تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

جا ننا چا ہیے کہ شارع علیہ السلام کے علاوہ اور لو گوں نے جو تعظیمیں خدا کے واسطے مقرر کی ہیں، اگر کو ئی شخص انہیں غیر خدا کے سا منے تعظیماً بجا لا ئے گا، مشرک ہو گا کیو نکہ یہ عبادات کے مشا بہ ہیں ۔ مثلاً اگر کوئی شخص بز ر گ یا قبر کے آ گے ایک پا ؤں کے بل کھڑا ہو گا ، یا سر نیچے اور پا ؤں او پر کر یگا ، شر ک جلی میں گر فتار ہو گا ، یا کوئی ایسی نئی تعظیم پیدا کر ے گا جو خدا کے علاوہ بز ر گو ں کی قدر کے لا ئق نہ ہو تو بھی مشر ک ہو گا جیسا کہ بعض آ د می قبروں کی طرف چند قدم چلتے پھر ٹھہر تے اور ٹیڑ ھے ہو کر وا پس آ تے ہیں، اور اس قبر کی طرف پیٹھ نہیں کرتے بلکہ پچھلے قدم ہٹ آ تے ہیں ۔ اسی طر ح ان جیسے اور کا موں کو اس پر قیاس کر نا چا ہیے ۔ بعض آ دمی کہنے لگتے ہیں کہ ہم بز ر گوں کو خدا کا شر یک نہیں جا نتے ۔ اور نہ ان سے مشکل کشا ئی کے خواستگار ہوتے ہیں ۔ بلکہ وہ لوگ چو نکہ در بار الہی کے مقر ب ہیں، تو ہم کو بھی خدا کے قریب کر دیں گے ۔ اسی و جہ سے ہم ان کی تعظیم حد سے زیادہ بجا لا تے ہیں ۔ حق تعا لی جوا ب میں فر ما تا ہے:
﴿و الّذین اتّخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الّا لیقرّ بونا الی اللّہ زلفی. إنّ اللّہ یحکم بینھم فیما ھم فیہ یختلفون. انّ اللّہ لا یھدی من ھو کا ذب کفّار﴾
جو لو گ خدا کے علاوہ اور لو گوں کو دوست رکھتے ہیں، کہتے ہیں ہم ان کو صرف اس وا سطے پو جتے ہیں کہ یہ ہم کو مر تبہ قر ب میں خدا کی طرف نز دیک کر دیں گے ۔ خدا تعا لی ان میں حکم کر تا ہے ، جس چیز میں کہ یہ ا ختلا ف کرتے ہیں ۔ البتہ خدا رستہ پر نہیں لگا تا اس شخص کو جو جھو ٹا اور کا فر ہے ۔یعنی مو حدو ں اور مشر کوں میں اختلاف ہے ۔
مو حد کہتے ہیں کہ
یہ اعما ل شرکیہ ہیں، خدا سے دوری پیدا کرتے ہیں۔ مشر ک کہتے ہیں کہ یہ بز ر گو ں کی تعظیمیں خدا کی تقریب کا مو جب ہیں ۔ خدا فر ما تا ہے کہ ہم تمہارے اختلاف میں صا ف حکم اور قو ل فیصل بیا ن کرتے ہیں کہ مشرک اپنے قو ل میں جھو ٹے ہیں ۔ اگر چہ بظا ہر کہتے ہیں کہ ہم بز ر گو ں کی تعظیم و عبادت صرف اس وا سطے کرتے ہیں کہ
وہ ہم کو خدا سے قریب کر دیں گے، مگر درحقیقت بلا کے دفعیہ کے واسطے بز ر گوں کی عبادت کرتے ہیں اور حا جتو ں کے پورا کرنے پر انہیں قا در جا نتے ہیں ۔ حا لا نکہ غیر خدا کو دوست ر کھنا اور اس کی عبادت کر نا آ دمی کو کا فر بنا دیتا ہے یہ کیو نکر قرب الہی کا مو جب ہو گا حا لا نکہ ہدا یت خدا کے ہا تھ میں ہے اور حق تعا لی ان جھو ٹے مشر کوں جو کہتے ہیں کہ
خدا تعا لی سے نز دیک کر نا بز ر گوں کے اختیار میں ہے، راہ پر نہیں لگا تا۔
یہ کم بخت یہ آ یت إنک لا تھدی من أحببت۔۔الخ بھو ل گئے ہیں )۔
فصل ششم در بیا ن اشرا ک فی العا دت:
با ید دا نست کہ مو حدا ن را عا دت دیگر مے باشد و مشر کاں را دیگر۔ مو حدا ں در نشستن و برخواستن و بر پہلو گر دا نیدن نا م خدا بیاد مے آ رند، یعنی یا اللہ ، و یا ر ب ، و یا کر یم ، و امثا ل ایں الفا ظ مے گو یند ۔ چنا نکہ حکم است فاذکرواللّہ قیاماً و قعوداً وعلی جنوبکم ( النساء ) یاد آ رید نام خدا در نشستن و بر خوا ستن و بر پہلو ہا ئے خود ۔
بعضے مر دما ن عکس ایں آ یہ ، یا پیر، یا خوا جہ ، یا علی میگو یند ۔ مو من را ازیں حذر وا جب است و قو ل خود را مو کد بضم کر دن از عا دی ضروری انسا ن است لا ئق سو گند۔ ہموں ذا ت پاک است کہ سو گند د لا لت بر اعلی مر تبہ تعظیم و محبت و حا ضر و نا ظر بو دن خدا مے کند ۔ ایں معنی لائق بز ر گان نیست۔
و اطفا ل خود را بنا مے مشہور نبا ید کرد کہ ورد شر ک لازم آ ید مثل عبد الرسو ل و بندہ علی و غلام غو ث بروز قیا مت رو برو ئے آ ن شہنشاہ چو ں ندا کر دہ خوا ہید شد کہ بیا رید بندہ علی صا حب ایں اسم چہ شر مسا ری ہا خوا ہد کشید و عزیزا ں را وقت ر خصت نبا ید گفت کہ بفلاں بز ر گ سپر دم بلکہ مثل ایں کلمہ بر زبا ن آرند، کہ خدا یا ر تو باد، و بخدا ئے عز و جل بسپر دم کہ حا فظ و نا صر از اسماء ئے الہی است ۔
وقتیکہ آ ب سرد بیا شا مندہ یا غذائے لطیف خور ند یا باو خو ش و زو د و با بو ئے حوش از گل و ر یحا ن بد ماغ آ ید شکر خا لق آ ن نعمت بجا با ید آ ورد و باو دیگراں نما ید کرد بے انصافی محض است کہ منعم حقیقی را کہ آں نعمت ہا ئے پیدا کر دہ و بخشیدہ اوست فراموش کنیم و نام غیر اللہ برزبان آریم
اے چہ نیکی ہا کہ با من کر دہٗ با ہزاراں ناز ہا پروردہٗ
آ ں لعین از نعمتت محرو م باد کاں بیار د نام غیر ت را بیاد
جا ننا چا ہیے کہ مو حدو ں کی اور عا دت اور مشر کوں کی اور عا دت ہوا کر تی ہے ۔ مو حد ا ٹھتے بیٹھتے کروٹ لیتے خدا کا نام لیا کرتے ہیں ۔ یعنی یا خدا ، یا ر ب ، یا کر یم اور ان جیسے الفا ظ کہتے ہیں جیسا کہ خدا نے حکم فر مایا ہے :
فاذکروا اللّہ قیا ماً و قعوداً وعلی جنو بکم
خدا تعا لی کو ا ٹھتے بیٹھتے اور کر و ٹو ں کے بل یاد کیا کرو ۔
مگر بعض آ د می اس کے بر عکس یا خوا جہ، یا علی کہتے ہیں۔ مو من کو ان با توں سے پر ہیز کر نا واجب ہے اور چو نکہ انسا ن کی ضروری عا د ت ہے کہ
وہ اپنے قو ل کو قسم کے سا تھ مؤکد کیا کرتا ہے تو قسم کے لائق وہی ذات پا ک ہے ، کیو نکہ قسم کھا نا خدا کے اعلی مر تبہ اور تعظیم و محبت اور اس کے حا ضر و نا ظر ہو نے پر دلالت کرتا ہے، یہ معنی بزر گو ں کے لا ئق نہیں
اور اپنے بچو ں کے نا م ایسے نام سے مشہور نہ کر نا چاہیے جس سے شر ک لازم آ تا ہے ، جیسے عبدالرسول، بندہ علی و غلام غو ث و غیرہ ۔
قیا مت کے دن جب اس شہنشا ہ کے سا منے ندا کی جا ئے گی کہ بندہ علی کو حا ضر کرو، تو اس وقت اس نام وا لے کو کیسی شر مند گی حا صل ہو گی ۔ اسی طر ح اپنے عزیزوں کو رخصت کر نے کے وقت یوں نہ کہنا چاہیے کہ تمہیں فلاں بز ر گ کو سو نپا۔ بلکہ یہ کلمہ زبا ن پر لا ئے کہ خدا تیرا مدد گار ہے اور تجھے خدا کو سو نپا ۔ و جہ یہ کہ حا فظ و نا صر خدا کے نا موں میں سے دو نام ہیں ۔ علی ہذا القیاس ۔ جب ٹھنڈا پا نی پئیں یا لطیف غذا کھا ئیں یا عمدہ ہوا چلے، یا گل و ر یحا ن کی خو شبو سے دما غ معطر ہو، تو ان نعمتو ں کے پیدا کر نے وا لے کا شکر بجا لا نا چا ہیے، نہ اس وقت اوروں کو یاد کر نا چا ہیے ۔ بڑی بے انصا فی کی بات ہے کہ
حقیقی منعم کو جس نے یہ نعمتیں پیدا کر کے بخشی ہیں بھو لتے اور اس کے غیر کا نام زبان پر لا تے ہیں ۔ اے وہ پاک ذا ت کہ کس قدر نیکیاں میرے سا تھ تو نے کی ہیں ۔ ہزاروں ناز سے پا لا ہے ۔ وہ مردود تیری نعمت سے محرو م رہے جو غیر کا نام یاد کر تا ہے )۔
فصل ہفتم در بیا ن بت پرستی
باید فہمید کہ اگر چہ در لغت بت پرستی،صورت پرستی را گو یند، اما در شر ع معنی دیگر دارد یعنی تراشیدہء دست خود را پرستیدن، مو قو ف بر تصویر نیست، ندیدہ کہ نصاری تصویر حضرت عیسی ؑ را از دست خود مے ترا شند و پر ستش مے کنند۔ پس اگر تصویر بز ر گان بسا زند و تعظیما تش بجا آ رند و یا نقل تر بت حضرت حسین ؑ یا نشا نی ۔۔۔ و نام بزرگاں منسو ب کند، از اقسا م بت پرستی با شد و نشا ن قدم بر سنگے منقش کر دن و آ ن نقش قدم جناب رسالتمآ ب ﷺ قرار دادہ تعظیماتش بجا آ وردن، بر ہمیں قیاس با ید کر د۔ و از ہمیں اقسا م باشد پر ستش قبر ہاء و آنحضرت ﷺ بر کسا نے کہ چراغ بر قبور بر ند، لعنت فر مودہ است، و بناء مکا نات بر قبور سا ختن و بخشت پختہ بستن و از۔۔۔بیض سفید کر دن و از کچ محکم سا ختنش را منع فر مود ۔ و مو جبش ہمیں است کہ تز ئین قبور باعث شر ک مے شود و اسرا ف ما ل است، آ نچہ حضرت ﷺ ، حضرت علی ؓ کر م اللہ و جھہ را در با ب قبور ارشاد فرمودہ اند با حا دیث صحیحہ وارد است و بہمہ کس معلو م و مسلّم، احتیا ج تصریحش نیست ۔
تعظیمات در ختاں و مکا نا ت سوائے مسجد بجا آ وردن را نیز بر ہمیں قیاس نما ئی ۔ نشنیدہء کہ بز یر درخت بیعت الر ضوان شدہ بود عمر ؓ را از بیخ بر کند ید کہ مبا دا تعظیما تش بجا آ رند و بدر یا ئے شر ک مستغرق شو ند و اللہ تعا لی اعلم بالصوا ب ۔
جا ننا چا ہیے کہ اگر چہ بت پرستی لغت میں صورت پرستی کو کہتے ہیں لیکن شر ع میں اس کے اور معنی ہیں۔ یعنی اپنے ہا تھ کی ترا شی ہو ئی چیز کو پو جنا ۔ پس بت پرستی تصویر ہی پر موقوف نہیں ہے ، دیکھئے نصاری، حضرت عیسی علیہ السلام کی تصویر ہا تھ سے گھڑ کر پرستش کرتے ہیں ۔
پس اگر بزر گو ں کی تصویریں بنا کر ان کی تعظیم بجا لا ئیں یاحضرت امام حسین کی تر بت کی نقل یا کو ئی نشا ن بنا کر بزر گوں کی طرف منسو ب کریں، یہ سب بت پرستی کی قسمیں ہیں۔اور کسی پتھر پر قدم کا نشا ن منقش کر نا اور اسے جنا ب رسالت مآ ب ﷺ کا نقش قدم قرار دے کر اس کی تعظیم بجا لا نے کو اسی پر قیاس کر نا چا ہیے ۔
اور انہیں قسموں میں قبروں کی پر ستش بھی داخل ہے ۔ آ نحضرت ﷺ نے قبرو ں پر مکا ن بنا نے اور انہیں اینٹ سے پختہ کر نے اور چو نے سے سفید کر نے اور گچ سے مضبو ط کر نے سے منع فر مایا ہے ۔ اس کی و جہ یہ ہے کہ قبور کی زینت شر ک کا باعث اور اسرا ف مال کی و جہ ہو تی ہے۔ حضرت ﷺ نے جو کچھ حضرت علی ؓ سے فر مایا تھا وہ صحیح حدیثو ں میں وارد ہے اور سب لوگوں کو معلوم و مسلّم، اس کی تصریح کی چندا ں ضرورت نہیں۔
نیز مسجد کے علاوہ در ختو ں اور مکا نو ں کی تعظیم بجا لا نے کو اسی پر قیاس کیجئے ۔
کیا آ پ نے نہیں سنا کہ جب بیعت رضوا ن کا در خت زیارت گاہ ہوگیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بایں و جہ اسے جڑ سے ا کھا ڑ ڈا لا کہ مبا دا لو گ اس کی تعظیم بجا لا ئیں اور شر ک کے در یا میں ڈوب جا ئیں ۔ و اللہ تعالی اعلم با لصوا ب ) ۔ (د یکھئے حا شیہ نمبر 1)
٭٭٭
یہ سب آخری زمانے کے فتنے ہیں!!
علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ (1890ء) لکھتے ہیں :
معاصرین کی کیفیت استدلال کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو علماء دین کے نام سے مشہور ہیں ، وہ اخبار کی ایڈیٹری تو خوب جانتے ہیں اور بحثِ مسائل میں بھی اسی (ایڈیٹرانہ) روش پر چلتے ہیں۔ لیکن جو بات مقصودِ شرع اور مطلوبِ دین ہے ، اس کے علم و فہم سے کوسوں دور ہیں ۔ اسی وجہ سے اِس زمانہ میں دین لہو ولعب بلکہ عبث ٹھہر گیا ہے ، نہ کسی کا حفظِ ادب ہے ، نہ کسی مسئلہ میں انصاف ۔ الا ماشاء اللہ ! یہ سب آخری زمانہ کے فتنے ہیں ۔ معلوم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوگا ۔‘‘
(خود نوشت سوانح حیات نواب محمد صدیق حسن خان :92)

تبصرہ کریں