فہم توحید (قسط4)۔ ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

دوستی اور دشمنی

لغوی تعریف:الولاء،ولایۃ، سے نکلا ہے جس کے معنی محبت کے ہیں۔

البَرَاء،بَرِئَ یَبْرَاءُ سے مصدر ہے؛ یہ کاٹنے اور الگ ہونے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ بَرِیَٔ الْقَلَمَ کا مطلب ہے: اُس نے قلم کو کاٹ دیا۔

اصطلاحی تعریف

الولاء: مسلمانوں سے محبت رکھنا، اُن کی مدد کرنا، ان سے اعزاز و اکرام اور احترام کا رویہ اپنانا اور ان کے قریب ہونا۔

البراء: اہل کفر سے بغض و نفرت رکھنا، اُن سے دور رہنا اور ان کی امداد و معاونت سے باز رہنا۔

الولاء والبراء کی اہمیت

۱۔ یہ اسلامی عقیدے کے اصولوں میں شامل ہے۔

۲۔ایمان کی مضبوط ترین کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔

۳۔ یہ ملتِ ابراہیم ؑ اور ملتِ محمد ﷺ کا بنیادی ضابطہ ہے۔

اہلِ کفر سے ولا ء

یہ دو قسموں میں منقسم ہے جو درج ذیل ہیں:

۱۔تَوَلّی ۲۔مَوَالاۃ

ان کی وضاحت حسب ذیل ہے:

التَّوَ لّیِ:اس میں درج ذیل مطالب ہیں:

الف:معنی و مفہوم

شرک و کفر اور مشرکین و کفار سے محبت رکھنا۔

اہل ایمان کے خلاف کافروں کی مدد کرنا۔

ب:حکم:یہ کفر اکبر اور ارتداد یعنی اسلام سے پھر جانے کے مترادف ہے۔

ج: دلیل:اللّٰہ عزوجل کا ارشاد ہے:

﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ﴾

’’جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے، وہ بے شک انھی میں سے ہے۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 51)

المَوَالاَة

اس میں نکاتِ ذیل توجہ طلب ہیں:

الف۔ تعریف و ضابطہ

دنیوی مفادات کی خاطر اہل کفر و شرک سے محبت رکھنا لیکن ان کی مدد نہ کرنا، کیوں کہ امداد و معاونت کی صورت میں یہ ‘ تَوَلّی’ میں شامل ہوگا۔

ب۔ حکم:یہ حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

ج۔دلیل:اللّٰہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔‘‘(سورۃ الممتحنہ 60:1)

موالات کفار کے مظاہر و علامات

1۔ گفتگو اور بول چال میں کافروں کی مشابہت اختیار کرنا۔

2۔تفریح اور ذاتی لطف اندوزی کے لیے ان کے ممالک کا سفر کرنا۔

3۔سرزمین کفار میں اقامت گزیں ہونا اور دینی احکامات سے فرار اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے ملک میں منتقل نہ ہونا۔

4۔ ان کی تقویم و تاریخ اپنانا، خصوصاً جس سے ان کے مذہبی تہواروں اور عیدوں کا اظہار ہو، جیسے: عیسوی تاریخ۔

5۔ ان کے تہواروں اور عیدوں میں شرکت، ان تقریبات کے انعقاد میں ان کی معاونت کرنا اور ان کی مناسبت سے مبارک باد کے پیغامات بھیجنا۔

6۔ ان کے ناموں پر نام رکھنا۔

 الو لاء والبراء کے باب میں لوگوں کی اقسام

اس سلسلے میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

پہلی قسم : جن سے خالص محبت کی جائے گی اور کسی قسم کی ادنیٰ سی عداوت بھی نہیں رکھی جائے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے اور خالص اہل ایمان ہیں۔

دوسری قسم:وہ لوگ جن سے محض بغض و عداوت کا اظہار کیا جائے گا؛ ان سے ‘موالات’ اور محبت کے جذبات رکھنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو صریح اور پکے کافر ہیں۔

تیسری قسم: اس نوع میں وہ لو گ شامل ہیں جو ایک پہلو سے قابل محبت ہیں اور دوسرے پہلو سے نفرت کے لائق ۔

یہ گناہ گار اور نا فرمان مومن ہیں؛ اِن سے ان کے ایمان کے بہ قدر محبت کی جائے گی اور ان کی معصیت و نا فرمانی کے مطابق بغض و عداوت کا مظاہرہ کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ معصیت کفر اور شرک کے درجے کی نہ ہو۔

اسلام

لغوی مفہوم:’اسلام‘ کے لغوی معنی ہیں:

الْاِنْقِیَادُ وَالْاِسْتِسْلَامُ وَالْخُضُوْع

’’یعنی تسلیم و رضا کارویہ اپنانا، جھک جانا اور انتہائی عاجزی کا مظاہرہ کرنا۔‘‘

شرعی مفہوم

شرعی اصطلاح میں اسلام سے مراد ہے:

1۔توحید کا عقیدہ اپناتے ہوئے اللّٰہ کے سامنے جھک جانا۔

2۔ اس کی اطاعت و فرماں برداری کرنا۔

3۔ شرک اور اہل شرک سے اظہار ِبراءت کرنا۔

اسلام کا عمومی مفہوم

عمومی اعتبار سے’اسلام‘ کا مفہوم ہے:

اللّٰہ کی مقرر کردہ شریعت کے مطابق اُس کی بندگی کرنا۔ سلسلۂ انبیا و رسل﷩ کے آغاز سے قیامت تک اِس طریق زندگی کا نام ’اسلام‘ ہے؛ گویا تمام انبیاے کرام ﷩ دین اسلام ہی کے داعی تھے۔

اسلام کا خاص مفہوم

خاص پہلو سے اسلام، اس دین و شریعت کا نام ہے جسے محمد رسول اللّٰہ ﷺ کو دے کر بھیجا گیا۔

 ارکانِ اسلام

اسلام کے پانچ ارکان ہیں:

1۔اِس بات کی گواہی دینا کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 2۔نماز قائم کرنا۔ 3۔زکاۃ ادا کرنا۔

4۔بہ شرطِ استطاعت حج ادا کرنا۔

5۔رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔

ارکان اسلام کی دو قسمیں ہیں:

1۔اساسی ارکان

ان سے مراد وہ ارکان ہیں جن کے بغیر اسلام کی عمارت استوار نہیں ہو سکتی؛ یہ دو ہیں:

1۔شہادت ِ توحید و رسالت

2۔اقامتِ صلات 2۔ تکمیلی ارکان

یعنی وہ ارکان، جو قصرِ اسلام کے اتمام و تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ یہ تین ہیں:

1۔ادئیگی زکوٰۃ 2۔صومِ رمضان

3۔حج بیت اللّٰہ کی ادئیگی

ارکانِ اسلام کی دلیل

ان کی دلیل رسول معظم ﷺ کی یہ مشہور و معروف حدیث مبارکہ ہے:

بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوا کوئی معبود ِ (برحق) نہیں اور محمد ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکات دینا ، حج ادا کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح بخاری: 16)

تبصرہ کریں