یورپ میں گرمی کی لہر۔ مولانا عبد الہادی العمری

Europe mein garmi ki lehar. Maulana Abdul Hadi Al-Umari

اس سال مغربی دنیا میں تبدیلی موسم کا ہر طرف مشاہدہ کیا جا رہا ہے، یورپ کے مختلف سرد ممالک ، جرمنی، فرانس، اسپین، برطانیہ و غیره و غیره جہاں گرمی کے زمانہ میں بھی درجہ حرارت حد اعتدال سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ موسم زیادہ خوشگوار ہو جاتا ہے، وہاں اس وقت گرمی کی سخت لہر چل رہی ہے، سال رواں جون کا مہینہ برطانیہ کی تاریخ کا گرم ترین ماہ شمار کیا گیا ، جولائی میں گرمی کی شدت کچھ ایسی محسوس کی گئی کہ ورلڈ کپ فٹبال کے شائقین کو شراب نوشی سے اجتناب کا بار بار مشورہ دیا گیا کہ گرمی میں شراب کے نقصانات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں، اور اب تو درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نتیجہ میں یہاں کے گھنے جنگلات اور سبزہ زاروں میں گھاس اور درختوں کے خشک ہو جانے کےسبب آتش زنی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا، فرانس، جرمنی اور اسپین کے بعض جنگلات میں خوفناک آگ پھیلتی گئی۔ صورتحال کی سنگینی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برمنگھم شہر کے مضافاتی علاقہ اسٹار برج میں 13 ؍اگست رہائشی علاقہ میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا پانچ سو ایکٹر رقبہ میں پھیلے متعدد گھر نذر آتش ہوگئے۔

فائر سروس کی رپورٹ کے مطابق ایک دن میں اس علاقہ سے انہیں گیارہ سو عوامی فون موصول ہوئے، ہنگامی مدد کے لیے ، قرب وجوار کے دیگر علاقوں سے ایک سو سے زیادہ اضافی فائر انجن کی مدد طلب کی گئی۔

فائر سروس کی جانب سے بار بار اپیل کی جا رہی ہے کہ ان تمام اسباب پر کنٹرول کیا جائے جو آگ لگنے یا پھیلنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں جیسے سگریٹ نوشی، بار باکیو، خاص طور پر تفریحی مقامات میں ایک جلتا ہوا سگریٹ کا ٹکڑا یا دیا سلائی کی ایک تیلی علاقہ بھر کو خاکستر کر سکتی ہے ، یا موسم گرما کا مرغوب مشغلہ بار با کیو کہ دوست احباب کے ساتھ مرغزاروں میں گوشت بھوننے سے سخت منع کیا جا رہا ہے، ایک بے قابو چنگاری بھی سارے گلستاں کو آگ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔

تبدیلی موسم اور اس سے ہونے والے اثرات کے متعلق ماہرین مختلف جائزہ لے رہے ہیں، لیکن ہمارے لئیے ان مادی اسباب کے علاوہ مؤمنانہ اسلوب بھی ہے کہ واقعات کی صرف ظاہری شکل اور تجزیوں پر اکتفاء نہ کیا جائے بلکہ ان میں اسوہ نبی ﷺ سے رہنمائی لی جائے۔ بعض احادیث کو عموماً سرسری انداز سے پڑھا جاتا ہے، غور کرنے کی کوشش کم کی جاتی ہے۔

«إِذَا اشْتَدَّ الحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»

( صحيح بخاری : 536 ؛ صحیح مسلم : 615 )

حدیث کا پہلا حصہ وقت صلاۃ کی نشاندہی کر رہا ہے کہ

موسم کے اعتبار سے نمازوں کے اوقات متعین کئے جائیں۔

دوسرا حصہ میں ایک انتباہ ہے کہ گرمی کی شدت عذاب جہنم کی تپش کو یاد دلانے کا ذریعہ ہے، آدمی کی سوچ آخرت کی طرف ہو، کیونکہ ہماری زندگی کا ہر گزرنے والا دن ہمیں موت، آخرت اور حساب محشر کے قریب تر کر رہا ہے۔ وہاں ناکامی کی صورت میں جس عذاب کی وعید سنائی گئی، اس جہنم کو یاد کرنے اور اس سے بچنے کے لیے یہ چھوٹے واقعات بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر چہ کہ اس کا موازنہ اس عذاب سے نہیں کیا جاسکتا، لیکن ذوی العقول کے لیے اس میں عبرت اور بصیرت ہے ۔

قرآن مجید کی متعدد آیات خصوصاً آخری جزء کی بعض سورتوں کے ذریعہ اس آگ کی تپش اور قرب قیامت ہونے والے بعض ہولناک واقعات پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ جیسے

﴿و إذا البحار فجرت ﴾ (انفطار: 3)

’’جب سمندر پھٹ پڑے گا Explosion شدید تپش کے بعد پانی جب حد سے زیادہ گرم ہو جائے تو یہ کیفیت ہو سکتی ہے :﴿وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ﴾

’’جب سمندر کا پانی کھولنے لگے گا ۔‘‘ (تکویر : 6)

ان آیات میں قیامت کی چند بڑی نشانیوں کا تذکرہ رونگٹے کھڑا کرنے والا ہے، بنده مومن نماز کی آخری رکعت میں جن چیزوں سے پناہ مانگتا ہے، ان میں عذاب قبر اور عذاب جہنم بھی ہے ، ان دعاؤں میں اس اعتبار سے بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ کیا اسباب ہیں کہ اختتام نماز میں اہمیت کے ساتھ پناہ مانگی جا رہی ہے:«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ»

ہمیں سورج گرہن، چاند گرہن یا خشک سالی کے سبب بارش طلب کرنا ہو تو ان حالات میں خصوصی طور پر اہتمام صلاۃ کا حکم دیا گیا ، رسول اکرم ﷺان موقعوں پر صحابہ کرام کے ساتھ آبادی سے باہر نکل کر صلاة کا اہتمام فرمایا کرتے ، یہی مؤمنانہ انداز ہے کہ نازک حالات میں تعلق باللہ اور توجہ الیٰ اللہ کے بغیر نصرت رب العالمین کا حصول ممکن نہیں اور اللہ عزوجل کی مدد کے بغیر صرف مادی وسائل کی بنیاد پر ان آزمائشوں سے نجات نہیں، اقامت صلاة، اللہ کی مدد طلب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ (سورة البقرة: 45)

رسول اکرمﷺ جب کبھی کوئی اہم بات یا غیر معمولی واقعہ پیش آتا تو آپﷺ نماز کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے:«إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى» (سنن ابو داؤد: 1319 )

سماج میں ان بھولی بسری سنتوں پر بھی عمل کا اہتمام ہونا چاہیے اور الحمد لله مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے زیر انتظام اور چند اہم مساجد میں صلاة الكسوف، سورج گرہن کا ، 12؍ اگست کو اہتمام کیا گیا جو کہ اکثر نوجوانوں کے لیے ان کی زندگی کا پہلا یہاں تجربہ تھا، جبکہ مختلف لوگ سورج کا دیدار کرنے کے لیے مختلف پہاڑی اور ساحلی علاقوں کا رخ کر رہے تھے، وہاں عبرت اور سبق کی بات نہیں بلکہ ان کے لیے یہ تفریحی موقع تھا اور پھر 16؍ اگست صلاة الاستسقاء کا اہتمام کیا گیا۔ بارش طلبی کی نماز اور دعا کی ان ممالک میں شاذو نادر ہی ضرورت پیش آتی ہے، یہاں بارش بھر پور ہوتی ہے، لیکن سال رواں اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا ۔فرمان ربانی ہے؟

﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ﴾’’اگر پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے تو اللہ کے علاوہ کون ہے جو تمہیں میٹھا پانی فراہم کر سکے۔‘‘

خوشحال ترین ترقی یافتہ ممالک جہاں ہر طرح کے مادی وسائل کی فروانی ہو، قدرت کے آگے کتنے بے بس اور عاجز ہیں ۔

وفات مرکزی جمعیت اہلحدیث کے قدیم کارکن، ریڈنگ برانچ کے روح رواں جناب اعجاز میر کا انتقال ہو گیا، میر صاحب ان احباب میں شامل ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی جماعت کا ساتھ دیا ، دامے درمے سخنے جماعتی سرگرمیوں میں شامل رہے، ریڈنگ میں جمعیت کی مسجد قائم ہونے سے بہت پہلے ہی ان کے برادر گرامی ریاض میر کی لندن روڈ پر واقع رہائش گاہ ہی برانچ کی حیثیت رکھتی تھی ، مختلف دینی پروگرام وہاں منعقد ہوتے رہے، معزز علماء جمعیت کی وقتاً فوقتاً ضیافتیں ہوتی رہیں ۔ یہاں موجود ایک مسجد میں جو کہ مشترک نوعیت کی تھی ، دعوتی پروگرام بلکہ تربیتی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ۔ دونوں بھائیوں نے مقامی احباب کے تعاون سے جمعیت کی مسجد کے لیے ایک عمارت خریدی، پھر بتدریج سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا گیا ۔عرصہ سے بیمار تھے ، بیٹی کے گھر لندن میں وفات پائی اور 12 اگست کی دوپہر مسجد عائشہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور ریڈنگ کے مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ اللہ تعالیٰ بشری لغزشوں کو معاف فرمائے اور اعلىٰ عليين میں جگہ نصیب کرے ۔ آمین (مولانا عبد الہادی العمری)

٭٭٭

نعت

آپؐ نے دنیا کو دکھلایا صراط مستقیم

فیض پیغمبر سے حق کا بول بالا ہو گیا

سرنگوں باطل ہوا منہ اُس کا کالا ہو گیا

أسوۂ حسنہ نبیؐ کا جس کو پیارا ہو گیا

وہ دلوں پر چڑھ گیا آنکھوں کا تارا ہو گیا

جب ذرا انگشت اقدس کا اِشارا ہو گیا

اوج گردوں پر مہِ کامل دو پارا ہو گیا

گلشن اِنسانیت میں آگئی فصلِ بہار

آپ کی آمد سے کیا اعجاز پیدا ہو گیا

تیرگی ہی تیرگی تھی ہر طرف چھائی ہوئی

آپ کیا آئے کہ دُنیا میں اُجالا ہو گیا

آپ سے پہلے تھا رازِ کن فکاں رازِ نہاں

اور اب یہ رازِ عالم آشکارا ہو گیا

چیختی تھی زندگی جورِ شب دیجور سے

آپ نے کیا جلوہ فرمایا سویرا ہو گیا

جو ہوا اللہ کا ، اللہ بھی اُس کا ہوا

رحمۃ للعالمیںؐ جو بھی تمہارا ہو گیا

آپ کی عظمت سے ہے آگاہ ربّ ذوالمنن

آپ کا رتبہ دو عالم میں دوبالا ہو گیا

آپ نے دنیا کو دکھلایا صراط مستقیم

آپ کا ہر کام دُنیا سے نرالا ہو گیا

جس نے دیکھی آپ کے اخلاق حسنہ کی جھلک

جان و دل سے آپ پر قربان و شیدا ہو گیا

آپ کا فیضان ہے یہ آپ کا احسان ہے

ہم خدا کے ہو گئے ، وہ بھی ہمارا ہو گیا

کاروانِ آدمیت ٹھوکریں کھانے کے بعد

آپ کے نقشِ قدم پر جادہ پیما ہو گیا

نعت جو حماد نے کہہ دی ہوا محسوس یوں

بلبل باغ رسالت نغمہ پیرا ہو گیا

حضرت ابولبیان حماد العمری رحمہ اللہ

٭٭٭

نعت

بے فیض ہیں منہ دیکھی حقیقت کے قرینے

مانا ہی اگر دل سے نبی کو نہ کسی نے

اب اپنی کوئی تیسری منزل ہی نہیں ہے

مکے سے اٹھے ہم تو چلے آئے دینے

جب بھی مرے آقا نے کوئی حکم دیا ہے

آمنا و صدقنا کہا فوری سبھی نے

سرکار یہ کہہ کر کہ لمن غير بعدی !

اک گھونٹ بھی کوثر کا نہ دیں گے انہیں پینے

دعویٰ ہے جنہیں عشق نبی عشق نبی کا

رکھا نہ کہیں کا بھی انہیں بے عملی نے

اسلام کے دو رکھے ہیں اپنے ہی حوالے

فرمان الٰہی و حدیث نبوی نے

میں خیر ہوں منسوب اک ایسے ہی نبی سے

مانے کی جسے مانا ہے ہر ایک صدی نے

ڈاکٹر رؤف خیر

تبصرہ کریں