
ریاض کے قیام کے دوران چند اور نمایاں واقعات کو سپرد قلم کیے دیتا ہوں۔ یہ روائیداد 26 اکتوبر 1987ء کی بعد کی ہے۔
1۔ شیخ ابن باز کے ایک ظہرانے میں شرکت کی جس میں سوڈان کے سابق صدر سوار الذہب اور ڈاکٹر امین عثمان بھی مدعو تھے، ان دونوں حضرات سے لندن، خرطوم اور پھر مکہ مکرمہ میں گاہے بگاہے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوتا رہا تھا۔
ڈاکٹر امین عثمان سے مسلم ایڈ کے حوالے سے اور صدر سوار الذہب سے مختلف عالمی کانفرنسوں کے حوالے سے ملنا جلنا رہا، آخری ملاقات آج سے چند سال قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی کہ وہاں روہنگیا مسلمانوں کے سنٹر میں ہم دونوں کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے، اسلام کا بڑا درد رکھتے تھے اور یہی درد انہیں اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہونے کی شکل میں ظاہر ہوئی۔
2۔ ایک دن ڈاکٹر عبد اللہ بن زید کے ساتھ ریاض کے نواح میں جانا ہوا، درعیہ کا گاؤں دیکھا کہ جو شیخ محمد بن عبد الوہاب کی دعوت کا اولین زینہ رہا ہے، مٹی اور گارے سے بنی وہ عمارت بھی دیکھی جو نصف صدی قبل تک زیر استعمال رہی ہو گی۔
3۔ میرے ایک سسرالی عزیز 4 نومبر بروز بدھ وزارت صحت بسلسلہ ملازمت ریاض پہنچ رہے تھے۔ میں نے اپنے ایک دوست سے گاڑی کے لیے رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے شناسا جناب ظہیر طائف سے آئےہوئے ہیں، فارغ ہیں اور وہ اپنی گاڑی میں ائیرپورٹ لے جا سکیں گے۔ چنانچہ میں ان کی گاڑی میں سوار ہوا، ظہیر صاحب سے ایک دو دن قبل ملاقات بھی ہو چکی تھی، خوب بحث مباحثہ کے عادی تھے اور اس ملاقات میں ان کا موضوع بحث چند آیاتِ قرآنیہ سے متعلق کچھ اشکالات تھے۔
ایئرپورٹ جاتے ہوئے ان سے مسلسل بات چیت ہوتی رہی، باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ ان کے ڈرائیونگ لائسنس کی میعاد ختم ہو چکی ہے، ذہن میں ایک کھٹکا سا آیا کہ خدانخواستہ راستے میں پوچھ گچھ ہو گئی تو کیا ہو گا؟ پھر کچھ دیر بعد کہنے لگے کہ گاڑی کا روڈ لائسنس بھی اپنی میعاد پوری کر چکا ہے۔ میں انا للہ پڑھتا رہا اور پھر جب انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ سامنے سے ٹوٹی ہوئی ہے یعنی گاڑی کا نمبر پورا پڑھا نہیں جا سکتا۔ میں پھر اللہ سے دعا ہی کرتا رہا کہ یااللہ یہ سفر خیریت سے پورا کر دے۔
میرے عزیز چونکہ ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے، اس لیے میں نے اپنے ہمسفر سے کہا کہ وہ مجھے گیٹ پر اتار کر ذرا آگے میرا انتظار کریں تاکہ میں اس دوران اپنے عزیز کو ساتھ لے آؤں۔
اب جب میں انہیں اپنے ساتھ لے کر باہر پہنچا تو دیکھا کہ وہ تو کہیں نظر نہیں آ رہے، تھوڑا انتظار کیا تو وہ ٹریفک پولیس کی جیپ کے عقب میں اپنی گاڑی کے ساتھ آ رہے ہیں۔ میں نے اپنے عزیز کو تو ایک ٹیکسی میں وزارت صحت روانہ کیا اور خود اپنے ہمسفر کی گاڑی میں بیٹھا تاکہ ان کی ترجمانی کر سکوں اور اس ناگہانی آفت میں ان کی کچھ مدد کر سکوں۔
ہمیں جیپ کے پیچھے پیچھے آنے کے لیے کہا گیا، ہم مرکزی شاہراہ پر ائیرپورٹ سے روانہ ہوئے، پھر ایک پتلی سڑک پر مڑے اور بالآخر ایک بہت بڑے احاطہ تک پہنچ گئے۔ جہاں بے شمار گاڑیاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں روک لی گئی تھیں۔ عربی میں اسے ’حجز‘ کہا جاتا ہے۔
ظاہر تھا کہ پولیس نے نمبر پلیٹ کی وجہ سے بآسانی نشانہ بنا لیا ہو گا اور پھر جو کھاتا کھلا ہو گا تو باقی دونوں کوتاہیوں کا بھی انکشاف ہو چکا ہو گا۔ پولیس تو انہیں مہمان بنانے میں تلی ہوئی تھی، لیکن میرے اصرار پر کافی انتظار کے بعد ہم دونوں کو دو سپاہیوں کے ہمراہ پولیس کی ایک گاڑی میں واپس ائیرپورٹ لایا گیا جہاں پولیس کے برانچ آفس میں نقیب (کیپٹن) یعنی سربراہ پولیس چوکی کے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں شیخ ابن باز کے آفس میں بسلسلہ ترجمہ قرآن اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہوں اور یہ کہ مجھے ان کے نائب شیخ ابراہیم بن صالح آل الشیخ سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے، چنانچہ اس نے مہربانی کی۔ شیخ سے میری بات کروا دی اور پھر شیخ نے میری روئیداد سننے کے بعد نقیب مذکور سے سلام وکلام کیا کہ جس کے بعد ہم دونوں کو جانے کی اجازت ملی، لیکن گاڑی کے بارے میں کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔
میں نے پھر ٹیکسی لی اور وزارت صحت کی راہ لی ، جہاں اپنے عزیز سے ملاقات کی اور معلوم ہوا کہ انہیں سعودیہ کے جنوب میں باحد‘ شہر کے قریب بحیثیت ڈاکٹر متعین کیا جا رہا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ گو سارا دن خوب بھاگ دوڑ میں گزرا’’ لیکن خیر سے بُدھو گھر کو آئے۔‘‘
مجھے اپنا وہ خواب یاد آیا جو ریاض میں آنے کے چند دن بعد ایک رات دیکھا تھا، اس خواب میں دو اشخاص کو دیکھا جو میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور مجھے بے حد تنگ کرتے نظر آتے تھے اور میں ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا، ایک تیسرا شخص بھی دیکھا جو میرے ساتھ تھا اور بالآخر میں ان کے چنگل سے نکل آیا۔ کیا یہ وہی دو پولیس والے اور تیسرے میرے ہمسفر کی طرف اشارہ نہ تھا۔
مجھے اس دن یہ لفٹ لینا بہت شاقّ گزرا۔ اگر میں سیدھا ٹیکسی لے کر ائیرپورٹ چلا تو عافیت رہتی، لیکن قضاء وقدر کے فیصلے غالب رہتے ہیں اور ہماری اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں ان کا سبب بنتی ہیں۔
أعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا
4۔ ریاض کی نمایاں ہستیوں میں سے ایک عبد المالک مجاہد ہیں، جماعت اہل حدیث کے روح رواں، ان کے دستر خوان پر ہندوپاک کے اخوان اہلحدیث سے ملاقات کا موقع ملا۔ قرآن پاک کی ایک غیر زبان میں ترجمانی کتنا کھٹن کام ہے، اس پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے اپنے ادارے شرکۃ الفرقان کا بھی تعارف کرایا، جسے انہوں نے اپنے برادر طارق کے ساتھ بڑی محنت سے پروان چڑھایا۔
ایسے ہی ایک نشست برادر غلام نبی کے ہاں بھی رہی، جہاں اسی موضوع پر حاضرین مجلس سے تبادلہ خیال ہوا۔
5۔ ہمارے جامعہ کے دوست ہندوستان کی جماعت اہلحدیث کا عنوان، برادرم لقمان سلفی کی مکہ سے آمد کے بعد ان کے دولت خانہ پر اکثر جانے کا اتفاق ہوتا رہا اور وہیں پر ہندوستانی احباب میں سے محمد رفیع (فیجی میں مبعوث) ، جنوبی ہند کے کاکا عمر، دھلی کے عبد الوہاب خلیجی اور متعدد افراد سے ملاقات رہی۔ شیخ ابن باز کے مکتب سے تعلق کی بنا پر ان کا اپنا دفتر بھی مرجع خلائق رہتا ہے۔
ایک نشست میں جامعہ کے ایک پرانے ساتھی حکیم سعد سے بھی ملاقات رہی، وہ اور ان کے بھائی سعود طباعت کا خوب ادراک رکھتے تھے، انہیں انتہائی خوش اخلاق اور خوش پوش پایا۔ بڑے عرصے کے بعد ملاقات ہوئی تو بہت مسرت کا باعث رہی۔
ایک اور نشست میں شیخ راحت گل (پاکستان) کے صاحبزادے سید العارفین اور میاں طفیل محمد کے صاحبزادے محمد احسن سے بھی ملاقات رہی۔
ایک دوپہر برادرم لقمان سے ملاقات مقصود تھی، ہمارے ساتھ میرے رفیق کار ڈاکٹر سید متولی الدرش کے داماد ڈاکٹر خورشید بھی تھے۔ اچانک ایک گاڑی پیچھےسے ڈاکٹر خورشید سے جا ٹکرائی۔ وہ اچھل کر دور جا پڑے۔ ڈاکٹر الدرش انہیں سہارا دے کر ہسپتال لے گئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ جان سلامت رہی، رات تک گھر واپس آ چکے تھے۔
6۔ شیخ ابن باز چونکہ حج اور مابعد الحج کی مصروفیات مکہ میں گزارتے ہیں، اس لیے ان کی آمد کے بعد ان کی صحبت اور معیت کا شرف حاصل رہا۔ اپنے کام کی سبک رفتاری سے آگاہ کیا اور اس بات کی بھی خواہش کی کہ اب جب کہ ہم نصف قرآن تک پہنچنے والے ہیں تو ہمیں کچھ دن کے لیے واپس لندن جانے کی اجازت دی جائے، اللہ نے چاہا تو دوبارہ آمد ہو گی اور باقی کام مکمل کر سکیں گے۔ شیخ نے خوشدلی سے اجازت دے دی۔
ایک جمعہ ہمارے شناسا عبد العزیز مشعل کی مسجد (حی الرفاع) میں ادا کیا۔ نماز کے بعد شیخ کے اپنے مہمان خانے میں ان کا درس تفسیر وحدیث سنا اور پھر ان کے دسترخوان پر بھی حاضری دی۔ وہیں شیخ صالح الاطرم سے بھی ملاقات رہی، نابینا ہیں۔ جامعۃ الامام کے استاد ہیں اور فقہ میں خوب درک رکھتے ہیں، دوسرے مشائخ میں سے شیخ ابراہیم بن صالح، شیخ محمد ناصر العبودی اور ڈاکٹر عبد اللہ الترکی نے بھی شیخ کو اپنے اپنے گھر مدعو کیا اور ہمیں بھی ان کے ساتھ شریک محفل ہونے کی سعادت حاصل رہی اور ان محافل میں متعدد دوسرے مشائخ سے بھی تجدید ملاقات رہی جن میں شیخ صالح اللحیدان، استاذ مناع القطان، شیخ عبد العزیز عمار، ڈاکٹر عبد اللہ بن زید، شیخ محمد بن قعود، شیخ اسماعیل عتیق اور دبّی میں ریاسہ کے مبعوث جناب مقبول احمد شامل ہیں۔
7۔ ایک جمعہ سید حامد حسین کی دعوت پر ان کے دولت خانہ میں حاضری دی، وہ ریاض کی ایک نئی آبادی میں مقیم تھے، آبادی کے درمیان پانی کا تالاب ڈیزائن کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ایک عالیشان مسجد اس محلے کی زینت ہے۔
ہمارے قرابت داروں میں سے ڈاکٹر آصف قریشی یہاں قریب ہی رہائش پذیر تھے، جامعۃ الامام میں استاد ہیں، ان کے اپارٹمنٹ میں برادرم ممنون احمد سے ملاقات ہو گئی، آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔ جب کراچی میں تھے تو اپنے گھر پر درس قرآن کا اہتمام کیا کرتے تھے جہاں مجھے بھی خطاب کا موقع ملا۔ غازی مجاہد سے بھی ملاقا ت رہی۔
جامعہ کی مسجد میں جناب مصطفیٰ اعظمی سے تعارف حاصل ہو گیا، وہ مجھے اپنے گھر لے گئے، اپنا دار المطالعہ دکھایا۔ اس زمانے میں بھی کمپیوٹر زیر استعمال رہتا تھا۔ ایطالی زبان میں قرآن مجید کا ایک قدیم نسخہ جو کہ سن 1698ء کا طبع شدہ تھا، دکھایا، ترجمہ مسٹر مارکوگی کا تھا جو اپنے زعم میں قرآن کا رد بھی کر رہے تھے۔
8۔ ہمارا واپسی کا دن قریب آ چکا تھا، اس لیے قرآن کے حواشی پر جو کام کیا تھا، اس پر نظر ثانی کی تکمیل کی۔
15؍نومبر کی شام جناب اسماعیل عتیق مجھےاور برادرم رفیع احمد کو ائیرپورٹ لے آئے، میں براہ جدہ سفر کا عزم رکھتا تھا، جہاں برادرم شعیب کی معیت میں آدھی رات کے لگ بھگ عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اگلے دن نصف النہار کی ساعت کے ساتھ لندن کی پرواز کو جا پکڑا اور شام تک منزل مقصود جا پہنچا۔
اللہ کا شکر ہے کہ اہل وعیال کو خیریت سے پایا۔ صاحبزادے اسامہ کو ایک عارضہ کی بنا پر ہسپتال جانا پڑا تھا کہ جس کا علم مجھے وہاں جا کر ہوا، چنانچہ گھر پہنچتے ہی پہلے اسے دیکھنے کے لیے ہسپتال پہنچا۔ الحمد للہ کہ جس آپریشن کے لیے اسے وہاں داخل ہونا پڑا تھا وہ بخیر وخوبی ہوچکا تھا اور پھر اگلے دن اسے گھر آنے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔
مقام شکر ہے کہ ریاض میں اقامت کے دن، آنے اور جانے کے اسفار بخیریت سے گزر گئے۔ الحمد للہ
٭٭٭
تبصرہ کریں