
حا فظ ابو الفضل محمد بن طا ہر المقدسی ( ف 507ھ ) نے حماد بن سلمہ کی صحیح بخاری میں روا یت کے بارے میں فر ما یا :
” لم یخر ج عنه معتمداً علیه، بل استشهد به فی مواضع لیبین انه ثقة.”
’’ آ پ یعنی امام بخاری نے ان سے بطور اعتماد روا یت نہیں لی بلکہ کچھ مقا ما ت پر ان سے استشہاد کیا ( یعنی بطور شواہد روا یا ت لیں) تا کہ یہ وا ضح کر دیں کہ وہ ثقہ ہیں ۔) ( شرو ط ا لآ ئمہ الستہ: ص 18)
دوسرے دلا ئل کو مد نظر ر کھتے ہو ئے اس حوا لے سے یہ ا صو ل ثا بت ہوا کہ اما م بخاری نے جس راوی سے اپنی صحیح بخاری میں روا یت لی اور اس پر جر ح نہ کی تو وہ ان کے نز د یک ثقہ یا صدوق راوی ہو تا ہے لہٰذا محمد بن اسحاق سے اما م بخاری کا صحیح بخار ی میں روایت لینا ان کی طرف سے محمد بن اسحاق بن یسار کی تو ثیق ہے ۔( نیز د یکھئے جز ء القرأۃ خلف الا ما م للبخاری (بتحقیق ز بیر علی ز ئی، ص 142۔148)
اما م بخاری نے محمد بن اسحاق کی بیا ن کردہ ایک حد یث کے با رے میں فر ما یا : حد یث محمد اسحاق عن الصلت بن عبد اللہ بن نو فل حد یث حسن صحیح (سنن التر مذی : 1742 ۔قلمی نسخہ ص 121 جلد 1 ۔ تحفۃ ا لا حو ذی جلد 3 ص 52 ، العرف الشذی جلد 1ص 304 ، دوسرا نسخہ جلد 1 ص 207 )
اس سے صا ف ثا بت ہو گیا کہ اما م بخاری، محمد بن اسحاق کو ثقہ و صدوق سمجھتے تھے غا لباً یہی وجہ ہے کہ زیلعی حنفی نے ابن اسحاق کے بارے میں کہا :
“الأکثر علی تو ثیقه، و ممن و ثقه البخاری. و اللہ أعلم .” ( نصب الرایہ: 4؍ 7)
’’اکثر نے ابن اسحاق کی تو ثیق کی ہے اور ان کے موثقین میں سے بخاری بھی ہیں و اللہ اعلم ۔‘‘
4 ۔اما م مسلم بن الحجا ج النیسا بوری نے بھی صحیح مسلم میں ابن اسحاق سے روایا ت ( شوا ہد و متا بعا ت میں ) بیان کیں د یکھئے صحیح مسلم ( 480( تر قیم دار السلا م، 1080 )، 873 ( 2015)،1199 ( 2875 )، 1656 ( 4297 )، 1703 ( 4446)۔ معلو م ہوا کہ اما م مسلم کے نز دیک ابن اسحاق ثقہ و صدوق تھے ۔
5 ۔ اما م ا حمد بن عبد اللہ بن صا لح العجلی نے فر ما یا : محمد بن اسحاق مد نی ثقہ ( محمد بن اسحاق مد نی ثقہ ہیں)۔ (معرفۃ الثقا ت التا ریخ : 1571 ، دوسرا نسخہ 1433 ، تا ریخ بغداد :جلد 1 ص 231)
6۔ اما م علی بن عبد اللہ المد ینی نے فر ما یا :
“ابن اسحاق عندی ثقة و لم یضعه عندی إلا روایته عن أهل الکتاب.”
’’میرے نز دیک ابن اسحاق ثقہ ہیں اور میرے نزدیک انہیں نیچے نہیں گرا یا مگر اہل کتا ب سے روایت نے۔‘‘ ( کتا ب القرأۃ خلف الا ما م للبہیقی ، قلمی نسخہ ، احمد الثا لث ص 19 ۔ دوسرا قلمی نسخہ ص 15 ۔ اب ۔ و سندہ صحیح مطبوعہ بحا شیۃ محمد السعید بن بسیو نی زغلو ل: ص 58 ، ح 114 ۔ و سقط منہ بعضہ ، تہذ یب التہذ یب مطبوعہ دا ئرۃ المعا رف حیدر آباد دکن: 9؍ 45 ، دوسرا نسخہ مطبوعہ دار الفکر : 9؍ 39 )
سر فراز خان صفدر ا ن نے اس عبارت کو نقل کر نے میں دو بڑی خیا نتو ں کا ارتکا ب کیا ہے :
او ل : عندی ثقہ ( وہ میرے نز د یک ثقہ ہیں ) کے الفاظ نقل نہیں کئے بلکہ حذ ف کر دئیے ہیں ( د یکھئے احسن الکلا م طبع جد ید: 2؍ 79 ۔ قدیم طبع: 2 ؍ 72 )
دو م : لم یضعه ( نیچے نہیں گرا یا، کو لم یضعفہ کر دیا اور تر جمہ لکھا : میرے نز دیک ابن اسحاق کو صرف اس با ت نے ضعیف کر دیا کہ وہ یہود اور نصاری سے روا یتیں لے لے کر بیا ن کر تا ہے۔ (احسن الکلا م طبع قدیم : 2؍ 72 ؛ طبع جد ید: 2؍ 79؛ بحوا لہ تہذ یب: 9؍ 45)
جس شخص کے دل میں ذرا بھی انصا ف ہو ، وہ اس حرکت کو یہو دیا نہ تحریف کے سوا کچھ بھی قرار نہیں دے سکتا ۔
یاد رہے کہ نیچے گرا نے سے مراد اعلی در جے کے ثقہ متقن سے نیچے ثقہ و صدوق یعنی صحیح الحد یث کے درجے سے نیچے حسن الحد یث کے در جے پر فا ئز قرار دینا ہے جیسا کہ ثقہ اور صا لح وسط کے الفا ظ سے ظا ہر ہے ۔
اہل کتا ب ( یہود و نصاری ) سے روا یت کا مطلب یہ ہے کہ مد ینے میں جو یہودی مسلما ن ہو گئے تھے تو ان کی مسلما ن او لاد سے ابن اسحاق نے روا یتیں لیں جیسا کہ ابن اسحاق کے شیو خ کے نا مو ں سے ثا بت ہے۔
امیر المو منین فی الحد یث اما م بخاری نے فر ما یا :
” رأیت علی بن عبد اللہ المد ینة یحتج بحدیث ابن اسحاق.”
’’میں نے علی بن عبد اللہ المد ینی کو د یکھا ، وہ (محمد ) بن اسحاق ( بن یسار ) کی حد یث کو حجت سمجھتے تھے )۔
(کتاب القرأۃ بتحقیق زبیر علی ز ئی :ص 190 ، ح 142)
محمد بن عثما ن بن ابی شیبہ ( صدوق و ثقہ الجمہور ) نے امام ابن المد ینی سے محمد بن اسحاق کے با رے میں پوچھا تو انہو ں نے فر ما یا :
“هو صالح وسط.” وہ صا لح وسط ( یعنی حسن الحد یث ) ہیں ( سوا لا ت محمد بن عثما ن بن ابی شیبہ :83 )
اما م ابن المد ینی نے بتا یا کہ سندو ں کا دارو مدار چھ آدمیو ں پر ہے ۔ ابن شہا ب زہر ی ، عمر و بن دینار ، قتادہ ، یحی بن ابی کثیر ، ابو اسحاق السبیعی اور سلیما ن الاعمش پھر انہو ں نے ان چھ کے اہم شا گر دوں میں اما م ما لک اور محمد بن اسحاق و غیر ھما کا ذکر کیا ۔(د یکھئے کتاب العلل لا بن المد ینی: ص 39 ۔40 یعنی ص1۔2)
7 ۔ اما م تر مذی نے ( سنن تر مذی میں ) احکا م و عقا ید وغیر ھما میں ابن اسحاق کی بیا ن کردہ روا یتو ں کو حسن اور صحیح قرار دیا ، جس کی تفصیل در ج ذیل ہے
حسن غر یب : 9 ، 58 ، 291 ، 1198 ، 1692 ، 1824، 2314، 3 247، 2476 ، 32 27 ، 2832 ، 3181، 3528، 3619، 3817، 3737۔ ( 16 روا یا ت)
حسن صحیح : 23 ، 115 ، 154، 189، 308 ، 308، 398، 526، 543 ، 1267، 1497، 1637، 3045، 3166 ۔( 3 1 روا یا ت )
حسن : 311 ، 645، 1028، 2821۔ ( 4 روا یا ت )
حسن صحیح غر یب : 2541 ، 3632، 3738 ۔( 3 روایات )
حسن غریب صحیح ۔ 3097
کل روا یا ت : 37
ان میں سے بہت سی روا یا ت ا حکا م میں اور بعض عقائد میں ( مثلاً صفۃ الجنۃ : 2541 ) میں ہیں ۔ فا تحہ خلف الا ما م وا لی حد یث ، جس کی و جہ سے سر فراز خا ن صفدر نے محمد بن اسحاق پر جر ح کی ، احکا م وا لی اس حدیث کے با رے میں اما م تر مذی نے فر ما یا : حد یث حسن ( 311 )۔ معلو م ہوا کہ اما م تر مذی کے نز دیک محمد بن اسحاق ثقہ تھے ۔لہٰذا سر فراز خا ن کا امام تر مذی کو ان کے جا ر حین میں شمار کر نا با طل اور تلبیس ہے۔
فا ئدہ : اما م تر مذی نے عمر و بن بجدا ن راوی کی حد یث کو حسن ( صحیح ) کہا ۔ اس کے با رے میں تقی الدین (ابن دقیق العید ) نے ا لاِما م ( نا می کتا ب ) میں کہا :
وأی فرق بین أن یقول: هو ثقة أو یصحح له حدیث انفرد به.”
( اس میں کیا فرق ہے کہ وہ اسے ثقہ کہیں یا اس کی انفرادی حد یث کی تصحیح کی جا ئے )۔ ( نصب الرا یہ للز یلعی: 1 ؍ 149)
ابن القطا ن الفا سی المغر بی نے زینب بنت کعب اور سعد بن اسحاق کے با رے میں لکھا :
و فی تصحیح الترمذی إیاہ توثیقھا و توثیق سعد بن اسحاق۔
’’اور تر مذی کی طرف سے اس حد یث کی تصحیح میں اس کی اور سعد بن اسحاق کی تو ثیق ہے۔‘‘ ( بیا ن الوہم والایہام: 5 ؍ 395 ح 2562؛ نصب الرا یہ : 3؍ 26)
معلو م ہوا کہ جب کو ئی عا لم کسی حد یث کو صحیح قرار دیتا ہے تو یہ اس کی طرف سے اس حد یث کے ہر راوی کی تو ثیق ہو تی ہے ، الا یہ کہ کو ئی صریح دلیل اس کی تخصیص کر دے ۔
8 ۔ محمد بن سعد بن منیع نے ابن اسحاق کے بارے میں کہا : وکان محمد ثقة وقد روی الناس عنه … ومن الناس من تکلم فیه.
( اور محمد ( بن اسحاق ) ثقہ تھے اورلو گو ں نے ان سے روا یت بیا ن کی ۔۔ اور لو گو ں میں سے بعض نے ان پر کلا م کیا۔) (طبقا ت ابن سعد: 7؍321۔322)
9 ۔ حافظ ابن حبا ن نے محمد بن اسحاق کو کتاب الثقا ت میں ذکر کیااور فر ما یا: “فأما إذا بین السماع فیما یرویه فھو ثبت یحتج بروایته.” ( پس اگر وہ اپنی روا یت میں سماع کی صریح بیا ن کریں تو وہ ثقہ ہیں ،ان کی روایت سے حجت پکڑی جا تی ہے۔) (کتا ب الثقا ت: 7؍383۔394)
صحیح ابن حبا ن میں مو سسۃ الرسا لہ کی تر قیم کے مطا بق محمد بن اسحاق بن یسار کی 79 روا یا ت مو جود ہیں۔ (دیکھئے جلد 8 1 ص 221۔222) ۔ نیز د یکھئے مشا ہیر علماء ا لا مصار۔ ص 139
10 ۔ اما م محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے محمد ابن اسحاق کے بارے میں فر ما یا :
إذا حدّث عمّن سمع منه من المعروفین فهو حسن الحدیث صدوق، وإنما أوتی من أنه یحدث عن المجهولین أحادیث باطلة.
’’ جب وہ مشہور راویو ں سے حد یث بیا ن کر یں جن سے سنا تھا تو وہ حسن الحد یث صدوق ہیں ، اور جب مجہول لو گو ں سے حد یثیں بیا ن کر تے ہیں تو وہ با طل حد یثیں ہیں ۔‘‘ ( تا ر یخ بغداد: 1؍ 227 و سندہ صحیح )
اس قو ل کو سر فراز خا ن نے بغدادی جلد 1 ص 227 (تا ریخ بغداد ) سے در ج ذیل الفا ظ کے سا تھ نقل کیا ہے :
ابن نمیر کہتے ہیں کہ وہ مجہو ل روات سے با طل روایات نقل کر تا ہے۔ ( احسن الکلا م : 2؍ 70 طبع دوم)
یہ صریح تصریف ہے ، جس کا سر فراز خا ن صفدر کو بعد میں احسا س ہوا تو در ج ذیل الفا ظ لکھے :
ابن نمیر یہ کہنے کے بعد بھی کہ جب وہ معرو ف راویوں سے روایت کر ے تو حسن الحد یث اور صدوق ہے یہ بھی تصریح فر ما تے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ مجہو ل روات سے با طل روا یا ت نقل کر تا ہے۔ (احسن الکلام ، طبع دہم جو ن 2006ء : 2؍ 78 )
عر ض ہے کہ حسن الحد یث صدوق کے سا تھ سر فراز کی جر ح با طل ہو گئی اور مجہو ل راویو ں سے با طل روایات بیا ن کر نا راوی پر جر ح نہیں بلکہ یہ مجہو ل راویوں کا قصور ہے اور مجہو ل راویو ں پر ہی جر ح ہے ۔ معلو م ہوا کہ اما م نمیر کو سر فراز خا ن کا محمد بن اسحاق کے جا ر حین میں ذکر کر نا غلط ہے۔
تبصرہ کریں