
جائزمزاح اورخوش طبعی
مزاح اورخوش طبعی کواسلام نے ناجائزوناپسندیدہ قرار نہیں دیا بلکہ فرحتِ نفس کے لیے جھوٹ اور لغو باتوں سے پاک جائزمزاح کرنامباح ہے اوراس کی متعددمثالیں نبی کریمﷺکی حیاتِ طیبہ سے بھی ملتی ہیں، جن میں سے چندایک زینتِ قرطاس ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ
قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، فَقَالَ: «إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا.»(سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في المزاح: 1990، مسند أحمد: 2/340)
’’(رسول اللہ ﷺ سے) کہا گیا:اے اللہ کے رسول! آپﷺ تو ہمارے ساتھ ہنسی مذاق بھی کر لیتے ہیں، آپﷺنے فرمایا:لیکن میں سوائے حق بات کے اورکچھ نہیں بولتا۔‘‘
سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ
كَانَ ابْنٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ رُبَّمَا مَازَحَهُ إِذَا جَاءَ، فَدَخَلَ يَوْمًا يُمَازِحُهُ، فَوَجَدَهُ حَزِينًا، فَقَالَ: «مَالِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ.»
(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الانبساط إلى الناس: 6129، صحيح مسلم، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إلى صالح يحنكه: 2150)
’’اُمِ سُلیم کا ایک بیٹا تھا جسے ابوعمیر کے نام سے پکارا جاتا تھا، وہ جب نبیﷺ کے پاس آتا تو آپﷺ اس سے مزاح کیا کرتے تھے، ایک روز وہ آیا اور آپﷺ اس سے مزاح کرنے لگے تو آپﷺ نے اسے غمگین پایا، آپﷺ نے پوچھا:کیا بات ہے میں ابوعمیر کو پریشان دیکھ رہا ہوں؟ تو گھر والوں نے بتایا کہ اس کا چڑیا کا بچہ مر گیا ہے جس سے یہ کھیلا کرتا تھا۔ تو آپﷺ اسے یوں آواز دینے لگے: اے ابوعمیر!تیرے چڑیا کے بچے نے کیا کر دیا؟‘‘
سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ؟» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في المزاح: 4998، سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في المزاح:1991)
’’ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے سواری کا مطالبہ کیا، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:میں تمہیں اونٹنی کا بچہ دیتاہوں، اس نے کہا:اونٹنی کے بچے کامیں کیا کروں گا؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کیا اونٹ کو اونٹنی ہی جنم نہیں دیتی؟‘‘
سيدنا انس بیان کرتے ہیں کہ
قَالَ لِي النَّبِيُّ ﷺ: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ.»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في المزاح: 5002، سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في المزاح:1992-مسند أحمد:3/242)
’’نبیﷺ مجھے يَا ذَاالْأُذُنَيْنِ (اے دو کانوں والے!) کہا۔‘‘
سیدناانس روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُحِبُّهُ وَكَانَ دَمِيمًا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُ فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَنْ هٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ ﷺ، فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ ﷺ حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟.» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِذًا وَاللّٰهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَكِنْ عِنْدَ اللّٰهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ»، أَوْ قَالَ: «لَكِنْ عِنْدَ اللّٰهِ أَنْتَ غَالٍ»(مسند أحمد:3/161، الشمائل المحمدية للترمذى:121)
’’زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی شخص تھا، وہ خوبصورت نہیں تھا لیکن نبیﷺ اسے پسند فرماتے تھے، ایک روزنبیﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور وہ اپناسامان بیچ رہا تھا، آپﷺ نے اسے پیچھے سے اپنی بانہوں میں لے لیا اور آپﷺ اسے نظر نہیں آ رہے تھے، اس نے کہا:چھوڑو مجھے، کون ہو؟ جب اس نے توجہ کی تو اس نے نبیﷺ کو پہچان لیا، تو وہ اپنی پُشت کونبیﷺکے سِینۂ مبارک کے ساتھ لگانے لگا اورنبیﷺ فرمانے لگے:یہ بندہ مجھ سے کون خریدے گا؟ اس نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم!آپﷺ مجھے ردّی پائیں گے (یعنی میری بالکل قیمت نہیں ہے)، تو نبیﷺ نے فرمایا: لیکن اللہ کے ہاں تُو ردّی نہیں ہے، یا یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تُوقیمتی ہے۔‘‘
عبدالرحمان بن ابی لیلٰی بیان کرتے ہیں کہ
حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلٰى أَحْبُلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا فَفَزِعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب،:5004، مسند أحمد: 5/362، صحيح الجامع للألبانى: 7658)
’’ہمیں اصحابِ محمد نے بیان کیا کہ وہ نبیﷺ کے ساتھ محوِ سفر تھے کہ ان میں سے ایک آدمی سو گیا، ایک اور آدمی اس سے رسّی لینے گیا جو اس کے پاس تھی، اس نے وہ رسّی پکڑی تو وہ (سویا ہوا شخص) گھبرا گیا، تو نبیﷺ نے فرمایا: مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو گھبراہٹ میں ڈالے۔‘‘
عبداللہ بن سائب بن یزیداپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: «لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لَاعِبًا جَادًّا.» وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى: «لَعِبًا وَلَا جِدًّا، وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا.» (سنن أبوداؤد: 5003، مسند أحمد:4/221)
’’تم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی کا سامان مذاق اور حقیقت) کسی صورت(میں )بھی(ہرگز نہ اٹھائے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نہ تو مذاق میں اور نہ ہی حقیقت میں اور جس نے اپنے ساتھی کی لاٹھی اُٹھالی ہو اسے وہ بھی واپس کردینی چاہیے۔‘‘
لعن وطعن سے اجتناب میں سخت تاکید
سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا»
(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن لعن الدواب وغيرها:2597)
’’کسی سچے شخص کے یہ بالکل لائق نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والاہو۔‘‘
یعنی جولعن طعن کرنے والاہے وہ مرتبۂ صداقت پر فائز نہیں ہو سکتا اور جو صدیق ہے اسے ایسی بے ہودہ حرکت زیب نہیں دیتی اور اس کی شان کے ہی شایاں نہیں ہے۔سیدنا زیدبن اسلم بیان کرتے ہیں کہ
كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلٰى أُمِّ الدَّرْدَاءِ فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ وَنُسَائِلُهَا عَنِ الشَّيْءِ، فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَتَهُ فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَلَعَنَهَا، فَقَالَتْ: لَا تَلْعَنْ، فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ.» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة: 2598-سنن أبوداؤد:4907)
’’عبدالملک بن مروان اُمِ درداء کی طرف بھیجا کرتے تھے اور ہم ان کی بیویوں کے ہاں رات بسر کرتے تھے اور ان سے کسی چیزکے بارے میں باہم سوال کرتے تھے، ایک رات وہ اُٹھے اور اپنی خادمہ کو بلایا، اس نے آنے میں تھوڑی سستی کی توانہوں نے اسے لعنت کردی، اُمِ درداء نے کہا: لعنت مت کرو، کیونکہ ابودرداء نے مجھ سے بیان کیاکہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا:بلاشبہ لعنت کرنے والے روزِقیامت نہ توسفارش کرنے والے بن سکیں گے اورنہ ہی گواہی دینے والے۔‘‘
یعنی لعنت وملامت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں میں شامل ہونے سے قاصر رہے گا، جنہیں روزِ قیامت گواہی دینے اورسفارش کرنے کے اعزازسے نوازاجائے گا۔
سیدنا ثابت بن ضحاک سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
«لَا نَذْرَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَالَ لِمُؤْمِنٍ: يَا كَافِرُ، فَهُوَ كَقَتْلِهِ.» (السنن الكبرى للبيهقى:8/23، شعب الايمان للبيهقى:3854، اس حدیث کی اصل صحیحین میں ہے: صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب من كفر أخاه بغير تأويل فهو كما قال: 6105، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب غلظ تحريم قتل الإنسان نفسه:110)
’’جو چیز انسان کی ملکیت میں نہ ہو اس میں وہ نذرنہیں مان سکتا، مؤمن پر لعنت کرنا اسے قتل کردینے کے مترادف ہے، جس نے اپنے آپ کوکسی چیزسے قتل کر ڈالا وہ روزِ قیامت اسی کے ذریعے عذاب سے دوچار کیا جائے گا، جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دِین کی قسم اٹھائی تووہ اسی طرح ہوگاجیسے اس نے کہااورجس نے کسی مؤمن کو کافر کہا تو وہ بھی اس کے قتل کی طرح(گناہ کامرتکب)ہوا۔‘‘
سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ
لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ سَبَّابًا، وَلَا فَحَّاشًا، وَلَا لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ: «مَالَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ.»(صحيح بخارى: 6031، مسند أحمد:3/129)
’’رسول اللہﷺ گالم گلوچ، فحش گوئی اورلعن وطعن کرنے والے نہیں تھے، غصے کے وقت بھی کسی کو صرف اتنا ہی فرمایا کرتے تھے: مَالَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ ’’اس کی پیشانی خاک آلود ہو، اسے کیا ہو گیا ہے؟‘‘
تَرِبَتْ جَبِينُهُ عرب کے ہاں بہ طورِ محاورہ بولا جاتا تھا جب کسی پر ناراضگی کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تھا تو تب اسے ایسا کہتے تھے، لیکن اس سے حقیقت مراد نہیں ہوتی تھی۔سيدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہخَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ يَعْنِي: فَوَعَظَ النَّاسَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ»، فَقُلْنَ: لِمَ ذَاكْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ»، فَقُلْنَ لَهُ: وَمَا نَقْصُ عَقْلِنَا وَدِينِنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ أَنَّ شَهَادَةَ الْمَرْأَةِ مِثْلُ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟»، قُلْنَ: بَلٰى، قَالَ: «فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِكُنَّ، أَوَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟.» قُلْنَ: نَعَمْ قَالَ: «فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا.» ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ إِلٰى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، فَقَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ؟.» قِيلَ لَهُ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «نَعَمْ، ائْذَنُوا لَهَا». فَأُذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ، أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ، وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:«صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ عَلَيْهِمْ.» (صحيح بخارى، كتاب الزكاة:1462)
’’عید الفطر یا عیدالاضحیٰ کے دِن رسول اللہﷺ عید گاہ میں تشریف لائے، آپﷺ نے نماز پڑھا کر لوگوں کووعظ ونصیحت کی، پھرعورتوں کی طرف آئے اور فرمایا:اے عورتوں کی جماعت!صدقہ کیاکرو، کیونکہ میں نے جہنمیوں میں اکثرعورتیں دیکھی ہیں۔ عورتوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!ایساکیوں؟ آپﷺنے فرمایا:تم لعن طعن بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوندکی ناشکری کرتی ہو۔ اے عورتوں کی جماعت! میں نے عقل و دِین میں ناقص تم سے بڑھ کر ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی کہ جو اچھے بھلے آدمی کی عقل کو بھی ختم کر دیتی ہو۔ عورتوں نے پوچھا:ہماری عقل اور دِین کا نقص کیاہے؟ آپﷺ نے فرمایا: کیاایک عورت کی گواہی آدمی کی آدھی گواہی کے برابر نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا:کیوں نہیں، تو آپﷺ نے فرمایا:یہ تمہاری عقل کی کمی کی وجہ سے ہی توہے۔ کیاایسانہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو جاتی ہے تو نہ نمازپڑھ سکتی ہے اورنہ روزہ رکھ پاتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:جی ہاں، آپﷺ نے فرمایا: یہی اس میں دِین کی کمی کی وجہ ہے۔ پھرآپﷺ واپس آگئے، جب اپنے گھر پہنچے تو سيدنا عبد اللہ بن مسعود کی بیوی زین آئیں اور وہ حاضری کی اجازت مانگنے لگیں۔ آپﷺ کو بتلایا گیا کہ اے اللہ کے رسول!زینب آئی ہیں اور آپﷺ سے ملاقات کے لیے اجازت مانگ رہی ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا:کون زینب؟ بتلایاگیاکہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی بیوی۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، اسے اجازت دے دو، چنانچہ انہیں اجازت دے دی گئی۔ توانہوں نے کہا:اے اللہ کے پیغمبر! آپﷺ نے ہمیں آج صدقہ وخیرات کاحکم فرمایا ہے، اورمیرے پاس کچھ زیورات ہیں جنہیں میں صدقہ کرناچاہتی ہوں، جبکہ(میرے خاوند)ابنِ مسعود کاخیال ہے کہ وہ اوران کابچہ ان لوگوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں جن پرمیں نے یہ صدقہ کرنا ہے۔ تورسول اللہﷺنے فرمایا: ابنِ مسعود نے سچ کہاہے، تمہارا خاوند اور تمہارا بچہ ان لوگوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں جن پرتم صدقہ کروگی۔‘‘
ابوبرزہ روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ جَارِيَةً بَيْنَا هِيَ عَلَى رَاحِلَةٍ أَوْ بَعِيرٍ، عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنٍ، فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ، فَأَتَى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺمَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَبْصَرَتْهُ جَعَلَتْ تَقُولُ:
اللّٰهُمَّ الْعَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «مَنْ صَاحِبُ الْجَارِيَةِ، لَا تَصْحَبْنَا رَاحِلَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللّٰهِ.» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن لعن الدواب وغيرها:2596، مسند أحمد:4/420)
’’ایک لونڈی اونٹ یا کسی سواری پر دو پہاڑوں کے درمیان (سفر کرتی جا رہی) تھی اور اس پر لوگوں کا کچھ سامان بھی لادا ہوا تھا، پہاڑ نے اسے مشکل میں ڈال دیا (یعنی پہاڑی راستہ کافی دشوار گزار تھا) تو رسول اللہﷺ کی اس کے پاس آمد ہوئی، اس نے جب آپﷺ کو دیکھا تو کہنے لگی: اے اللہ!اس سواری پر لعنت فرما، تو رسول اللہﷺ نے استفسار فرمایا: یہ کس کی لونڈی ہے؟ کوئی سواری یا اونٹ جس پر اللہ کی لعنت کی جائے ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔‘‘
اور نبیﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ
أَنَّهُ نَهَى عَنْ لَعْنِ الدِّيكِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب:5101؛ صحيح الجامع للألبانى:7314)
’’آپﷺ نے مُرغ کو گالی دینے سے منع کیا اور فرمایا: یہ نمازکے لیے بیدار کرتا ہے۔‘‘
سیدنا ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ فَلَعَنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في اللعن: 4908؛ سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ما جاء في اللعنة: 1978)
’’عہدِ رسالت میں ایک شخص سے ہوا چادر اُڑ اکر لے گئی تو اس نے ہوا پر لعنت کر دی، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس پرلعنت نہ کر، کیونکہ وہ تو(اللہ کے)حکم کی پابند ہے، اور یقیناً جس شخص نے کسی ایسی چیز (یا شخص) پرلعنت بھیجی جس کا وہ اہل نہیں تھا، تو وہ لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔‘‘
٭٭٭
تبصرہ کریں