تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

پیش لفظ

تاریخ اہل حد یث کی جلد سو م کے آ غاز میں یہ تعارفی سطور لکھتے ہو ئے اللہ تعا لیٰ کے بے پا یاں احسا نات کا کماحقہ شکر یہ ادا کر نے سے قلم قا صر ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ جل شا نہ نے اپنے اس نا چیز اور علم و عمل سے تہی دست بندے سے جلد ہذا کی تکمیل کے سا تھ دو ہزار صفحات پر مشتمل علمی اور تحقیقی مواد مر تب کروا کے اس قر ض کی ایک قسط ادا کر وا دی ہے جو بر صغیر ہند کی جماعت اہل حد یث کے اصحاب علم و فضل پر ایک مدت سے وا جب ا لادا چلا آ رہا ہے ۔

ہماری یہ کتا ب بر صغیر میں اصحا ب ا لحد یث اور عمل بالحد یث کی سر گز شت ہے۔ اور اس میں کتا بیں بھی ہیں اور کتا بو ں وا لے بھی ۔ اس میں تحریر یں بو لتی سنا ئی دیتی ہیں اور مردا نِ کار مصرو ف عمل نظر آ تے ہیں۔ گز شتہ جلدوں میں جنا ب ولا یت علی صادق پوری ؒ کی عمل بالحد یث ، شا ہ فا خر زا ئر ؒ کا رسا لہ نجا تیہ ، شا ہ محمد اسما عیل شہید ؒ کی تنویر العینین اور تقویۃ الایمان ، جنا ب ابو الوفاء ثنا ء اللہ امر تسری ؒکا رسالہ اہل حد یث کا مذ ہب ، حا فظ عبد العزیز ر حیم آ بادی ؒکی ہدا یۃ المعتدی و غیرہ کے علاوہ شاہ و لی اللہ ؒکی حجۃ اللہ البالغہ ، اور حا فظ محمد حسین بٹا لوی ؒکے ما ہنا مہ اشاعۃ السنہ کے ضروری مباحث آ پ ملا حظہ کر چکے ہیں ۔ جلد ہذا کا آ غاز شیخ محمد حیا ت سند ھی ؒکی ایقا ف علی سبب ا لا ختلا ف سے کیا گیا ہے ، جو شاہ ولی اللہ ؒ کی تصا نیف سے بھی مقدم ہے اور ایک سند ھی عا مل بالحد یث کا مدینہ سے بذ ریعہ محمد حسین بٹا لوی ؒ ہندوستا ن پہنچنے وا لا فیض ہے ۔ اس کے بعد کم و بیش اسی مو ضوع پر شاہ ولی اللہ ؒ کے حجۃ اللہ البا لغہ سے چند ارشادات نقل کئے گئے ہیں اور ان کے تحفۃ المو حد ین ( فارسی مع اردو ترجمہ ) سے کتا ب کے صفحات کو منور کیا گیا ہے ۔ پھر شاہ محمد اسماعیل ؒ شہید کی ایضاح الحق الصریح نذر قارئین کی گئی ہے جو فارسی میں ہو نے کے با عث عموماً نظرو ں سے او جھل رہی ہے حالانکہ کہا جاتا ہے کہ حقیقت بدعت پر اس سے پہلے ایسی عمدہ کتا ب نہیں لکھی گئی ۔

در اصل جس دور میں یہ کتا ب لکھی گئی ، ہندی مسلمانوں کی علمی زبا ن فارسی تھی۔ لیکن جب انگریزوں کے عمل د خل کے سا تھ رفتہ رفتہ فارسی ہندوستا نیو ں کی زند گی سے نکل گئی تو فارسی لٹریچر عوام کی نظرو ں سے او جھل ہو گیا ۔بعض اہل ذوق نے اس کتاب کو اردو لباس میں منظر عا م پر لا نے کی اپنی سی کو شش کی لیکن ( متر جمین کے کامل اد ب واحترا م کے با و جود ) یہ کہنا نا درست نہیں ہے کہ وہ دو نوں ترا جم، جو ہمارے پاس مو جود ہیں، تصنیف کی تفہیم کا حق ادا نہیں کر تے ۔ اسلئے فارسی ایضاح کا کو ئی باقا عدہ اردو ترجمہ شامل کتا ب کر نے کی بجا ئے سید احمد خان دہلوی کی راہ سنت در رد بد عت کو شا مل کر دیا گیا ہے کیو نکہ سید ا حمد خا ن کا کہنا ہے کہ ا ن کی راہِ سنت در اصل ایضا ح الحق ہی سے مستفاد ہے ۔ یوں قارئین کو ایک ہی مو ضوع پر دو اہل حد یث علماء کی دو کتا بیں پڑ ھنے کو مل جا ئیں گی ۔ اور اہلحد یث کے قا بل فخر سر ما یہ میں سے دو کتا بیں ہمارے اس سلسلہ تاریخ کا حصہ بن جا ئیں گی ۔

کتا ب ہذا کے پیش لفظ میں طبعی طور پر اگلا مر حلہ سید احمد خا ن کے بارے میں چند سطور کا تقا ضا کرتا ہے ۔ سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ ہم نے سید ا حمد خان اور اس کی راہ سنت ( اور کلمہ حق ) کو تاریخ اہل حد یث میں کیو ں شا مل کیا ہے ؟ بات یوں ہے کہ سر سید احمد خا ن کی علمی زند گی کے دو دور ہیں ۔ پہلا دور ان کے عا مل بالحدیث ہو نے کا ہے اور دوسرا پیر نیچر ہو نے کا ۔ اور چو نکہ پیر نیچر ہو نے کا دور ان کی موت تک ممتد ہے اس لئے ان کی نیچریت کے بو جھ تلے وہ لٹریچر دب گیا جو ان کے دور اول سے تعلق ر کھتا ہے ۔ اور چو نکہ نیچریت کے خلاف سب سے زیادہ عملی کا م اہلحدیث ہی نے ( محمد حسین بٹا لوی ؒ کی سر براہی میں ) کیا ہے اس لئے پیر نیچر سید ا حمد کے اس کا م کو بھی اہل حدیث حضرات نے فرا موش کر دیا ہے جو اہل حد یث سید احمد کا تھا ۔

جس دور میں راہ سنت اور کلمۃ الحق 1849ء ۔ 1850ء میں لکھی گئی تھیں ۔ اس وقت ہندوستان کا مسلم معا شرہ خا نقا ہیت اور جا مد تقلید کے پنجے میں جکڑا ہوا سسک رہا تھا ۔ شا ہ اسماعیل دہلوی اور ان کے ساتھی بالا کو ٹ میں رتبہ شہادت پر فائز ہو چکے تھے ۔ شاہ محمداسحاق دہلوی ؒ حجاز تشریف لے جا چکے تھے ۔ سید نذ یر حسین محد ث ؒاپنی علمی زند گی کے اوائل میں تھے اور شا ئد ابھی عملی طور عا ملین بالحد یث کے زمرے میں شا مل نہیں ہو ئے تھے ۔ حا فظ محمد لکھوی ؒ، اور جنا ب غلام رسو ل قلعوی ؒ ابھی دا ئرہ تقلید سے با ہر نہیں آ ئے تھے ، سید صدیق حسن قنو جی ؒ تو ابھی ابتدا ئی کتب کے طا لب علم تھے اور سید عبد اللہ غز نوی ؒ ابھی افغا نستا ن میں تھے ۔ جنا ب محی الدین عبد الر حمن لکھوی ؒ، حا فظ محمد حسین بٹا لوی ؒ ، حا فظ عبد اللہ غازی پوری، جناب سلا مت اللہ جیرا ج پوری ؒ، حا فظ محمد ابرا ہیم آروی ؒ ، جنا ب محمد بشیر سہسوا نی ؒ ،، سید عبد الجبار غز نوی ، سید امیر حسن ؒ سہسوا نی ، سید امیر احمد سہسوا نی ؒ جنا ب محمد سعید ؒبنارسی ، جنا ب عبد العزیز رحیم آ بادی ؒ ، سید عبد العزیز صمد نی ؒ ، جنا ب شمس الحق ڈیا نوی ؒؒ، جنا ب فقیر اللہ مدراسی ؒ، قا ضی عبد الا حد خان پوری ؒ ، جنا ب عبد الجبار عمر پوری ؒ ، حا فظ عبد المنان وزیر آ بادی ؒ ، جنا ب قا ضی محمد سلیمان منصور پوری ؒ، جنا ب عبد الو ہاب صدری ؒ ، جناب ثناء اللہ امر تسری ؒ، حا فظ محمد ابرا ہیم میر ؒ ، حا فظ عبد اللہ رو پڑی ؒ وغیرہم میں سے بعض تو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اور دوسروں نے ابھی پڑھنا بھی شروع نہیں کیا تھا ۔

اس دور میں جب ہر سو گھمبیر سنا ٹا تھا ، دور دور تک روشنی کی کر ن نظر نہیں آتی تھی ، کلمہ حق کہنے پر زبا ن کٹتی تھی ۔ جس شخص نے سنت کی شمع جلا ئی ، عمل بالحد یث کا آ وازہ بلند کیا ، خانقاہیت کے علی الر غم کلمہ حق بلند کیا ، اس شخص کا حق ہے کہ ( اس کے دور ثا نی کی لغز شو ں کو خدا کے سپر د کر کے ) اسکے دور ادل کے اچھے کا موں کی یا د تازہ کی جا ئے ۔ میرے نز دیک راہ سنت اور کلمۃ الحق اہل حد یث کے قا بل فخر ا ثا ثے کا حصہ ہیں ۔ یہ کتابیں ایک سر کی تصا نیف نہیں ہیں بلکہ صرف سید ا حمد دہلوی کی ہیں جو خطا بات سے پہلے ایک جر أت مند، حق گو ،عا مل بالحد یث تھا ۔ اور بروایت جناب ابو یحی امام خا ن نوشہروی ؒ جس نے آ خر عمر میں اپنے غلط عقا ئد و نظر یات سے ر جوع بھی کر لیا تھا ۔

سر سید احمد خا ن سے چلیں تو محسن الملک سید مہدی علی خا ن تک بات پہنچتی ہے ۔ اور تعلیمی میدا ن میں قوم کی خد مات کے لحا ظ سے ان کا پا یہ سر سید احمد کے برابر نہیں تو زیادہ کم بھی نہیں ہے ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سر سید احمد خا ن کے وقت مر گ علیگڈ ھ کاتعلیمی ادار ہ بحرا نی دور سے گزر ر ہا تھا ۔ طلباء کی تعداد کم ہو رہی تھی اور ادارہ مقرو ض بھی تھا۔ سر سید ا حمد کی وفات کے بعد محسن الملک نے ادارے کاانتظا م سنبھا لا اور اپنی محنت، ا خلا ص ، بے نفسی اور ہمت سے انحطا ط کو ترقی میں بد ل دیا اور اس کا لج کے یو نیورسٹی بننے کی راہ ہموار ہو گئی ۔

محسن الملک شیعہ گھرا نے میں پیدا ہو ئے ۔ اپنی تحقیق سے اہل سنت اور عا مل بالحد یث ہو ئے اور تا آدم آ خر اس مسلک پر کا ر بند ر ہے ۔ ان کی وفات پر جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری نے انہیں اہل حد یث تسلیم کر تے ہو ئے خواہش ظا ہر کی کہ ان کا سوا نحی شذرہ ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر میں شا ئع کیا جا ئے جس پر اس دور کے ایک دوسرے بڑے اہلحد یث عا لم جنا ب ابو القاسم سیف بنارسی نے ان کا سوانحی شذرہ مرتب کر کے ہفت روزہ اہل حد یث امر تسرمیں چھپوا یا ۔

محسن الملک نے پیر نیچر سر سید ا حمد خا ن کا قریبی دوست ہو نے کے باو جود سر سید کی نیچریت اور اس کے مخصو ص تفسیری نظر یات کی مخالفت کی ۔ اور مخالفت در ون خا نہ اور نجی محفلو ں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ انہو ں نے علی ا لاعلا ن ، و علی رؤس ا لا شہاد آوازہ حق بلند کیا ۔ یو ں ایک اہلحد یث عا لم ہی نے ایک سا بق اہلحد یث ثمّ پیر نیچر کے نظریات کا رد کیا ۔ ہم نے اس جلد میں دو نوں بزر گو ں کی مراسلت نقل کی ہے جو کئی سا ل تک جاری رہی اور اس میں محسن الملک نے سر سید ا حمد کے تفسیری نظریا ت کا رد کیاہے ۔ ( محسن الملک نے اجتہاد و تقلید کے مو ضوع پر بھی ایک کتا ب لکھی ہے جسے کچھ عر صہ قبل جامعہ سلفیہ بنارس وا لو ں نے بھی شا ئع کیا تھا۔ ممکن ہوا تو کسی مناسب مقا م پر ہم بھی اس کی تلخیص نقل کریں گے ۔ انشا ء اللہ )

پھرہم نے جنا ب خر م علی بلہوری کی نصیحۃ المسلمین کو ملخصاً نقل کیا ہے۔ یہ کتا ب انیسویںصدی کے نصف اول کی معرو ف کتا ب ہے اور خا نقا ہی نظا م اور شر ک و بد عت کی تر دید میں اہم مقا م ر کھتی ہے ۔

نیز ہم نے بر صغیر کے بلاد و امصار میں عمل بالحد یث کی نشو و نما کا ذکر کیاہے ۔کار کنو ں کی خد مات ، ان کے مصا ئب و مشکلا ت ، اور معا ند ین کے سلو ک کا ذکر ہوا ہے اور چند عدالتی مقدمات کی کارو ا ئی نقل ہو ئی ہے جو در ا صل اعلاء کلمۃ الحق کیلئے اہل حق کی صبر آ زما جدو جہد کی داستان ہے ۔

انیسویں صدی میں ا صحا ب الحد یث کے دوسرے مکاتب فکر سے چند مبا حثا ت نقل کئے ہیں اور زیادہ تحریر یں جنا ب بٹالوی مر حو م کی ہیں ۔ در ا صل انیسویں صدی کے ہندوستا ن میں جناب بٹا لوی ہی اہل حد یث کے بڑے اور مشہور منا ظر تھے ۔ ان کے منا ظرا نہ دور کا آ غاز ۱۸۶۸ء میں ہوا جب احناف کی طرف سے مرزا غلام ا حمد قا دیا نی نے بٹا لہ میں ان سے منا ظرہ کر کے منہ کی کھا ئی ۔ نیز انہوں نے ڈپٹی عبد اللہ آ تھم عیسا ئی سے 1884ء کے گر دو پیش مناظرہ کیا اور ڈاکٹر مار ٹن کلارک سے 1894ء میں مبا حثہ کے لئے خط و کتا بت کی لیکن ڈا کٹر کلا ر ک طر ح دے گئے۔ (اس کا ذکر تحریک ختم نبو ت کی جلد ہشتم ہو ا ہے) نیز انہوں نے دیگر مکا تب فکر کے بڑو ں سے بھی مناظرے کئے ہیں ۔ جنا ب محمد قا سم نا نو توی ؒ سے ان کا ایک منا ظرہ ہوا ( جسکا ذکر ہم جلد دو م میں کر چکے ہیں ) ، منکر ین حد یث کے شیخ الشیو خ چکڑا لوی سے ان کا منا ظرہ مشہور ہے ، پیر نیچر سر ا حمد خان نے ان کے تحریری مبا حثے اخباری صفحا ت پر مد تو ں چلتے رہے ۔ لد ھیا نہ کے حنفی علماء سے ان کا ایک تحریری مبا حثہ ہوا جس کے جج اس دور کے رئیس الاحناف جناب عبد الحی لکھنوی قرار پا ئے ۔ لکھنوی مر حو م کے فتاوی میں اس مبا حثے کے فریقین کے پر چے اور جج کا فیصلہ درج ہے جسے ہم نے جلد ہٰذا میں نقل کیا ہے ۔ اسی طرح بمبئی کے حنفی علماء کی میاں نذیر حسین محدث ؒ سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں اخبار مشیر قیصر لکھنؤ کے حنفی اڈیٹر سے اخباری صفحات پر بٹالوی مرحوم کا طو یل مباحثہ ہوا جسے ہم نے ملخصاً جلد ہذا میں نقل کیا ہے ۔ ( اس کے علاوہ بٹا لوی مر حو م نے بانی قادیا نیت مرزا غلام ا حمد سے ۱۸۹۱ء میں لد ھیا نہ میں مبا حثہ کیا جس کی رو داد ہم تحریک ختم نبوت جلد چہارم میں بیا ن کر چکے ہیں ) نیز انہو ں نے مرزا غلا م احمد کے حواریا ں یمین و یسار حکیم نور الدین بھیروی اور محمد احسن امروہی سے بھی مباحثے کئے ۔ لا ہور میں ا حناف کی انجمن نعما نیہ سے تحریری مبا حثہ کیا جس کی روداد ہم جلد دو م میں نقل کر چکے ہیں ۔ یا د رہے کہ یہ اس دور کی باتیں ہیں جب کہ بیسویں صدی کے آ غاز میں شہرت پانے وا لے اہل حد یث کے نا مور منا ظرین ، مثل جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری ؒ اور جنا ب حا فظ محمد ابراہیم ؒ میر سیا لکو ٹی ، و غیر ھم ابھی تعلیمی مراحل طے کر رہے تھے ۔

در ا صل عمل بالحد یث کی تر ویج و اشا عت کے لئے جناب بٹالوی کی خد مات ہمہ پہلو ہیں ۔ انہو ں نے اہل حدیث کا پہلا علمی وتحقیقی رسا لہ، اشاعۃ السنۃ النبویہ جاری کر کے مسلک کی خدمت کی۔ یہ رسالہ پورے ہندوستان میں پڑھا جاتا تھا اور غیر مستطیع اہل ذوق وتحقیق کی خد مت میں دعا ئے خیر کے عو ض پیش کر دیا جا تاتھا ۔ انہو ں نے لا ہور کی چینیاں وا لی مسجد کو اہل حد یث کی مسجد کی شکل دے کر آ ج کے پا کستا نی پنجا ب میں اہل حد یث کا پہلا مر کز قائم کیا۔ یہ 1865ء کی بات ہے جب انہوں نے یہاں درس قر آن و حد یث شروع کر کے عمل بالحد یث کا بیج بو یا۔ اور پھر انہی کی زند گی میں اور ان کی آ بیاری سے یہ بیج ایک با رآ ور در خت بنا ۔

چینیا نوا لی ہی وہ مسجد ہے جس میں بعد ازاں جنا ب رحیم بخش ؒ نے سلسلہ اسلا م کی درجن بھر کتابیں تصنیف کر کے تو حید و سنت کا پیغا م عا م کیا ۔ اور یہی وہ مسجد ہے جس میں بیٹھ کر 1910ء کے بعد غز نوی علماء نے تو حید و سنت کی اشاعت کے عظیم کام میں حصہ لیا۔

اس مر کز کے با نی جنا ب بٹا لوی ؒ ہیں اور یہ اس دور کی باتیں ہیں جب کسی عا مل بالحدیث کے کسی مسجد میں چلے جا نے پروہ مسجد دھو ئی جا تی تھی اور جا نے وا لے کی توا ضع ما ر پیٹ سے ہو تی تھی ۔ اتنی ہمہ گیر خد مات انجام دینے وا لے ر جل عظیم کو ہماری تاریخ سے کماحقہ آ شنائی نہ رکھنے وا لے ا حبا ب د یگر اکا بر کے ذکر جمیل کے ذیل و حواشی میں کر دینے پر اکتفا کر جا تے ہیں۔ کو ئی مہر با نی کر نا چا ہے تو انہیں مدرسہ غز نویہ امرتسر کے مدرسین میں شمار کر دیتے ہیں ۔ مدرسہ غزنویہ کے مدرسین میں شمار ہو نا بھی بہت بڑے اعزاز کی بات ہے لیکن جنا ب بٹا لوی ؒ مدرسہ غز نویہ کے مدرسین میں شا مل نہیں تھے ۔ وہ سید عبد اللہ غزنوی ؒکے مرید اور ان سے فیض یا فتہ تھے اور ان سے ملنے امرتسر جا یا کر تے تھے۔ تاہم سید عبد اللہ غزنوی ؒ بنیادی طور پر ذکر و فکر اور تصوف و سلو ک کے آ دمی تھے ۔ معرو ف معنو ں میں ان کا کو ئی مدرسہ نہیں تھا جہاں درس و تد ریس کیلئے جنا ب بٹا لوی ؒ کو تعینات کیا گیا ہو ۔ سید عبداللہ غز نوی ؒ کے بعد ان کے صا حبزا دو ں نے امر تسر میں مدرسہ بنا یا جس میں بٹالوی مر حوم نے کبھی تد ریس نہیں کی ۔

بر صغیر ہند کی عمل بالحد یث کی تحر یک میں جنا ب محمد حسین بٹا لوی مر حو م کی خد مات کے پیش نظر جناب ثناء اللہ امر تسری ،اپنے ا خبار اہل حد یث میں عوام کو آ پ کے سوا نح کی ترتیب کی ترغیب دلا تے ہو ئے لکھتے ہیں :

مولانا محمد حسین بٹا لوی پنجا ب کے علماء میں سے بڑے ممتاز عا لم تھے۔ آ پ کے ترجمہ (حا لا ت ) کی بہت ضرورت ہے۔ خا کسار ا ڈیٹر ( ثنا ء اللہ ) سے بڑی عمر والو ں کو زیادہ معلوم ہو ں گے ۔ کو ئی صا حب ان کے قریبیوں میں سے یا صحبت یا فتو ں میں سے صحیح حا لات مسلسل لکھیں۔ مسلسل نہ لکھ سکیں تو واقعات ہی بتا دیں تا کہ ایسے بزر گ کے حا لات جمع ہو جا ئیں۔ (ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 24 ستمبر 1920ء ص 9)

اس تحریر کے چند عشروں بعد ایک، واقف حا ل، جناب محمد عطا ء اللہ حنیف بھو جیا نی نے ا لا یقا ف علی سبب ا لا ختلا ف کی تقریب طباعت پر لکھا کہ

اللہ تعا لیٰ کسی صا حب علم و ہمت کو تو فیق دے تو مو لانا بٹالوی کے سوا نح حیا ت ایک مستقل تصنیف کے متقاضی ہیں۔

جنا ب بھو جیا نی مر حوم کی اس خوا ہش کی تکمیل تواس عا جز مؤلف سے ممکن نظر نہیں آ تی لیکن اللہ تعا لیٰ نے تو فیق عطا فر مائی تو ارادہ ہے کہ کتا ب ہذا کی پانچویں جلد میں اس مو ضوع پر بقدر استطاعت کچھ گذار شا ت کی جا ئیں ۔

جلد ہذا کا آ خری حصہ حواشی پر مشتمل ہے جس میں سر سید ا حمد خان کی کلمۃ الحق نقل کی گئی ہے ۔ اخرا ج الو ہابین عن المسا جد کی تحریک کے دنو ں میں جب عدالتوں میں مقد ما ت چل رہے تھے تو حا فظ عبد اللہ مر حو م نے قا نون المساجد کے عنوا ن سے ایک دستاویز مر تب فر ما ئی تھی جسے متعلقہ حلقوں کی رہنمائی کے لئے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا تھا ۔ حواشی میں اس دستا ویز کو بھی نقل کر دیا گیا ہے ۔ نیز شا ہ اسما عیل شہید کی تقویۃ الا یمان پر اعترا ضا ت کے جوا بات سید اقتدار احمد سہسوا نی کی آ یات القر آ ن فی بعض مسا ئل تقویۃ ا لا یما ن اور حکیم محمد حسین قرشی ایمن آبادی کی اثبا ت التو حید سے حواشی میں نقل کئے گئے ہیں اور متن میں جلی ہندسوں میں حواشی کے نمبر لکھ دئیے گئے ہیں ۔

جلد سو م کی تر تیب و تسوید میں جن بز ر گو ں اور دوستوں کا تعا ون شا مل حا ل رہا ہے ان میں ڈا کڑ مقتدی حسن از ہری بنا رس، جناب اصغر علی امام مہدی سلفی دہلی، جنا ب محمد ابرا ہیم خلیل حجرہ شاہ مقیم، جناب محفو ظ الرحمن مدرسہ فیض عا م مئو نا تھ بھنجن ، جناب محفو ظ الر حمن جا معہ سلفیہ بنارس جنا ب عبد الہادی عمری بر منگھم ، جنا ب محمد اشرف جاوید فیصل آ باد ، ڈاکٹر عبد الوہاب انصاری کا سگنج ، ڈا کٹر لائق علی خان کا سگنج ،جنا ب عبد الر حیم روزی غواڑی بلتستا ن ، جنا ب محمد رمضا ن یوسف سلفی فیصل آ باد، جناب عبد الو ہا ب جا معی ( کر نا ٹک ) اور عز یز م محمد سہیل بو ریوا لا، شامل ہیں ۔ جزا ھم اللّہ عنّی و عن جمیع المسلمین ا حسن الجزاء

اس پرو جیکٹ کے لئے برا در عزیز، جنا ب شیر خا ن جمیل ا حمد عمری﷾ کے مخلصا نہ تعاون کا شکریہ ادا کئے بغیرتعا رفی گذار شات کو ختم کر دینا میرے لئے ممکن نہیں ۔ آپ ضروری مواد کی تلاش میں دا مے درمے سخنے مدد کیلئے ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ انڈ یا سے کتب و رسا ئل اور ضروری دستا ویزا ت کا حصو ل ان کی ذا تی دلچسپی کے بغیر میرے لئے ممکن نہ تھا ۔ نیز مواد کی تنقیح و تر تیب، احادیث کی تخریج ، اور پروف ریڈ نگ میں بھی اس بندہ عا جز سے ان کا بے لو ث تعاون، بے مثا ل ہے ۔ یہ فقیر ان کا احسان مند ہے اور دعا گو ہے کہ

اللہ تعا لیٰ ان کا دامن دین و دنیا کی سعا دتوں سے بھر دے ۔ آ مین

دعا ئے خیر کا طا لب:محمد بہا ء الدین

11 جنوری 2009ء

٭٭٭٭

تبصرہ کریں