
احترام انسانيت اور نبوی کردار
نبی ﷺ نے مکی دور میں انسانی اقدار کی بنا پر صلہ رحمی، راست گوئی، مہمان نوازی، غربا کی غمگساری، مجبوروں کی دست گیری اور راہ حق میں استقامت پر ہر ممکنہ اعانت فرمائی، جیسا کہ ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ نے فرمایا:
” كَلَّا وَاللّهِ مَا يُخْزِيك اللّهُ أَبَدًا، إِنَّك لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ.”
’’اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو ہرگز بے یار ومددگار نہیں چھوڑے گا، کیونکہ آپ رشتے نبھاتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، مفلس کے لیے کماتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اورراہ حق کی مشکلات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری:3)
اور مدنی دور میں انسانیت سے خطاب کیا اور فرمایا:
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى»
’’ اے انسانو ! خبر دار ہوجاؤ کہ تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو غیر عربی پر یا کسی غیر عربی کو عربی پر اور کسی سرخ( گورے) کو کسی کالے پر یا کسی کالے کو کسی سرخ( گورے) پر بجز تقوی کے کسی بھی طرح اعزاز وامتیاز اور فضیلت وفوقیت حاصل نہیں ۔‘‘ (مسند أحمد: 23489)
ان سارے امتیازات کے بغیر عامۃ الناس کے تئیں صبر کرتے ہوئے انسانی اقدار نبھا نے اور ایمانی کردارادا کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ ابو ذر کو تاکید فرمائی : «خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»
’’انسانوں کے ساتھ عمدہ اخلاق اختیار کرو۔‘‘ (جامع ترمذی: 1987)
یہ ساری ہدایات اس لیے ہیں کیونکہ
«الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ»
’’جو مؤمن انسانوں کے ساتھ ملن ساری کا معاملہ کرتا ہے، اور ان کی جانب سے حاصل ہونے والی تکالیف پر صبر سے کام لیتا ہے، ایسا مومن اس مومن کے بمقابل زیادہ اجر کا مستحق ہے جو انسانوں کے ساتھ ملن ساری کا معاملہ کرتا ہے، اور نہ ہی ان سے حاصل ہونے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 4032)
علاوہ ازیں نبوی انسانیت نوازی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ بدری قیدیوں کو قتل کرنے کی بجائے پہلے پہل فدیہ لینے اور چھوڑدینے کی تجویز پسند کی گئی اور عمومی طور پر دوران جنگ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے ساتھ مزاحمت سے منع کیا جاتا تھا، اور خصوصی طور پر مثلہ کرنے سے روکا جاتا تھا۔
احترام انسانيت اور برادران وطن
سہل بن حُنیف اور قیس بن سعد قادسیہ میں تشریف فرما تھے، جب ایک جنازہ گزراتو بتایا گیا کہ یہ غیر مسلم اور ذمی کا جنازہ ہے تو فرمایاکہ رسول اللہﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو نبیﷺ کھڑے ہوگئے، جب بتایا گیا کہ وہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے تو فرمایا:
« أليست نَفْسًا»
’’ کیا وہ(موت کی تکلیف جھیلنے والی) ایک جان نہیں تھی ؟ ‘‘ (صحیح بخاری : 1250)
واضح رہے کہ کچھ اہل علم نے اس جیسی روایات پر عمل کیا، جب کہ چند اہل علم نے اس حکم کو منسوخ جانا، اور بعض علما نے دونوں کاموں کی گنجائش کی لچک رکھی۔( تہذیب سنن أبی داؤد لابن القیم: 2؍ 365)
احترام انسانيت اور تحفظ مذہبی جذبات
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب یہود ونصاری سے بڑی عمدگی کے ساتھ مذہبی تبادلۂ خیال کا حکم دیا :
﴿وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ﴾ (سورۃ العنکبوت :46)
’’اہل کتاب سے بہتر اندازہی سے بحث ومباحثہ کرو، ہاں ان میں جو ظالم ہیں ان کا معاملہ جداگانہ ہے۔‘‘
اور باطل معبودان کے تئیں سب وشتم کرنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ﴾
’’اللہ کے علاوہ جن کی بھی یہ پرستش کرتے ہیں تم انہیں گالی مت دو، نتیجتاً نادانی کی بنا پر حد سے تجاوز کرتے ہوئے وہ بھی اللہ کی شان میں گستاخی کربیٹھیں گے۔ ‘‘ (سورۃ الانعام:108)
جب بحث ومباحثے میں عمدگی ملحوظ رکھنی ہے اور سب وشتم سے احتراز کرنا ہے تو جبراً تبدیلی مذہب کی گنجائش تو قطعاً نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾
’’دین اسلام( قبول کرانے )میں کسی پر کسی بھی طرح کا جبر نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 256)
اور تفصیلی احکام کے ساتھ وہ اپنے دین پر رہ سکتے ہیں اور ہم اپنے دین پر استقامت اختیار کرتے رہیں گے۔ (سورۃ الکافرون :6)
اور امن طلبی کی صورت میں پورے امن وامان کے ساتھ امن کے طلب گار کو اس کی محفوظ جگہ پہنچا نے کی تاکید ہے، جیساکہ فرمان الٰہی ہے :
﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾
’’اور اگر مشرکین میں سے کسی نے آپ سے پناہ طلب کی تو اسے پناہ دے دو، تاکہ اسے اللہ کا کلام سننے کا موقع ملے، پھر اسے اس کے محفوظ مقام تک پہنچادو۔ ‘‘ (سورۃ التوبہ:6)
احترام انسانيت اور تحفظ اقليات
Minorities Protection
اللہ تعالیٰ نے اہل ذمہ اور یہود جیسی اقلیات کے تئیں اپنے نبی ﷺ کو ہدایت دی کہ اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کریں: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾
’’اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان منصفانہ فیصلہ کریں، کیونکہ بے شک اللہ انصاف پروروں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (سورۃ المائدۃ:42)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«ألا مَن ظَلم مُعاهِداً أو انتَقصَهُ أو كلَّفَهُ فوقَ طاقَتِه أو أخَذ منهُ شيئاً بِغيرِ طِيبِ نَفسِ فأنا حَجِيجُهُ يوم القيامةِ»
’’خبردار ! جس کسی نے (اسلامی حکومت میں رہائش پذیر )کسی ذمی پر ظلم کیا، یا حق تلفی کی، یا طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، یا اس سے کوئی شے زبردستی چھین لی تو قیامت کے دن میں(اس ظالم مسلمان کے خلاف مظلوم ذمی کے حق میں) حمایتی اور وکیل رہوں گا۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 3052)
احترام انسانيت اور ذی اثر نمائندہ شخصیات
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ»
’’جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز(سردار) شخص آئے تو تم(کفریہ اور بدعات کے کاموں سے بچتے ہوئے، تالیف قلب اور ترغیب اسلام کی غرض سے) اس کی عزت کرو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ : 3712؛ مع شروح حدیث ، اس روایت کو اکثر اہل علم نے ضعیف قرار دیا ، جب کہ امام حاکم نے صحیح اور دیگر نے صحیح لغیرہ بتایا ۔ شیخ البانی اور شیخ شعیب الارنؤوط وغیرہ نے حسن قرار دیا اور متعدد متقدمین ومتاخرین نے اس سے استدلال بھی کیا۔)
احترام انسانيت اور تحفظ جان
اللہ نے ایک بے قصور کی ناحق جان لینے کو ساری انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا اور کسی بے قصور کی جان کی حفاظت کو ساری انسانیت کی جان کی حفاظت قرار دی، جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾
’’جس نے زمین پر فساد (مچانے کے جرم ) کے بغیر یا کسی کی جان کے بدلے (قصاص و تنفیذ حد) کے بغیر کسی (بے قصور) کا قتل کیا تو گویا اس نے سارے انسانوں کا قتل کیا اور جس نے کسی (بے قصور) کی جان بچالی تو گویا اس نے ساری انسانوں کی جان بچالی۔‘ ‘ (سورۃ المائدۃ: 32)
اور اگر کسی کے پاس ہتھیار رکھنے کی قانونی اجازت ہو تو اسے اس کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ ان کا غلط استعمال یا غیر ذمہ دارانہ استعمال قطعاً نہ ہو، اسی لیے سیدنا جابر نے نبی ﷺ کے حوالے سے فرمایا:
” نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا”
’’ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔‘‘ ( سنن ابو داؤد: 2588)
احترام انسانيت اور تحفظ امن عام
انسانی معاشرے کو غلط افواہوں سے محفوظ رکھنا اور امن عام کی برقراری کی ہر ممکن کوشش کرنا احترام انسانیت کی عملی اور میدانی شکل ہے، اسی لیے غلط افواہیں پھیلانے والوں کے متعلق سخت وعید سنائی گئی، جیساکہ اللہ نے فرمایا:
﴿ لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا﴾
’’اگر (اب بھی یہ) منافق، دلوں میں روگ کے حامل اور مدینہ طیبہ میں غلط افواہیں اڑانے والے باز نہ آئیں تو ہم آپ کو ان پر مسلط کر دیں گے، پھر وہ چند دن ہی آپ کے ساتھ اس شہر میں رہ سکیں گے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب : 60)
علاوہ ازیں جب سیدنا ابو ذر نے افضل ترین عمل کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«تَكُفُّ شَرَّك عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْك عَلَى نَفْسِك»
’’انسانوں سے اپنے شر کی روک تھام خود تمہاری جانب سے اپنے آپ پر صدقہ ونیکی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 136)
دوسری جانب جسے لوگ اُس کی بدکلامی کی وجہ سے چھوڑدیں تو وہ انتہائی بدترین انسان ہے، جیساکہ حدیث میں وارد ہے:
«إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ الناس اتقاء فحشه»
’’سارے انسانوں میں بڑا بدتر انسان وہ ہے جسے دوسرے انسان اس کی برائی سے بچنے کی غرض سے (اسے اسی کے حال پر) چھوڑ دیں۔‘‘ (صحیح بخاری:5707)
تبصرہ کریں