
کھانے میں نقص نکالنے کی ممانعت
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
مَا عَابَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ.
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب ما عاب النبي ﷺ طعاما:5409؛ صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب لا يعيب الطعام:2064)
’’رسول اللہﷺنے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگرآپﷺ کواس کاجی چاہتا توکھالیتے وگرنہ چھوڑدیتے۔‘‘
ہُلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:
سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ، فَقَالَ:«لَا يَتَخَلْخَلَنَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ.»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في كراهية التقذر للطعام: 3784-سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في طعام المشركين: 1565-سنن ابن ماجه، كتاب الجهاد، باب الأكل في قدور المشركين:2830)
’’ایک آدمی نے آپﷺسے پوچھاکہ کوئی کھاناایسابھی ہوتاہے کہ جسے کھانے میں مَیں حرج محسوس کرتا ہوں (تو اس صورت میں میں کیا کروں؟) توآپﷺنے فرمایا:کوئی بھی چیزتیرے دِل میں خلل (شک وشبہ) ہرگز نہ ڈالے (کیونکہ) اس کام میں تُونصرانیوں کے مشابہ ہوجائے گا۔‘‘
گوشت اورثریدکھانے کابیان
عمروبن اُمیہ بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.»
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب إذا حضر العشاء فلا يعجل عن عشائه: 5462- صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب نسخ الوضوء مما مست النار:355)
’’انہوں نے رسول اللہﷺکواپنے ہاتھ میں بکری کے کندھے کاگوشت کاٹتے دیکھا، پھرآپؐ کونمازکے لیے بلایاگیاتوآپﷺ نے وہ گوشت اوروہ چھری جس سے کاٹ رہے تھے، وہیں رکھ دی، پھراُٹھے اورنمازپڑھائی، اوروضوء نہیں کیا۔‘‘
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
كَانَ أَحَبَّ الْعِرَاقِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ الذِّرَاعُ ذِرَاعُ الشَّاةِ، وَكَانَ قَدْ سُمَّ فِيهَا، وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ.
(سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في أكل اللحم: 3781- مسند أحمد:1/394)
’’رسول اللہﷺکوبکری کی پنڈلی کے اوپروالے حصے کی ایسی ہڈی بہت پسندتھی جس کاگوشت اتار لیا گیا ہو، آپﷺ کو زہر بھی اسی میں ہی دیا گیا تھا اور آپﷺ کے خیال کے مطابق یہودیوں نے آپﷺ کوزہردیاتھا۔‘‘
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَجُلًا خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ لَهُ ثَرِيدًا قَدْ صَبَّ عَلَيْهِ دُبَّاءً، فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَأْخُذُ الدُّبَّاءَ فَيَأْكُلُهُ، قَالَ: كَانَ يُحِبُّ الدُّبَّاءَ. قَالَ ثَابِتٌ: فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ أَقْدِرُ أَنْ تُوضَعَ لِي فِيهِ دُبَّاءٌ إِلَّا صُنِعَ.
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب المرق:5436-صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب جواز أكل المرق، واستحباب أكل اليقطين:2041)
’’ایک درزی نے رسول اللہﷺکی دعوت کی، اس نے آپؐ کوثریدپیش کیاجس میں اس نے کدُّوڈالے ہوئے تھے، تورسول اللہﷺکدُّوپکڑپکڑکرکھانے لگے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ کدُّو پسند فرمایا کرتے تھے۔
ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا:
میرے لیے کبھی ایسا کھانا نہیں تیار کیا گیا کہ جس میں کدُّو ڈالنے کی مجھ میں قدرت ہو اور میں نے نہ ڈالے ہوں۔‘‘
شہد،میٹھی چیزاورٹھنڈامشروب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ.
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب الحلواء والعسل: 5431-سنن أبوداؤد، كتاب الأشربة، باب في شراب العسل: 3715)
’’رسول اللہﷺمیٹھی چیزاورشہدکوپسندفرمایاکرتے تھے۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ
أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ الْحُلْوُ الْبَارِدُ.
’’رسول اللہﷺکاسب سے پسندیدہ مشروب (وہ ہوتاتھاجو) ٹھنڈااورمیٹھاہو۔‘‘ (سنن ترمذى، أبواب الأشربة، باب ما جاء أي الشراب كان أحب إلى رسول الله ﷺ:1895-مسندأحمد:6/38-صحيح الجامع للألبانى: 4627)
زہری بیان کرتے ہیں کہ:
سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ، فَقَالَ: «الْحُلْوُ الْبَارِدُ» (سنن ترمذى، أبواب الأشربة، باب ما جاء أي الشراب كان أحب إلى رسول الله ﷺ: 1895- مسندأحمد: 6/38-صحيح الجامع للألبانى: 4627)
’’رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسامشروب زیادہ اچھا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔‘‘
تلبینہ کابیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ
أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ، فَطُبِخَتْ وَصَنَعَتْ ثَرِيدًا، ثُمَّ صَبَّتِ التَّلْبِينَةَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَتْ: كُلُوا مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، وَتُذْهِبُ بَعْضَ الْحَزَنِ.» (صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب التلبينة: 5417- صحيح مسلم، كتاب السلام، باب التلبينة مجمة لفؤاد المريض: 2216)
’’جب کسی گھرمیں کسی کی وفات ہوجاتی اوراس کی تعزیت کے لیے عورتیں اکٹھی ہوتیں، پھروہ چلی جاتیں اورگھرکے افراداورخاص خاص لوگ ہی رہ جاتے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں تلبینہ کی ہانڈی پکانے کا حکم دیتیں، جب وہ پکا لیا جاتا تو آپ ثرید بناتیں اوراس ثریدپرتلبینہ ڈالتیں، پھرکہتیں کہ اسے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا ہے کہ تلبینہ بیمارشخص کے دِل کوتقویت پہنچاتاہے اور اس کاغم دورکرتاہے۔‘‘
عرب لوگ تلبینہ آٹے اوردودھ یابھوسی اوردودھ کو ملاکرحلوہ ساتیارکرتے اور اس میں شہد ڈالتے تھے، اسے تلبینہ کہا جاتا تھا۔ یہ امراضِ دِل اور غمزدہ وپریشان حال شخص کے لیے بہت مفیدہوتاتھا۔
سرکے کی فضیلت
سيدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِي، فَأَتَى بَعْضَ بُيُوتِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: هَلْ مِنْ إِدَامٍ؟ قَالُوا: لَا إِلَّا خَلٌّ قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: «هَاتُوهُ، فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ.»
(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب فضيلة الخل والتأدم به:2052)
’’نبیﷺنے میراہاتھ پکڑااوراپنے کسی گھرلے آئے اورگھروالوں سے پوچھا:کیاکوئی سالن ہے؟ انہوں نے جواب دیا:سِرکے کے سواکوئی سالن نہیں ہے، آپﷺنے ان سے فرمایا:وہی لے آؤ، سِرکہ توبہت اچھاسالن ہے۔‘‘
زیتون کی فضیلت
سیدناعمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:
«ائْتَدِمُوا بِالزَّيْتِ، وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ.»
(سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في أكل الزيت: 1851- سنن ابن ماجه، كتاب الأطعمة، باب الزيت: 3319- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 379)
’’زیتون کا تیل سالن کے طور بھی پر استعمال کرو اور اسے بہ طورِتیل (سراوربدن پر)بھی لگاؤ، کیونکہ یہ مبارک درخت سے نکالاجاتاہے۔‘‘
کچالہسن، پیازاورگیندناکھانے کی ممانعت
جابررضی اللہ عنہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الثُّومَ قَالَ: ثُمَّ قَالَ بَعْدَ الثُّومِ: وَالْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ
(صحيح بخارى، كتاب الأذان، باب ما جاء في الثوم الني والبصل والكراث: 854- صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب نهي من أكل ثوما أو بصلا أو كراثا أو نحوها:564)
’’جس نے اس درخت سے کچھ کھایا، یعنی لہسن، پیازاورگیندنا، تووہ ہماری مسجدکے قریب بالکل نہ آئے، کیونکہ جس چیزسے انسان تکلیف پاتے ہیں اس سے فرشتوں کوبھی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘
گیندنابھی سبزی کی ہی ایک بدبودارقسم ہے جوپیازکے مشابہ ہوتی ہے۔ تکلیف سے مرادیہ ہے کہ ان چیزوں کوکھانے سے چونکہ منہ سے بُوآنے لگتی ہے جس سے مخاطب ناگواری محسوس کرتاہے، اس لیے فرمایاکہ فرشتے بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا أَكَلَ مِنْ طَعَامٍ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلٰى أَبِي أَيُّوْبٍ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا فِيهَا ثُومٌ، فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:
«لَا وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ لِرِيحِهِ.» قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ
(سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في كراهية أكل الثوم والبصل: 1807- مسند أحمد:5/94)
’’رسول اللہﷺجب کھاناکھالیتے تھے توباقی کھانا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کوبھیج دیتے تھے، سو(ایک مرتبہ) آپﷺ نے انہیں ایک پیالہ بھیجا جس سے آپﷺ نے کھایانہیں تھا (کیونکہ)اس میں لہسن تھا، تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ آپﷺ کے پاس حاضرہوئے اورعرض کیا:
اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:
نہیں، لیکن میں اس کی بُو کو ناپسند کرتا ہوں، تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا:
جو چیز آپﷺ کو ناپسندہے اسے میں بھی پسندنہیں کرتا۔‘‘
سیدناعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا
(سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في أكل الثوم: 3828- سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في الرخصة في أكل الثوم مطبوخاً: 1808)
’’لہسن کوپکائے بغیرکھانے سے منع کیاگیاہے۔‘‘
سیدناعمررضی اللہ عنہ نے لہسن اورپیازکے بارے میں فرمایا:فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ آكِلُهَا لَابُدَّ فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا(صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب نهي من أكل ثوماً أو بصلاً أو كراثاً أو نحوها:567-مسند أحمد:1/15)
’’جس شخص نے یہ ضرورہی کھانے ہوں تواسے چاہیے کہ وہ انہیں پکاکران کی بدبوختم کرلے۔‘‘
کھاناٹھنڈاکرکے کھانے کی فضیلت
اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہاکے بارے میں مروی ہے کہ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ، ثُمَّ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ»
(مسند أحمد: 6/350- مستدرك حاكم: 4/118- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 659)
’’جب آپؓ روٹی اورشوربے کاثریدبناتیں تودیگچی کا ڈھکن اتاردیتیں، یہاں تک کہ اس کی گرمائش ختم ہو جاتی، پھر فرماتیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناہے کہ یقیناًیہ بڑی برکت کاباعث ہے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ
لَا يُؤْكَلُ طَعَامٌ حَتَّى يَذْهَبَ بُخَارُهُ.
(السنن الكبرى للبيهقى:7/280)
’’کھاناتب تک نہ کھایاجائے جب تک کہ اس کی بھاپ ختم نہ ہوجائے۔‘‘
دوکھجوریں ملاکرکھانے کی ممانعت
جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں کہ
أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَرُزِقْنَا تَمْرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ، فَيَقُولُ:
لَا تُقَارِنُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ ثُمَّ قَالَ:
إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهَ.
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب القران في التمر: 5446-صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب نهي الآكل مع جماعة عن قران تمرتين ونحوهما في لقمة إلا بإذن أصحابه:2045)
’’ہم پرابنِ زبیررضی اللہ عنہ کے (عہدِخلافت میں ان کے)ساتھ ایک سال قحط آن پڑا، ہمیں کھجوریں دی گئیں، ہم وہ کھجوریں کھارہے تھے کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماہمارے پاس سے یہ فرماتے ہوئے گزرے کہ تم دودوکھجوریں ملاکرمت کھاؤ، کیونکہ رسول اللہﷺنے دوکھجوریں ملاکرکھانے سے منع فرمایاہے، ہاں اگرآدمی اپنے ساتھی سے اجازت لے لے توپھرکھاسکتاہے۔‘‘
یعنی اگردوآدمی اکٹھے کھجوریں کھارہے ہوں توایک آدمی کودودوکھجوریں اکٹھی نہیں کھانی چاہییں، کیونکہ اس سے دوسرے ساتھی کی حق تلفی ہوتی ہے کہ یوں اس کے حصے میں تھوڑی آئیں گی اوریہ اپنے حصے سے زیادہ کھاجائے گا، لیکن اگراس کاساتھی بہ خوشی اجازت دے دے توپھرایساکرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٭٭٭
رسول الله ﷺ نے فرمایا :
مَن حفرَ ماءً لَم يشربْ منه كَبِدٌ حَرَّى مِن جنٍّ و لا إنسٍ ولا طائرٍ ؛ إلَّا آجَرَهُ اللهُ يومَ القيامةِ
جس نے کوئی کنواں کھدوایا اور اس سے کسی پیاسے انسان، جن یا چرند پرند نے پیا تو اس کا اجر قیامت کے دن اسے ضرور ملے گا۔ (صحيح الترغيب: 963)
علامہ حافظ ابن قيم رحمہ اللہ نے فرمایا :
دنیا میں مصیبت، تکلیف اور آزمائش نہ ہوتی تو بندوں میں تکبر، غرور، فرعونیت اور دل کی سختی پیدا ہوتی اور یہی چیزیں ان کی ہلاکت کا باعث بنتیں۔
(زاد المعاد: 4؍179)
حافظ ابن رجب رحمہ الله نے فرمایا : جان لو کہ رمضان میں مومن کے دو جہاد جمع ہوجاتے ہیں۔دن میں روزے کا جہاد اور رات میں قیام کا جہاد۔جس نے ان دونوں جہادوں پر صبر کیا اور انہیں صحیح طور پر ادا کیا تو اسے بے حد و حساب اجر دیا جائے گا۔
(لطائف المعارف : ص171)
تبصرہ کریں