زندگی ایسے گزاریں (قسط 33)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

حسب ونسب پرفخرکرناناپسندیدہ عمل

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عَيْبَةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَالْفَخْرَ بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ، لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ فَخْرِهِمْ بِآبَائِهِمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللّٰهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ النَّتَنَ بِأَنْفِهَا.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في التفاخر بالأحساب:5116، سنن ترمذى، كتاب المناقب، باب منه:3956، صحيح الجامع للألبانى:1787)

’’یقیناًاللہ تعالیٰ نے تم سے عہدِجاہلیت کی بری عادتیں اور آباء واجداد کی وجہ سے فخر کرنا ختم کر دیاہے، متقی مومن اور بدبخت فاجر، تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے۔ تمام قومیں عہدِ جاہلیت میں اپنے آباء واجداد پر فخر کرنے کی عادت سے لازما ًباز آ جائیں، ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کالے کیڑے سے بھی کمتر ہو جائیں گے جو اپنی ناک سے گندگی دھکیلتاہے۔‘‘

اس حدیث کے ابتدائی الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی دو ہی قسم کے ہو سکتے ہیں:ایک تومتقی و پرہیزگار مومن اور دوسراشقی وبدبخت فاجر۔ اس روحانی تقسیم کے علاوہ انسانیت کی کوئی تقسیم نہیں کی جا سکتی، بلکہ تمام بنی نوعِ انسان ایک ہی باپ یعنی آدم کی اولاد ہونے کے ناطے سے برابر ہیں، کسی کو کسی پر چنداں کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ اپنے حسب ونسب اور آباء واجداد کی دنیوی شان شوکت پر فخر کرنا اور اِترانا جاہلی امورمیں سے ہے، کیونکہ اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام نے آ کر ہی اس مذموم سوچ کی بیخ کنی کی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في التفاخر بالأحساب:5116، سنن ترمذى، كتاب المناقب، باب منه:3956، صحيح الجامع للألبانى:1787)

’’لوگ قومی فخر بالکل چھوڑ دیں، بلاشبہ یہ تو جہنم کا کوئلہ ہے۔‘‘

سیدنا عبیداللہ بن ابی یزیدروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ بنِ عباس کوفرماتے سنا:

خِلَالٌ مِنْ خِلَالِ الْجَاهِلِيَّةِ: الطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالنِّيَاحَةُ وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ. قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُونَ إِنَّهَا الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ

(صحيح بخارى، كتاب مناقب الأنصار، باب أيام الجاهلية:3850)

’’عہدِجاہلیت کی عادات میں سے (تین)عادتیں(یہ ہیں:)نسب میں طعن کرنا، میت پرنوحہ کرنااورتیسری وہ بھول گئے۔ سفیان کہتے ہیں کہ تیسری عادت وہ یہ فرماتے تھے کہ ستاروں کے ذریعے بارش مانگنا۔‘‘

سیدنا ابومالک اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

إِنَّ فِيَ أُمَّتِي أَرْبَعًا مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَيْسُوا بِتَارِكِيهِنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ فَإِنَّهَا تَقُومُ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا دُرُوعٌ مِنْ لَهَبِ النَّارِ. (مستدرك حاكم:1/383)

’’میری اُمت میں چار کام دورِ جاہلیت کے ہوں گے، جنہیں لوگ چھوڑیں گے نہیں: حسب پر فخرکرنا، نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت نے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو وہ(روزِقیامت اس حالت میں)کھڑی ہوگی کہ اسے تارکول کا کُرتا پہنایا جائے گا اور اس پر پھر آگ کے شعلوں کا چوغہ پہنادیاجائے گا۔‘‘

اہلِ کتاب سے سوال کرنے اوران کی تصدیق وتکذیب کی ممانعت

سیدنا عبیداللہ سے مروی ہے کہ سیدناعبداللہ بن عباس نے فرمایا:

يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ! كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَى رَسُولِهِ ﷺ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللّٰهِ، تَعْرِفُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللّٰهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ بَدَّلُوا مِنْ كُتُبِ اللّٰهِ وَغَيَّرُوا، وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكُتُبَ، وَقَالُوا: ﴿هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [البقرة: 79]، أَفَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ مَسْأَلَتَهُمْ، فَلَا وَاللّٰهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ .(السنن الكبرى للبيهقى:10/162)

’’اے مسلمانوں کی جماعت! تم اہلِ کتاب سے کیونکر سوال کرتے ہو؟ حالانکہ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کے متعلق أحدث(یعنی جدیدترین)کتاب ہے (مرادیہ ہے کہ سب سے آخرمیں نازل ہونے والی یہی کتاب ہے)تم جانتے ہوکہ اس میں گڑبڑ نہیں ہو سکتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتا رکھا ہے کہ اہلِ کتاب نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں تغیّر وتبدّل کر دیا ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہہ دیا کہ

هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا

’’یہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہے، (اور انہوں نے یہ اس لیے کیا)تاکہ وہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کرلیں۔‘‘ کیاتمہیں جو(اللہ کی کتاب)سے علم ملاہے وہ تمہیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا؟ قسم بخدا!ہم نے توکبھی ان کا کوئی آدمی نہیں دیکھا جو تم سے تمہارے اوپر نازل کردہ امورکے بارے میں سوال کرتاہو۔‘‘

ان سوالات سے مرادکسی مسئلہ میں ان سے شرعی راہنمائی لیناہے۔ یہ قطعاًممنوع ہے، کیونکہ ان کی شریعت مسخ ہوچکی ہے اور اسلام کے ہوتے ہوئے کسی اور دِین کے احکام پرعمل کرنا ارتداد کے مترادف ہے۔

البتہ عام سوالات جن کا شرعی راہنمائی لینے سے تعلق نہیں ہوتاوہ پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مثال کے طورپراپنی تحقیق یاعلم کے لیے ان کی کتب کامطالعہ یاان سے سوالات کرنااس ممانعت میں داخل نہیں ہے۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: ﴿آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴾» [العنكبوت: 46]

(صحيح بخارى، كتاب تفسيرالقرآن، باب قوله تعالى: ﴿قولوا آمنا بالله وما أنزل إلينا﴾:4485)

’’نہ تم اہلِ کتاب کوسچاکہواورنہ ہی انہیں جھوٹاکہو، بس یہ کہوکہ ﴿آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِلٰهُنَا وَإِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴾ ’’ہم اس پر ایمان لائے جو ہم پر اور تمہاری طرف نازل کی گئی، اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں۔‘‘

تصدیق اس لیے نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں بہت سی تحریفات کر دی ہیں جس کی وجہ سے صحیح وغیرصحیح خلط ملط ہو گئے ہیں اور ان کی پہچان مشکل ہے اور تکذیب اس لیے نہیں کرنی چاہیے کیونکہ باوجود تغیر وتبدل کے کسی نہ کسی بات کے درست ہونے کابھی امکان ہے۔

علمِ نجوم سیکھنااورنجومیوں کے پاس جاناحرام

سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ»(سنن أبوداؤد، كتاب الطب، باب في النجوم:3905، سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب تعلّم النجوم:3726)

’’جس نے علمِ نجوم کا کچھ حصہ حاصل کر لیا اس نے جادو کی ایک شاخ حاصل کر دی، وہ اسے جتنا بڑھاتا جائے وہ بڑھتا جائے گا۔‘‘

سیدنا عبد اللہ ابن عباس نے علمِ نجوم سیکھنے سکھانے اور اس کے ذریعے کام کرنے کروانے والوں کے بارے میں فرمایا:

«وَمَا أَرَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ لَهُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ خَلَاقٍ.»(السنن الكبرى للبيهقى:8/139)

’’میرا نہیں خیال کہ جو یہ کرتا ہو اس کے لیے اللہ کے ہاں کوئی حصہ ہو گا۔‘‘

معاویہ بن حکم سلمی روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: «ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي أَنْفُسِكُمْ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ.» قَالُوا: وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ قَالَ: «فَلَا تَأْتُوا كَاهِنًا» (صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة، ونسخ ما كان من إباحته:537، سنن أبوداؤد، كتاب الصلاة، باب تشميت العاطس في الصلاة:930)

’’نبیﷺکے صحابہ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!ہم میں سے بعض لوگ فال نکالتے ہیں(ان کا کیا حکم ہے؟) آپﷺنے فرمایا:

’’یہ ایسی چیز ہے جسے تم اپنے دِلوں میں محسوس کرتے ہو، لیکن یہ تمہیں (کسی بھی کام سے)ہرگز نہ روکے۔ انہوں نے کہا: اور ہم میں سے بعض لوگ نجومیوں کے پاس بھی جاتے ہیں، آپﷺنے فرمایا:تم کاہن کے پاس مت جاؤ۔‘‘

سیدہ صفیہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»(صحيح مسلم، كتاب السلام:2230)

’’جو کسی نجومی کے پاس آیا اور اس سے کسی چیزکے بابت پوچھا، اس کی چالیس دِن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘

تبصرہ کریں