تاریخ اہل حدیث-ڈاکٹر بہاؤ الدین

در ا صل اس کا م کا اہل صرف فقہاء کو قرار دینے میں جو فلسفہ کار فر ما ہے وہ ان حضرا ت کا یہ دعوی ہے کہ محد ثین ( نعو ذ با للہ ) ا جتہاد و تفقہ کی صلا حیت سے محروم تھے، وہ ایک عطار ( دوا فروش ) کی طر ح تھے ، اصل حکیم یعنی فقیہہ تو فقہاء ہی تھے جو جڑی بوٹیو ں کے خوا ص کے علم کی طر ح ا حا دیث کے اندر منہا ں اصل حکم کی تہ اور علت تک پہنچے۔

ظا ہر با ت ہے یہ دعوی حقیقت کے بھی خلا ف ہے اور ا ئمہ حد یث کی تو ہین بھی ، کیو نکہ محد ثین کرا م ا جتہاد و تفقہ کی صلا حیتو ں سے بھی بہر ہ ور تھے ۔ ان کی مد و نہ کتب حد یث اس پر شا ہد عد ل ہیں با لخصوص اما م بخاری کا مقا م تو تفقہ کے لحا ظ سے بھی امت میں بےنظیر ہے کہ ایک ایک حدیث سے انہو ں نے کئی کئی مسا ئل کا استنبا ط کیا ہے ۔ ہا ں ایسے تفقہ سے وہ بلاشبہ عا ری تھے جو فقہا ئے مقلدین کو ود یعت کیا گیا اور جس کے بل پر انہو ں نے قر آ ن و حد یث کے نصوص سے اعراض کیا یا ان کی دور از کا ر تاویلیں کر کے ان کو رد کر نے کی مذ مو م سعی کی ۔

حقیقت یہ ہے کہ محد ثین کرا م نرے روا یا ت کے جامع نہیں تھے بلکہ وہ ا حا دیث کے مفہو م اور ان سے مستنبط مسا ئل کا پورا ادرا ک ر کھتے تھے اور شا رع کا ٹھیک ٹھیک منشاء بھی انہو ں نے سمجھا اور اسی خدا دا د تفقہ کی بنیاد پر انہو ں نے فقہی ابوا ب کے مطا بق احادیث کو مر تب کیا ۔جہا ں فی الواقع نسخ تھا ، اس کی وضا حت کی ،استحبا ب و و جوب کے در میا ن بھی حسب ضرورت فر ق بیا ن کیا ۔ اس کے مقا بلے میں فقہاء کے اجتہاد و تفقہ کی بنیاد کیا رہی ؟ یہ کہ جو حد یث صحیح ان کے فقہی مذ ہب یا قول اما م کے خلاف ہوئی ، اسے منسو خ کہدیا ،یا و جو ب کے بجا ئے استحبا ب پر محمو ل کر لیا ،یا اسی انداز کی کو ئی اور ر کیک تا ویل کر لی۔ گو یا فقہاء نے ناسخ و منسو خ یا و جو ب و استحبا ب کی یہ کاوشیں شر عی مسا ئل کی تنقیح و تہذ یب کے لئے نہیں بلکہ ا حا دیث کو تو ڑ مرو ڑ کر ان کو اپنے تقلیدی مذہب کے مطا بق بنا نے کے لئے کی ہیں ۔ بلا شبہ محدثین ایسی ، فقاہت ، سے محرو م تھے ۔

مو لف ، بارہ مسا ئل ، کی پانچو یں شق : اس حد یث سے متعار ض دوسری ا حا دیث کے تعا ر ض و تضاد کو دور کرنا ( یہ بھی مجتہد کا کا م ہے ) متعا ر ض نصو ص کے در میان جمع و تطبیق یا تر جیح بلا شبہ مجتہد کا کا م ہے لیکن یہ اجتہا دی نو عیت کا کا م بھی صرف ا ئمہ حد یث نے کیا ہے اور اس خو بی سے کیا کہ ان پر کسی مقا م پر بھی ترک حد یث کا الزا م عا ئد نہیں ہو تا ، کیو نکہ جمع وتطبیق کی ضرورت ان متعا ر ض نصوص میں پیش آ تی ہے، جو صحت سند میں مساوی ہو ں ، لیکن جہا ں دو متعار ض حد یثیں ایسی ہو ں کہ ایک سنداً صحیح ہو اور دوسری ضعیف ،تو وہا ں جمع و تطبیق اور تر جیح کی ضرورت ہی نہیں ، صحیح السند روا یت قا بل قبو ل ہو گی اور دوسری ناقا بل قبو ل ۔ محد ثین کرام نے اسی ا صول کے مطا بق تما م روا یا ت کی تنقیح و تر جیح اور ان کے در میا ن جمع و تطبیق کا بے مثا ل کار نا مہ سر انجا م دیا ہے جس میں ان کے پیش نظر نہ کو ئی خا نہ ساز اصل تھے، نہ مخصو ص آراء الر جا ل کی تر جیح کا مسئلہ۔ صرف ان ا حا دیث رسول کی تد وین و حفاظت اور ان کی تنقیح و تہذ یب ان کا مقصد تھا ، جن پر دین اسلا م کا مدار ہے ۔

اس کے بر عکس فقہا ئے مقلد ین کے کا م کی نو عیت یہ ہے کہ انہو ں نے اپنے مذ ہب کے خا نہ ساز ا صو ل وقواعد سامنے ر کھے اور اپنے ا ئمہ کے اجتہا دا ت واقوال کی تصویب و تر جیح ان کے پیش نظر رہی ۔ اس ذہنی تحفظ اور مخصو ص مفا دا ت کے ساتھ انہو ں نے قر ا ن و حد یث کے نصوص کو پر کھا اور ان پر نظر ڈا لی جو احا دیث صحیحہ ان کے خا نہ ساز ا صو لو ں سے ٹکرائیں ، انہیں نا قا بل اعتبا ر قرار دیا ،یا منسو خ باور کرا یا، پھر ان میں ایسی دور از کار تا و یلا ت کیں کہ بقول اقبال :

خدا جبر یل اور مصطفی ﷺ بھی حیرت زدہ ہو گئے

زمن بر صوفی و ملا سلامے

کہ پیغام خدا گفتند مارا

ولے تاویل شان در حیرت انداخت

خدا و جبریل و مصطفی را

اور یہی حشر ان احا دیث کے سا تھ کیا جواجتہا دا ت ائمہ کے مخا لف تھیں ۔اور دوسرا ظلم یہ کیا کہ احادیث صحیحہ کے مقا بلہ میں ان ضعیف و مر سل بلکہ مو ضوع روا یا ت تک کو اپنا لیا ، جن سے ان کے خود ساختہ ا صو لو ں اور اجتہا دا ت کی تا ئید و حما یت کا پہلو نکلتا ہے ، ظا ہر با ت ہے کہ ا حا دیث صحیحہ و قو یہ کو نظر انداز کر کے ضعا ف و مرا سیل اور من گھڑ ت روا یا ت سے استناد کر نے کو دنیا کی کو ئی عدا لت بھی جمع و تطبیق اور تر جیح کا نا م نہیں دے سکتی ۔ یہ سرا سر خوا ہش نفس، خود غرضی اور مفاد پرستی ہے ، اور اسی لئے ترک حد یث کا الزا م بھی بجا طور پر ان فقہاء پر عا ئد ہوتا ہے۔ آ خر صحیح اور قوی حد یث کے ہو تے ہو ئے غیر صحیح اور ضعیف حد یث پر اصرا ر کر نا تر ک حد یث نہیں تو اور کیا ہے ؟ بلکہ بعض مقا ما ت پر تو مقلد ین نے اس اعتراف کے سا تھ حد یث کو تر ک کر دیا ہے کہ یہ ہمارے مذ ہب کے خلاف ہے ( د یکھئے تقریر تر مذی جناب محمود حسن دیو بندی )

نیز اس طر ح حد یث صحیح کے تر ک سے شا رع کا کو ن سا منشا پورا ہو تا ہے ؟ ذرا ، اجتہاد تفقہ ، کی صلا حیتو ں کو برو ئے کا ر لا کر ہمیں بھی تو بتلا یا جا ئے :

کو ئی بتلاؤ کہ ہم بتلا ئیں کیا ۔

تد وین حد یث سے قبل جن فقہاء و آ ئمہ سے جہا ں کہیں ا حا دیث تر ک ہو ئی ، اس کی و جہ سمجھ میں آ تی ہے کہ انہو ں نے محض خوا ہش نفس کی بنا پر ایسا نہیں کیا ، وہ خدا کے ہا ں معذور و ما جور ہوں لیکن جن فقہاء نے ا حا دیث صحیحہ کی تد وین و تنقیح کے بعد بھی محض تقلید مذہب کی بنیاد پر ا حادیث تر ک کی ہیں ، وہ کیو نکر معذور سمجھے جا سکتے ہیں ، ہماری ساری بحث ایسے ہی فقہا ئے مقلد ین کے با رے میں ہے ، جنہو ں نے واقعتاخوا ہش نفس ( یعنی اپنے خود سا ختہ مذا ہب کی حما یت میں ) ا حا دیث صحیحہ کا تر ک و استخفا ف کیا ہے ۔ یا ان کے معا نی میں تحریف کی ہے ، جس طر ح سلا م پھیر نے کے وقت ہا تھ ا ٹھا نے سے مما نعت کی حدیث کا انطباق آ ج کل کے بعض حنفی علماء رفع الیدین عند الر کوع و عند رفع الراس پر کر کے حد یث رسو ل ﷺ میں معنوی تحریف کا ارتکا ب کر رہے ہیں۔

فقہاء کی با بت یہ دعوی کرنا کہ وہ محد ث بھی تھے اور فقیہہ بھی ، ایک بے بنیاد دعوی ہے ۔ کیو نکہ اجتہاد و تفقہ علم حد یث میں کا مل مہا رت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اور فقہا ئے کرا م بالخصو ص حنفی فقہاء کو علم حد یث میں کا مل مہا رت تو کجا مہا رت بھی حا صل نہ تھی جس کے د لا ئل حسب ذیل ہیں :

1 ۔ حنفی فقہاء نے اپنی کتا بو ں میں بہت سی مو ضوع اور من گھڑ ت روا یا ت سے استد لا ل کیا ہے ، حتی کہ ہدا یہ جیسی کتا ب میں بھی من گھڑ ت روا یا ت مو جود ہیں ، جسے حنفیو ں نے قر آ ن کی ما نند کہا ہے ۔ الہدا یہ کا لقرآن ، اور در مختار بھی فقہ حنفی کی نہا یت معتبر اور چوٹی کی کتا ب ہے ۔ اس میں ابو حنیفہ سرا ج امتی وا لی من گھڑ ت روا یت سے استشہاد کیا گیا و علی ہذا القیاس دوسری کتب فقہ ہیں ۔

2 ۔ بہت سے مقا ما ت پر ا صل ا حا دیث میں الفا ظ کا اضا فہ کر دیا گیا ہے۔

3 ۔ بعض مو ضوع یا ضعیف روا یا ت صحیح بخاری یا بعض دوسری کتب حد یث کے حوا لے سے نقل کی گئی ہیں حا لا نکہ وہ روایا ت ان محو لہ کتب حد یث میں مو جو د ہی نہیں ہیں ۔

یا علم حد یث میں مہا رت ر کھنے وا لو ں کا یہی حا ل ہو تا ہے ؟ کہ انہیں صحیح اور مو ضوع حد یث کا بھی پتہ نہیں چلتا اور حد یث کے الفا ظ میں کمی بیشی کر نا بھی کیا علم حد یث میں کا مل مہا رت کی غمازی کرتا ہے ؟ نیز احادیث کا غلط انتسا ب بھی مہار ت فن حد یث کا کوئی حصہ ہے ؟

امور مذ کورہ با لا سے تو صا ف پتہ چلتا ہے کہ حنفی فقہاء علم حد یث سے کو رے تھے ۔اگر ہماری با ت پر اعتبار نہیں تو ہم حنفی علماء کی صرا حتیں بھی پیش کئے د یتے ہیں لیجئے سنیے:

1۔ملا علی قا ری حنفی لکھتے ہیں :

لاعبرة بنقل النها ية و لا ببقیة شراح الهدایة فإنھم لیسوا من المحدثین و لا اسندوا الحدیث إلی أحد من المخرجین

( ا لاسرار المر فوعہ فی ا لا خبار المو ضوعہ المعروف بہ موضوعات کبیر :ص 356 طبع جد ید بیرو ت؛ نہا یہ ؛ شر ح ہدا یہ )

اور د یگر شا ر حین ہدا یہ کی نقل کردہ روا یتو ں کا کو ئی اعتبار نہیں ، کیو نکہ ایک تو وہ محد ث نہیں ہیں اور دوسرے وہ روا یت کا ما خذ بھی بیا ن نہیں کر تے کہ کس محد ث نے اس روا یت کی تخر یج کی ہے ۔

2 ۔ شیخ عبد الحق محد ث دہلوی حنفی، ہدا یہ کے مصنف کے با رے میں لکھتے ہیں:

اگر حد یثے آ وردہ نزد محد ثین خا لی ازضعفے نہ ،غالباً اشتغا ل وقت آں استا ذ در علم حد یث کم تر بودہ است ۔ ( شر ح سفر السعا دۃ۔ ص 23 ۔ طبع منشی نو ل کشور لکھنؤ)

صا حب ہدا یہ ایسی ا حا دیث نقل کر تے ہیں جو محد ثین کے نز دیک ضعف سے خا لی نہیں ۔ غا لباً ان کو علم حد یث سے زیادہ اشتغا ل اور دل چسپی نہیں تھی ۔

3 ۔جنا ب عبد الحی حنفی لکھنوی فر ما تے ہیں :

إن الکتب الفقهیه و إن کانت معتبرة فی أنفسھا بحسب المسائل الفرعیة وکان مصنفوها أیضاً من المعتبرین و الفقهاء الکاملین لکن لا یعتمد علی الأحادیث المقولة فیھا اعتماداً کلیاً و لایجزم بورودھا وثبوتھا قطعاً بمجرد وقوعھا فیھا فکم من أحادیث ذکرت فی الکتب المعتبرة و هی مو ضو عة مختلفة ( مقد مہ عمد ۃ الر عا یۃ ص 13 تحت الدراسۃ الرا بعۃ )

یعنی فقہ کی کتا بیں اگر چہ فی نفسہ فروعی مسا ئل میں معتبر ہیں اور ان کے مصنفین بھی بلا شبہ معتبر اور فقہائے کا ملین میں سے ہیں، لیکن یہ فقہاء اپنی کتا بو ں میں جو حد یثیں نقل کر تے ہیں ، ان پر کلی اعتما د نہیں کیا جا سکتا اور محض ان کتا بو ں میں کسی حد یث کا و جود اس کے ورود و ثبو ت کے لئے کا فی نہیں ، کیو نکہ کتنی ہی ا حا دیث ہیں جو ( فقہ حنفیہ ) معتبر کتا بو ں میں در ج ہیں لیکن وہ مو ضو ع ( گھڑی ہو ئی ) ہیں۔

تبصرہ کریں