
حدیث نمبر : 58
عَنْ عبد اللَّه بن عمر رضي الله عَنْهما، عَنْ النبي ﷺ قال : «إذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إلَى الْمَسْجِدِ، فَلا يَمْنَعُهَا»، قَالَ : فَقَالَ بِلالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : وَاَللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ فَسَبَّهُ سَبّاً سَيِّئاً، مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَالَ : أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَتَقُولُ: وَاَللَّهُ لَنَمْنَعُهُنَّ؟».
فِي لَفْظٍ لمسلم:«لا تَمْنَعُوا إمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ». [رواه البخاري، كتاب الأذان، باب استئذان المرأة زوجها بالخروج إلى المسجد، برقم 873، دون ذكر القصة، ومسلم، كتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة، برقم 34- (442)، و35- (442)]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
’’سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کی عورت مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے۔ بلال بن عبداللہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو انہیں ضرور روکیں گے۔ سیدنا عبداللہ اس کی طرف پلٹے اور انہیں بہت برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے ان سے اس طرح کے کلمات کبھی نہیں سنے تھے۔ کہا میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بات بتاتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے۔‘‘ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ
’’اللہ کی بندیوں یعنی عورتوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : اِذَا اسْتَأْذَنَتْ: جب کوئی عورت جازت طلب کرے۔
2 : فَلَا يَمْنَعْهَا : تو وہ اسے نہ روکے
3 : وَاللّٰهِ: اللہ کی قسم ۔
4 : لَنَمْنَعُهُنَّ : ہم انہیں ضرور روکیں گے ۔
5 : سَبَّهُ سَبًّا سَيِّأً : اسے بہت برا بھلا کہا۔
6 : لَا تَمْنَعُوْا: نہ روکو۔
7 : اِمَآءَ اللَّهِ: اللہ کی بندیاں ۔
8 : مَسَاجِدَ اللَّهِ : اللہ کی مسجدیں
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ عورت بغیر خاوند یا باپ یا کفیل کی اجازت کے گھر سے باہر اکیلی نہیں جاسکتی ہے حتی کہ نماز وغیرہ کے لیے بھی اجازت ضروری ہے۔ اس حکم میں بہت ساری حکمتیں ہیں اور اس میں عورت کی حفاظت کا خیال رکھا گیا ہے ۔
2۔ اکیلی عورت جب نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے اجازت دینا مستحب ہے بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو ۔ اگر عورت کو نماز وغیرہ کے لیے اجازت نہ ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ نماز گھر پر ہی پڑھے اور مسجد نہ جاۓ۔
3۔ عورت کو اکیلے بغیر ضرورت کے گھر سے نہیں نکلنا چاہیے اگر ضروری نکلنا ہو تو محرم کے ساتھ نکلے یا اجازت سے نکلے ۔
4۔اسلام لوگوں کی جان ، مال اور عزت کی حفاظت کرتا ہے ۔ ایک مسلمان کو اسلام کا حکم خوشی سے تسلیم کرنا چاہیے ۔
7۔عورت کی نماز گھر میں افضل ہے لیکن اگر مسجد میں تعلیم و تربیت کا پروگرام ہو یا مسجد میں دلی سکون وغیرہ کے لیے جانا ہو تو عورت کا اس میں شامل ہونا اور جانا مستحب ہے بشرطیکہ اجازت کے ساتھ ہو اور عورت کے ولی کو چاہیے کہ وہ اجازت دے بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
6۔ کوئی بھی خاتون مسجد جاتے ہوئے زیب و زینت اختیار نہ کرے تاکہ یہ کسی فتنے کا باعث نہ بنے۔
7۔ جو کوئی نبی کریمﷺ کے حکم سے روگردانی کرے اسے ڈانٹ پلائی جا سکتی ہے۔ جیسے سیدنا عبد اللہ بن عمر نے اپنے بیٹے حضرت بلال کو سخت ڈانٹا۔
سنن راتبہ / مؤکدہ کے متعلق
حدیث نمبر : 59
عَنْ عبد اللَّه بن عمر رضي الله عَنْهما قال : «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ».
وَفِي لَفْظٍ:«فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ وَالْجُمُعَةُ: فَفِي بَيْتِهِ».
وَفِي لَفْظٍ للبخاري : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ : «كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَعْدَمَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ. وَكَانَتْ سَاعَةً لا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فِيهَا». [رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة وقبلها، برقم 937، وأبواب التهجد، باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى، برقم 1165، واللفظ له، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن… برقم 729.
رواه البخاري، أبواب التهجد، باب التطوع بعد المكتوبة، برقم 1172، 1173.]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
’’سیدنا عبداللہ بن عمر نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد ، دو رکعت جمعہ کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد پڑھیں۔‘‘ ایک روایت میں مغرب، عشاء، فجراور جمعہ کی سنتیں آپ ﷺ اپنے گھر میں ادا کیا کرتے تھے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ سیدہ حفصہ نے مجھے بتایا کہ نبی کریمﷺ2 ہلکی رکعتیں طلوع فجر کے بعد پڑھا کرتے تھے اور یہ ایک ایسی گھڑی تھی کہ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : صَلَّيْتُ : میں نے نماز پڑھی ۔
2 : رَكْعَتَيْنِ : دو رکعت۔
3 : فِیْ بَیْتِهِ: اپنے گھر میں ۔
4 : يُصَلِّیْ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ : دو ہلکی رکعتیں پڑھتے ۔
5 :بَعْدَمَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ: بعد اسکے کہ فجر طلوع ہو۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔حدیث میں مذکور سنن راتبہ جنہیں عرف میں مؤکدہ بھی کہا جاتا ہے پابندی سے ادا کرنا مستحب ہے۔
2۔بعض احادیث میں بارہ سنتوں کی خاص فضیلت ثابت ہے وہ بارہ سنتیں یہ ہیں دو فجر کی نماز سے پہلے، چار ظہر سے پہلے اور دو بعد میں ، دو مغرب کی نماز کے بعد اور دو عشاء کی نماز کے بعد۔ جو شخص ان بارہ رکعات پر ہمیشگی کرے رسول اللہ ﷺ نے اس کو جنت میں گھر کی بشارت دی ہے۔
3۔ ان بارہ سنتوں کے علاوہ بھی نوافل ادا کرنے کی فضیلت ہے۔ مثلا چار رکعات عصر کی نماز سے پہلے اور دو رکعات مغرب کی نماز سے پہلے ۔
4۔ فرض نماز کے علاوہ سنت و نفل مسجد کی بجائے گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
5۔فجر کی سنتیں ہلکی یعنی قرأت قدرے مختصر کے ادا کی جائیں۔
6۔ فرض نماز سے پہلے اور بعد عموما کچھ رکعات بطور سنت و نفل ہیں اس میں کئی حکمتیں ہیں مثلا تاکہ فرض نماز کے لیے تیاری مزید بہتر ہوسکے ، فرض نماز میں کمی و کوتاہی پوری ہوسکے ، اپنی مرضی کی قرأت اور رکوع وسجود وغیرہ میں زیادہ تعداد میں دعائیں کی جاسکیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔
حدیث نمبر : 60
عَنْ عائشة رضي الله عَنْها قالت : «لَمْ يَكُنْ رسولُ اللَّه ﷺ على شيءٍ منَ النَّوافِلِ أَشدَّ تَعاهُدَاً مِنْهُ على ركْعَتَي الفَجْرِ».
وفي لفْظٍ لِمُسْلِمٍ : «رَكْعَتا الفَجْرِ خيرٌ منَ الدُّنيا وما فيها». [رواه البخاري، أبواب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر، ومن سماها تطوعاً، برقم 1169، بلفظٍ في أوله: «لم يكن النبي …»، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن، وبيان عددهن، برقم 94- (724). رواه مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن… برقم رقم 725.]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
’’سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ دیگر نوافل کا اتنا زیادہ خیال نہیں رکھتے تھے جتنا خیال فجر کی دو رکعتوں ( سنتوں ) کا رکھتے۔ مسلم کی روایت یہ الفاظ ہیں کہ فجر کی دو رکعتیں ( سنتیں) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں۔‘‘
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : اَشَدُّ تَعاهُدَا : زیادہ خیال کرنا
2 : نَوَافِلِ : نفل کی جمع فرائض کے علاوہ عبادت کو نفل کہتے ہیں ۔
3 : ركْعَتَیِ الفَجْرِ: فجر کی دو رکعتیں ۔
4 : خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا: دنیا سے بہتر ۔
5 : وَمَا فِيْهَا: اور جو کچھ اس میں ہے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ فجر کی سنتیں نفل ہیں مگر ان کی فضیلت اور تاکید باقی نوافل سے زیادہ ہے نبی کریم ﷺ ان کو سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
2۔ فجر کی دو سنتیں اجروثواب کے اعتبار سے پوری دنیا اور اس کی دولت وغیرہ سے بہتر ہیں۔ بعض نوافل کا اجر وثواب بہت بڑا ہے ۔
3۔ نبی کریمﷺ فجر کی سنتوں کا جتنا خیال کیا کرتے تھے اتنا دیگر نوافل کا نہیں کرتےتھے۔ اس میں فجر کے وقت کی بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
4۔ فجر کی سنتوں کی ترغیب ۔
٭٭٭
تبصرہ کریں