
الحمد لله، ماه مقدس رمضان کی آمد آمد ہے، یہ مبارک مہینہ خیر و برکت اور اجر و ثواب کمانے کے لیے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے، آج کے اس دور پرفتن میں بھی ماہ مقدس کی آمد کے ساتھ ہی مسلم دنیا میں ایمان و عمل کی بہار دکھائی دینے لگتی ہے، گنا ہوں اور معاصی سے آلودہ لوگوں میں بھی تقوی اور پر ہیز گاری کے آثار محسوس کئے جا سکتے ہیں، جو لوگ کسی عذر شرعی یا قلت تقوی کی وجہ سے روزے نہ رکھتے ہوں مگر ایمانی جھونکوں کے کچھ نہ کچھ اثرات ان تک بھی پہنچتے ہیں، کم از کم ظاہری طور پر وہ بھی روزہ داروں کی نقل کرتے دکھائی دیتے ہیں، پبلک مقامات میں کھانے پینے اور معاصی سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ موسم بہار جس کی راتیں بھی مبارک اور دن بھی خیر و برکت سے پر ، اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لئے تیاری اور مناسب پلاننگ چاہیے تاکہ آنے والا رمضان سال گذشتہ سے بہتر ثابت ہو سکے، اس کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ اس میں داخل ہونا ہو گا، رسول اکرم ﷺ اسی ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے اور دوسروں کو ترغیب دیا کرتے :
” لم یکن النبی ﷺ يصوم شهراً اكثر من شعبان ” (صحیح بخاری : ر 1970 ؛ صحیح مسلم: 782 )
اگر کوئی شخص مسنون طریقہ سے ماہ شعبان گزارے تو اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ رمضان کے فیوض وبرکات سے بھی وافر حصہ حاصل کر سکے گا، ورنہ جو پہلے سے اہتمام اور پلاننگ نہ کرے وہ ماه مبارک کی برکتوں سے کما حقہ مستفید نہیں ہو سکتا۔
ویسے بھی رمضان اس حالت میں دستک دے رہا ہے کہ بہت سے دوستوں اور احباب کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں، جو کبھی خاندان اور محفل کی شان ہوا کرتے جو مساجد اور مجالس کی جان سمجھے جاتے وہ آج آسودہ خاک ہیں، اتنی اموات کہ موت کی خبر سے انسیت سی ہونے لگی کہ ہر دن گویا کسی کی وفات کی نئی خبر !
اسی حقیقت کی طرف ہمیں متنبہ کیا گیا کہ لوگوں کے حساب کی گھڑی قریب آ پہنچی لیکن وہ منہ موڑ کر خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں :
﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ﴾ (سورۃ الانبياء: 1 )
مختلف حیلے بہانے کا روباری مصروفیات، جاب کے تقاضے اور معاشی ذمہ داریاں وغیرہ وغیر، ہمیں رمضان میں بھی اضافی عبادات سے روکے رکھتی ہیں، دیکھا گیا کہ ان مشاغل کے سبب ہمیں وقت ہی نہیں ملتا کہ اپنے دامن کو نیکیوں سے بھر سکیں ، جبکہ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ تم دنیا کی زندگی ایسے بسر کرو جیسے ایک مسافر سر راہ کسی جگہ کچھ دیر سستانے کے لیے رکتا ہے، پھر وہاں سے تازہ دم ہوتے ہی آگے چل پڑتا ہے، وہ اس عارضی اسٹیشن کو اپنی منزل نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح یہ دنیا بھی مومن کی منزل نہیں، اصل ٹھکانا آخرت کا ہے ۔
«كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ» (صحیح بخاری : 6416 )
دنیا کی ضروریات ختم ہونے والی نہیں، آدمی کو فرمان نبوی ﷺکی روشنی میں آخرت کے بنانے اور سنوارنے کی فکر زیادہ کرنی چاہئے ۔ دنیا کا گزارہ تو یوں بھی ہو سکتا ہے کہ صبح آنکھ کھلے تو گرد و نواح کا ماحول پر امن ہو، جسم تندرست ہو اور گھر میں ایک دن کی غذا میسر ہو تو گویا دنیا سے وافر حصہ تمہیں مل گیا ۔
«من اصبح منكم آمنا في سربه معافى في جسده عنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا بحذافيرها »(جامع ترمذی: 2346)
ہمیں نہیں معلوم کہ اس حیات مستعار کے کتنے دن باقی رہ گئے، ہم نے بہت سوں کی سفر آخرت پر روانگی کی اطلاع دی، اور اب کون ہماری اطلاع کب دینے والاہے، اس ماہ مقدس کو غنیمت سمجھنا چاہیئے ۔ رمضان میں روزہ کے علاوہ انفرادی عبادت کی زیادہ اہمیت ہے، رسول اکرم ﷺ ماه مبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے، یعنی اپنی دیگر مصروفیات اور مشاغل کو روک کر مکمل یکسوئی کے ساتھ مسجد میں فروکش ہوتے، ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کا کوئی کام دینی دائرہ سے خارج نہیں تھا، لیکن خود کو مسجد میں محصور کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ دینی کام بھی ضرورت اور حالات کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر انجام دیئے جانے چاہیئے۔ یہ مبارک مہینہ نزول قرآن کا مہینہ ہے ، رسول اکرم ﷺ اسی ماہ میں سید الملائکۃ جبریل امین کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے، لہٰذا قرآن مجید کی تلاوت کا خاص اہتمام ہونا چاہیے، قرآن مجید کی تلاوت اور سماعت دونوں کی اہمیت ہے، چونکہ یہ کتاب ہدایت ہے اس ہدایت نامہ ربانی کا تقاضہ ہے کہ اس کی تعلیمات سے آشنا ہوں اور بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی کو ڈھالیں ۔ ورنہ یہ مقدس کتاب صرف تبرک بن کر رہ جائے گی۔ اس لیے کچھ وقت تلاوت کے لئے اور کچھ وقت سماعت کے لیے اور کچھ وقت فہم قرآن کے لیے نکالا جائے۔ یہ مبارک مہینہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کا ہے، اپنے مال کا ایک حصہ ذخیره آخرت بنانے کے لیے ان محروم اور تنگدستوں کی مدد کے لیے نکالیے۔ اللہ تعالی اس ماہ کو مبارک بنائے اور آنے والے مہینہ کی سعادتیں صحت و سلامتی کے ساتھ نصیب کرے اور اپنی جھولیوں کو نیکیوں سے بھرنے کی توفیق بخشے ۔
٭٭٭
استقبال رمضان
مسلمانو! اٹھو اب ماہ رمضاں آنے والا ہے
کرو تیاریاں روزوں کی شعبان جانے والا ہے
کرو رمضاں کا استقبال تم بے حد مسرت سے
کرو روزوں کا استقبال تم سچی محبت سے
عبادت کا مہینہ ہے کریں اس میں عبادت ہم
سخاوت کا مہینہ ہے کریں اس میں سخاوت ہم
کرو تم ذہن و دل کو پاک پاکیزہ مہینہ ہے
منور کرلو ظاہر اور باطن گر قرینہ ہے
ہر ایک لمحہ غنیمت ہے خزانہ جمع کر لیجئے
مہینہ صبر کا ہے غصہ قلعہ قمع کر لیجئے
مسلمانو! کرو رمضان کی روحانی تیاری
بہ الفاظ دگر جسمانی و نورانی تیاری
مہینہ یہ قرآں کا تلاوت کیجیے قرآں کی
مہینہ ہے یہ تقوے کا یہ ہے پہچان رمضاں کی
ہے شہر احتساب اس میں کریں ہم احتساب اپنا
نجاتِ اخروی کے واسطے کرلیں حساب اپنا
اسی میں ہم زکوٰۃ وصدقہ و عطیات دیتے ہیں
جو دیتے ہیں کسی کو واسطے حسنات دیتے ہیں
سحر ، افطار کرتے ہیں مساکین اور فقراء بھی
ہے منظر روح پرور کیا کبھی لوگوں نے سوچا بھی
بہت خوش ہو کے بچے بھی ہمارے روزے رکھتے ہیں
ہر اک سے آگے بڑھنے کی مسلسل سعی کرتے ہیں
قیام اللیل سے جب مسجدیں بقعہ سی لگتی ہیں
بہ وقتِ فطر واللہ نور کا حالہ سی لگتی ہیں
خدا شاہد ہے بڑھ جاتی ہیں اس میں رونقیں بے حد
کہ ہو جاتی ہیں ہر مومن کے دل میں عظمتیں بے حد
سبھی بچتے ہیں کھانے پینے سے اور خواہشوں سے بھی
برائی کے ہراک پہلو سے بدتر عادتوں سے
بہ کثرت توبہ استغفار کرتے ہیں گناہوں سے
دلوں میں نور رہتا ہے دعاؤں اور آہوں سے
یقیناً ہے مہینہ برکت و غفران کا لوگو
شیاطینِ لعیں کے واسطے زندان کا لوگو
ہے رکھتا آخری عشرہ بھی اس کا اجر بے پایاں
شب قدر اس میں ہے جس پر ہزاروں ماہ ہیں قرباں
دعاؤں کا مہینہ ہے کرو اس میں دعائیں تم
برائے مغفرت کرتے رہو ہر وقت آہیں تم
برائے امت مرحوم بھی اس میں دعا کیجئے
بڑی پابندی سے یہ کام بھی صبح و مساء کیجئے
خوشی میں ماہِ رمضاں کی ہے مثال بندۂ ثاقب
کرم ہے تیرا بے پایاں میری تقدیر کے کاتب!
ڈاکٹر عبد الرب ثاقب
٭٭٭
شعبان المعظم
شعبان ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔ لفظ شعب اس وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں علیحدگی اختیار کی جاتی ہو۔ اہل عرب اس ماہ میں پانی کی تلاش میں دور نکل جاتے تھے اور انھیں ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا پڑتا تھا۔ شعبان کو مکرم بھی کہا جاتا ہے۔ شعبان کی پندرہویں شب کو عرف عام میں شب برأت بھی کہا جاتا ہے۔ اسلام سے نابلد بعض مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اس رات میں گناہ بخشے جاتے ہیں، عمریں بڑھائی جاتی ہیں، روزی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض مسلمان رات جاگ کر بلند آواز سے دعائیں کرتے ہیں۔ ان دعاؤں کو لوگوں نے از خود گڑھ لیا ہے۔ قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور روشنی و چراغاں کرتے ہیں، حلوہ بناتے ہیں اور قبروں پر پھول چڑھاتے ہیں۔ بیوہ عورت یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اس کے شوہر کی روح پندرہویں شعبان کی رات میں آتی ہے، اس لیے اس کے واسطے پسندیدہ کھانا پکاتی ہے۔ بعض علماء اس رات کے لیے شب قدر جیسی فضیلتیں بیان کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہن میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ شب قدر میں جس روح کے نزول کا ذکر قرآن مجید میں ہے اس سے مراد مُردوں کی روحیں ہیں۔ اس رات میں یہ لوگ شب بیداری کرتے، مسجدوں میں جمع ہوکر رات بھر نوافل پڑھتے اور اس رات قبروں کی زیارت کرتے ہیں۔ واعظین اس شب کی فضیلت میں یہ حدیث بیان کرتے ہیں: قُوْمُوْا لَیْلَہَا وَصُوْمُوْا نَہَارَہَا۔ یعنی اس رات میں نوافل پڑھو اور دن میں ر وزہ رکھو۔
پندرہویں شعبان کی رات کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں جن کا اثر آج انتہائی عروج پر ہے۔ شام و بصرہ کے تمام تابعین اور عباد و زہاد اس رات اجتماعی طور پر مسجدوں میں جاگنا، اچھے کپڑے پہننا، خشوع و خضوع کے ساتھ بکثرت عبادت کرنا مستحب سمجھتے تھے اور خود بھی اس پر کار بند ہوتے تھے۔ اس ضمن میں خالد بن معدان مکحول اور لقمان بن عامر کا نام بطور خاص آتا ہے جب کہ شام کے شہرۂ آفاق عالم اوزاعی اور دوسرے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ امور اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی طور پر درست ہیں۔ اس کے بر خلاف علمائے حجاز و فقہائے مدینہ پندرہویں شعبان کی رات کی بابت وارد ساری حدیثوں کو ضعیف موضوع اور اس رات مذکورہ بالا اعمال و افعال کو بدعت قرار دیتے ہیں۔(اقتضاء الصراط المستقیم لابن تیمیہ: 2؍ 126)
تبصرہ کریں