فضائل ومسائل ماہِ محرم الحرام۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

اسلامی سال کی ابتداء محرم الحرام سے ہوتی ہے اور یہ حرمت وادب والا مہینہ ہے۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم)

محرم افضل مہینہ ہے۔ (سنن نسائی)

ایام جاہلیت میں قریش عاشورہ (محرم کی دسویں تاریخ) کو روزہ رکھتے تھے اور مکی زندگی میں رسول اکرم ﷺ بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے ۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )

عاشورہ کے دن سیدنا موسیٰ اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے جبر و استبداد سے نجات ملی ۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )

ام المؤمنین سیدہ حفصہ سے مروی ہے کہ

رسول اکرم ﷺعاشورہ کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے۔ (سنن نسائی)

رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے مہینے کے ہیں ۔ (صحیح مسلم)

محرم کے روزے کی اتنی اہمیت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوم کے گناہ بخش دیئے ہیں اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کئی قوموں کےگناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ (مسند احمد، جامع ترمذی)

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ اس سے گذشتہ ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم)

رسول اکرمﷺ نے جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم)

یہودی محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھتے تھے۔ اسی لئے ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے آپ ﷺ نے ایک دن پہلے یا بعد یعنی محرم کی نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (مسند احمد )

ماہ محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اس لئے چاہئے تو یہی تھا کہ مسلمان ہنسی خوشی ، نئے ولولوں اور عزائم کے ساتھ اس میں داخل ہوتے ۔ سال کے پہلے دن رسول اکرم ﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق کے مکہ سے مدینہ کو ہجرت فرمانے کے عظیم الشان واقعہ اور اس کی دس تاریخ کو سیدنا حسین اور اہل بیت پاک کے میدا ن کربلا میں شہادت پانے کے سانحہ فاجعہ سے مسلمانوں کے مصائب پر صبر کرنے اور دین اسلام پر استقامت اختیار کرنے اور اس راہ میں ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہنے کا جذبہ پیدا کرتے اور اس راہ میں ہر قسم کی قربانی کیلئے تیا ر ہنے کا درس حاصل کرتے مگر افسوس کہ مسلمانوں کی کثیر تعداد اس مہینے کا استقبال رنج و غم ، نالہ وشیون اور نوحہ اور ماتم سے کرتی ہے اور اس سے جو سبق حاصل کرنے تھے ان سے یکسر غافل ہے۔

ذیل میں اس ماہ ہونے والی بعض رسومات کی طرف نشاندہی کی جارہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ خلفائے راشدین، صحا بہ کرام ، ائمہ محد ثین فقہاء اور سلف صالحین سے ان چیزوں کا ثبوت نہیں ہے، لہٰذا یہ بدعت کے کام ہیں ۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ

’’جس نے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جس کا ثبوت دین سے نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری)

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے :

”سب کاموں سے بُرا کام بدعت ( ثواب سمجھ کر دین میں نیا کام ایجاد کرنا) ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

محرم کی ابتدائی دس دنوں میں سیدنا حسین ، سیدنا علی یا کر بلا کے نام سے تعزیے نکالتے ہیں اور ان کے سامنے منتیں اور مرادیں مانگتے ہیں اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور ایسا کرنے کو کارثواب اور نہ کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں، حالانکہ جو مراسم، اللہ کے سامنے ادا کرنے چاہیے تھے، وہ تعزیوں کے سامنے ادا کئے جاتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہندو اپنے بتوں کے ساتھ کرتے ہیں ، اس لئےصریح بدعت بلکہ شرک ہے۔

مسلمانوں کی اس حالت زار پر مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں کیا خوب ارشاد فرمایا ہے:

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر

جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

جھکے آگ پر بہرِ سجدہ تو کافر

کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں

اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

مزاروں پر دن رات نذریں چڑھائیں

شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے

نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

وہ دیں جس سے توحید پھیلی جہاں میں

ہوا جلوہ گرحق زمین و زماں میں

رہا شرک باقی نہ وہم وگماں میں

وہ بدلا گیا آکے ہندوستاں میں

ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں

وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں

٭ عاشورہ کے دن کچھ ماکولات ومشروبات باہتمام بنا کر ان پر فاتحہ (سورہ فاتحہ، کافرون، اخلاص ، فلق اور سورہ ناس وغیرہ )پڑھتے ہیں شریعت سے یہ امر ثابت نہیں ہے، اس لئے ایسا کرنا بدعت ہے۔

٭ گریہ وزاری، نوحہ وماتم ، سینہ کوبی اور زنجیرزنی، سر پر خاک ڈالنا اور اس کو دیکھنے کے لئے دور دور سے جمع ہونا یہ جملہ امور ممنوع ہیں اور اسلام میں انہیں جاہلیت کے کام کہا گیا ہے، اس لئے بدعت ہیں۔

٭ عاشورہ کے دن پانی ، دودھ یا مشروبات کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں چونکہ اس طرح کرنے سے روزہ کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ کی ایک سنت کے مقابلہ میں ایک بدعت فروغ پاتی ہے، اس لئے یہ بھی کا رعبث اور بدعت ہے۔

٭ عاشورہ کے چالیسویں دن چہلم کے نام سے دعوتیں کی جاتی ہیں اور اپنے زعم میں یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا ثواب شہد ا کر بلا کو پہنچتا ہے۔ ایصال ثواب کا یہ طریقہ شریعت سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ ایجاد بندہ ہے اور بدعت ہے۔

٭ اس مہینے میں واعظین اور خطباء حضرات موضوع احادیث ، جھوٹے اور من گھڑت قصے کہانیاں سنا کر عوام کے جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں اور صحابہ کرام کے تعلق سے بدگمانیاں پیدا کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں،جو کہ ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔

٭ اس مہینے میں شادی بیاہ کرنے ،میاں بیوی کے ملنے ، خوشی منانے اور اچھا لباس زیب تن کرنے کو حرام گردانتے ہیں اور اس میں پیدا ہونے والے بچوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے جو کہ سراسر جہالت اور نادانی ہے اور اسلام سے یکسر نا واقفیت کا نتیجہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جملہ شرک و بدعات سے بچنے اور رسول اکرم ﷺکی سنتوں پر عمل کرنے اور آپ ﷺ کے مبارک خانوادہ کو مشعلِ راہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین )

٭٭٭

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کہتے ہیں:

“حقیقت میں وہ لوگ بھی عملاً ان کا ساتھ چاہتے تھے ، ان کے دل میں بھی اس کی تڑپ تھی، لیکن عذر کی بنا پر اپنی تمنا پوری نہیں کر سکے؛ چنانچہ وہ بھ(اپنی پختہ نیت اور ارادے کی وجہ سے غزوہ میں)عملاً شرکت کرنے والوں کے برابر درجے تک پہنچ گئے ۔‘‘

(مجموع الفتاوى:10 ؍441)

٭٭٭

مسلک اہل حدیث

جادۂ صدق وصفا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

مشربِ مہر و وفا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

دعوتِ خیر الوریٰؐ ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

شاہراہِ مصطفیٰ ؐ ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

مشعلِ راہِ ہدیٰ ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

ظلمتِ شب میں ضیا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

ہے نقائص سے مُبَرَّا، پاک تاویلات سے

حق نگر، حق آشنا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

اس میں کوئی شک نہیں یہ ہے صراط مستقیم

ٹیڑھی راہوں سے بچا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

جوہرِ خیر القروں ہے، پیکرِ اسلام ہے

ہاں سلَف کا راستہ ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

اتباعِ سنتِ نبویؐ کی ہے اس میں ضیاء

نورِ توحیدِ خدا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

ماحئ شرک وضلالت، قامعِ بدعات وزُور

ٹھوک کر دیکھو کھرا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

مسلک حق سے ہے آخر بدگمانی کس لیے؟

کامرانی کا لِواء ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

فرقہ بندی چھوڑ کر ہوں وحدتِ ملت میں ضم

درس سب کو دے رہا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

شکرِ رب کیوں کر ادا ہو ہم سے اے ثاقب بھلا

فضل سے اس کے ملا ہے، مسلکِ اہلِ حدیث

تبصرہ کریں