
دورانِ قیام جامعہ، ہمارا دوسرا حج
6 ذوالحجہ 1383ھ (18 اپریل 1964ء) بروز ہفتہ
صبح سویرے تین چھوٹی بڑی گاڑیوں میں جامعہ کی طرف سے ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ شیخ البانی اپنی گاڑی میں سوار تھے۔ ظہر کی نماز مستورہ میں ادا کی۔ مغرب تک ہم جدہ پہنچ چکے تھے، جہاں تین گھنٹے قیام کے دوران منظور حسین شاہ صاحب سے ملاقات کا موقع میسر آیا۔ پھر قافلہ نے مکہ روڈ کا رخ کیا۔ مکہ سے قبل ایک چھوٹی سی بستی بُحرہ نام کی آتی ہے جہاں شب باشی کے لیے خیمے لگائے گئے۔
7 ذوالحجہ: فجر سے ڈیڑھ گھنٹے قبل ہم حرم پہنچ چکے تھے اور نماز فجر سے پہلے عمرہ کی ادائیگی سے فارغ ہو چکے تھے۔
ایک افسوسناک خبر علم میں آئی کہ ایک یمنی مزدور نے سندھ (پاکستان) کے ایک شخص کو پیسے کے لالچ میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ہم سیدھے مِنیٰ چلے آئے، وہیں عمرے کے آخری عمل یعنی سرمنڈانے کا کام سر انجام دیا، محمد العَدَوی (جریدۃ العرب، کراچی کے مدیر کے صاحبزادے) سے ملاقات ہوئی، تو ہم باتیں کرتے خیمے تک آ پہنچے۔
8 ذوالحجہ: منیٰ میں سارا دن قیام رہا، میں جس سہ رکنی ٹیم سے وابستہ تھا، اس کے ذمے کھانے پینے کے بعدبرتنوں کو دھونے دھلانے کا کام سپرد کیا گیا تھا۔ لوگ سوال وجواب کے لیے ہمارے خیمے کا رخ کر رہے تھے اور شیخ البانی اپنی مسند پر ایستادہ لوگوں کی تشفی کر رہے تھے۔
9 ذوالحجہ: یوم عرفہ، ظہر سے دو ساعت قبل ہم عرفات کی طرف روانہ ہوئے، سنت کے مطابق ہم عرفات سے قبل مسجد نمرہ سے متصل وادی عرفہ میں اترے۔
ظہر وعصر جماعت کے ساتھ مسجد سے باہر ہی ادا کی۔ پھر گاڑیاں ہمیں جبل الرحمہ کے قریب لے آئیں جہاں پہلے ہم ظہرانے سے لطف اندوز ہوئے، پھر جبل الرحمہ کے دائیں میں کھڑے ہو کر ہم اس عظیم رکن کو بجا لانے کے لیے کمربستہ ہوئے جسے وقوف عرفہ کہا جاتا ہے یعنی ہاتھ اٹھا اٹھا کر ڈھیر ساری دعائیں کرنا، کچھ وقت قرآن کی تلاوت اور ذکر واذکار میں گذارا اور پھر جونہی سورج کی ڈوبتی ٹکیہ آنکھوں سے غائب ہوئیں، ہمارا قافلہ مزدلفہ کی طرف کوچ کر گیا۔ مزدلفہ میں ایک کھلے میدان میں قالین بچھائے گئے۔ مغرب و عشاء کی نماز ادا کی گئی پھر عشائیہ کا اہتمام ہوا اور پھر رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ ہم لوگ کمبل اپنی گردنوں تک اوڑھے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے، رات انتہائی سرد تھی لیکن صبح کی اولین ساعتوں میں ہم بیدار ہو چکے تھے، نماز فجر باجماعت ادا کی اور پھر سنت کے مطابق ذکر واذکار اور تسبیحات میں مصروف رہے اور شروق شمس سے پہلے پہلے ہم منیٰ جانے کے لیے اپنی اپنی گاڑیو ں میں سوار ہو چکے تھے۔
10 ذوالحجہ: منیٰ کی حدود تک تو ہم پہنچ گئے لیکن وہاں پیدل چلنے والوں کا اتنا ہجوم تھا کہ ہم نے بہتر سمجھا کہ ہم بھی گاڑی سے اتر کر پیدل ہی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں۔ ہم سیدھے قربان گاہ پہنچے، وہاں نو طلبہ کی طرف سے نو مینڈھے ذبح کئے گئے اور پھر ہم میں ہر شخص اپنی اپنی قربانی کو کندھوں پر اٹھائے کیمپ تک پہنچا۔
اور پھر کچھ آرام کرنے کے بعد رمی کا رخ کیا۔ جمرہ عقبہ کی رمی کی سر منڈایا اور واپسی خیمے کی راہ لی۔ دن بھر کی تھکاوٹ مکہ جانے اور طواف افاضہ کرنے میں آڑے آئی۔
11 ذوالحجہ: دن بھر ہماری ٹیم کام میں مصروف رہی، عصر کے بعد وقت ملا کہ آج کی رمی کے لیے جا سکوں اور پھر تینوں جمرات کی رمی کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کا رخ کیا اور طواف افاضہ کا اہم رکن ادا کیا۔ حطیم پر جامعہ رشیدیہ (منٹگمری؍ ساہی وال) کے مہتمم شیخ فاضل جالندھری سے ملاقات ہوئی، یاد رہے مدینہ آنے سے قبل منٹگمری کے سہ ماہی قیام کے دوران میں نے جامعہ رشیدیہ میں چند اسباق بشمول نور الانوار پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی، فاضل جالندھری کے برادر بزرگ شیخ عبد اللہ میرے استاد رہے ہیں، دوران طواف محمد العدوی میرے ساتھ تھے اور طواف و سعی کے بعد ہم دونوں ساتھ ہی واپس منیٰ آئے۔
12۔ ذوالحجہ (بروز جمعہ): ہم نے جمعہ کے بجائے خیمے میں ظہر کی نماز ادا کی۔عصر کے بعد رمی سے فارغ ہوئے۔ راستے میں لائل پور کے پرانے شناسا جناب غلام محمد سے ملاقات ہوئی اور ان کے حال و احوال کا علم ہوا۔ ایام تشریق کا یہ دوسرا دن تھا، اس لیے اکثر لوگ بوریا بسترا باندھ کر روانگی کے لیے پرتول رہے تھے، ہمارا قافلہ ایک دن اور ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
13 ذوالحجہ: ظہر تک ہم خیمے اکھاڑ کر تمام سازوسامان گاڑیوں میں رکھ چکے تھے۔ خیمے اور سامان والی گاڑیاں ہم سے قبل مکہ روانہ ہو گئی تھیں جہاں حبرول میں انہوں نے خیمے از سر نو گاڑ دئیے تھے۔
ہم لوگ مکہ روانہ ہوئے۔ راستے میں آج کی رمی کی اور عصر تک براہ جبل ’گدی‘ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اگلا ایک دن آرام کا رکھا گیا تھا۔ ہر شخص اپنی ذاتی مصروفیات کو بجا لانے کے لیے آزاد تھا اور پھر اگلے دن چار بجے شام ہم مدینہ واپس جانے کے لیے پایہ رکاب تھے۔ ہم بُحرہ، جدہ ہوتے ہوئے کہیں جا کے ’طول‘ کے ساحلی قصبے میں تین گھنٹے کے آرام کے لیے رکے، یہ کوئی رات کا آخری پہر تھا۔ پوٹھپتے ہی دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بدر کے تاریخی مقام پر ناشتے کے لیے رکے اور پھر جو روانہ ہوئے تو مدینہ جا کر ہی دم لیا۔
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ سفر خیریت کے ساتھ تمام ہوا۔
اس سال کا اختتامیہ
چونکہ اس ڈائری کا 30 ذوالحجہ پر اختتام ہو رہا ہے تو بقیہ دو ہفتوں کی روئیداد بھی پیش خدمت ہے۔
معلم حیدری کے ڈیرے پر اکثر جانا رہتا تھا کہ وہاں اخبارات بھی مطالعے کے لیے مل جاتے اور پاکستان سے آئے گئے، احباب کی خبریں بھی دستیاب رہتیں۔
شیخ محمود الحصری کی دل کو چھو جانے والی قرارت حرم مدینہ میں سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔
جمعہ: 19 ذوالحجہ کو بعد از نماز مغرب ایک مصری خطیب کو حرم میں خطاب کرتے سنا۔ احادیث کی کتب میں قصہ گو حضرات کا ذکر آیا ہے جو بے سند قصوں کے سنانے میں شہرت رکھتے ہیں۔ یہ صاحب بھی ایسے ہی کوئی قصہ گو تھے۔ وہ قصہ کہ ایک آدمی کے عمل پر تمام حجاج کا حج قبول کر لیا گیا اور اسی قسم کے چند اور قصے۔
ہفتہ، 20 ذوالحجہ سے دوبارہ دروس کا آغاز ہو گیا۔
ڈائری میں اوقات تدریس اور نمازوں کے لیے عربی اوقات لکھے گئے ہیں۔ یعنی مغرب ہمیشہ 12 بجے ہوتی ہے اور عشاء ڈیڑھ بجے اور اسی حساب سے نماز فجر کوئی ساڑھے دس بجے تک ادا ہو جائے گی اور یوں ہمارا پہلا گھنٹہ ساڑھے بارہ بجے شروع ہو جاتا تھا۔
ڈائری میں رحیم یار خان کے اللہ بخش سیال کا تذکرہ کئی جگہ ملتا ہے، وہ ڈاکٹر اسرار احمد کے اقارب میں سے ہیں اور مدینہ آنے سے قبل کراچی ہی میں ان سے گہرا تعارف ہو چکا تھا، ایک دن انہوں نے ہمارے پہلے دو دروس کی سماعت بھی کی تھی۔
24 ذوالحجہ: دار الحدیث جانا ہوا۔ وہاں شیخ محمد البناء اور شیخ رمضان کو دیکھا کہ ایک یمنی شخص جو یمن کے حاکم سلال اور مصر کی سیاست کا بڑا مداح تھا، ان سے بحث ومباحثہ میں مصروف تھا۔ پھر شیخ سلیم بھی تشریف لے آئے، اور تمتع کی فضیلت پر اچھا خاصا مذاکرہ ہو گیا۔
اپنے ایک ہم سبق شام کے ہشام قدومہ کے ایک مہمان وکیل کے ساتھ ملاقات ہوئی، اور کافی دیر بات چیت جاری رہی۔
28 ذوالحجہ: سیال صاحب کو اپنے استاد شیخ شنقیطی کی ملاقات کے لیے ان کے گھر لے گیا۔ انہوں نے اپنی تفسیر اضواء البیان کا ایک نسخہ بھی ہدیۃً عنایت فرمایا۔
29 ذوالحجہ ( سوموار) اس ڈائری کے آخری مندرجات ہیں۔
سیال صاحب کو میں نے معانی قرآن کے انگریزی ترجمہ کا ایک نسخہ پیش کیا۔ شیروانی کے لیے ڈھائی گز کپڑا بحساب 12 ریال فی گز خرید کر سیال صاحب کے حوالہ کیا۔ وہ عصر کے بعد واپسی کا عزم رکھتے تھے۔ عصر سے عشاء تک حرم میں وقت گذارا۔
ڈائری میں چندعالمی خبروں کا بھی اندراج ہے، زیادہ نہیں چند واردات کا ذکر ہے۔
23 نومبر 1963ء: امریکہ کے صدر جان کینیڈی کو قتل کر دیا گیا۔
2 دسمبر 1963ء: صدر ایوب کے خطاب کو سنا
24 دسمبر 1963ء: 16 دسمبر کو پاکستان میں سید داؤد غزنوی انتقال فرما گئے۔
شیخ ابن باز نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور ہم نے جماعت کو تعزیت کا تار ارسال کیا۔
31 مارچ 1964ء: شہزادہ فیصل شاہ سعود کے نائب مقرر کر دیے گئے۔
جامعہ کے اگلے دو سالوں کا اجمالی تذکرہ
1963؍1964ء کے وقائع قارئین کی نذر ہوئے۔ افسوس ہے کہ 1965ء اور 1966ء کی روئیداد پر مشتمل میری ڈائریاں گمشدگی کا شکار ہو چکی ہیں، اس لیے اپنی یاد داشت سے چند نمایاں واقعات کا ذکر کرتا چلوں:
1۔ 1964ء کی تعطیلات میں، میں اور میرے بڑے بھائی شعیب حسن دونوں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔ شادی کے اگلے ہی دن جامعہ مدینہ سے ہمارے شیخ عبد القادر شیبۃ الحمد اساتذہ کی تلاش میں کراچی وارد ہوئے تھے۔ انہوں نے کراچی میں والد محترم کو اور گوجرنوالہ جا کر شیخ محمد گوندلوی کو جامعہ میں تدریس پر آمادہ کر لیا۔
اور یوں میں اور میری اہلیہ پچھلے 2 سال کے تین بحری اسفار کے بعد پہلی مرتبہ ابا جان کے ساتھ جامعہ کے ٹکٹ پر سعودی ائرلائنز سے سفر کرتے ہوئے براہِ ظہران، ریاض ، مدینہ منورہ پہنچے۔
2۔ میرے پہلے دو سالوں کے اساتذہ کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ اگلے دو سالوں میں جن مزید اساتذہ سے فیض حاصل کیا، ان کا ذکر کیے دیتا ہوں:
والد مکرم شیخ عبد الغفار حسن رحمانی: ان کے پاس مصطلح اور اسانید کے اسباق تھے۔
شیخ البانی واپس عمان جا چکے تھے، ان کی جگہ شیخ عبد القادر نے حدیث (سبل السلام شرح بلوغ المرام) کے اسباق کی تدریس شروع کر دی۔
شام (سوریا) سے ایک نوجوان استاد شیخ نور الدین عتر حلبی بھی تشریف لا چکے تھے، ان کے پاس بھی حدیث کے چند اسباق تھے لیکن جامعہ کا غیر تقلیدی سلفی ماحول انہیں راس نہ آ سکا، اس لیے وہ زیادہ دیر جامعہ میں ٹک نہ سکے۔
اردن کے شیخ سلیمان الاشقر کے پاس فقہ اور تفسیر کے اسباق رہے۔
اردن ہی کے شیخ عبد الرؤوف اللبدی نے نحو میں الفیہ ابن مالک کا تسلسل جاری رکھا۔
شام کے شیخ محمد المجذوب ایک معروف ادیب تھے۔ انہوں نے ادب عربی کے اسباق جاری رکھے۔
چند اور مشائخ سے حرم نبوی یا دار الحدیث کے طفیل استفادے کا موقع ملتا رہا۔ جن میں مالی کے شیخ عمر فلاتہ، شیخ حماد انصاری، شیخ ابو بکر الجزائری اور شیخ تقی الدین ہلالی شامل ہیں۔
حدیث کے نوجوان اساتذہ میں سے ایک محمود الطحان بھی تھے جنہوں نے ’تیسیر مصطلح الحدیث‘ کتاب کی وجہ سے شہرت پائی۔
علامہ محمد المنتصر الکتانی جن کے دادا ابو عبد اللہ محمد بن جعفر الکتانی اپنی مشہور کتاب ’الر سالۃ المستطرفہ فی مشہور کتب السنہ‘ کے مؤلف تھے۔
شیخ محمد عطیہ سالم ناظم تعلیمی امور تھے لیکن اکثر ان کے فرمودات سے استفادہ رہا۔
اردن کے شیخ محمد ابراہیم شقرہ سے بھی نحو کے اسباق پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔
3۔ حج کے موقع پر جن مقتدر اہل علم سے ملاقات کا یا انہیں سننے کا موقع ملا، ان میں شیخ ابو الحسن ندوی، شیخ عبد اللہ (کشمیر)، شیخ عبید اللہ مبارکپوری کے نام ذہن میں آتے ہیں۔ شیخ محمود الحصری اور قاری عبد الباسط کو پہلی مرتبہ دیکھا بھی اور سنا بھی، شاہ فیصل اپنے دور حکومت کے آغاز ہی میں مدینہ تشریف لائے تھے۔ جامعہ میں انتہائی سادہ طریقے سے ان کی پذیرائی ہوئی۔ وہ خود بھی ایک ایک درویش منش حکمران تھے اور ان کے استقبال کرنے والے ہمارے شیخ عبد العزیز بن باز ان سے بڑھ کر ایک زاہد اور عابد شخصیت تھے۔
ڈاکٹر حمید اللہ (پیرس) جو جامعہ کی دعوت پر تشریف لائے تھے۔ مدینہ سے جدہ کی مختصر پرواز میں ان کا ساتھ رہا۔ اتنا یاد ہے کہ وہ سورۃ المنافقون کی آیت (كأنهم خشب مسندة) کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
نائیجریا کے وزیر اعظم احمد و بیلو کا آنا بھی یاد ہے۔
4۔ اہلیہ کے ساتھ ہونے کی بنا پر ہم مدینہ شہر منتقل ہو چکے تھے جہاں والد مکرم کے ساتھ مستقل قیام رہا۔ اب ہم شادی شدہ افراد کے کلب میں داخل ہو چکے تھے ، اس لیے ان رفقاء کے ساتھ میل ملاپ زیادہ رہا جو اس کلب کے رکن متصور کیے جا سکتے تھے اور ان میں شامل تھے:
بلتستان کے محمد ابراہیم خلیل
مشرقی پاکستان سے حافظ نثار الدین احمد
جامعہ بنوریہ (کراچی) کے عبد الرزاق اسکندر
ہندوستان کے سراج الرحمٰن ندوی
لاہور کے عبد الخالق طارق اور موسیٰ کاظم
کراچی، جامعہ ستاریہ کے محمد سلفی
بلوچستان کے غلام قادر سربازی مدینہ میں متوطن ایک بلوچی خاندان میں شادی کرنے کے بعد ہم سب طلبہ میں مسابقت حاصل کر چکے تھے۔ ان سے واجبی سا تعلق رہا۔
دیگر رفقاء میں عبد القادر سندھی، شام کے ہشام قدومہ، ہندوستان کے دو طب سے تعلق رکھنے والے برادران سعد اور سعود، عطاء الرحمٰن بہاری اور ہلال احمد وغیرہ شامل ہیں۔ بہت سے رفقاء کے نام طاق نسیان کا شکار ہو چکے ہیں۔
فراغت کے بعد جب افریقہ جانا ہوا تو کئی پرانے رفقاء سے تجدید ملاقات ہو گئی جو ایک طویل مصاحبت کی بنا پر گہرے نقوش چھوڑ گئی۔
1965ء کی تعطیلات میں کراچی جانا ہوا، چھ ستمبر کو ہندوستان کی طرف سے لاہور پر حملے کی شکل میں جارحیت کا ارتکاب ہوا جو ایک خوفناک جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ کراچی میں اس جنگ کا کوئی نمایاں اثر نہ تھا لیکن ہوائی حملے کی سائرن بہت سننے میں آئے۔
والد مکرم کے ساتھ مدینہ واپسی ہوئی۔ اہلیہ کراچی میں رہیں جہاں میرے پہلے دو جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی اور دونوں چند ساعتوں میں اپنے خالق کے پاس لوٹ گئے۔ میں ان کو دیکھ نہ پایا، اس لیے ان کی یاد کی کمی محسوس کرتا ہوں۔
ایک ماہ بعد اہلیہ مع میری والدہ اور چار چھوٹے بھائیوں، سہیل، راغب، احمد اور حامد کے ساتھ براہ ظہران مدینہ پہنچیں۔ میں نے ظہران میں ان کا استقبال کیا۔
جولائی 1966ء میں درجہ عالیہ کے چوتھےسال کا اختتام ہو چکا تھا۔ آخری امتحان درجہ امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ فراغت کے بعد جس سادگی کے ساتھ جامعہ میں داخل ہوئے تھے اسی سادگی کے ساتھ جامعہ سے اسناد فراغت وصول کی اور ہم خیر سے لیسانس فی الشریعہ کی ڈگری کے حامل قرار پائے۔
امسال ابادان یونیورسٹی (نائیجیریا) کی ایک کانفرنس میں شمولیت کا موقع ملا، جامعہ نے ہم تین طلبہ کو جن میں جنوب سعودیہ اور سوڈان کے دو ساتہی شامل تھے، لاگوس کے ٹکٹ تھما دیئے اور ہم براہ خرطوم لاگوس اور پھر وہاں سے جامعہ کی بس میں سوار ہو کر ابادان پہنچے اور یوں زندکی میں پہلی مرتبہ افریقہ کا ایک حسین تعارف حاصل ہو گیا۔
مدینہ منورہ میں ابا جان نے تقریباً ہرسال مکان بدلا۔دفتر دارکے گھر کی دوسری منزل میں بھی قیام رہا۔ آخری گھر بئر بضاعہ کے علاقہ میں رباط بھوپال کے عقب میں تھا۔ یہیں میری بیٹی خولہ کی پیدائش ہوئی اور اس کے عقیقے کا اہتمام کیا گیا۔
یہ نومبر 1966ء کی بات ہے۔ اس کے تین ماہ بعد یعنی مارچ 1967ء کے لگ بھگ میں دار الافتاء کی جانب سے نیروبی (کینیا) کے لیے عازم سفر ہو چکا تھا۔ برادرم ابراہیم خلیل مع اہلیہ کے ساتھ تھے اور یوں زندگی کے ایک خوشگوار باب کا اختتام ہوا۔
ایک عملی زندگی ہمارے انتظار میں تھی، ایک بھرپور واقعات، تجربات اور حوادث سے بھرپورزندگی جس کا کچھ تذکرہ بزبان انگریزی میرے اس بلاگ میں آ گیا ہے، نام ہے:
Sheikh Suhiab Hasan Blog
تبصرہ کریں