
امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’کوئی طاقت ہمارے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتی۔‘‘ 7؍اکتوبر کے حملہ کے بعد اسرائیل کی وزٹ کرتے ہوئے بیان دیا کہ اگر اسرائیلی ریاست نہ قائم ہو چکی ہوتی تو ہم وجود میں نہ آتے۔ چہ جائیکہ اب وہ قائم ہو چکی ہے تو اس کی حفاظت میں کوئی کوتاہی کریں۔ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی پشت پناہی امریکا کر رہا ہے، اس کے لیے کوئی ملکی ، بین الاقوامی یا اخلاقی قانون یا اقدار کی اہمیت نہیں، اقوام متحدہ کے اجلاس میں جب بھی کوئی قرار داد اسرائیلی مظالم کے خلاف پیش کی گئی امریکا نے اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اس کو ناکام بنا دیا۔
طاقت اور اقتدار کا نشہ انسان کو کتنا مدہوش کرکے حقائق سے دور کر دیتا ہے کہ وہ خود فریبی کا شکار ہو کر اپنے بارہ میں بھی غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنی حکومت اور اقتدار کے حوالہ سے بھی غلط بنیادیں قائم کر لیتا ہے، اس ہفتہ امریکا کی دو ریاستوں فلوریڈا اور نارتھ کیرولینا سے متصل سمندر سے ہولنا ک طوفانی لہریں اٹھیں۔ ماہرین نے متوقع خطرہ سے علاقہ مکینوں کو متنبہ کر دیا تھا کہ جس شدت سے لہریں آگے بڑھ رہی ہیں اگر یہی قوت باقی رہی تو آبادی کا تقریبا اسی فی صد حصہ غرق ہو جائے گا ۔ طوفان کی شدت کو کٹیگری 5 قرار دیا گیا جو بے حد خطرناک سمجھا جاتا ہے ۔ اس میں ہوائیں ڈھائی سو میل سے زیادہ فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں، جبکہ اس کی نصف رفتار بھی آدمی کو ہوا میں اڑانے کے لیے کافی ہے ۔ پھر دنیا کا طاقتور ترین شخص جس نے دعوی کیا تھا کہ ہمارے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا ،انتہائی بے بسی اور عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوا کہ جتنی جلد ممکن ہو علاقہ چھوڑ کر نکل جاؤ، ورنہ تاخیر کروگے تو ہم تمہاری لاشوں کو کفن بھی دینے کے قابل نہیں ہوں گے۔
یہاں سے نکل جاؤ ، بالکل ابھی نکلو ، خود کو نا قابل تسخیر کہنے والے کی درماندگی قابل عبرت تھی، لوگ جس تیزی اور پریشانی کے عالم میں گھر بار مال و متاع چھوڑ کر نکلے کہ راستے مسدود ہو گئے۔ پٹرول پمپ خالی، اشیاء خوردو نوش کی دوکانوں سے ذخیرہ ختم ، جسے بھاگنے کا موقع ملا وہ دوسروں کی پرواہ کئے بغیر محفوظ مقام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ وقتی طور پر فلسطینی عوام کا منظر دکھائی دے رہا تھا جب وہاں معصوم بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو نشانہ بنایا گیا اور کیسے وہ اپنے علاقوں کو چھوڑ کر عارضی پناہ گاہوں
میں محصور کر دیئے گئے، اسی طرح یہاں دیکھتے ہی دیکھتے طاقتور ترین ملک امریکا کے ایک ملین لوگ عارضی پناہ گاہوں میں بسیرا کرنے پر مجبور ہوئے، قہر آلود لہریں ساحل سے تو ٹکرائیں لیکن شدت پانچ سے گھٹ کر تین ہو چکی تھی ، یوں جانی نقصان کم ہوا، تاہم مالی نقصان بہت زیادہ ہوا ۔
﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴾
’’ہم انہیں بڑے عذاب (قیامت) سے قبل چھوٹے عذاب چکھائیں گے تاکہ وہ سچائی کی طرف لوٹ آئیں۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ اس اس آزمائش کی گھڑی میں بیشتر لوگ اسے قدرت کا انتقام کہتے ہوئے ہمدردی کے دو بول بھی متاثرین کے حق میں کہنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ﴾
’’نہ ان پر آسمان و زمین روئے اور نہ ہی انہیں مہلت ملی۔‘‘
شاید اس تجزیہ کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ متاثرہ دونوں ریاستیں فلوریڈا اور نارتھ کیرولینا یہودی اکثریتی علاقے ہیں۔ اول الذکر صیہونی طاقتوں کی مالی امداد کے لیے مشہور ہے اور ثانی الذکر آلات حرب کے کارخانوں اور ذخیروں کے لیے ۔
مختلف اوقات ہمارے لیے قدرت کی نشانیاں دکھائی جاتی ہیں کہ انسان چاہے جتنی ترقی کر لے اور کتنا ہی طاقتور ہو جائے قدرت کے آگے بے بس ہے۔
﴿فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ (سورۃ الاعراف :99)
’’کیا لوگ اللہ کی پکڑ سے بے فکر ہو چکے ہیں۔ اللہ کی پکڑ سے نقصان پانے والے ہی بے فکر ہو سکتے ہیں ۔‘‘
کل کا طاقتور امریکی صدر آج اتنا کمزور ہے کہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے رہنے کی صلاحیت جواب دے گئی، اپنی زبان پر قابو جاتا رہا ۔ذہن و دماغ ماؤف سے ہو چکے ہیں، خود ان کی پارٹی اور چاہنے والے والے ان سے دامن بچا رہے ہیں ۔
دنیا کی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جنہوں نے خود کو ناقابل شکست اور لازوال تصور کر لیا تھا لیکن وہ بڑی بے کسی کے ساتھ لقمہ اجل بنے یا قعر مذلت میں پھینک دیئے گئے ۔
ذیل کی چند مثالیں عبرت کے لیے اہمیت رکھتی ہیں :
ایک موقع پر پاکستان کے مرد آہن ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ’’میری کرسی بہت مضبوط ہے ۔‘‘ اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’ہم عوام کے منتخب نمائندے ہیں ہمیں کوئی طاقت ہلا نہیں سکتی ۔‘‘ لیکن باپ کی مضبوط کرسی نہ ان کا اقتدار بچا سکی اور نہ ہی ان کی جانیں ۔ انہیں تخت سے اتار کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور ان کی بیٹی کو ان کے ہی سنگھاسن میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن جنہیں کسی زمانہ میں عوام ’’بنگلہ بند ھو‘‘ بنگالیوں کا دوست اور نجات دہندہ کہا کرتے تھے، صفحہ ہستی سے ایسے مٹائے گئے کہ ان کی نعش کئی گھنٹے زمین پر پڑی عبرت بنی رہی کوئی اٹھانے والا تک نہ تھا اور ان کی بیٹی حسینہ کو کرسی اقتدار سے اتار کر اس بے مروتی کے ساتھ دیس نکالا دیا گیا کہ اوروں کے لیے نشان عبرت بن گئیں۔
انہوں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے کئی دینی تنظیموں اور کتابوں پر پابندی لگا رکھی تھی اور مختلف شخصیتوں کو پس زنداں کر دیا تھا ۔
انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو خاتون آہن کہا جانے لگا تھا ان کے رعب و دبدبہ کے آگے کوئی پر نہیں مار سکتا تھا ،لیکن خود اپنے ہی باڈی گارڈ کی گولیوں کا نشانہ بنیں، اس سے قبل ان کے فرزند ارجمند سنجے گاندھی جن کی قوت اور گھمنڈ کے سامنے مرکزی وزراء بھی ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ، انہوں نے سینکڑوں مسلمانوں پر جبری نس بندی کا حکم جاری کرکے ظلم و بربریت کی خونچکاں داستانیں رقم کیں اور دہلی کے غریب، پس ماندہ علاقوں میں بلڈوزر چلا کر وہاں اپنے آرزوں کے محل تعمیر کرنا چاہا اور پھر خود ہی ہوائی حادثہ کا ایسے شکار ہوئے کہ ان کی نعش بھی صحیح حالت میں نہ مل سکی ۔ افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے مجاہدین کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا نا ان کا وطیرہ بن چکا تھا۔ پھر حالات قدرے بدلتے ہی غیور افغانیوں نے اس روس نواز لیڈر کو سر عام تختۂ دار پر لٹکا کر ان کے مظالم کا دنیوی بدلہ چکا یا، آخرت میں جو ہوگا وہ تو روز جزا کا مالک ہی جانتا ہے ۔ مصر کے انور السادات نے کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ کر کے فلسطینیوں کے خلاف خنجر گھونپا تھا، دین پسندوں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی ،اپنی ہی فوج کے ہاتھوں خاک و خون میں مل گئے ،جو اسٹیج ان کی عظمت وسطوت کے مظاہرہ کے لیے سجایا گیا تھا وہی ان کی ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بن گیا۔ فلپائن کے صدر مار کوس نے اس انداز سے حکومت کی کہ گویا مجھ سے اوپر کوئی رب نہیں اور زمین پر میرے برابر کوئی لیڈر نہیں ، لیکن ملک سے ایسے فرار ہونا پڑا کہ فلپائن میں ان کی قبر کے لئے دوگز جگہ آسانی سے نہ مل سکی۔عراقی صدر صدام حسین اور لیبیا کے کرنل قذافی کے کرتوت اور عبرتناک انجام سے کون نا واقف ہے ۔
غرض ماضی قریب و بعید تاریخ کے ہر دور میں ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ کرسی اور اقتدار کا نشہ آدمی کو اس قدر مست کر دیتا ہے کہ وہ خود اپنے بارہ میں کتنی غلط رائے قائم کرلیتا ہے ، اسی غرور کے باعث انبیاء کرام کےساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ سیدنا ابراہیم کو نمرود نے دہکتی آگ کے شعلوں میں ڈالا یہ اور بات ہے کہ خلیل اللہ کے سینہ میں موجزن ایمانی حرارت سے آگ کے شعلے سرد پڑ گئے پھر بھی انہیں جلا وطن کر دیا گیا۔ سیدنا موسی کے وجود کو مٹانے کے لیے فرعون نے نہ جانے کتنے معصوم بچوں کا خون کر ڈالا ۔ کلیم الله موسیٰ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے کہ فرعون کو اپنا اقتدار خطرہ میں محسوس ہونے لگا اور جب فرعون ہی کی دعوت اور تحریک پر جمع ہونے والے جادو گروں نے سیدنا موسیٰ کے معجزہ ربانی کے آگے سرنگوں ہوتے ہوئے ایمان لا نے کا اعلان کیا تو فرعون نے اقتدار کے گھمنڈ میں انہیں سولی پر لٹکانے کی دھمکی دی اور نبی برحق کے وجود کو ختم کرنے کے ارادہ سے تعاقب میں نکلا، سمندر نے نبی برحق اور متبعین کو راستہ فراہم کیا، اور وہی سمندر فرعون اور فرعونیوں کے لیے قبرستان ثابت ہو اور رسول رحمت ﷺکے خلاف مکہ مکرمہ کے سرکش اور معاندین نے کیا کیا ظلم و ستم ڈھائے۔ لیکن مقام عبرت ہے کہ بڑے بڑے حکمرانوں اور طاقتوروں نے اپنے پیش روؤں کا انجام اپنے سامنے نہ رکھا اور ان ہی غلطیوں اور سرکشیوں میں مبتلا ہوئے جو ان سے پہلوں کی تباہی کا سبب بنیں، خود کو نا قابل تسخیر سمجھ کر اللہ کی زمین پر اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کی تعلیمات اور دین برحق کا مذاق اڑایا ۔ کبھی دین پسندوں کی زندگی اجیرن کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی دینی شعائر کی تمسخر کیا گیا ، اور بعض نام نہاد دانشوروں نے رب ذوالجلال کے احکام اور ہدایات کو فرسودہ قراد دیا کہ ترقی یافتہ دور میں ان احکامات کی حیثیت ہی کیا۔ لیکن کتنا بےبس اورعاجز ہے کل کا طاقت ور جو بڑے بڑوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا، آج خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا، جسے اپنی زبان پر قابو نہیں، جس کا حافظہ جواب دیا گیا ہو اور کل کے گدی نشین آج خوفزدہ ہیں کہ کہیں ان کی سیاہ کاریوں کا احتساب ہی نہ ہو جائے ۔ لیکن آج کسی کے کرتوت اور نامۂ سیاہ پر مصلحتوں کے پردے ڈال بھی دیئے جائیں تو کل قیامت کے دن کیا ہوگا۔ جب وہاں ہرقسم کے پردے ہٹا دیئے جائیں گے:
﴿لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ﴾ (سورۃ ق: 22)
یقیناً تو آئے انسان اس حقیقت سے غافل تھا، ہم نے تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا۔ آج تیری نگا ہ بہت تیز ہے اور جس دن دنیا میں خدائی کا دعوی کرنے والے، اقتدار کے نشہ میں چور مستیاں کرنے والے بادشاہ حقیقی رب ذوالجلال کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور ہر ظالم کے آگے اس کے اعمال کی کیسٹ چلا دی جائے گی۔
﴿وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا﴾ (سورۃ الکہف: 49) ’’ان کے سارے کرتوت ریکارڈ میں درج ہوں گے۔‘‘
شاید دنیا کی یہی بے ثباتی ہے کہ عباسی عہد خلافت کے عظیم سپوت خلیفہ منصور نے بستر مرگ پر موت سے کچھ پہلے کہا تھا کہ اگر میں کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگا دیتا جس نے مجھے بار بار سچائی سے ہٹا دیا ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی اس ساری حکومت سے بہتر ہے مگر یہ بات مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب موت نے اپنے چنگل میں لے لیا۔
تبصرہ کریں