شرک تعارف،تاریخ،اسباب وقباحت۔ حافظ صہیب ثاقب

شرک کی تعریف

اللہ تعالیٰ کی ربوبیت،الوہیت یا عبادت اور اسماء وصفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا شرک کہلاتاہے۔

شرک ربوبیت

اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال میں یکتا نہ ماننا یعنی اللہ کے سوا کسی اور کو بھی حاجت روا یا مشکل کشاماننا۔(مثلاً: اولاد ینا، رزق دینا، شفاء دینا وغیرہ)

شرک الوہیت

جملہ عبادات میں اللہ تعالیٰ کو اکیلا نہ ماننا، یعنی کسی اور کو بھی اللہ کی عبادت میں اس کا شریک ٹھہرانا۔(مثلاً: دعاء، ذبح، نذردینا وغیرہ)

شرک اسماء وصفات

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کسی کو شریک کرنا۔(مثلاً: الرزاق،الرحیم، الوہاب وغیرہ)

شرک کے بعض خاص خاص اسباب

1۔رحمت الٰہی سے ناامیدی

شیطان کا انسان کے دل میں یہ عقیدہ بٹھادینا کہ تم گنہگار ہو۔ براہِ راست اللہ کو نہیں پکار سکتے۔ لہذا اولیاء وصالحین کو بطور وسیلہ ،دعا میں استعمال کرو جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾

’’(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔ بالیقین اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتاہے، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والاہے۔‘‘(سورۃ الزمر:53)

2۔شفاعت ووسیلے کے عقیدے کے تعلق سے گمراہی

انبیاء وصالحین اس دنیا میں شفاعت نہیں کرسکتے اور قیامت کے دن وہ صرف موحدوں کی سفارش بھی اللہ کی اجازت سے ہی کرسکیں گے جیسا کہ قرآن شریف میں آیت الکرسی میں یوں بیان ہواہے:

﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾ (سورۃ البقرۃ:255)

’’ کون ہے جو اس (اللہ) کی اجازت کے بغیر اس(اللہ) کے سامنے شفاعت کرسکے۔‘‘

3۔غلو

انبیاء وصالحین کی شان بڑھاچڑھا کر بیان کرنا، رسول اکرم ﷺ نے اپنے مرتبہ کے بارے میں فرمایا:مجھے میرے مرتبہ میں بڑھا چڑھا کر غلو نہ کرنا، جیسا کہ نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم کے ساتھ کیا میں تو بس ایک بندہ ہی ہو۔پس مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ﷺ ہی کہنا۔(صحیح بخاری:3445)

4۔تعصب اور آباء واجداد پرستی

اس کے بارےمیں اللہ تعالیٰ قرآن میں اس طرح فرماتا ہے :

﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾

’’اور ان سے جب کہاجاتاہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتےہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کوپایا، گو ان کے باپ دادے بے عقل اور گمراہ ہوں۔‘‘(سورۃ البقرہ:170)

شرک کی قباحت کے بارے میں چندآیات قرآنی:

﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ (سورۃ لقمان:13)

’’بیشک شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے۔‘‘

(2) ﴿وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

’’اور اگر وہ لوگ(انبیاء کرام بھی بالفرض والمحال) شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے۔‘‘ (سورۃ الانعام:88)

(3) ﴿ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (سورۃ الزمر:65)

’’اے پیغمبر(ﷺ )!اگر (بالفرض) آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘

حالانکہ پیغمبروں سے شرک کاصدور ممکن نہیں۔ مقصد اُمت کو شرک کی خطرناکی اور ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے۔)

شرک کی برائی کے بارے میں چنداحادیث مبارکہ

1۔نبی ﷺ نےفرمایا:

’’جو شرک کی حالت میں اللہ کے سامنے آیا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘(صحیح مسلم:270)

2۔نبی ﷺ نے فرمایا:

’’جسے اس حالت میں موت آگئی کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کوپکارتاتھا تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔

(صحیح بخاری:1238صحیح مسلم:268)

شرک کی تاریخ اور اس کی حقیقت

(1)قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے:

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ (سورۃ نوح:23)

’’اور قوم نوح نے کہا کہ ہر گز بھی اپنے معبودات کو نہ چھوڑنا،نہ وَد کو، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو، اور نہ نسر کو۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:

یہ پانچ افراد قومِ نوح کے اولیاء وصالحین تھے جن کی وفات پر شیطان نے ان کی قوم کو گمراہ کرتے ہوئے کہا ان کی یادگار کیلئے تصاویر بنالو۔ پھر جب وہ نسل گزر گئی اور علم جاتا رہا تو شیطان نے لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ تمہارے باپ دادا ان قبروں اور تصاویر کی عبادت کیا کرتے تھے چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔(صحیح بخاری، تفسیر سورۃ نوح ،الرقم:4920)

کیا مسلمان شرک کرسکتاہے؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ﴾

’’ ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے باوجود مشرک ہی رہتے ہیں۔‘‘(سورۃ یوسف:106)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’دن رات ختم نہیں ہونگے (یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی) جب تک(عرب میں) لات اور عزیٰ پھر نہ پوجے جائیں۔‘‘(صحیح مسلم:2908)

اس سے پتاچلا کہ مسلمان بھی مشرک ہوسکتاہے۔

شرک اکبر کی بعض اہم صورتیں:

1۔غیراللہ سے دعاکرنا

اللہ کو کسی مخلوق کے وسیلے وواسطے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے براہِ راست پکارنا اور دعاکرنی چاہئے ،قرآن میں ہے:

﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ﴾ (سورة البقرہ:186)

’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں توآپ(ﷺ )کہہ دیں کہ میں بہت قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتاہوں۔‘‘

2۔غیراللہ کیلئے رکوع وسجودکرنا

رکوع وسجدہ اللہ ہی کو کرنا چاہئے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ﴾ (سورة النجم:62)

’’پس تم اللہ کےسامنے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو۔‘‘

3۔غیراللہ کیلئے تعظیمی قیام

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لئے باادب کھڑے رہیں تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘ (ترمذی:2755)

4۔غیراللہ کے لئے نذرونیاز

آج کل غیراللہ کےنام کی نذر ونیاز بہت ہورہی ہے جیسا کہ محرم میں سیدنا حسین کےنام کی حلیم بنائی جاتی ہے ،رجب میں سیدنا جعفرصادق﷫ کے نام پر کونڈوں کی نیاز کی جاتی ہے وغیر وغیرہ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ﴾ (سورة الحج:29)

’’اور(اللہ تعالیٰ کیلئے) اپنی نذریں پوری کریں۔‘‘

5۔غیراللہ کیلئے اعتکاف

اعتکاف صرف مساجد میں اللہ کیلئے ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ (سورۃ البقرہ:125)

’’ہم نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل سے وعدہ لیاکہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے پاک صاف رکھو۔‘‘

(6)غیراللہ کیلئے قربانی

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ‎﴾ (سورۃ الکوثر:2)

’’پس تو اپنے رب کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

’’اللہ کی لعنت ہو اس پر جو غیر اللہ کیلئے ذبح کرے۔‘‘ (صحیح مسلم:1979)

7۔غیراللہ سے مدد طلب کرنا

آ ج کل زیادہ تر لوگ اگر کسی مشکل میں آجائیں تو ایک دم کہہ دیتے ہیں:یارسول اللہ ﷺ مدد‘‘ یا ’’یا علی مدد‘‘ جبکہ ہم سب نماز میں اللہ سے یہ وعدہ کرتےہیں:

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴾ (سورۃ الفاتحہ:4)

’’اور ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔‘‘ (جامع ترمذی:2156)

8۔غیراللہ کی پناہ طلب کرنا:

پناہ صرف اللہ کی مانگنی چاہئے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴾ (سورۃ الناس:1)

’’(اے محمدﷺ )کہو میں پناہ طلب کرتاہوں لوگوں کے رب کی۔‘‘

9۔غیراللہ کاخوف

شیطان اس وسوسے میں ڈالتا ہے کہ کفار بڑے طاقتور ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :

﴿فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾

’’اور تم ان (کافروں) سے خوف نہ کھاؤبلکہ صرف میرا ہی خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔‘‘(سورۃ آل عمران:175)

10۔غیراللہ سے امید

جن اولیاء وصالحین یا قبروالوں سے مدد کی امید رکھی جاتی ہے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا ﴾ (سورۃ بنی اسرائیل:57)

’’جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتےہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوجائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزدہ ہیں۔‘‘

11۔غیراللہ پر توکل

جیسا کہ آج کل گاڑیوں میں کپڑے کی کالی پٹی پراندے وغیرہ حادثات سے بچنے کیلئے لگائے جاتےہیں جبکہ توکل صرف اللہ پر ہی ہوناچاہئے ،اللہ تعالیٰ کافرمان:

﴿ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾

’’اور اللہ ہی پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔‘‘ (سورۃ المائدہ:23)

12۔غیراللہ سے فریادکرنا:

فریاد صرف اللہ سے کرنی چاہئے جیسا کہ جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ نے گڑگڑا کر اللہ سے فتح کیلئے فریاد کی تو اللہ نے فرمایا:

﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ﴾ (سورۃ الانفال:9)

’’جب تم اپنے رب سے فریادیں کررہے تھے تو اس نے تمہاری سن لی۔‘‘

13۔مخصوص مقامات کو متبرک سمجھنا

حدیث میں ہے کہ

’’بعض نومسلم صحابہ نےنبی اکرم ﷺ سے بطور تبرک ایک بیری کادرخت مقرر کرنے کو کہا کیونکہ وہاں کے لوگ (جہاں سے صحابہ گزر کرحدیبیہ جارہے تھے) بھی بطورِ تبرک اپنے ہتھیار ایک بیری کے درخت پر لٹکاتے تھے توآپﷺ نے اس مطالبے کو شرک قرار دیا۔‘‘(جامع ترمذی:2180)

٭٭٭

تبصرہ کریں