
حدیث نمبر : 90
عَنْ أبي مسلمة – سعيد بن يزيد – قال : «سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ : نَعَمْ».[رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب الصلاة في النعال، برقم 386، بلفظه، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز الصلاة في النعلين، برقم 555]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
حضرت ابو مسلمہ سعید بن یزید سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے فرمایا:ہاں۔ (بخاری و مسلم)
حدیث کے بعض الفاظ کے معانی
1 : سَأَلْتُ : میں نےپوچھا۔
2 : كَانَ يُصَلِّیْ : نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
3: فِیْ نَعْلَيْهِ: اپنے دونوں جوتوں میں ۔
4 : نَعَمْ : ہاں۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔جوتوں سمیت نماز پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ بلا کراہت جائز ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺسے ایسا کرنا ثابت ہے۔
2۔جوتے انسان کے لباس میں شامل ہیں جس طرح نماز کے لیے لباس کا پاک ہونا ضروری ہے اسی طرح جوتوں کا پاک ہونا بھی ضروری ہے۔
3۔ جوتوں کو پاک و صاف رکھنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح جسم اور باقی لباس کو اور جوتے جب پلید ہو جائیں تو ان کو پاک کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح جسم اور کپڑوں وغیرہ کو کیونکہ پلید چیز کو جسم اور لباس سے دور کرنا ضروری ہے اور جوتے لباس کا حصہ ہیں۔
4۔مسجد یا گھر کسی جگہ بھی جوتوں سمیت نماز پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ پاک اور صاف ہوں ۔ جوتے پر لگی پلیدگی کو دور کرنا ہر صورت ضروری ہے چاہے نماز نہ بھی پڑھنی ہو البتہ صفائی مستحب ہے۔ اگر جوتوں کی وجہ سے گھر یا مسجد میں گندگی کا امکان ہو تو پھر ان کو ایک کنارے میں اتار دینا چاہیے جیسا کہ عموماً گھروں اور مساجد میں اس کا انتظام ہوتا ہے۔
5۔یہ حدیث زمین کے طہور یعنی پاک اور پاک کرنے والی پر بھی دلیل ہے اگر زمین پاک نہ ہوتی تو جوتوں میں نماز جائز نہ ہوتی اور اگر اس میں کسی دوسری چیز پر پلیدگی کو دور کرنے کی صلاحیت نہ ہوتی تب بھی جوتوں میں نماز پڑھنا جائز نہ ہوتا کیونکہ زمین کے بعض حصوں پر پلیدگی ہوسکتی ہے اور جب پلیدگی سے آلودہ جوتے پاک زمین سے رگڑ کھائیں تو وہ پاک ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض صورتوں میں مٹی سے وضوء اور غسل ہو جاتا ہے اور بعض برتنوں کو مٹی سے دھونے کا حکم ہے ۔
6۔ زمین پر اگر ظاہری طور پر پلیدگی نظر نہ آرہی ہو تو وہ زمین پاک ہے ۔ زمین کو جس طرح پانی پاک کرتا ہے اسی طرح اس کو سورج کی روشنی بھی پاک کرتی ہے اور مٹی خود بھی مٹی کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
7۔ اگر کہیں جوتوں سمیت نماز پڑھنے سے فتنے کا اندیشہ ہو تو پھر جوتے اتار کر نماز پڑھنی چاہیے ۔ کیونکہ جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض نہیں ہے۔
حدیث نمبر : 91
عَنْ أبي قتادة الأنصاري رضي الله عَنْه : «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ».
99 ولأبي العاص بن الربيع بن عبد شمس: «فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا». [رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا حمل جارية صغيرة على عنقه في الصلاة، برقم 516، بلفظه، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز حمل الصبيان في الصلاة، برقم 543. رواه البخاري، برقم 516، ومسلم، برقم 543، وتقدم تخريجه في تخريج حديث المتن رقم 98]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا ابو قتادۃ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنماز پڑھ لیا کرتے تھے اس حال میں کہ آپﷺ اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب بنت رسول اللہﷺ کو گود اٹھائے ہوتے اور ابو العاص بن ربیع بن عبد شمس کی روایت میں ہے کہ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے اسے زمین پر بیٹھا دیتے جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔
(ابن ماجہ اور ترمذی کے علاوہ دیگر تمام محدثین نے روایت کیا ۔)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : يُصَلِّیْ : وہ نماز پڑھتا ہے ۔
2 :حَامِلُ: اٹھانے والا۔
3 : اُمَامَةَ : رسول اللہ ﷺ کی نواسی کانام ہے یہ آپ ﷺ کی بیٹی سیدہ زینب کی بیٹی تھی اس کے والد کا نام حضرت ابو العاص بن ربیع ہے ۔
4 : إِذَا سَجَدَ : جب آپ سجدہ کرتے۔
5 : وَضَعَهَا : اسے رکھ دیتے یعنی بیٹھا دیتے ۔
6 : وَاِذَا قَامَ : اور جب آپ کھڑے ہوتے ۔
7 : حَمَلَهَا : اسے اٹھا لیتے ۔
حدیث سے حاصل ہونیوالے بعض مسائل و احکام
1۔نماز میں ضروری ضرورت کی وجہ سے حرکت کی جاسکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث میں ثابت ہے۔ اسی طرح حدیث میں نماز کے دوران سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم ۔ اسی طرح ضرورت کے تحت مصحف وغیرہ کو کھول کر نماز پڑھنے پڑھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے البتہ افضل زبانی پڑھنا ہے۔
2۔چھوٹے بچے کو گود میں اٹھا کر نماز پڑھی جاسکتی ہے نماز کے دوران اسے اٹھانے اور بیٹھانے سے نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس عمل کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔
حدیث نمبر : 92
عَنْ أنس بن مالك رضي الله عَنْه عَنْ النبي ﷺ قال : «اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ» [رواه البخاري، كتاب الأذان، باب لا يفترش ذراعيه في السجود، برقم 822، واللفظ له، ومسلم، كتاب الصلاة، باب الاعتدال في السجود، ووضع الكفين على الأرض، ورفع المرفقين عن الجنبين، ورفع البطن عن الفخذين في السجود، برقم 493]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے دونوں بازو زمین پر نہ بچھائے۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1: اِعْتَدِلُوْا: اعتدال قائم کرو یعنی اطمینان سے ٹھہرو ۔
2 : فِیْ السُّجُوْدِ : سجدوں میں ۔
3 : وَلَا يَبْسُطْ : اور نہ پھیلائے ۔
4 : اَحَدُكُمْ : تمہارا کوئی ایک ۔
5 : ذِرَاعَيْهِ : اپنے دونوں بازو ۔
6 : اِنْبِسَاطَ الْكَلْبِ : کتے کے پھیلانے کی طرح ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔سجدہ میں اعتدال قائم رکھنے کا حکم ہر نمازی مرد اور عورت کو دیا گیا ہے۔اعتدال یہ ہے کہ انسان اتنی دیر اسی حالت میں ٹھہرے جتنی دیر اس کا ہر عضو آرام سے اپنی اپنی جگہ پر آجاۓ۔
2۔باقی ارکان میں اعتدال کی طرح سجدے میں بھی اعتدال نماز کا رکن ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے ۔
3۔سجدے کے دوران بازوؤں کو زمین پر بچھانا مرد اور عورت دونوں کو منع ہے۔ سجدہ کرتے وقت صرف ہتھیلیاں زمین پر رکھی جائیں اور بازوؤں کو زمین اور پیٹ سے ہٹا کر رکھا جاۓ اور یہ حکم ہر مرد و عورت نمازی کو ہے۔
4۔سجدہ نماز کا اہم رکن ہے اس کی ادائیگی میں سنت کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
تبصرہ کریں