
الحمد للہ! اسلام وہ دین ہے جس نے عدل، اعتدال اور محبت کا ایسا حسین تصور پیش کیا ہے کہ اس میں نہ افراط کی گنجائش ہے اور نہ تفریط کی۔ اسی اعتدال کا ایک روشن مظہر اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت ہے۔ یہ وہ مقدس خانوادہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے نور سے سرفراز فرمایا، قرآنِ مجید میں جن کی طہارت کا اعلان کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی محبت، شفقت اور خصوصی توجہ سے امت کے لیے ان کا مقام واضح فرمایا۔
اہلِ بیتِ اطہار کی محبت محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان کا تقاضا، سنتِ نبوی کا تقاضا اور اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت بھی دین کا لازمی جزو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کا منہج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ اہلِ بیت سے بھی والہانہ محبت کرتے ہیں اور تمام صحابۂ کرام سے بھی قلبی عقیدت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں جماعتیں دینِ اسلام کے دو عظیم ستون ہیں۔
محرم الحرام کے ایام میں جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت کا تذکرہ ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ اس موضوع کو صرف جذبات کی عینک سے نہیں، بلکہ قرآن و سنت، صحیح احادیث اور مستند تاریخی روایات کی روشنی میں سمجھا جائے، تاکہ اہلِ بیت کی حقیقی محبت، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی، اور صحابۂ کرام و اہلِ بیت کے باہمی تعلقات سے وہ رہنمائی حاصل ہو سکے جو امت کے اتحاد، اعتدال اور باہمی محبت کا سبب بنے۔
آج کے اس خطبے میں ہم اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت، ان کے فضائل، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی سیرت، صحابۂ کرام کی اہلِ بیت سے محبت، صلحِ حسن، واقعۂ کربلا، اور اہلِ بیت کی محبت کے حقیقی تقاضوں کا جائزہ لیں گے، تاکہ ہمارا تعلق اس مبارک خانوادے سے محض دعوے کی حد تک نہ رہے، بلکہ محبت، احترام، اتباع اور اعتدال کی صورت میں ہماری عملی زندگی کا حصہ بن جائے۔
اہلِ بیت کون ہیں؟
اہلِ بیتِ رسول ﷺ وہ مقدس ہستیاں ہیں جن سے محبت ایمان کا تقاضا، جن کی تعظیم شریعت کا حکم، اور جن کے حقوق کی رعایت اہلِ سنت والجماعت کا امتیاز ہے۔
اہلِ بیت میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن، سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہم، اور بنو ہاشم کے وہ افراد شامل ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اہلِ بیت میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل، اور آلِ حارث بن عبدالمطلب۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ، ج35)
سیدنا عمر بن ابی سلمہ سے جب آیتِ تطہیر کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا ازواج رسول اہلِ بیت میں ہیں تو انہوں نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (مسند احمد: 16784)
ایک اشکال کا جواب:
حدیث کساء میں ازواج مطہرات کو چادر میں کیوں نہیں لیا گیا ؟
جواب : اس لیے نہیں لیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ان کے غیر محرم چادر میں موجود تھے ۔
اہل بیت کے فضائل و مناقب
اہلِ بیتِ رسول ﷺ وہ مبارک خانوادہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے نور سے سرفراز فرمایا، طہارت و تقدس کی نعمت عطا کی، اور امتِ مسلمہ کے لیے محبت، تعظیم اور اتباع کا مرکز بنایا۔ قرآن و سنت کے متعدد مقامات پر ان کے مقام و فضیلت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
1۔اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیت کی طہارت کا اعلان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاکیزہ بنا دے۔‘‘ (سورۃ الأحزاب: 33)
یہ آیت اہلِ بیت کے شرف، طہارت اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت کو نمایاں کرتی ہے۔
2۔اہلِ بیت سے محبت کو اجرِ رسالت قرار دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾
’’آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے اپنی دعوت پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ قرابت والوں سے محبت کرو۔‘‘ (سورۃ الشورى: 23)
اہلِ سنت کے مفسرین نے اس آیت کے متعدد معانی ذکر کیے ہیں۔ ان میں ایک معروف تفسیر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے قرابت داروں، یعنی اہلِ بیت سے محبت کی ترغیب دی گئی ہے۔
(دیکھیے: تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری)
3۔آیتِ مباہلہ: اہلِ بیت کی عظمت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ…﴾
‘’کہہ دیجیے: آؤ! ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں، تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو، تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو، تم اپنے لوگوں کو، پھر مباہلہ کریں…’’
(سورۃ آل عمران: 61)
اس آیت پر عمل کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ مباہلہ کے موقع پر حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ( صحیح مسلم، حدیث: 2404 )
4 ۔ازواجِ مطہرات کو اہلِ بیت ہونے کا شرف
اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ…﴾ پھر فرمایا:
﴿ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا…﴾ (سورۃ الأحزاب: 32–33)
یہ آیات کریمہ روز روشن کی طرح واضح ہیں کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اہلِ بیت میں داخل ہیں، اور یہی جمہور اہلِ سنت کا موقف ہے ۔
5۔ اہلِ بیت سے حسنِ سلوک کی وصیت
حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبۂ غدیر میں فرمایا:
«أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ‘’ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي»
(صحیح مسلم: 2408)
’’اے لوگو! میں آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں، تین بار فرمایا۔‘‘
یہ حدیث اہلِ بیت کے حقوق کی حفاظت اور ان سے محبت کی عظیم تاکید پر دلالت کرتی ہے۔
6۔ حدیثِ کساء
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں:
نبی کریم ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو ایک چادر کے نیچے جمع فرمایا اور دعا کی:
«اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي»
‘’اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔’’
پھر آیتِ تطہیر تلاوت فرمائی۔
(صحیح مسلم، حدیث: 2424)
یہ حدیث ان حضرات کی خصوصی فضیلت اور اہلِ بیت میں ان کے ممتاز مقام کی واضح دلیل ہے
7-سیدہ فاطمہ الزھراء کی عظمت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي»
’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘ (صحیح البخاری: 3714، صحیح مسلم: 2449)
8۔سیدنا علیؓ کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر فرمایا:
«لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ»
‘’میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔’’
پھر آپ ﷺ نے وہ جھنڈا حضرت علیؓ کو عطا فرمایا۔
(صحیح البخاری: 3701، صحیح مسلم: 2406)
حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما
سیدا شبابِ اہلِ الجنۃ سیدنا حسن و حسین بن علی رضی اللہ عنہ وہ عظیم المرتبت صحابی ہیں جن کے وجود میں نبوت کی شفقت، علی المرتضیٰ کی شجاعت اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی جمع ہوگئی تھی۔
سیدنا حسن رسول اللہ ﷺ کے بڑے نواسے، اہلِ بیت کے گلِ حکمت، اور امت کے اتحاد کے لیے اپنی خلافت سے دستبردار ہونے والے عظیم مصلح تھے۔
اپ کی ولادت 15 رمضان، 3 ہجری جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت شعبان 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے خود نام ’حسن و حسین‘ رکھا، آپ کے کان میں اذان دی، ساتویں دن عقیقہ کیا اور آپ کے سر کے بال منڈوا کر ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
( سنن ابی داود2841، سنن ترمذی 1519 حسن )
1۔ جنتی نوجوانوں کے سردار
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
‘’حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔’’
(سنن الترمذی: 3768، حسن صحیح)
2۔رسول اللہ ﷺ کی محبت
آپ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ، وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ»
‘’اے اللہ! میں حسن سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما، اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔’’
(صحیح البخاری: 3749، صحیح مسلم: 2421)
3۔امت میں صلح کرانے کی پیش گوئی
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسنؓ کو منبر پر اپنے ساتھ بٹھایا اور فرمایا:
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔‘‘ (صحیح البخاری: 2704)
سن 41 ہجری میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے خون کو محفوظ رکھنے اور امت کے اتحاد کی خاطر اپنی خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں چھوڑ دی۔ اس سال کو ’’عامُ الجماعۃ‘‘ (اتحاد کا سال) کہا جاتا ہے۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔ (صحیح بخاری 2704)
4- حسنین کریمین سے محبت کے نبوی مظاہر
اہلِ بیتِ اطہار میں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی آنکھوں کا نور، دل کا سرور اور جنتی نوجوانوں کے سردار قرار دیا۔ ان سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تسلسل ہے، اور ان کے ساتھ تعلق ایمان کی خوشبو ہے۔
1۔گود میں اٹھا کر محبت فرمانا
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ حضرت حسن بن علی کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے فرما رہے تھے:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ»
‘’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔’’
(صحیح البخاری: 3749)
یہ منظر اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت سے محبت صرف قول نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا عملی طرزِ عمل ہے۔
2۔سجدے میں نواسوں کی آمد اور نرمی
حضرت عبداللہ بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نماز میں سجدے میں تھے کہ حضرت حسن یا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت مبارک پر چڑھ گئے، صحابہ نے چاہا کہ انہیں ہٹا دیں، لیکن آپ ﷺ نے سجدہ طویل کر دیا، یہاں تک کہ بچہ خود نیچے آ گیا۔
نماز کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ»
’’میرا بیٹا میری پشت پر آ گیا تھا، میں نے ناپسند کیا کہ جلدی کروں۔‘‘
(مسند احمد: 16211، سنن نسائی: 1142 صحیح )
یہ واقعہ نبی ﷺ کی شفقت، رحمت اور بچوں سے محبت کا روشن مظہر ہے۔
3۔منبر پر بٹھا کر اعلانِ محبت
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سرخ لباس میں ملبوس آئے، گرتے کبھی اٹھتے تھے ۔۔ تو آپ ﷺ منبر سے اتر کر ان کو اٹھایا، پھر فرمایا:
«إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ، فَرَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ»
‘’بے شک تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا۔’’
(سنن الترمذی: 3774، صحیح )
یہ محبت جذباتی نہیں بلکہ نبوت کی شفقت سے لبریز تھی۔
4۔ یہ میرے دنیا کے پھول ہیں
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا»
’’یہ دونوں (حسن و حسین) میرے دنیا کے دو خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری: 3753)
یہ تعبیر محبت، لطافت اور مقامِ نبوت کی بہترین تصویر ہے۔
5۔جنتی نوجوانوں کے سردار
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
’’حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘
(سنن الترمذی: 3768 صحیح)
6۔نبی ﷺ کا خصوصی تعلق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن کو بوسہ دیتے تو اقرع بن حابس نے تعجب کیا، آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ»
’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘
(صحیح البخاری: 5997)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حسن و حسین سے محبت رحمتِ نبوی کی علامت ہے۔
7۔رسول اللہ ﷺ کی دعائے محبت
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔‘‘
(سنن الترمذی: 3775، حسن)
سیدنا حسن کی وفات:
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات 50 ہجری (بعض روایات کے مطابق 49 یا 51 ہجری) میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔
( الطبقات الکبریٰ 5/31 سیر أعلام النبلاء 3/245)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی زندگی حلم، بردباری، سخاوت، عبادت، تقویٰ اور امت کی خیرخواہی کا روشن نمونہ ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ بعض اوقات تلوار سے بڑی فتح وہ ہوتی ہے جو حکمت، صبر اور اتحاد کے ذریعے حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ‘’سید’’ (سردار) قرار دیا، اور تاریخ نے آپ کو امت کے اتحاد کے معمار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا۔
واقعہ کربلا
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور سبق آموز سانحہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کے محبوب نواسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے حق و عدل کے موقف پر استقامت اختیار کی اور عظیم قربانی پیش کی۔ اس واقعے کو سمجھنے کے لیے جذبات کے بجائے مستند تاریخی حقائق اور معتبر مصادر کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
10 محرم 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ، ان کے اہلِ بیت اور چند جانثار ساتھیوں نے انتہائی صبر، شجاعت اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا۔
بالآخر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو شہید کر دیا گیا۔ آپ نے آخری لمحے تک حق، صبر، نماز اور دین کی عظمت کا پیغام قائم رکھا۔
صحابہ کرام اور اہل بیت کی آپس میں محبت اور رشتہ داریاں
جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک ایسا باغ نظر آتا ہے جس میں اہلِ بیتِ نبویؐ اور صحابہ کرامؓ کی محبتیں ایک دوسرے سے اس طرح لپٹی ہیں جیسے خوشبو پھول سے جدا نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ حقائق ہیں جو نہ کسی فرقے کی میراث ہیں، نہ کسی مسلک کی جاگیر داری۔ یہ تاریخ کا وہ روشن چہرہ ہے جسے مستند کتبِ حدیث و تاریخ نے محفوظ رکھا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اہلِ بیت سے محبت
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
«ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ»
’’محمد ﷺ کا لحاظ ان کے اہلِ بیت کے بارے میں رکھو۔‘‘(صحیح بخاری: 3713)
ایک اور موقع پر فرمایا:
’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 3712)
یہ الفاظ اس عظیم محبت کا عملی اعلان ہیں جو خلیفۂ اول کے دل میں اہلِ بیت کے لیے تھی۔
حضرت عمر فاروقؓ کی اہلِ بیت سے محبت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’ اللہ کی قسم! آپ کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک میرے والد خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا، کیونکہ اس سے رسول اللہ ﷺ زیادہ خوش ہوئے تھے۔‘‘ ( مسند أحمد 1779)
قحط کے زمانے میں حضرت عمرؓ نے بارش کی دعا کے لیے حضرت عباسؓ کو وسیلۂ دعا بنایا اور فرمایا:
‘’ اے اللہ! ہم اپنے نبی ﷺ کے چچا کے ذریعے تجھ سے دعا کرتے ہیں۔’’
( صحیح البخاری، 1010 )
یہ حضرت عباسؓ کے مقام اور اہلِ بیت سے محبت کا روشن ثبوت ہے۔
حضرت عثمانؓ ذوالنورین کی محبت
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اہلِ بیت کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اپنی خلافت میں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو عزت و اکرام دیتے اور بیت المال سے ان کے حقوق ادا کرتے تھے۔
تاریخی کتب میں مذکور ہے کہ محاصرۂ عثمان کے دوران حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن زبیر اور دیگر جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عثمانؓ کے گھر کی حفاظت کی کوشش کی۔
( البدایة والنہایة: 7/184)
حضرت معاویہؓ کا احترام
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا بے حد احترام کرتے، ان کی خدمت کرتے اور ان کے لیے بہترین عطیات مقرر کرتے تھے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ حضرت حسنؓ کی عظمت کے معترف تھے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے تھے۔ ( سیر أعلام النبلاء 3/258)
اہلِ بیت کا صحابہ سے گہرا تعلق
اولادوں کے نام
یہ وہ آئینہ ہے جس میں دل کی حقیقی محبت نظر آتی ہے۔ انسان اپنے پیاروں کے نام اپنی اولاد کو دیتا ہے۔ اور اہلِ بیتِ نبویؐ نے یہی کیا۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے تین بیٹوں کے نام خلفائے راشدین کی محبت میں رکھے:
ابوبکر بن علیؓ۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی یاد میں
عمر بن علیؓ۔ سیدنا عمر فاروقؓ کی یاد میں
عثمان بن علیؓ۔ سیدنا عثمان غنیؓ کی یاد میں
امام ابن کثیرؒ البدایہ والنہایہ میں رقم طراز ہیں:
’’سیدنا علیؓ نے اپنے تین بیٹوں کے نام خلفائے ثلاثہ کے ناموں پر رکھے۔ یہ ان کی دلی محبت کی واضح دلیل ہے۔‘‘
یہ محبت نسل در نسل چلی۔ سیدنا حسنؓ کے بیٹوں میں بھی ابوبکر، عمر اور طلحہ کے نام رکھے گئے۔
اور سنیے۔ کربلا کے میدان میں ابوبکر بن علیؓ اور عمر بن علیؓ نے اپنے بھائی سیدنا حسینؓ کے ساتھ مل کر جامِ شہادت نوش کیا۔ یعنی صحابہ کے ناموں والے۔ اہلِ بیت کے خون میں رنگے ہوئے۔ کربلا کی زمین پر شہید ہوئے۔ (تاریخ الطبری 5 و البدایہ والنہایہ 8)
سیدنا علیؓ اور سیدنا ابوبکرؓ
سیدنا علیؓ نے ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں نہ صرف خوشی سے بیعت کی بلکہ جب قرآن کریم کی جمع و تدوین کا عظیم کام ہوا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! ابوبکرؓ نے وہ کام کیا جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند تھا۔‘‘ (فضائل القرآن، امام ابن کثیرؒ)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تعلقات باہمی احترام، محبت اور اعتماد پر قائم تھے۔ اس کی ایک روشن مثال یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمد بن ابی بکر کی پرورش و تربیت بھی فرمائی۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صحابۂ کرام اور اہلِ بیت کے درمیان تعلقات محبت، مصاہرت اور حسنِ معاشرت پر مبنی تھے، نہ کہ وہ کشمکش جسے بعد کے ادوار میں بعض لوگوں نے پیش کرنے کی کوشش کی۔ ( الطبقات الكبرى، 8/282؛ الاستیعاب، 4/1786 )
سیدنا علیؓ اور سیدنا عمرؓ
امیر المؤ منین فاروق اعظم جب بھی کسی مشکل مسئلے میں آتے تو سیدنا علیؓ سے رہنمائی لیتے۔
ان کا مشہورِ زمانہ قول ہے:
“لَولا علیٌّ لَھَلَکَ عمر”
’’اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان محبت و اعتماد کا ایک روشن ثبوت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا۔ اس رشتۂ مصاہرت نے واضح کر دیا کہ صحابۂ کرام اور اہلِ بیت کے تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور محبت پر قائم تھے۔
(الطبقات الكبرى: 8/338 ؛ السنن الكبرى : 7/63)
اس نکاح سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں دو اولاد بھی ہوئیں:
زید بن عمر رقیہ بنت عمر
غور فرمائیں! جب نبی ﷺ کی نواسی کسی کے گھر جائے۔ تو وہ گھر کتنا معزز ہوگا؟ اور جو باپ اپنی بیٹی کسی کو دے۔ کیا وہ اس سے محبت کے بغیر ایسا کر سکتا ہے؟
سیدنا علیؓ اور سیدنا عثمانؓ
حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہما دونوں جلیل القدر صحابی اور رسول اللہ ﷺ کے داماد ہونے کے عظیم شرف سے سرفراز تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے شوہر ہیں، جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یکے بعد دیگرے رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما سے نکاح کا اعزاز حاصل ہوا، اسی وجہ سے آپ کو ’ذوالنورین‘کہا جاتا ہے۔
جب سیدنا عثمانؓ کو باغیوں نے گھیر لیا اور مدینہ کی فضا خوف سے بھر گئی۔ تو سیدنا علیؓ نے اپنے نورِ نظر حسنؓ اور حسینؓ کو تلوار تھما کر ان کی حفاظت پر مامور کیا۔
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
‘’علیؓ نے اپنے بیٹوں کو تلوار دے کر عثمانؓ کے دروازے پر کھڑا کیا اور فرمایا: جب تک میں نہ کہوں، دروازہ نہ کھولنا۔‘‘
ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ
’’محاصرہ کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کی حفاظت کے لیے بھیجا، اور وہ ان کا دفاع کر رہے تھے۔‘‘(البدایہ والنہایہ 7/184 )
نبی ﷺ کے نواسے۔ خلیفۂ سوم کے محافظ۔ یہ منظر کیا بتاتا ہے؟ یہ بتاتا ہے کہ اہلِ بیت اور صحابہ ایک ہی خاندان کی شاخیں تھے۔
سیدنا عثمانؓ کو ذوالنورین کا شرف
اللہ نے سیدنا عثمانؓ کو وہ شرف بخشا جو پوری انسانی تاریخ میں کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ نبی ﷺ کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے ان کے نکاح میں آئیں:
پہلے سیدہ رقیہؓ۔ وفات کے بعد
پھر سیدہ ام کلثومؓ۔
‘’ذوالنورین’’۔ دو نوروں والا۔ یہ لقب کسی بادشاہ نے نہیں، خاندانِ نبوت کے دو چراغوں نے عطا کیا۔
سیدہ عائشہؓ بنتِ ابوبکرؓ
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی لختِ جگر سیدہ عائشہ صدیقہؓ۔ جنہیں نبی ﷺ نے ’حمیراء‘ کے پیارے نام سے پکارا۔ ام المؤمنین بنیں۔
جس باپ کی بیٹی نبی ﷺ کی سب سے محبوب زوجہ ہو، جس کے حجرے میں نبی ﷺ نے وفات پائی۔ کیا وہ باپ نبی ﷺ کا دشمن ہو سکتا ہے؟
سیدہ حفصہؓ بنتِ عمرؓ
سیدنا عمر فاروقؓ کی صاحبزادی سیدہ حفصہؓ ۔ جن کے بارے میں حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو بشارت دی:
«فإنها صوَّامةٌ قوَّامةٌ وإنها زوجتُك في الجنَّةِ»
’’حفصہ بہت روزے رکھنے والی اور راتوں کو قیام کرنے والی ہیں اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہوں گی۔‘‘ (السلسلة الصحيحة :5/17)
سیدہ حفصہؓ کا وہ عظیم کارنامہ جو قیامت تک امت کے لیے روشنی ہے:
سیدنا ابوبکرؓ کے حکم پر جمع کیا گیا قرآن کریم کا پہلا مکمل نسخہ انہی کی تحویل میں دیا گیا
سیدنا عثمانؓ نے جب قرآن کی سرکاری نقلیں تیار کرائیں تو سیدہ حفصہؓ کے نسخے کو اصل قرار دیا
آج ہم جو قرآن پڑھتے ہیں۔ وہ عمرؓ کی بیٹی کے نسخے سے ماخوذ ہے۔ یہ اللہ کا وہ انتخاب تھا جو بتاتا ہے کہ عمرؓ کا گھرانہ کتنا بابرکت تھا۔
چاروں خلفائے راشدین نبی ﷺ کے سگے رشتہ دار تھے۔ ابوبکرؓ اور عمرؓ سسر تھے، عثمانؓ اور علیؓ داماد تھے۔ یعنی یہ چاروں ایک ہی خاندان کی طرح باہم جڑے ہوئے تھے۔
امام زین العابدینؒ کا قول
سیدنا حسینؓ کے فرزند، سجدوں کے امام۔ حضرت علی بن حسین زین العابدینؒ۔ سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک ابوبکرؓ اور عمرؓ کا کیا مقام ہے؟
انہوں نے فرمایا:
’’وہ دونوں میرے نانا (نبی ﷺ) کے وزیر اور ان کے معتمد تھے۔ اللہ ان پر رحمت فرمائے۔‘‘
(تاریخ دمشق، امام ابن عساکرؒ )
نبی کریم ﷺ کے پڑنواسے کی زبان سے یہ الفاظ۔ کیا اس سے بڑی کوئی دلیل ہو سکتی ہے؟
امام جعفر صادقؒ کا فرمان
اہلِ بیت کے جلیل القدر امام۔ حضرت جعفر بن محمد الصادقؒ ۔جنہیں شیعہ اور سنی دونوں بھرپور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:
’’جو شخص ابوبکرؓ اور عمرؓ سے بغض رکھے، میں اس سے بری ہوں۔‘‘ (تاریخ دمشق ، سیر اعلام النبلاء )
یہ وہ فرمان ہے جو امتِ مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ خواہ وہ کسی بھی مکتبِ فکر سے ہو۔
صلحِ امام حسنؓ
نبی ﷺ نے پہلے ہی فرما دیا تھا:
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ المُسْلِمِينَ»
’’یہ میرا بیٹا سردار ہے، شاید اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے۔‘‘
(صحیح بخاری: 2704)
41 ہجری میں سیدنا حسنؓ نے وہ کیا جو نبی ﷺ نے بشارت دے دی تھی۔اقتدار چھوڑا، امت بچائی، خانہ جنگی کا دروازہ بند کیا۔
یہ صحابہ سے دشمنی نہیں۔ امت سے محبت تھی۔ یہ وہ عظمت ہے جو تاج و تخت سے نہیں، دلِ بزرگ سے ملتی ہے۔
اہلِ بیت نے صحابہ کو دل میں بسایا،صحابہ نے اہلِ بیت کو آنکھوں پر بٹھایا، اور دونوں نے مل کر اسلام کی عمارت کو تھاما۔
یہ وہ خاندانِ نبوت تھا جس کی شاخیں ایک دوسرے میں پیوست تھیں۔ ان کے گھروں میں ایک دوسرے کی اولاد تھی، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت تھی، اور ان کی تاریخ میں ایک دوسرے کا گہرا احترام تھا۔
جو آج ان کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکائے ۔ وہ جانے یا انجانے میں دشمنانِ اسلام کا کام کر رہا ہے۔
سلف کا اعتدال:
محبت بھی۔ غلو سے بچنا بھی! ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ‘’جو شخص اہلِ بیت سے بھی محبت رکھے اور صحابہ کا بھی احترام کرے وہی حقیقی اہلِ سنت ہے۔’’
اہلِ بیتِ اطہار کی محبت کے تقاضے
اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان کا تقاضا، سنتِ نبوی کا حکم، اور اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا روشن باب ہے۔ یہ محبت اسی وقت معتبر اور مقبول ہے جب وہ قرآن و سنت کے مطابق، اعتدال کے ساتھ، غلو اور جفا دونوں سے پاک ہو۔
اہلِ بیت سے سچی محبت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾
’’آپ کہہ دیجیے! میں تم سے اس دعوت پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، سوائے قرابت والوں سے محبت کے۔‘‘(سورۃ الشورى: 23)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» (تین مرتبہ)
’’میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا (اور ان کے حقوق یاد دلاتا) ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم: 2408)
یہ محبت محض زبان سے نہیں بلکہ دل، عمل اور احترام سے ظاہر ہونی چاہیے۔
ان کے حقوق اور مقام کا اعتراف
اہلِ بیت کو وہی مقام دیا جائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا ہے، نہ ان کی شان میں کمی کی جائے اور نہ غلو کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾(سورۃ الأحزاب: 33)
ان کی سیرت کو اپنانا
اہلِ بیت کی محبت کا مطلب صرف ذکرِ فضائل نہیں بلکہ ان کے اخلاق، عبادت، صبر، تقویٰ، حلم، سخاوت اور حق پر استقامت کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔
حضرت علیؓ عدل و شجاعت کے پیکر تھے۔
حضرت فاطمہؓ حیا، عبادت اور قناعت کی مثال تھیں۔
حضرت حسنؓ نے امت کے اتحاد کے لیے اپنی خلافت چھوڑ دی۔حضرت حسینؓ نے حق پر استقامت اور صبر کی بے مثال مثال قائم کی۔
صحابۂ کرام سے بھی محبت
اہلِ بیت کی محبت کبھی صحابۂ کرام کی دشمنی نہیں سکھاتی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا﴾ (سورۃ الحشر: 10)
حضرت علی رضی اللہ عنہ خود حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کا احترام کرتے تھے، اور اہلِ بیت کے ائمہ نے بھی صحابہ کے احترام کی تعلیم دی۔
ان کے بارے میں غلو سے اجتناب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ»(صحیح البخاری: 3445)
’’میری اس طرح حد سے بڑھ کر تعریف نہ کرو جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم کی کی۔‘‘
جب نبی ﷺ کے بارے میں غلو منع ہے تو اہلِ بیت کے بارے میں بھی غلو درست نہیں۔
اہلِ بیت کی محبت ایمان کی زینت ہے، لیکن یہ محبت اسی وقت کامل ہوتی ہے جب وہ اتباعِ سنت، احترامِ صحابہ، محبتِ اہلِ بیت، عدل، اعتدال اور تقویٰ کے ساتھ ہو۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امت اپنی وحدت، عزت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتی ہے۔
اللهم إنا نسألك حبَّ نبيك ﷺ، وحبَّ أهل بيته الأطهار، وحبَّ أصحابه الأخيار، واجمعنا بهم في الفردوس الأعلى. آمين۔
ہیں بہت سے شمر تو آج بھی پہ
حسین ابن علی نہیں !
مرے ذو الجلال ، مرے خدا مرے دادرس ، مرے کبریا
تجھے اپنی شان کا واسطہ کہ تو بخش دے مری ہر خطا
ترے شوق ہی میں جو مر مٹا ، تری راہ میں جو فنا ہوا
ده شہید راہ ِوفا بنا ، اسے مل گئی ابدی بقا
کوئی ہوش کھو گیا طور پر ، کوئی وار ہی پہ جو چڑھ گیا
تری ہر ادا ہے وہ دل رُبا ، تری ہر جھلک ہے وہ دل کشا
مرے آشیاں کا تو ذکر کیا کہ چمن ہی سارا اجڑ گیا
وہ کبھی کی نذر خزاں ہوئی مجھے جس بہار پہ ناز تھا
نہ کوئی سنے مری داستاں ، نہ کوئی پڑھے مرا ماجرا
مری داستاں ہے الم فزا، مرا ماجرا سو وہ دکھ بھرا
شب و روز تو مجھے یاد آ ، ترا ذکر ہو مرا مشغلہ
نہیں اور کوئی ترے سوا مرا آسرا مرا مدما
یہ عجیب رنگ نصیب ہے کہ قدم قدم پہ صلیب ہے
اسے ابتلا ہی ہے ابتلا جو خدا کی راہ پہ چل پڑا
تری بارگاہ جلال میں ، تری جلوہ گاہ جمال میں
جو نہ محوِ سجدۂ شوق ہو ، وہ بھلا جبین نیاز کیا
میں ہوں تیرا بندۂ ناتواں، نہ تو مرا محافظ و مہرباں
مجھے پھر ملے گی اماں کہاں ، ترے در سے میں اگر اُٹھ گیا
ہیں بہت سے شمر تو آج بھی پہ حسین ابن علیؓ نہیں
وہی اب بھی رنگ فرات ہے، وہی اب بھی وادئ کربلا
ہو مری نگاہ میں تو ہی تو ، ہو سدا مجھے تری جستجو
ہے یہی فقط مری آرزو ، ہے یہی فقط مری التجا
تو ابو البیاں کو نواز دے ، اسے درد دسوز و گداز دے
تو غنی ہے اور وہ فقیر ہے، تو ہے بے نیاز، وہ بے نوا
حضرت ابو البیان حماد العمری رحمہ اللہ
٭٭٭
ندامت توبہ ہے؟
کہا: ہاں۔جب تُو اپنے آپ سے بیٹھ کر یہ کہتا ہے:
’’میں اپنے رب کا سامنا کیسے کروں گا؟ میں اُسے کیا کہوں گا ان کاموں کے بارے میں جو میں نے کیے؟ ہائے افسوس! کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا!‘‘
تو تیرے دل میں جو یہ جلن اور تڑپ ہے ۔ یہی توبہ ہے!
سلف میں سے کسی نے گناہوں میں حد سے تجاوز کیا،
پھر ایک دن کھڑا ہو کر کہا:’’اے اللہ! کیا تیری رحمت کے خزانے ختم ہو گئے ہیں کہ میرے جیسے کو معاف کرنا آپ پر بھاری ہو گیا ہے؟ اے اللہ! مجھے بخش دے!‘‘ پھر وہ سو گیا اور نیند میں کسی نے اس سے کہا:’’اللہ نے تجھے بخش دیا۔‘‘
٭٭٭
تبصرہ کریں