عمدۃ الأحکام؛ اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط41) فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر : 88

حدثنا ايوب عن أبي قلابة – عبد اللَّه بن زيد – الجرمي البصري قال : «جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، فَقَالَ : إنِّي لأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلاةَ، أُصَلِّي كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي، فَقُلْتُ لأَبِي قِلابَةَ : كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَ : مِثْلَ صَلاةِ شَيْخِنَا هَذَا، وَكَانَ يَجْلِسُ إذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَبْلَ أَنْ يَنْهَضَ في الركعة الأولى ».

أراد بشيخِهم : أَبا بُرَيد، عمرو بنَ سَلِمَة الجرمي ــ ويقال : أبو يزيد.

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب من صلى بالناس وهو لا يريد إلا أن يعلمهم صلاة النبي ﷺ وسنته، برقم 677، ورقم 802، ورقم 818، ورقم 824، ومسلم، بنحوه، كتاب الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين مع تكبيرة الإحرام والركوع… برقم 391.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ایوب سختیانی ﷫ نے حدیث بیان کی کہ سیدنا ابوقلابہ عبداللہ بن یزید جرمی بصری﷫ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس صحابی رسول سیدنا مالک بن حویرث ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا حالانکہ میرا ارادہ نماز پڑھنے کا نہ تھا ، میں نماز پڑھاؤں گا ( تعلیم کے لیے ) جیسا میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، سیدنا ایوب سختیانی ﷫ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قلابہ ﷫سے پوچھا کہ انہوں نے (یعنی سیدنا مالک بن حویرث نے) کس طرح نماز پڑھائی، فرمایا:

’’ہمارے اس شیخ ( یعنی اس مسجد کے امام ابو یزید عمرو بن سلمہ جرمی ) کی نماز کی طرح اور جب وہ سجدے سے سر اٹھاتے تھے ( یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد ) تو قیام کے لیے اٹھنے سے پہلے بیٹھتے تھے۔ ( یعنی جلسہ استراحت کرتے تھے ) ۔ ‘‘ (بخاری و مسلم)

اس شیخ سے مراد ابویزید عمرو بن سلمہ جرمی ہیں۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : جَاءَنَا : وہ آیا ہمارے پاس ۔

2 : فِیْ مَسْجِدِنَا : ہماری مسجد میں ۔

3 : إنِّیْ لاصَلِّیْ بِكُمْ: میں تمہیں ضرور نماز پڑھاؤں گا ۔

4 : كَيْفَ كَانَ يُصَلِّی: کس طرح وہ ( نبی کریم ﷺ ) نماز پڑھتے تھے ۔

5 : اَنْ يَنْهَضَ : اٹھنا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ صحابہ کرام تابعین کو عملاً نماز پڑھ کر نماز سکھاتے تھے ۔

2۔نماز کی ادائیگی کا طریقہ درست یعنی سنت رسول کے مطابق ہونا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اس کو سیکھنے سکھانے کا بہت اہتمام کرتے تھے حتی کہ نماز کی چھوٹی چھوٹی جزئیات کا بھی۔

3۔ صحابہ کرام اور تابعین کے ہاں نماز انتہائی اہم عمل تھا اور اس کی ادائیگی میں سنت رسول کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔

4۔جتنی نماز بہتر ہوگی اتنے ہی باقی اعمال بہتر ہوں گے ۔ جس کی نماز درست یعنی سنت رسول کے مطابق نہیں اس کے باقی اعمال کبھی سنت کے مطابق نہیں ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے امت رسول اس وقت خیر سے محروم ہے کیونکہ نماز سنت رسول کے مطابق نہیں ہے۔

5۔جلسہ استراحت یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد کھڑا ہونے سے پہلے تھوڑی دیر بیٹھنا سنت رسول ہے، صحابہ اور تابعین اس کا اہتمام کرتے تھے۔

6۔تعلیم کا ایک طریقہ عمل ہے ، نماز میں علم اور عمل دونوں ہیں اور دونوں سیکھنے ضروری ہیں ۔ عموما ہم نماز کا ( علم ) سبق تو سیکھتے سکھاتے ہیں مگر اس کی عملی صورت نہیں سیکھتے سکھاتے ہیں ۔ اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اس کو عملی طور پر نہ سیکھنے کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نماز میں کھڑا ہونے کی کیفیت ، رکوع وسجود کرنے کا طریقہ اور تشہد بیٹھنے کا طریقہ خلاف سنت ہوتا ہے۔ جس طرح دنیاوی کاموں کے لیے تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل بھی ضروری ہوتا ہے بالکل اسی طرح دین میں بھی ہے ۔ جیسے ڈرائیور بننے کے لیے اس کا علم اور عمل دونوں سیکھنے پڑتے ہیں اسی طرح صحیح نمازی بننے کے لیے نماز کا علم اور اس کا عمل سنت کے مطابق سیکھنا ضروری ہے۔

7۔سیدنا مالک بن حویرث نبی کریم ﷺ کی زندگی کے آخری حصے میں مسلمان ہوئے اور انہوں نماز میں رفع الیدین کی احادیث کو بیان کیا جس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس عظیم سنت کو منسوخ کہتے ہیں۔

8۔سیدنا مالک بن حویرث ایک نوجوانوں کے گروہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور نبی کریم ﷺ کے پاس 20 دن ٹھہرے اور آپ سے دین سیکھا جب یہ گروہ واپس بصرہ کو جانے لگا تو آپ نے نماز کے حوالے سے خصوصی حکم دیا کہ واپس اپنے اہل عیال میں جاؤ اور صلوا کما رائتمونی اصلی(صحیح بخاری) ’’تم نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جوان اور بوڑھے کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے اور نبی کریم ﷺ کی آخری عمر کے حصے میں پڑھی گئی نماز کا طریقہ بچوں ، جوانوں، بوڑھوں ، مردوں اور عورتوں سب کے لیے ہے۔ اِلَّا یہ کہ آپ نے خود کسی عمل کے طریقہ کو اپنے لیے خاص کیا ہو اور امت کو اس کی اطلاع دی ہو۔

حدیث نمبر : 89

عَنْ عبد اللَّه بن مالك ــ ابن بُحينة رضي الله عَنْه : «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إبْطَيْهِ».

[رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب يبدي ضبعيه، ويجافي في السجود، برقم 390، بلفظه، ومسلم، كتاب الصلاة، باب الاعتدال في السجود، ووضع الكفين على الأرض، ورفع المرفقين عن الجنبين، ورفع البطن عن الفخذين في السجود، برقم 495]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مالک ابن بحینہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو اتنا کشادہ کر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اِذَا صَلّٰى : جب نماز پڑھتے ۔

2 : فَرَّجَ : کشادہ کرتے کھولتے، پھیلاتے ۔

3 : بَيْنَ يَدَيْهِ : اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔

4 : حَتّٰى يَبْدُوَ : یہاں تک کہ ظاہر ہوتی ۔

5 : بَيَاضُ : سفیدی ۔

6: اِبْطَيْهِ: آپکی بغلوں کی۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی نماز کو بغور دیکھتے اور جیسے دیکھا امت کی خیر خواہی کے لیے اس کو ویسے ہی بیان کردیا حتی کہ سجدہ کرتے وقت ہاتھ رکھنے کی کیفیت اور بغلوں کی سفیدی تک بیان کردیا اس سے صحابہ کرام کے دیکھنے کے اہتمام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

2۔سجدے کی حالت میں بازوؤں کو نہ تو پیٹ کےساتھ ملانا چاہیے اور نہ زمین پر بچھانا چاہیے بلکہ ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو اس طرح رکھنا چاہیےکہ کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں اور جسم کے کسی حصے سے ملی ہوئی نہ ہوں ۔

3۔نماز پوری توجہ سے ادا کی جائے ایسی توجہ جس میں سستی نہ اور سجدہ باقی ارکان کی طرح پورے اعتدال و اطمینان سے کیا جائے ۔

4۔سجدہ نماز کا اہم رکن ہے جس کا سنت کے مطابق اہتمام کرنا ضروری ہے۔

5۔ابن بحینہ سیدنا عبداللہ بن مالک کا لقب ہے۔

٭٭٭

کیا ماہِ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟

شہادت ِحسین اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جس کی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونماہوئے ہیں جن میں سے اگرچہ چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور خدا کا شکر بجا لانا چاہئے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا موسیٰ کی اقتدا میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن سیدنا موسیٰ کو فرعون سے نجات دی تھی۔ نیز اگر اتفاق سے شہادت ِ حسین کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہوگیا تو بعض دیگر جلیل القدر صحابہ کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے۔ مثلا سطوت ِاسلام کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت ِنماز میں ابولو ٴ لو ٴ فیروزنامی ایک مجوسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے، اس لئے شہادتِ حسین کا دن منانے والوں کو ان کا بھی دن منانا چاہئے… لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو سال کا کوئی ہی ایسا دن باقی رہ جائے جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا حادثہ رونما نہ ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوار ایام منانے اور ان کے انتظام میں لگے رہیں گے۔ہمارے نبی ﷺ، اہل بیت، صحابہ اور سلف صالحین پر ایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ کیا شہادتِ حمزہ ، شہادتِ عمر، شہادتِ عثمان ذوالنورین ، شہادتِ علی اور شہادت عبداللہ بن زبیر کے لرزہ خیز واقعات سننے کی تاب کسی کو ہے؟ تو بتائیے کس کس کا دن منایا جائے ؟

تبصرہ کریں