
آج کل ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک الموت نے گھر دیکھ لیا ہے ۔ آئے دن اہل علم ، اساتذہ اورا قارب میں سے کسی نہ کسی کی وفات کی خبر ستم ڈھارہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ایک کی وفات کا صدمہ ابھی ہلکا بھی نہیں ہو پاتا کہ دوسرے صدمے کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ پچھلے کچھ ہی عرصے میں مادر علمی جامعہ دارالسلام نے اپنے کئی ایک قیمتی ہیرے کھوئے۔ یہی صدمہ کیا کم تھا کہ استاذ محترم علامہ حفیظ الرحمن اعظمی عمری کی وفات کی خبر دکھ پر دکھ دے گئی، جو بلاشبہ جامعہ کا کوہ نور تھے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون
1962ء کی بات ہے۔ 11 سال کا تھا کہ میرا داخلہ دوحیدرآبادی ساتھیوں محمدعبد اللہ اور محمد صادق الدین کے ساتھ جامعہ کی ابتدائی جماعت میں ہوا۔ غالباً تیسری جماعت میں پہنچا تھا کہ انجمن اصلاح الاخلاق کے سالانہ جلسہ کی صدارت کے لیے علامہ محترم تشریف لائے تھے، اور اس وقت ناچیز کو تقریر کے انعام اول میں مولانا سید جلال الدین عمری کی تصنیف ”عورت اسلامی معاشرہ میں‘‘ دی گئی تھی ۔ اس وقت معلوم ہوا کہ استاذ محترم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ ہو کر آئے ہیں۔
جامعہ کا نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو ہماری خوش بختی تھی کہ آپ جامعہ میں استاذ بن کر تشریف لائے۔ ہم نے آپ سے ترجمہ قرآن حکیم اور بدایۃ المجتہد وغیرہ پڑھی۔ مولانا کے درس کی خوبی یہ تھی کہ آپ کتاب کے ساتھ ساتھ دینی شعور بھی جگاتے تھے۔ اسلام کی محبت اور جوش و جذ بہ ہمارے سینوں میں ایسا بھرتے تھے کہ بسا اوقات میں آپ کی کلاس سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں جاتا تو جوش میں آکر اپنے صندوق پر زور دار گھونسا مارا کرتا تھا۔ لیکن اس جوش نے جب سنجیدگی کی صورت اختیار کر لی تو دین وملت کی صورت حال پر کڑھنا اور کچھ گر گزرنے کا منصوبہ بنانا میر اوطیرہ بن گیا۔
علامہ اعظمی کا طلبہ پر بڑا اثر تھا اور طلبہ آپ کی ہر ہر ادا کو نوٹ کرتے ، اور اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ کی تقاریر بہت ہی پُر جوش اور ولولہ انگیز ہوا کرتی تھیں کہ طلبہ ان کے دیوانے ہو گئے تھے۔ ہر ایک کی زبان پر استاذ محترم کا ذکر خیر ہوا کرتا تھا۔ آپ کے درس کا انداز ایسا نرالا تھاکہ طلبہ آپ کی باتوں پر کان دھرنے پر مجبور ہو جاتے تھے، جس کی وجہ سے آپ کے اسباق کی تیاری الگ سے کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت آپ جوان تھے، تازہ تازہ پڑھ کر آئے تھے، اس لیے بھی آپ نے اپنی ساری صلاحیتیں طلبہ کے لیے نچوڑ دیں اور چاہتے تھے کہ آپ کا ہر شاگرد کچھ بن کر نکلے، ملک وملت اور انسانیت کو فائدہ پہنچائے اور اسلام و مسلمانوں کی فوزوفلاح کا ضامن ہو۔
1970ء میں جامعہ سے میری فراغت ہوئی۔ اس کے بعد استاذ محترم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
1990ء میں جب میں انگلینڈ پہنچا اور اس کے بعد ماہنامہ راہ اعتدال جاری ہوا تو اس کے ذریعے مولانا کی نگارشات پڑھنے اور ان سے مستفید ہونے کے مواقع ملتے رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں ہم نے آپ کی تقریروں ہی کا مزہ چکھا تھا۔ اب جو تحریروں کا جادو شروع ہوا تو یہ سر چڑھ کر بولنے لگا۔ آپ کی کوئی تحریر ہاتھ لگتی تو جب تک پورا مضمون پڑھ نہ لیں، تسلی نہیں ہوتی تھی ۔ تقریر کی طرح آپ کی تحریر بھی بالکل انوکھی اور دل میں اترنے والی ہوتی تھی۔ خصوصاً شخصیات پر جب لکھتے تو مختصر مضمون میں اس کی ساری خوبیوں کو سمیٹ کر رکھ دیتے اور تحریر ایسی مؤثر ہوتی کہ آپ کے مضامین کو پڑھنے والو میں سے بعض کی تمنا ہوئی کہ
’’کاش! متوفی شخص میں ہوتا، اور مولانا میرے متعلق ایسا مضمون لکھتے۔‘‘
جب سے موبائل فون عام ہوا ہے، مولانا سے براہِ راست رابطے کے مواقع ملنے لگے تھے۔ گاہے بہ گاہے آپ سے گفتگو ہوتی تھی۔ ماہ نامہ صراط مستقیم لندن آپ کی نظر سے گزرتا تھا۔ اس میں میری کوئی تحریر نظر سے گزرتی تو اس کا ذکر کرتے اور سراہتے تھے۔ ناچیز کبھی پوچھتا کہ
”میرے لائق خواہ کوئی خدمت ہو تو بتائیے۔‘‘
تو بڑی خوب صورتی سے ٹال دیتے تھے۔ رفیقۂ حیات کی جدائی کا اتنا اثر لیا کہ آپ کی زندگی اُتھل پتھل ہو گئی ۔ اکثر یہ شعر پڑھتے :
دنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
اور فرماتے تھے کہ بس ! خاتمہ بالخیر کے لیے دعا کرو۔ 2012ء کے اوائل کی بات ہے کہ میں نے اپنی دوکتابیں: رسول اکرم ﷺکا آنسو بہانا اور اسلام کے معاشرتی مسائل (حصہ دوم) آپ کی خدمت میں بھیجی تھیں۔ آپ نے نہ صرف انہیں مطالعے کا شرف بخشا، بلکہ اپنے حوصلہ افزا تبصرے سے بھی ممنون فرمایا۔ تبصرے کا یہ اقتباس جہاں آپ کی اعلیٰ ظرفی اور وسعت قلبی کا نمونہ ہے وہیں میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ مولانا نے تحریر فرمایا:
’’اخیر میں مجھے صاحب کتاب کے بارے میں اپنے جذبات کے اظہار کی ذرا اجازت دیجیے۔ آپ میرے شاگرد رشید ہیں۔ آپ کا تدین، راست بازی اور اخلاص و اخلاق آپ کا خاندانی ورثہ ہے۔ گھر کے تمام افراد طہارت و تقویٰ، صلہ رحمی علم دوستی مہمان نوازی، وضع داری اور اہل علم سے محبت واحترام میں ایک امتیازی شان رکھتے ہیں۔ آپ کے عم زاد بھائی مولانا عبد الرحمن ندوی صاحب سے 2005ء میں میری ملاقات قطر میں ہوئی۔ ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ ان کے تواضع و انکسار کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ کے سب بھائی، بھتیجے، اولاد، داماد میرے شاگرد ہیں، بس آپ ہی بچ گئے ۔ صدق دل سے کہا:
’’دیر کیا ہے، ابھی آپ مجھے بھی شاگرد بنا لیجیے، میں اس کے لیے پوری طرح آمادہ ہوں۔‘‘
مصنف کے بزرگوں سے مجھے ہمیشہ محبت ملی اور عزیزوں نے احترام دیا۔ آپ نثر کے ساتھ نظم بھی موقع اور مناسبت سے لکھنے پر قادر ہیں۔ آپ کا ترنم سامعین کو مسحور کردیتا تھا۔ جامعہ کی انجمنوں اور مشاعروں میں آپ کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ خطیب کے ساتھ طبیب بھی ہیں۔ انگلستان میں رہ کر ڈاکٹر صاحب اپنی عمری برادری کے ارکان اور دیگر درمند حضرات کے ساتھ ماہ نامہ صراط مستقیم ، برمنگھم میں بڑی با مقصد تحریروں اور مقالات کے ساتھ اخوت اسلام کی عالمگیر تعلیمات کی اشاعت میں بہت سرگرم رہتے ہیں۔ صراط مستقیم پڑھتا ہوں تو دل گواہی دیتا ہے
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
اللہ رب العزت ان کے صحیح اور مستند پیغام کو دیارِ مغرب میں رہنے والے اردوداں مسلمانوں کی رشد واصلاح کا ذریعہ بنائے اور زبانیں نماز سے باہر بھی إِهْدِنَا الصِّرَاط المستقیم کا ورد وظیفہ جاری رکھ کر تلاش حق میں اپنے آپ کو مصروف پائیں۔ صحیح اسلام ہی دارین کی سعادت کا ضامن ہے۔
بہر حال ! ڈاکٹر عبدالرب پر رب کی نوازشیں بے پایاں ہیں۔ اللہ ان کی ہر خدمت کو شرف قبول بخشے ، آمین ۔‘‘ (راہ اعتدال، اپریل 2016 )
اللہ تعالیٰ استاذِ محترم کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ فرمائے اور اعلیٰ علین میں ٹھکانا بخشے۔ آمین
اب ہم بھی ٹھہرے ہوئے ہیں کوئی دم بھر کے واسطے
دوستو ! فانی ہے دنیا، استاذ ہمارے چل بسے
٭٭٭
علامہ حافظ ابن قیم نے فرمایا :
’’غصہ بهیڑیئے کی طرح ہے۔اگر اسے کھلا چھوڑ دیا گیا تو اپنے مالک کو کھا جائے گااور نفسانی خواہش آگ کی مانند ہے. جو اسے بهڑکائے گا اسی کو جلا کر راکھ کر دے گی۔‘‘
(الفوائد: 159)
٭٭٭
تبصرہ کریں