مولاناکاکاسعید احمدعمری سے ایک یادگار ملاقات۔محمد خالد اعظمی

(جنوبی ہند کی عظیم الشان دینی درس گاہ جامعہ دار السلام عمرآباد تمل ناڈوکے جنرل سکریٹری مولانا کاکا سعید احمدعمری صاحب ایک ماہ کی کی علالت کے بعد 88سال کی عمر میں 11 مئی2024ءتقریباً سہ پہر پونے تین بجے عمرآباد میں انتقال ہوگیا۔ إنا للہ وإنا إليه راجعون۔ نماز جنازہ 12 مئی بروز اتوار بوقت 11 بجے جامعہ دار السلام عمرآباد میں اد ا کی گئی ۔

مرحوم کے پسماندگان میں چار صاحبزادے مولانا کاکا انیس احمد عمری، کاکا امین احمد،کاکا فہیم احمد،کاکاندیم احمد ،تین صاحبزادیاں اور متعدد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں ۔

کاکاسعید احمدعمری بڑی خوبیوں کے مالک تھے ۔اس کا اعتراف اہم شخصیات نے کھل کرکیا ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی کہتے ہیں کہ مرحوم علم دوست، علماء کے قدرداں ، قومی وملی غیرت سے سرشار ، مہمان نواز ، اچھے انسان اور عظیم دینی ، علمی اور سلفی خانوادے کے چشم وچراغ تھے ۔قومی وملی اورسماجی کاز سے کافی دلچسپی رکھتے تھے اور دینی وملی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

اسی طرح آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’وہ ایک مثالی شخصیت تھے ، وہ علم وعمل کا حسین امتزاج تھے ،انھوں نے تعلیم کے میدان میں بڑی محنت کی، ان کے زیر اہتمام جامعہ دار السلام کوبڑی ترقی حاصل ہوئی، اس جامعہ کا بنیادی مقصد دینی اورعصری تعلیم کا امتزاج اور مسلک ومشرب کی سطح سے اوپراٹھ کر دین اور علم دین کی خدمت کرناہے ، انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اسی راہ پر قائم رکھا اور اس سلسلے میں انتہا پسندانہ نقطۂ نظر رکھنے والے حضرات کی کوئی پروا نہیں کی ۔‘‘

کاکاسعید احمدعمری کو برادرانِ وطن میں دعوت اسلام کے کام سے بڑی دلچسپی تھی۔ مرحوم اتحادِ ملت کے بہت طاقتور داعی تھے،وہ اپنی نجی مجلس اور عوامی محفل دونوں میں اتحاد ملت کے نقیب تھے ۔

دوسری جانب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند نے فرمایا کہ

’’ان کی وفات سے ملت اسلامیہ ہند ایک مخلص عالم،منتظم اور سماجی خدمت گار سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کی رحلت ملت اسلامیہ ہندکا بڑا خسارہ ہے ۔ ان کے دور نظامت میں اس جامعہ نے خوب ترقی کی اور علمی دنیامیں ایک منفرد مقام بنایا۔

آپ جامعہ دار السلام کے کام سے کویت تشریف لایا کرتے تھے۔اس دوران کویت میں مقیم جناب محمد ہوشدار خان جنھوں نے آل انڈیاملی کونسل کا مرکزی دفتر خریدنے کے لیے پوری رقم دی تھی ۔انھیں کی آفس میں اتوار کی ہفتہ واری مجلس میں شریک ہوا کرتے تھے اور اپنے پندو نصائح سے اہل مجلس کو فیضیاب کرتے ۔

قابل ذکریہ ہے کہ اس مجلس میں مولانا مختاراحمد ندوی﷫ سابق امیرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، ڈاکٹرعبد الحق انصاری سابق امیر جماعت اسلامی ہند،قاضی مجاہد الاسلام قاسمی سابق صدرآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،مولانا سیدرابع حسنی ندوی سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،مولانا ولی رحمانی سابق جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ مولانا اصغر علی امام مہدی امیر جمعیت اہل حدیث ہند،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ،ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، ڈاکٹرمنظور عالم صدر آل انڈیا ملی کونسل اور دیگرشخصیات شریک ہوا کرتی تھیں۔

آپ اکثر کہاکرتے تھے کہ جامعہ عمارتوں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اس کے تلامذہ کانام ہے جو جامعہ کے نور سے مستفید ہو کر عالم میں ضیا پاشی کررہے ہیں۔ مرحوم اپنے تلامذہ کو پانچ باتوں کی تلقین کیا کرتے تھے:

 پہلی اصلاح نفس۔

 دوسری اصلاح امت ۔

 تیسری دعوت دین ۔

 چوتھی خدمت خلق

 اور پانچویں تنظیم ۔

علمائے کرام اور قائدین ملت سے مؤدبانہ التماس ہے کہ وہ اس دور میں جب کہ لوگ فکری انحطاط کے شکار ہیں وہ کاکاسعید عمری مرحوم کوبہترین خراج عقیدت اسی وقت پیش کرسکتے ہیں جب کہ وہ فکری اعتدال،مسلکی تشدد کے خلاف اعتدال وتوازن اورمحبت ومودت کی روش اختیار کریں۔

کویت جیسے چھوٹے سے ملک میں جب بھی کسی مشہور شخصیت کاورود ہوتاہے تو ان سے کسی نہ کسی موڑپر ملاقات ہو جاتی ہے۔حسن اتفاق سے جنوبی ہند کی عظیم درس گاہ جامعہ دار السلام عمرآباد کے سیکرٹری جنرل جناب کاکا سعید احمد عمری سے بھی ایک پروگرام میں ملاقات ہوگئی تھی ۔ ان سے ملاقات کب ہوئی تاریخ اور سن یاد نہیں لیکن اس وقت میں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کویت سے نکلنے والے ماہانہ میگزین مصباح کے لیے یہ انٹرویو لیاتھا۔ اس انٹرویو کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ حذف واضافہ کے ساتھ اسے دوبار ہ پیش کیا جارہا ہے ۔)

مولانا کاکا سعید احمد عمری کی شخصیت بڑی ہی پیاری تھی۔ خاکساری و تواضع ان کے چہرے سے ٹپکتی تھی۔ جب بھی ان کی تعریف میں کوئی بات کہی جاتی توان کایہی جواب ہوتاکہ میں تو ایک ادنی سا شخص ہوں اور جوکچھ ادارے کے لیے بن پڑتاہے وہ میں کردیتاہوں اورہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اجرکی امید رکھتا ہوں۔ اس طرح کے الفاظ بہت کم ہی لوگوں سے سننے کو ملتے ہیں۔مرحوم سے میری گفتگوکافی طویل تھیں اس لیے بہت ساری باتیں حذف کردی گئی ہیں۔

سوال: محترم آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟

جواب: میری پیدائش 1936ء عمرآبا د میں ہوئی، جو میرا آبائی وطن ہے ۔

سوال: کیا آپ اپنے خاندان کے متعلق کچھ بتائیں گے؟

جواب: میں جس خاندان سے تعلق رکھتاہوں وہ کاکا ہے اور کاکاخاندان کا آبائی پیشہ تجارت ہے ۔ چمڑے کی تجارت میں ہمارے خاندان نے کافی نام کمایاہے، اس کے لیے میں اللہ کا شکر اداکرتاہوں کہ اس رب ذوا لجلال نے ہمیں حلال تجارت کے لیے منتخب کیاہے۔ ہمارا خاندان زمانہ دراز سے چمڑے کی تجارت سے منسلک ہے، جنوبی ہند کے مشہور شہر مدراس میں ہمارے کارخانے ہیں اور ہم اپنے کارخانے کی بنی ہوئی اشیاء بیرون ملک یعنی یورپ، امریکا اور دیگرممالک میں ایکسپورٹ کرتے ہیں۔

سوال: آپ کا خاندان تجارت پیشہ ہونے کے باوجود دین کی طرف میلان رہا، اس کی وجہ کیا ہے؟

جوا ب: دراصل میرا خاندان غزنوی خاندان سے متاثر ہوا ہے ، جس کی وجہ پوراخاندان دینی مزاج کا حامل ہے۔حسن اتفاق سے ہمارا پورا خاندان دینی مزاج ، دینی خیالات اور دینی فکر کا حامل ہے۔ الحمد للہ

سوال: جامعہ قائم کرنے کا خیال کب اورکیسے آیا؟

جواب: بانی جامعہ کاکا محمد عمرمرحوم اپنی تجارت کی غرض سے بھوپال، دہلی اور امرتسر جایا کرتے تھے۔ دوران سفر ان کی ملاقات غزنوی خاندان سے ہوگئی جن میں شیخ عبدالجبار غزنوی مرحوم کے علاوہ محدث کبیرشیخ نذیر حسین محدث دہلوی اور شیخ محمد بشیر وغیرہم ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں قبروں کو نور سے بھر دے آمین۔ سے کا فی متا ثر تھے ۔ان کے خاندان کے لوگوں کے مواعظ سے کافی استفادہ کیا، اسی سے متاثر ہوکر ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ایک معتدل قسم کاادارہ قائم کیاجائے۔ اس سوچ نے ان کی زندگی کی کایا ہی پلٹ دی، لہٰذا مدرسہ کے ساتھ ساتھ ایک نئے ماحول کی تشکیل کے لیے ایک گاؤں اپنے نام سے بسایا اور آنے والوں کو اپنی زمینیں عنایت فرمائیں۔

اگرآپ ماضی کے جھروکوں میں دیکھیں توکہنے کو تو یہ بہت پرانی بات ہے لیکن اس پھلدار درخت کاپھل ایسا ہے کہ جیسے کہ یہ کل ہی کی بات ہے،1343ھ بمطابق 1924ء کا واقعہ ہے کہ صوبہ تمل ناڈو کے ضلع نارتھ آرکاٹ میں کئی ایکڑ زمین خریدی، اسے آباد کیا اور اپنے نام سے اس کا نام عمرآباد رکھا اور وہیں ایک علمی اوردینی درس گاہ کی بنیادرکھی جس کا نام جامعہ دار السلام لارشاد الناس رکھا۔

سوال: بانی جامعہ کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے؟

جواب: بانی جامعہ مسلکاً اہل حدیث تھے ، لیکن معتدل مزاج تھے ۔

سوال: مؤسس وبانی جامعہ کاکامحمد عمر صاحب کتنے دنوں تک ادارہ کی نظامت کرتے رہے؟

جواب: مرحوم کاکامحمد عمر صرف تین چار سالوں تک ہی اس کی نظامت کرسکے ، اس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔

سوا ل: آپ اپنی تعلیم کے متعلق کچھ بتائیں ؟

جواب: میری ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک جامعہ دارالسلام عمرآباد میں ہوئی اوروہیں سے 1956ء میں فراغت ہوئی ۔

سوال: کتنے سالوں سے جامعہ کے سیکرٹری ہیں ؟

جواب: میں تقریباً 20 سالوں سے جامعہ کا سیکرٹری ہوں اور اس کی خدمات انجام دے رہا ہوں۔

سوال: کیا جامعہ کے لیے وقف وغیرہ کا بھی انتظام ہے؟

جواب: جامعہ کے لیے وقف کا بہت ہی اچھا نظم ہے ۔ اس کی شروعات ہمارے دادا ہی کے زمانے سے شروع ہوئی تھی اور اب تک اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے ۔کاکامحمد عمر صاحب نے جامعہ قائم کرنے بعد باغ، عمارتیں اور دیگر چیزیں وقف کردیں تھیں ۔ اب دن بدن مزید اس میں اضافہ ہو رہاہے ۔

سوال: کیا جامعہ کی نظامت آپ ہی کے خاندان میں ہے ؟

جواب: جی ، ہاں ہمارا ہی خاندان اس ادارہ کی نظامت اب تک سنبھالے ہوئے ہے ۔اگرمستقبل میں کوئی ہم سے بہتر انتظام کرنے والاملے گا توہم اس کے حوالے کردیں گے۔

میرے خیال میں ہماراخاندان بہت ہی اچھے طریقے سے جامعہ کی نظامت کررہاہے اورجامعہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس ادارہ کی قسمت میں کامیابی وکامرانی لکھ دی ہے، اس طرح یہ ادارہ اول دن ہی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا اور آج اس کا حال یہ ہے کہ جنوبی ہندوستان بالخصوص اور پورے ہندوستان میں بالعموم وہ اپنا ایک مقام بنا چکا ہے ۔

سوال: جامعہ دار السلام، عمرآباد کا مختصر تعارف کرائیں ؟

جواب: جامعہ کے قیام کے دوران ہی مؤسس کے ذہن میں یہ بات تھی کہ وقت کی اہم ضرورت اتحاد واتفاق ہے، لہٰذا وقت کے عظیم علمائے کرام اور دانشوران سے جامعہ کے نصاب سے متعلق مشورہ کیا اور ایک ایسا جامع نصاب تعلیم تیار کیا ، جس میں مسلکی،فقہی اورگروہی اعتبار سے کوئی سروکار نہیں تھا، اس کافائدہ یہ ہوا کہ ایک ہی چھت کے نیچے مختلف مسالک ، مختلف فقہ اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے علاوہ طلبہ بھی تھے۔

سوال: جامعہ کے طلبہ میں اعتدال پیدا ہونے کی وجہ کیاہے ؟

جواب: ہمارے یہاں طلبہ کے درمیان جواعتدال ہے وہ دراصل جامعہ کے نصاب تعلیم اور اساتذہ کرام کے کردار کی وجہ سے ہےاورساتھ ہی جامعہ کے سالانہ اجلاس میں ہر مسلک ومشرب کے علماء وقائدین شریک ہوتے ہیں ۔

سول : قوم کو متحدکرنے میں جامعہ کا کیا کردار رہا ہے ؟

جواب: قوم کو متحد کرنے میں جامعہ کا کردار یہ ہے کہ آپسی اختلاف ہی صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم کسی کو برداشت نہیں کرتے لیکن ہمارے یہاں لوگ ایک دوسروں کی باتوں کو سنتے ہیں ، مسائل کو حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اعتدال پیدا ہواہے ۔

سوال: جامعہ میں بہتری کب سے زیادہ آئی ہے؟

جواب: 1977ء میں جامعہ کا گولڈن جبلی منایا گیا ، جس میں ملک وبیرون ملک کی مشہور شخصیات نے شرکت کی ، جس میں ایک عظیم منصوبہ تیار کیا گیا۔ جس کے بعد جامعہ کی مقبولیت میں چار چاند لگ گئے ، ساتھ ہی جامعہ کے مختلف شعبہ جات کھلے۔

سوال: کیا جامعہ دارالسلام کومخالفتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے؟

جواب: ہاں، جامعہ کو بہت ساری مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے ،جن میں سے چند باتیں بطور مثال پیش کررہاہوں، مثلاً :

٭ بہت سارے سادہ لوح افراد یاادارے یا جماعتیں ہمارے ادارے کو اہلحدیث کا ادارہ کہتے ہیں نیز ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے کو ختم ہوناچاہیے ۔

٭دوسرے لوگ ہمارے ادارے کو جماعت اسلامی کا ادارہ سمجھتے ہیں، لہٰذا اس وجہ سے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

٭ تیسرے وہ لوگ جوجامعہ کے متعلق یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ ادارہ کسی مسلک ومذہب کانہیں ہے لہٰذا اس کو ختم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

سوال: مختلف مسلک ومشرب کے لوگوں کی مخالفتوں کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں ؟

جواب: ہمارے تمام ذمہ داران و اساتذہ جامعہ تمام لوگوں کی باتوں کوبحسن وخوبی سنتے ہیں اس کے بعد ہماری کوشش ہوتی ہے کہ معاملہ کا حل اچھی طرح نکل آئے بصورت دیگر ہمارے فارغین ہی احسن طریقے سے لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوال: غیر مسلموں اورنومسلموں میں دعوتی کام کرنے کا جذبہ کب پیدا ہواہے اورکیسے؟

جواب: اس کی بھی تاریخ ہے ، اگر آپ ماضی کا مطالعہ کریں تو مدراس کے علاقہ میں قبول اسلام کاسلسلہ 1935ء سے شروع ہواہے جس کی بنیادی وجہ اسلام کی حقانیت تھی نہ کہ لوگوں کی کوششیں۔اس وقت جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کی تربیت کے لیے مختلف لوگوں نے اپنے اپنے طریقہ سے مقامی سطح پر کام کرنا شروع کردیا۔

ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد قبول اسلام میں اضافہ ہونے لگا۔ایک اندازہ کے مطابق 1990ء تک 50ہزار افراد اسلام میں داخل ہوئے ہوں گے۔یہ کام خاموشی سے ہورہا تھا لیکن بعض افراد نے اس کی تشہیر کردی جس کا غلط اثر پڑا۔جنوبی ہندمیں جن لوگوں کو اسلام قبول کرنا ہوتا تو لوگ مقامی جامع مسجد میں جاتے اور امام کے سامنے مشرف بہ اسلام ہوتے۔ یہ سلسلہ چلتارہا لیکن تشہیر ہونے کے بعد کافی رکاوٹیں پیدا ہوناشروع ہوگئیں۔

سوال: کیا آزادی سے قبل غیرمسلموں میں کام کرنے کاچلن تھا؟

جواب: ہاں ،آزادی سے پہلے کیرالامیں چند ادارے ایسے تھے جو غیر مسلموں میں ہی دعوت دین کا کام کرتے تھے۔

سوال: کیا جامعہ دار السلام عمرآبادمیں بھی نومسلموں میں کام کرنے کے لیے کوئی پروگرام ہے؟

جواب: جی ہاں ،جامعہ میں نومسلموں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے ۔ شروع میں یہ کورس دوسال کا تھا لیکن حالات اور لوگوں کی مشغولیت کے مدنظراس کی مدت کم کردی گئی ہے۔ حقیقت میں یہ تعلیمی وتربیتی کورس ہے۔اس کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دوران کورس طلبہ قرب وجوار کے علاقوں کی مساجد میں خطبہ بھی دیتے ہیں اور کورس ختم کرنے کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں بحیثیت داعی کام کرتے ہیں۔

سوال: کیا جامعہ میں غیر مسلموں کے لیے بھی کوئی کورس ہے ؟

جواب: ہاں ، جامعہ میں غیر مسلموں میں کام کرنے کے لیے بھی کورس ہے تاکہ ملک کی بڑی آبادی کو اسلام سے متعارف کرایا جاسکے ۔ اس کے لیے ہمارے ادارہ میں غیر مسلموں میں دعوت کا کام کیسے کیا جائے کے نام سے کورس ہے۔

یہ کورس دو سالوں پر مشتمل ہے۔لیکن حالات کے لحاظ سے اس کورس کی مدت چھ ماہ کردی گئی ہےاور دوران تعلیم طلبہ تعلیم کے ساتھ عملی میدان میں بھی حصہ لیتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ

کورس میں شامل ہونے والے افراد آدھا وقت کلاس میں اورآدھا وقت میدان میں دیتے ہیں۔

سوال: کیا آپ جامعہ کے علاوہ دیگرعربی مدارس میں بھی دعوتی کام کی اہمیت سے واقف کرارہے ہیں؟

جواب: ہمارے ادارے کے لوگ پوری طرح کوشش کررہے ہیں کہ دعوتی جذبہ عام ہو۔ اللہ کا شکرہے کہ اس وقت بہت سارے عربی مدارس میں دعوتی کام کرنے کا جذبہ بیدار ہورہاہے ۔

سوال: کیا وجہ ہے کہ عام طورپر ہمارے مدارس سے دعوتی کام کرنے کا جذبہ مفقود ہے ؟

جواب: حقیقت تو یہ ہے کہ وہ دعوت کی اہمیت سے بے خبرہیں۔ دعوت کاموضوع ہمارے مدارس کے طرز تعلیم میں بحیثیت ایک مضمون کے شامل رہنا چاہئے کہ برادران وطن میں دعوت دین کا جذبہ ہو اور ان میں اصلاح امت کاجذبہ بھی پیدا ہو۔

1937ء میں مولانا مودودی﷫ نے ایک کتابچہ لکھا تھا جس کا نام شاید اسلام کا سرچشمہ قوت تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ اسلام میں الگ پیشہ ور مبلغ کا تصور نہیں ہے بلکہ ہرشخص مبلغ ہے جیسا کہ جنوبی ہندوستان کے مسلمان کررہے ہیں۔

یہاں تک کہ بعض غیرمسلم حضرات صرف قرآن کی تلاوت سن کر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔

سوال: کیا جامعہ کے فارغین کے لیے دعوتی کام کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے کچھ پروگرام بنایاہے ؟

جواب: آپ کی بات درست ہے کہ جامعہ کے فارغین کے لیے ایسا ہونا چاہیے اس کے لیے جامعہ کے فارغین میں تذکیری پروگرام ہوا کرتاہے جیسا کہ بنگلور میں ہوا۔

علمائے کرام وارثین انبیاء ہیں۔دعوت وتبلیغ، انبیاء کا مشن اور علماء کرام کی عظیم ذمہ داری ہے ۔ اصلاح وتزکیہ اورتعمیر سیرت دعوت کا پہلازینہ ہے۔اوریہ وہ کام ہے جس کی ضرورت کبار صحابہ کرام تک محسوس کرتے تھے ۔

اصلاح نفس ، فکرآخرت اور خود احتسابی کا جذبہ جب تک ہمارے اندر پیدانہ ہوگا اس وقت تک ہم اپنے فرض منصبی کے امین اور نگہبان نہیں ہوسکتے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہنگاموں سے دور ہوکر اپنے گناہوں پر نادم ہوں، خود کو نارِ جہنم سے بچائیں اور جنت میں داخل ہونے کی تمام تدابیر پر غوروخوض کریں، رضائے الٰہی اور آخرت کی نعمت عظمی کے حصول کی ہرممکن طریقہ پر سیر حاصل گفتگو کریں اور زندگی کوبامقصد بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

سوال: بیرون ملک بالخصوص خلیج میں رہنے والوں سے آپ کیاکہنا چاہتے ہیں ؟

جوا ب: میں بالخصوص اپنے ادارے کے فارغین اور بالعموم تمام لوگوں سے یہی بات کہوں گا کہ وہ مالی فراغت کی وجہ سے شکرانہ کے طور پر اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ کریں۔

سوال: کیا آپ کے ادارے میں ملک اوربیرون ملک کے فارغین کے اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریاں یکساں ہیں یا فرق ہے ؟

جواب: ہمارے ادارے میں ملک اوربیرون ملک کے فارغین کی تدریسی ذمہ داریاں یکساں ہے ، اس میں کوئی تفریق نہیں ہے ، ورنہ عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ

ہندوستان کے بہت سارے مدارس میں جواساتذہ بیرون ملک کے فارغ ہوتے ہیں ان کی تدریسی ذمہ داریاں برائے نام ہوتی ہیں ، جس کا غلط اثر دیگر اساتذہ پر پڑتاہے ۔

٭٭٭

ماہ ِ محرم کی بدعات

ہم نے ماہِ محرم سے بہت سے غلط رواج وابستہ کرلئے ہیں، اسے دکھ اور مصیبت کامہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کے لئے سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ رونا پیٹنا، تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزا وغیرہ منعقد کرنا یہ سب کچھ کارِ ثواب سمجھ کر او ر سیدنا حسین سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے۔

حالانکہ یہ سب چیزیں نبی کریمﷺ کے فرمودات کے صریح خلاف ہیں۔ فقہ جعفریہ حضرات کی دیکھا دیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مثلاً اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب و آلام کے دور کی ابتدا کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتا ہے اور لوگ اعمالِ مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں مثلاً

بعض لوگ خصوصیت سے عاشوراء کے روز بعض مساجد و مقابر کی زیارتیں کرتے اور خوب صدقہ وخیرات کرتے ہیں اور اس دن اہل و عیال پر فراخی کرنے کو سارے سال کے لئے موجب ِبرکت سمجھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں