرت عائشہ ، حضرت عمر بن خطاب، ام المؤمنین حضرت حفصہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بر ملا گالی دیتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں ، نعوذ باللہ، استغفر اللہ ، در اصل یہ لوگ معلون ہیں، ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ملائکہ کی لعنت ہے۔ حدیث شریف حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْن
’’جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔‘‘ (سلسلہ صحیحہ :3585)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو گالی گلوچ کرنے سے محفوظ فرمائے ، ان احادیث میں بیان کردہ وعیدوں سے ہم سب کو بچائے ، تمام مسلمانوں کو برائی کو برائی اور گناہ کو گناہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)
تبصرہ کریں