حکمرانوں کی سمع واطاعت۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بعیجان

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لیے ہے، اسی نے اپنے دین کو رحمت، وحدت اور اجتماعیت کا دین بنایا ہے، پھر نجات اسی کے لیے مختص کی ہے جو شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور فرمان بردار بنے۔ اسی نے مسلمانوں کو وحدت، اس کے دین کو مضبوطی سے تھامنے اور اس کی پیروی کرنے کا حکم دیا، انہیں اختلاف، تفرقہ بازی اور جھگڑوں سے منع فرمایا۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ ﷺ نے پیغام پہنچایا، امانت ادا کی، امت کو نصیحت کی، اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ وہ رفیق اعلیٰ سے جا ملے۔ اللہ آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور ان کے صحابہ پر رحمتیں نازل فرمائے اور ان لوگوں پر بھی نازل فرمائے جو قیامت تک احسان کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

بعدازاں!

اے اللہ کے بندو! میں تمہیں تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہی دنیا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 102)

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (سورۃ الأحزاب: 70-71)

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، وہ تمہارے اعمال کو سنوار دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو بے شک اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘

اے لوگو! حکمرانی ایک ایسا اصول ہے جس پر ہماری ملتِ محمدیہ کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں، جس کے ذریعے امت کے مفادات منظم ہوتے ہیں، اور شرعی احکام کی تعمیل ہوتی ہے۔ اللہ نے ہر امت کے لیے ایک امام مقرر کیا ہے جسے ریاست کے انتظامات سونپے ہیں، جس پر لوگوں کے معاملات چلانے کی ذمہ داری ڈالی ہے، پھر اس پر عدل واجب کیا ہے، اور اس کی بات سننا اور فرمان برداری کرنا رعایا پر لازم کیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (سورۃ النساء: 59)

’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر (حکام) کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بہت اچھا ہے۔‘‘

سیدنا عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں انتہائی شاندار نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور دل کانپ اٹھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ، یہ تو الوداعی نصیحت معلوم ہوتی ہے، ہمیں کچھ وصیت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«أُوصِيكم بتقوى الله والسمع والطاعة، فإنه من يعِش منكم بعد يرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسنَّتي وسنَّة الخلفاء الراشدين المهديين، عضُّوا عليها بالنواجِذ، وإياكم ومُحدثات الأمور، فإن كل مُحدثةٍ بِدعَة، وإن كل بِدعةٍ ضلالة» (مسند أحمد: 17142، جامع ترمذی: 2676).

’’میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، حکمران کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ کیونکہ تم میں سے جو بھی میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا۔ تم میری سنت اور ہدایت یافتہ، راست باز خلفاء کی سنت پر قائم رہنا، اسے مضبوطی سے تھام لینا۔ نئے امور سے بچنا، کیونکہ ہر نئی عبادت بدعت ہوتی ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

اے اللہ کے بندو! مخلوق میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے حالات درست نہیں ہو سکتے، نہ ان کی زندگی سدھر سکتی ہے جب تک کہ ان کے درمیان ایسا حکمران موجود نہ ہو جو ان کے معاملات چلائے، ان کے امور کو منظم کرے، اور ان کے حقوق کی حفاظت کرے۔ اسی سے عزتیں محفوظ رہتی ہیں، خون ریزی کی حرمت برقرار رہتی ہے، حدود قائم ہوتی ہیں، دین کی حفاظت ہوتی ہے، وہ ان میں عدل قائم کرتا ہے، ظلم کو دور کرتا ہے، اس کی موجودگی میں خوف زدہ شخص امن پاتا ہے، کمزور کو قوت ملتی ہے، ظالم رک جاتا ہے، وہ انارکی کو روکتا ہے، زمین کی حفاظت کرتا ہے، اور ان کو متحد کرتا ہے۔

إن الجماعةَ حبلُ الله فاعتصِمُوا منه بعُروتِه الوُثقَى لمن دانَا كم يدفعُ الله بالسلطان معضِلةً في دينِنا رحمةً منه ودُنيانا

’’بے شک، جماعت اللہ کی رسی ہے، تو تم اس کی مضبوط کڑی کو تھام لو جو اس نے ان لوگوں کے لیے رکھی جو اس کا قرب چاہتے ہیں، کتنی مشکلات کو اللہ حکمران کے ذریعے دور فرماتا ہے، یہ ہمارے دین اور دنیا دونوں کے لیے اس کی رحمت ہے۔‘‘

اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حکمرانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ رعایا کے حوالے سے ان پر عائد ہونے والی ذمہ داری کو ادا کریں اور عدل کے ساتھ حکمرانی کریں، اسی طرح رعایا کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کا حکم سنیں اور اطاعت کریں، جو کچھ بھی وہ انہیں حکم دیں یا جس چیز سے بھی وہ انہیں منع کریں، مانتے رہیں جب تک کہ وہ خالق کی نافرمانی کا نہ کہیں۔ ان کی اطاعت ہی میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے، ان کی نافرمانی میں دین اور دنیا کا بگاڑ ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«السمعُ والطاعةُ على المرءِ المسلم فيما أحبَّ وكره ما لم يُؤمر بمعصية» (صحیح بخاری: 7144)

’’ہر مسلمان پر حکمران کی بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے، چاہے وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک کہ اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے۔‘‘

آگاہ رہو کہ حکمرانوں کے ساتھ رعایا کا ایک عہد اور بیعت ہوتی ہے جس کو توڑنے، نظر اندارز کرنے، اس میں خیانت کرنے اور دغا دینے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ تو اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو، مسلمانوں کی اجتماعیت کو نہ توڑو، عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

«من خلَعَ يدًا من طاعَة لقيَ الله يوم القيامة لا حُجَّة له، ومن ماتَ وليس في عنقِه بيعة ماتَ ميتةً جاهلية»

’’جو شخص حکمران کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے، وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی، جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔‘‘(صحیح مسلم: 1851)

میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے ۔

﴿وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ (سورۃ النحل: 91)

’’ اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرو، قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو، حالانکہ تم نے اللہ کو اپنے اوپر ضامن بنایا ہے۔ بے شک اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو‘‘

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکت عطا فرمائے، ان کی آیات اور حکمت بھری باتوں سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو واحد ہے، درود و سلام ہوں ختم النبیین پر، اور آپ ﷺ کی آل اور صحابہ پر۔

اللہ کے بندو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملات کو ایک دین، ایک رسول، ایک کتاب، اور ایک قبلہ پر جمع کیا ہے، تمہیں وحدت اور اتفاق کا حکم دیا ہے، اختلاف اور تفرقے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ (سورۃ آل عمران: 103)

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘

وحدت اور اتحاد واتفاق تبھی مکمل ہو سکتے ہیں جب حکمران کی بات سنی اور مانی جائے، دین کے احکام تبھی قائم ہو سکتے ہیں جب حکمران کی بات سنی اور مانی جائے، امن بھی تبھی مستحکم ہوگا اور عدل بھی تبھی قائم ہوگا جب امام کی بات سنی اور مانی جائے گی، عزتیں تبھی محفوظ ہوں گی اور حدود کی حفاظت تبھی ہوگی جب امام کی بات سنی اور مانی جائے گی، ظالم تبھی رکے گا اور مظلوم کی مدد تبھی ہوگی، کمزور کو طاقتور سے انصاف تبھی ملے گا جب امام کی بات سنی اور مانی جائے گی، امت تبھی ترقی کرے گی جب امام کی بات سنی اور مانی جائے گی۔

تو اللہ سے ڈرو اور اپنے اتحاد واتفاق کی حفاظت کرو، اپنے حکمرانوں کی بات سنو اور مانو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ ناکام ہو جاؤ اور تمہاری طاقت چلی جائے، اپنے ملکوں اور امن کی فکر کرو، اور اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔

اے لوگو! فرقہ بندی اور اختلاف قوموں اور تہذیبوں کو تباہ کرنے کے بڑے مہلک وسائل ہیں، ماضی اور حال میں بڑی عبرت ہے، ان کے لیے جو سبق لینا چاہتے ہیں۔ فرقہ بندی اور اختلاف امت کے وجود کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور اس کے اتحاد کو کمزور کر دیتے ہیں۔ فرقہ بندی اور اختلاف انارکی کا راستہ، تباہی کا آلہ، فتنوں اور جنگوں کا ایندھن ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے، انہیں ناکامی اور کمزوری کے اسباب میں شمار کیا ہے، بلکہ انہیں عذاب کے اسباب میں بھی شمار کیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ﴾

’’ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘ (سورۃ الأنفال: 46)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتِ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ (سورۃ آل عمران: 105)

’’ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو تفرقے میں پڑ گئے اور اختلاف کرنے لگے بعد اس کے کہ ان کے پاس روشن نشانیاں آ چکیں، اور انہی کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘

دشمنوں کی طرف سے کی جانے والی سب سے بڑی جنگ اور فتنہ امت میں فتنہ اور اختلاف پیدا کرنا ہے، آگاہ رہو کہ ان کی مدد کرنا غداری، خیانت اور امانت کا ضیاع ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَن خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الجَمَاعَةَ فَمَاتَ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَن قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ، يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ، أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً، فَقُتِلَ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ» (صحیح مسلم: 1848)

’’جو شخص حکمران اطاعت چھوڑ دے اور جماعت سے علیحدہ ہو کر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو کسی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے، تعصب کی بنا پر غضبناک ہو جائے، تعصب کی طرف بلائے یا تعصب کی حمایت کرے اور اس کیلئے قتل ہو جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی، جو شخص میری امت پر حملہ کرے، اس کے نیک اور بد کو مارے، مؤمن کو بھی نہ چھوڑے اور کسی معاہد کے عہد کی پروا بھی نہ کرے، تو اس کا مجھ سے تعلق نہیں ہے۔‘‘

اے اللہ! مسلمانوں کے احوال کی اصلاح فرما، انہیں ان کے وطنوں میں امن عطا فرما، ان کے شیرازے کو جمع کر دے، ان کے کلمے کو حق پر متحد فرما، ان کے دلوں میں محبت پیدا فرما، ان کے آپس کے تعلقات کو درست کر دے۔ اے اللہ! انہیں ظاہر و باطن ہر قسم کے اختلاف اور فتنوں سے بچا، ان کے راستوں سے انارکی کے اسباب کو دور فرما اور انہیں امن و استحکام سے نواز دے۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے، ہم پر توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ اور ان کی آل اور تمام صحابہ پر درود و سلام نازل فرما۔

٭٭٭

مولانا حافظ محمد ادریس جنجوعہ وفات پاگئے

ایک ہی گھرانے میں خوشی اور غمی، شادی کے بعد گھر ماتم کدہ بن گیا۔ اللہ کریم جانے والوں کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے اور باقی ماندہ لوگوں کو بعافیت سلامت رکھے آمین۔سلو کے حافظ امجد جنجوعہ ڈڈلی کے آصف محمود زرگر جنجوعہ اور محمد عمر ڈ ڈلی کوٹلی گئے اور بھتیجے اور بھانجی سفیان شاہد جنجوعہ اور میمونہ امجد جنجوعہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ محمد عمر انکل کی زیر نگرانی یہ شادی انجام پائی۔ خطبۂ نکاح معروف خطیب و حافظ محمد ادریس جنجوعہ نے پڑھایا۔ جس میں بہت سے احباب واقارب شریک محفل تھے۔ سب نے زوجین اور ان کے والدین و اقرباء کو مبارکباد پیش کیں، پھر اچانک تیسرے دن مولانا حافظ محمد ادریس جنجوعہ اچانک وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

آزاد کشمیر اور پاکستان سے رشتہ داروں اور احباب وجماعتی لوگ شریک ہوئے۔ یہ کوٹلی کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ۔جو 55 سال کی عمر میں اچانک اللہ پاک سے جاملے۔ پسماندگان میں بیوی 5 فرزند اور ایک بیٹی سوگواروں میں شامل ہیں۔ مرحوم کے فرزند حافظ نعمان ادریس جنجوعہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ زاہد صراف جنجوعہ بھی شریک تھے۔ حافظ امجد کے ایک بھائی ساجد جنجو سلو میں ہیں اور عابد محمود جنجوعہ حج بیت اللہ کے لئے گئے ہوئے تھے۔ سب نے مرحوم بہنوئی کے لئے دعائے مغفرت کی۔ جامع مسجد ڈڈلی میں مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی نے حافظ اور یس کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھائی۔ ڈڈلی میں جنجوعہ برادری اور حاجی ذوالفقار قریشی، حاجی عبدالجبار قریشی، عبدالرحمن قریشی، مولانا شعیب احمد میر پوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا جمیل احمد عمری، ڈاکٹر عبدالرب ثاقب اور بہت سے حضرات نے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

سچ ہے کسی کا کند نگینہ پہ نام ہوتا ہے

کسی کی عمر کا لبریز جام ہوتا ہے

٭٭٭

تبصرہ کریں