
بیوہ کی عدت کا حکم
سوال: میرے والدین سال کا نصف حصہ میرے پاس اور باقی نصف حصہ اپنے گھر میں گذارا کرتے تھے۔ پچھلے پانچ چھ ماہ سے وہ یعنی میرے والد اپنی علالت کی بنا پر میرے گھر ہی میں تشریف فرما تھے، یہیں سے انہیں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا انتقال ہوا۔ انتقال سے قبل ان کی خواہش تھی کہ بشرط صحت وہ اس گھر میں میرے ہی ساتھ رہیں گے جو اس مقصد کے لیے مرمت کیا جا رہا تھا۔ ان کی وفات کے بعد میرے بھائی جو بیرون ملک رہائش رکھتے تھے، واپس تشریف لے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میری والدہ کو عدت کے ایام ان کے آبائی گھر ہی میں گذارنا چاہیں اور وہ اس دوران والدہ کے ساتھ رہائش کے لیے تیار ہیں، کیا وہ میرے پاس عدت گذار سکتی ہیں؟
جواب: ایک بیوہ عدت کہاں گزارے، سلف میں اس بارے میں دو آراء منقول ہیں:
پہلی رائے: سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ﴾
’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور 10 دن انتظار کریں۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 234)
اور یہ تو نہیں کہا کہ اپنے گھروں میں عدت گذار یں؟ اس لیے ان کی مرضی ہے جہاں چاہیں عدت گزاریں۔
یہ رائے رکھنے والے صحابہ میں سیدنا علی، سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور تابعین میں سے امام حسن بصری، امام عطاء اور امام طاوؤس شامل ہیں۔
دوسری رائے:
اس رائے کی بنیاد سیدہ زینب بنت کعب بن عجرہ کی روایت ہے جسے امام مالک نے مؤطا میں اور امام ابو داؤد نے ’السنن‘ میں روایت کیا ہے۔
وہ روایت کرتی ہیں کہ مجھے سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان (جو کہ سیدنا ابو سعید الخدری کی ہمشیرہ ہیں) نے بتایا کہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور ان سے اجازت چاہی کہ وہ (عدت کے لیے) بنی خدرہ میں اپنے آبائی گھر جا سکتی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر اپنے چند بھگوڑے غلاموں کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے، یہاں تک کہ انہیں قدوم (مدینہ سے قریب ایک بستی) میں جا لیا۔ لیکن غلاموں نے انہیں قتل کر ڈالا اور اس لیے انہوں نے اللہ کے رسولﷺ سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جائیں اور اس لیے بھی کہ ان کے شوہر نے ان کے لیے اپنا کوئی ملکیتی گھر یا نان ونفقہ نہیں چھوڑا۔ (امام حاکم نے المستدرک میں یہاں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:
شوہر کی وفات کی خبر مجھے اپنے خاندان کے گھروں میں سے ایک دور افتادہ گھر میں ملی اور حال یہ تھا کہ انہوں نے میرےلیے کوئی مال یا نان ونفقہ نہیں چھوڑا تھا، یہاں تک کہ وہ گھر بھی میرا نہ تھا، اس لیے اگر میں اپنے بھائی اور اپنے خاندان کی طرف چلی جاؤں تو یہ میرے لیے زیادہ آرام دہ ہو گا) یہ سن کر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں (یعنی جا سکتی ہو) لیکن ابھی میں مسجد کے صحن یا مسجد ہی میں تھی کہ انہوں نے مجھے آواز دی اور واپس بلایا اور کہا:
’’تم نے کیا کہا؟‘‘ تو میں نے وہ سارا قصہ سنایا جو پہلے عرض کر چکی تھی، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے گھر میں رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، تو پھر میں نے وہیں 4 ماہ اور 10 دن گزارے۔‘‘
(امام حاکم کے الفاظ یہ ہیں:اسی گھر میں رہو جہاں تمہیں اپنے شوہر کی وفات کی خبر ملی تھی تو میں نے وہاں 4 ماہ 10 دن گزارے۔)
سیدہ فُریعہ کہتی ہیں، سیدنا عثمان بن عفان نے اپنے دور ِ خلافت میں مجھےبلایا اور اس مسئلہ پر بات کی تو میں نے اپنا سارا قصہ سنایا۔
سیدنا عثمان نے اس رائے کوقبول کیا اور اسی کے مطابق فیصلے کیے اور یہ رائے صحابہ، تابعین اور دیگر ائمہ کی اکثریت نے اپنائی ہے۔
اس حدیث سے یہ چند باتیں بالکل عیاں ہیں:
1۔ جب سیدہ فُریعہ نے کہا کہ میرا شوہر میرے لیے کوئی گھر چھوڑ کر نہیں گیا، تو معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ نے یہ نہیں پوچھا کہ آیا وہ کسی گھر کی ملکیت رکھتی ہیں یا نہیں؟
2۔ نبی کریمﷺ نے پہلے تو اسے اپنے قبیلے یا اپنے خاندان کے پاس جانے کی اجازت دی لیکن پھر فوراً ہی اسے دوبارہ بلا کر کہا کہ وہ عدت وہاں گزارے جہاں اسے اپنے شوہر کی وفات کی خبر ملی تھی۔
اس حکم میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک عورت کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد بے یارومددگار نہ چھوڑا جائے اور اسے شوہر کے گھر میں رہنے کی آزادی حاصل ہو، یعنی وراثت کے علاوہ یہ ایک اور وہ حق ہے جو اسے شوہر کی پراپرٹی میں حاصل ہے۔
اب سائل کے سوال کی طرف آئیے ۔ صورتحال یوں بنتی نظر آتی ہے کہ
1۔ گو والد کا اپنا گھر تھا لیکن وہ اپنی بیماری اور تیمارداری کی سہولت کی غرض سے اپنے بیٹے کے پاس طویل عرصہ سے اپنی بیوی کے ساتھ مقیم تھا۔
2۔ بیٹے کے گھر ہی سے اسے ہسپتال لے جایا گیا۔
3۔ وہ خواہش رکھتا تھا کہ جب صحت کے ساتھ واپسی ہو تو وہ اس گھر میں بیٹے کے ساتھ رہائش اختیار کرے گا جو اس مقصد کے لیے مرمت کیا جا رہا تھا۔
4۔ اس کی وفات کے وقت اس کی بیوی بیٹے ہی کے گھر میں رہائش پذیر تھی، سیدہ فُریعہ کی حدیث کے مطابق مذکورہ خاتون کو بھی اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ شوہر کی وفات کے وقت جس گھر میں مقیم تھی، وہیں عدت گذارے اور اس لیے کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ گھر لازمی طور پر شوہر کی ملکیت میں ہو اور اس لیے بھی کہ خود شوہر کی یہ خواہش تھی کہ وہ بشرط صحت اپنے بیٹے کے ساتھ اس گھر میں رہائش پذیر ہو گا جو بیٹا ان کے لیے تیار کر رہا تھا۔
اور سیدنا ابن عباس کی رائے کے مطابق تو وہ جہاں چاہے اپنی عدت گذار سکتی ہے، البتہ وہ عدت گذارنے کے بعد اگر چاہے تو اپنے پہلے گھر میں جا سکتی ہے تاکہ اس کے دوسرے بیٹے کو بھی اس کی خدمت کا شرف حاصل ہو سکے۔ واللہ اعلم
قرض کی عدم ادائیگی پر مالی جرمانے کا حکم
سوال: میرا ایک کمپنی سے مکان بنانے کا معاہدہ ہوا ہے، کل اخراجات کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے اور میں بارہ اقساط میں ساری رقم دینے کا پابند ہوں۔ 600 ڈالر کے لگ بھگ میں پیشگی ادا کر چکا ہوں۔ معاہدے کی تفصیلات بعد میں پڑھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ اس میں یہ شرط شامل ہے کہ اگر میں کوئی قسط بروقت ادا نہ کر سکا تو مجھے کچھ رقم بطور جرمانے کے ادا کرنی ہو گی، مجھے بتایا گیا کہ یہ تو سراسر سود ہے، تو کیا میں یہ معاہدہ فسخ کر دوں؟ اس صورت میں، پیشگی ادا شدہ رقم کمپنی کی طرف سے ضبط کر لی جائے گی۔
جواب: یہ بات درست ہے کہ اصلاً یہ معاملہ قرض کا ہے جو بالاقساط ادا کرنا ہے اور کوئی بھی قسط وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں آپ پر مالی جرمانہ عائد کیا جائے گا جو کہ قرض پر الیک اضافہ ہونے کی صورت میں سود شمار ہو گا۔ مالی جرمانہ ایسی کسی صورت میں تو ہو سکتا ہے جس میں قرض یا ادھار شامل نہ ہو، مثلاً یہ شرط لگائی جاسکتی ہے کہ اگر ٹھیکے دار وقت پر مکان کی تعمیر مکمل نہ کرے تو اس پر کچھ رقم بطور جرمانہ کے عائد کی جائے گی۔
اسلامک بینکنگ نے اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ اگر ایک پارٹی وقت پر قسط ادا نہیں کرتی تو اس پر کسی قسم کا جرمانہ عائد ہونا چاہیے تاکہ وہ وقت پر رقم ادا کرنے کی کوشش کرتا رہے۔
اسلامک بنکوں سے متعلق علماء نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ ایسا شخص کچھ رقم ادا کرنے کا پابند تو ہو گا لیکن یہ رقم ٹھیکے دار کے اکاؤنٹ میں نہیں جائے گی بلکہ کسی خیراتی ادارے کو دی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کا کہ مالی جرمانے کی یہ رقم کسی بھی صورت میں ٹھیکے دار کی ملکیت نہیں ہو گی۔ چونکہ مذکورہ سائل کچھ پیشگی رقم ادا کر چکے ہیں تو ان کے لیے دو تجاویز دی جاتی ہیں:
1۔ اسلامک بینکنگ نے خیراتی ادارے کو مالی جرمانے کی رقم دینے کی جو تجویز پیش کی ہے، مذکورہ کمپنی اسے معاہدے میں شامل کر لے۔
2۔ یا یہ کہ چونکہ وہ کچھ رقم پیشگی ادا کر چکا ہے اور معاہدہ فسخ کرنے کی صورت میں اسے نقصان لاحق ہو گا تو وہ کمپنی کے ساتھ معاہدے کو جاری رکھے لیکن اس نیت کے ساتھ کہ وہ ہر قسط وقت پر ادا کرتا رہے گا تاکہ کسی جرمانہ بھرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
یہ رائے اس اصول پر مبنی ہے کہ اگر کوئی چیز ضرورت کی بنا پر گلے کا پھندہ بن گئی ہو تو اسے برداشت کیا جائے اور جلد سے جلد اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی جائے۔ اس کی مثال ویزا کارڈ جیسی ہے کہ فی زمانہ ویزا کارڈ ایک ضرورت بن چکا ہے۔ بعض جگہوں پر بغیر ویزا کارڈ کے ادائیگی ممکن ہی نہیں ہوتی۔ اور اگر ویزا یا کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی 28 دن کے اندر اندر نہ کی جائے تو مطلوبہ ادائیگی پر سود کا اضافہ کر دیا جاتا ہے، اس لیے بطور ضرورت کریڈٹ کارڈ کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن پوری کوشش کی جائے کہ بنک میں اتنی رقم ہو کہ یہ ادائیگی مقررہ مدت میں ہو جائے کیونکہ عدم ادائیگی کی صورت میں پھر سودی اضافہ ادا کرنا ہو گا کہ جس سے بچنا آپ کے لیے ضروری ہے۔
میت کی وصیت کا حکم
سوال: اگر ایک والد نے موت سے قبل ایسی کوئی وصیت کی ہو کہ میری بچی یا بچے کا فلاں گھر رشتہ کیا جائے اور بچوں کو یہ رشتہ ناپسند ہو تو کیا اس وصیت کا پورا کرنا لازمی ہے؟
جواب: باپ اپنی زندگی میں بھی اپنی بچی کو کسی رشتے پر مجبور نہیں کرسکتا، البتہ بچی کو بغیر کسی معقول سبب کے اس رشتے سے انکار نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب کہ دینی اور اخلاقی اعتبار سے وہ رشتہ مناسب ہو، سیدہ خنساء بنت خدام کا واقعہ اس بات پر شاہد ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسولﷺ سے سوال کیا تھا کہ میرا باپ میرا نکاح میرے چچا زاد بھائی سے کرنا چاہتا ہے تاکہ خاندان میں اس کا سربلند ہو سکے تو کیا میں اس رشتے سے انکار کر سکتی ہوں تو اللہ کے رسولﷺ نے انہیں کہا کہ ہاں تم ایسا کر سکتی ہو!
جس پر سیدہ خنساء نے کہا کہ میں صرف یہ بتانا چاہتی تھی کہ ہم (عورتوں) کا بھی شادی بیاہ میں انکار کا حق حاصل ہے، گو میں اپنے باپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس رشتے کو قبول کرتی ہوں۔
تو اگر زندگی میں بھی ایک عورت اپنے باپ کی بات کو رد کر سکتی ہے تو اس کی ایسی وصیت کو بھی انکار کر سکتی ہے جس کے بموجب اسے ایسے رشتے پر مجبور کیا جا رہا ہو، جسے وہ ناپسند کرتی ہو۔ یہ بات اس آیت سے ثابت ہوتی ہے:
﴿فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (سورۃ البقرہ: 182)
’’تو پھر جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے کسی طرف داری یا گناہ سے خائف ہو، اور (اس بنا پر) وہ (ورثہ) میں صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
صلح سے مراد اصلاح کرنا ہے یعنی وصیت میں جو کجی پائی گئی ہے تو اسے درست کر دے اور یہ ذمہ داری اولیاء امور کو دی گئی ہے (وہ لوگ جو وصیت کو نافذ کرنے پر مقرر کیے گئے ہیں۔
بلی بطور علامت برکت ہدیہ کا معاملہ
سوال: ہم ایک چینی مالک دکان سے دکان خرید رہے ہیں، چین کے باشندوں میں بلی کو کاروبار کے لیے بابرکت سمجھا جاتا ہے اور اس لیے وہ ہمیں دکان کے ساتھ ایک بلی کا ہدیہ بھی کرنا چاہتے ہیں تو کیا ہم ایسا ہدیہ قبول کر سکتے ہیں؟
جواب: جہاں تک گھر یا دکان میں بلی پالنے کا مسئلہ ہے تو اس میں قطعاً کوئی اشکال نہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے صراحۃً ارشاد فرمایا ہے کہ یہ جانور ان جانوروں میں سے ہے جو تمہارے ادھر ادھر چکر لگاتے رہتے ہیں۔ صحابہ میں سے مشہور صحابی ابو ہریرہ کی کنیت بلی کے بچے (یعنی ہریرہ) کی وجہ سے تھی، لیکن اصل مسئلہ شگون یا بدشگونی کا ہے، نبیﷺ نے ایک شخص کی کلائی میں پیتل کا کنگن دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟
تو اس نے کہا: یہ مجھے وَہن، یعنی کمزوری سے بچانے کے لیے ہے، تو اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ تمہیں اور کمزور کرے گا۔‘‘
اسی طرح ایک شخص کو برا شگون دیکھ کر متذبذب دیکھا تو اسے کہا کہ ایسے شگون کا اثر نہ لو۔ بلکہ اسے اپنے ذہن سے جھٹک دو اور جو کام کرنے چلے ہو، اسے پورا کرو۔
اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص اپنے گھر سے کسی کام کے لیے نکلتا ہے اور ایک دم سے ایک کالی بلی اس کا راستہ کاٹ لیتی ہے اور وہ اس سے بدشگون لیتا ہے، تو اگر وہ اس خیال کو جھٹک دے اور اپنے کام کے لیے آگے بڑھ جائے تو یہ ایسا کرنا بالکل درست ہے، لیکن اگر وہ اس بنا پر اپنا ارادہ ترک کر دے اور کام چھوڑ چھاڑ واپس چلا جائے تو ایسا کرنا اس کےلیے درست نہ ہو گا۔ یعنی یہ اللہ پر توکل کے منافی ہے۔
مذکورہ سوال میں بلی کے باعث برکت ہونے کا ذکر ہے، بلی بطور ہدیہ وہ قبول کر سکتا ہے لیکن اگر بالفرض ایک دن بلی دکان میں نہیں تھی، اور اس دن اس شخص کا کاروبار اچھا نہ ہوا اور اس نے یہ خیال کر لیا کہ واقعی بلی کے نہ ہونے سے میرا کاروبار اچھا نہیں ہوا تو پھر یہ وہی بات ہے جس کا تذکرہ ہم اوپر کرتے آئے ہیں اور اگر یہ صورت ہو تو پھر بہتر یہی ہے کہ وہ اس بلی کو دکان میں نہ رکھے، بالکل ایسے ہی جیسے نبی کریمﷺ نے پیتل کے کنگن پہننے والے کو اسے اتارنے کا اشارہ دیا تھا تاکہ اس کا توکل اللہ پر قائم رہے۔
یہاں ہم یہ واضح کر دیں کہ اسباب کا اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے، بیماری ہو تو دوا بطور سبب استعمال کریں لیکن ایمان ہو کہ شفا دینے والا صرف اللہ ہی ہے۔ پیتل کا کنگن پہننا بیماری کو دور کرنے کا کوئی سبب نہیں ہے بلکہ صرف ایک واہمہ ہےاور اسی طرح بلی کی موجودگی تجارت کے کامیاب ہونے کا سبب نہیں ہے بلکہ کچھ لوگوں کے نزدیک ایک روایت کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے انہیں ایک جائز سبب تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ایسے ناجائز، وہمی، خیالی سبب کو اختیار نہ کرنا ہی صحیح مسلک ہے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں