
آج کی نشست میں چند فتاوی کا ترجمہ پیش خدمت ہے جو یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کے 34 ویں اجلاس منعقده استانبول (11۔16۱۱ نومبر 23) میں زیر بحث رہے۔ کاتب سطور بحیثیت صدر کونسل اس اجلاس میں حاضر رہا۔
ہر فتویٰ کے آخری صاحب فتوی کا نام مزید حروف میں دیا گیا ہے جس کی تفصیل یوں ہے :
ص ح : صہیب حسن
خ ح : خالد حنفی
ع ق: علی قرہ داغی
بیمہ والی کمپنی میں جاب کرنے کا حکم
سوال: میں شادی شدہ ہوں ، اکاؤنٹس کا ڈگری ہولڈر ہوں ۔ ایک سال قبل کام کی تلاش میں کینیڈا آنا ہوا۔ ایک کمپنی سے بات طے ہو گئی کہ میں ان کا مالی معاملات میں ایڈوائزر کی حیثیت سے کام کروں گا اور وہ مجھے ٹریننگ بھی دیں گے ، کام کے دوران مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ مالی معاملات میں زندگی کے بیمہ کے حالات بھی شامل ہیں۔ یعنی لوگوں کے مال کی انویسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ مذکورہ معا ہدے بھی کرانا ہوں گے۔ اب میں مترود ہوں کہ آیا یہ کام جائز ہے یا نہیں کہ اس کام کا ایک جز و زندگی کے بیمہ کے معاہدے بھی کرانا ہے ؟
جواب: جہاں تک زندگی کے بیمہ کا تعلق ہے تو تمام فقہی اکیڈمیاں اس معاملے کونا جائز قرار دیتی ہیں، خاص طور پر کہ جیسے مغربی ممالک میں ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔ آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں، اس کی مصروفیات عمل مختلط کی نوعیت کی ہیں ۔ یعنی زيادة تر ایسی مصروفیات ہیں جو کہ جائز ہیں لیکن ان کا ایک جزو حرام بھی ہے ۔ اور ایسا کام کہ جس کی آمدنی میں اختلاط حلال و حرام ہو، اس میں شبہ تو پایا جاتا ہے لیکن اُسے مطلق حرام قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیار مغرب میں ایسے کام بہت کم ملیں گے جو حرام اور شبہات سے بالکل خالی ہوں ، اس لیے آپ کے لئے وہاں کام کرنا جائز ہوگا ۔ ( خ ح)
(اضافہ از مترجم : جس کام میں حرام کی قلیل آمیزش ہو وہاں کام کرنے والے کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی آمدنی میں سے ایک قلیل حصہ بطور صدقہ دیتا رہے اور اس کی بنیاد وہ حدیث ہے کہ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے تجار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے تاجرو ! تمہاری اس خرید و فروخت میں بہت سی لغویات (یعنی جھوٹی قسمیں شامل ہیں تو اسے صدقہ سے ملاتے رہو ۔‘‘(ص ح)
مُردہ اجسام کی تصویر بنانے کا حکم
سوال: میں یورپ کے ایک ملک میں مقیم ہوں ، ان دنوں ایک تحقیقی مضمون ترتیب دے رہے ہوں، جس میں اسلامی فرقوں کی اس موضوع پر آراء کو بیان کیا جائے گا کہ مُردہ اجسام کی تصاویرکو چا ہے وہ عام حالت میں ہوں یا انتہائی بھیانک حالت میں، انہیں میڈیا یا فلمی اغراض کی خاطر استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی تکریم کا ذکر کیا ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ (سورۃ الاسراء: 70)
’’اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت عطا کی ہے۔‘‘
اس لیے ہر وہ طریقہ کہ جس سے ان کی تذلیل مراد ہو نا جائز ہے اور اس ضمن میں مردہ اجسام کی تصاویر بھی آجاتی ہیں، چاہے وہ عام تصاویر ہوں یا ان کے کٹے پھٹے جسم کی تصاویر ہوں ، ان کی مارکیٹنگ کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ کسی ضرورت کی بنا پر کیا جائے جیسے کسی طبی مقصد کی بنا پر ، یا کسی جرم کی تفتیش کرنا مراد ہو۔
خواتین کے لباس کے بارے شرعی حکم
سؤال : میں برطانیہ میں مقیم ہوں ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا مسلم خواتین ایسا لباس پہن سکتی ہیں، جس میں ڈیزائن کے طور پر نقطے ہی نقطے ہوں ۔ ایسے ملبوسات کو POLKA سے تعبیر کیا جاتا ہے ، مثلاً میں یا کوئی اور خاتون ایسا عبایہ پہنتی ہے جس پر چھوٹے بڑے نقطوں (DOTS) کی بھرما رہو۔ ایسا لباس یقینی طور پرجاذب نظر ہو گا !!
جواب: ایک مسلم خاتون کے لئے ضروری ہے کہ وہ سوائے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے سارے بدن کو ڈھانپے ، لبا س کےلئے شرعی چند شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ جن میں سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ تنگ اور چست نہ ہو، بہت ہی باریک نہ ہو کہ جس سے جسم چھلکتا ہو اور نہ ہی اس پر اتنے نقش ونگار ہوں کہ وہ لوگوں کی توجہ کا باعث بنے۔
سورة النور میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ﴾ (سورۃ النور: 31) ’’اور وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں الا کہ وہ خود بخود ظاہر ہوتی ہو۔‘‘
اور اس کا تعلق ہر قوم اور ملک کے رہن سہن اور عُرف عام سے بھی ہے ، یعنی ہوسکتا ہے کہ کہیں بھڑکیلے لباسوں کا عام رواج ہو کہ جس کی بنا پر انہیں جاذب نظرنہ سمجھا جائے لیکن وہی لبا س کسی دوسرے ملک کے رواج کے مطابق جاذب نظر قرار دیا جائے اور اس وضاحت کی روشنی میں مذکوره لباس نا جائز نہ ہوگا۔
(اضافہ : سورۃ النور کی آیت ” ماظهر منها ” کے مفہوم میں دو رائیں پائی جاتی ہیں ۔ یعنی ایک تو یہ کہ اس سے مراد چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں جو کہ جمہور کی رائے ہے اور دوسری یہ کہ چہرہ مکمل ڈھانپا جائے یعنی نقاب پہنا جائے اور اس انداز سے پہنا جائے کہ خاتون راستہ دیکھ سکے۔
شیخ محمد ناصر الدین البانی نے پہلی صورت کو جائز اور دوسری صورت کو افضل قرار دیا ہے ۔ ) (ص ح)
کیا مرد کو خصی کیا جا سکتا ہے؟
سؤال : میری بیوی دس سال سے ہر نیا کی مریض ہے، ایک دفعہ بطور علاج پیٹ کا آپریشن کرایا تھا لیکن ہرنیا اور بڑھ گیا تو دوسری مرتبہ پھر آپریشن کرانا پڑا۔ ساتھ ساتھ وہ انیمیا (خون کی کمی ) کابھی شکار ہے ۔ گویا وہ مزید حمل کی متحمل نہیں ہو سکتی ، تو آیا میں اس کی خاطر مزید حمل روکنے کے لئے اپنا آپریشن کروا سکتا ہوں ؟
جواب: آپ کے سوال کی نوعیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ شوہر کو بانجھ کر دیا جائے تا کہ بیوی کو آئندہ حمل سے بچایا جا سکے ، مرد کا علاج یوں کیا جا سکتا ہے کہ یا تو وہ ایسی دوا لے جس سے اس کا مادہ منویہ ضائع ہو جائے یا مادہ منویہ پر مشتمل رگ کو باندھ دیا جائے۔
اصولی طور پر ایک مرد کو بانجھ کر دینا نا جائز ہے، چاہے اس کی پہلے سے اولاد ہویا نہ ہو ۔ یہ بات اللہ کی حکمت کے منافی ہے کہ وہی مرد و عورت کا خالق ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے آپ کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ میں نوجوان ہوں ، اپنے آپ پر قابو پانا مشکل معلوم ہوتا ہے اور میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ میں شادی کر سکوں؟
اللہ کے رسول خاموش رہے ، میں نے پھر اپنی بات دھرائی تو پھر بھی خاموش رہے، پھر تیسری مرتبہ میں نے یہیں سوال کیا تو پھر بھی خاموش رہے ۔میں نے پھر وہی بات دھرائی تو کہا : اے ابو ہریرہ! جو تمہیں ملنے والا ہے وہ ( لکھا جا چکا ہے اور یہ لکھے جانے والا) قلم خشک ہو چکا ہے ، اب چا ہے تم اپنے آپ کو خصی کراؤ یا نہ کر اؤ !
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کا شوہر کے لئے اپنے آپ کو بانجھ کروانا ناجائز ہے، البتہ عورت مجبوری کی بنا پر اپنے رحم کو نکلوا سکتی ہے اور وہ بھی جب کہ منع حمل کے دوسرے علاج میسر نہ ہوں ۔ یا یہ کہ مرد عارضی طور پر ایسی کوئی صورت اختیار کرے کے جس سے حمل نہ ہو، مستقل طور پر اپنی قوت پیدائش کو ضائع کرنا مطلوب نہ ہو ۔ (خ ح)
باپ بچوں کی کفالت کی ذمہ دار
سوال: میں بلجیئم میں رہائش پذیر ہوں ، کافی عرصہ سے میری طلاق ہو چکی ہے، میں اپنے دونوں بچوں کی کفالت کر رہا ہوں لیکن عورت کے برے اطوار، شراب پینا اور مختلف انواع کے سگرٹ کا استعمال کرنا مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں عدالت کے ذریعے بچوں کی پرورش (حضانت) اپنے ذمہ لوں ۔ مقامی قانون کے مطابق اگر بچے مرد کے پاس رہائش پذیر ہوں تو وہ عورت سے بچوں کی نگہداشت کا خرچ (نان و نفقہ) طلب کر سکتا ہے ۔ اور اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ایک خاص محکمہ خرچ کا تعین کرتا ہے، اور پھر عورت کو بتایا جاتا ہے کہ اس نے اتنی رقم بچوں کے والد کو ادا کرنی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں ایسا مطالبہ کرتا ہوں تو کیا میں گناہ گا رہوں گا ، مقامی قانون یہی ہے کہ بچے والدین میں سے جسکے پاس بھی رہیں گے تو دوسری پارٹی کو ان کا نان و نفقہ ادا کرنا ہوگا ۔ اب اس عورت نے بچوں سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ تمہارا باپ نا حق میرا مال کھانا چاہ رہا ہے کیونکہ وہ مجھ سے ان کا خرچ مانگ رہا ہے؟
جواب: شرع کے اعتبار سے باپ ہی بچوں کے نان نفقہ کا پابند ہے ، اس کی مطلقہ بیوی کو یا کسی اور شخص کو اس کے دینے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔ جیسے انسان اپنے اوپر خرچ کرنے کا ذمہ دار ہے ایسے ہی اپنی اولاد پر بھی خرچ کرنے کا ذمہ دار بنایا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (سورۃ البقرہ: آیت نمبر 233)
اور جس کی اولاد ہےو ہی ان کا روٹی کپڑا عام رواج کے مطابق دینے کا پابند ہے ۔
اور وہ یہ خرچ اس وقت تک دیتا رہے گا جب تک کہ لڑکا خود کمانے نہ لگ جائے اور اگر بیٹی ہے تو وہ جب تک شادی نہ کر لے۔
اصولی بات یہی ہے کہ طلاق کے بعد بچہ ایک خاص عمر تک ماں ہی کے پاس رہے گا، اور اس مدت کے دوران جسے مدت حضانت یا تربیت کہا جاتا ہے ، باپ ہی کو تمام اخراجات کا پابند بنایا جائے گا، چاہے بچہ ماں کے پاس ہو یا باپ کے۔ اس لئے باپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ماں سے خرچ کا مطالبہ کرے ، چاہے عدالت ہی نے اس کا حکم دیا ہو ؟ یعنی اگر وہ اخراجات اٹھانے پر قادر ہو تو اسے ہر صورت بچوں کی نگہداشت کا سارا خرچ برداشت کرنا پڑے گا ۔ (خ ح)
فوریکس کاروبار کا حکم
سوال: میں مستقبل کی خرید و فروخت کے سودے کا کاروبار کرنا چاہتا ہوں، جس میں سونے، چاندی اور تیل (پٹرول) شامل ہیں، فوریکس کا کاروبار بھی کر رہا ہوں لیکن چند دن قبل مجھ پر انکشاف ہوا کہ فوریکس کا روبار ناجائز ہے۔ میں نے تحقیق کرنا شروع کی تو متضاد فتاویٰ سامنے آئے ۔ چند علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں تو اکثر اسے حرام کہتے ہیں ، اس لیے مجھے ایک واضح جواب مطلوب ہے ، اور CFD کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟
جواب: سونے، چاندی اور بنک نوٹ کا کاروبار کرنا اسی وقت حلال متصور ہوگا، جب کہ وہ ہاتھ میں آجائیں (یعنی قبضہ ہو جائے ) ۔ اس پر علماء کا اجماع ہے، فقہی مجالس نے رجسٹر میں تحریر کو ہاتھ کے قبضے کی مانند قرار دیا ہے۔ یعنی اس کی رسید آپ کے پاس آجائے ۔ اس لیے سونے اور چاندی کے مستقبل کے سودے ناجائز ہیں۔ تیل اور ایسے ہی دوسری اشیاء کے مستقبل کے سودے اس وقت جائز متصورہوں کے جب کہ ان کے ارکان اور شروط پائے جائیں گے ، لیکن اگر قیمت اور مبیع دونوں ہی ادھار ہوں تو ایسا عقد نا جائز ہوگا۔ ایسا عقد مستقبليات ( فیوچر) کے ضمن میں آجاتا ہے، جس کی حرمت کے بارے میں تمام فقہی مجالس متفق ہیں ۔ اور جہاں تک سونے چاندی اور مختلف کرنسیوں کا بطور فوریکس کاروبار ہے تو وہ بھی فقہی مجالس نے کئی اسباب کی بنا پر حرام قرار دیا ہے۔
اور جہاں تک CFDکے ذریعے کاروبار کرنا ہے تو یہ کاروبار مضاربت اور اس سے ملتے جلتے عقود کے ذریعے قیمتوں کے فرق پر مبنی ہوتا ہے کہ جس میں کاروباری کے پاس اصل زر کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لئے یہ عقد بھی حرام ہے ، اس عقد میں شرعی ضابطوں اور شروط کی پابندی نہیں کی جاتی ۔ (ع ق)
کینسر کے مریض کو درد کے لیے مورفین دینا
سوال: میں جرمنی میں طبیب کی حیثیت سے کام کرتا ہوں ، خون اور سرطان کا علاج کرتا ہوں۔دیکھا گیا ہے کہ سرطان (کینسر) کے مریض آخری مرحلے میں شدید تنفس کی کمی اور دردوں کے شکار ہو جاتے ہیں ، اسی حالت میں صرف درد کی کمی کے لئے انہیں مورفین دی جاتی ہے ، ڈاکٹر اس مخمصہ کا شکار رہتے ہیں کہ آیا انہیں مورفین کی اونچی مقدار دی جائے یا نہ، کیونکہ اونچی مقدار سے ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: اگر غلبہ ظن یہ ہو کہ اتنی مقدار مریض کی وفات کا باعث نہیں بنے گی تو کینسر کے درد کی تخفیف کے لئے اونچی مقدار دی جاسکتی ہے، لیکن اگر آپ کا گمان غالب ہو کہ اسے موت واقع ہو جائے گی تو ایسا کرنا ناجائز ہے ، چاہے مریض یا اس کے لواحقین کا اصرار ہو کہ یہ دوا دی جائے ، وہ اس لئے کہ یہ ایک شخص کی جان بوجھ کر جان لینا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ﴾ (سورۃ الانعام : 151)
’’اور جس نفس کا قتل کرنا حرام ہو تو ا سے ناحق قتل نہ کرو۔‘‘
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ
مریض کی حالت کیسی بھی ہو ، اس کی جان لینا حرام ہے، اور جو ڈاکٹر یسا کرتا ہے تو وہ قاتل عمد ( جان بوجھ کر قتل کرنے والا) کہلائے گا ایسے ہی قتل کو قتل بربنائے رحمت EUTHANASIA کہا جاتا ہے۔
(ع ق)
تبصرہ کریں