
تعارف اور تبصرہ ’سفر بیت المقدس ‘
میرے ہاتھ میں اس وقت ایک دیدہ زیب، خوبصورت ٹائٹل کی حامل 216 صفحات پر مشتمل وہ کتاب ہے جسے ”سفر بیت المقدس“ کا عنوان دیا گیا ہے۔ مؤلف ہیں ہمارے دوست، رفیق میدان دعوت، نامور صحافی ، ادیب اور خطیب بے بدل، حافظ عبدالاعلی درانی جنہوں نے ارض مقدس میں سات دن کی سرگزشت کو اپنے رہوار قلم کی جولانیوں سے ایک حسین گلدستے کی شکل میں پیش کیا ہے۔ مکتبہ طارق اکیڈمی (فیصل آباد) اس علمی و دعوتی کاوش کو ایک گلشن تاباں کا روپ دینے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔
مجھے خود بھی سرزمین فلسطین جانے کا اتفاق ہوا ہے لیکن صرف تین دن کے لیے اور پھر میرے مشاہدات شہر القدس، مقام موسیٰ اور بحرمیت کی ایک جھلک تک محدود رہے لیکن حافظ صاحب کا قافلہ حبرون ، بیت اللحم ، اریحا اور بحر مردار کے تفصیلی مشاہدے کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔ مؤلف کتاب نے اپنے سفرنامے کو تاریخ کے جھروکوں کی اوٹ میں یوں تصویر کشی کی ہے کہ ہر مقام زیارت کی تاریخ، وہاں کے باسیوں کی روئیداد حیات اور سیاست کے لبادوں میں چھپے حوادث و واقعات منہ بولتی تصویر نظر آتے ہیں۔ آئیے اور حافظ صاحب کے ساتھ اس بابرکت سفر کی چند جھلکیاں نظر نواز کرتے جائیں:
11 جولائی 2017 ء کی صبح مانچسٹر ائیر پورٹ سے اس سفر کا آغاز ہوا جس کی پہلی منزل اسرائیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے لُدّ کی تنگنائیوں سے گزرتے ہوئے سرزمین بیت المقدس پہنچنا تھا۔
مسجد اقصی کی زیارت سے قبل حافظ صاحب نے شہر القدس کے 11 دروازوں ، 5 محلوں اور گردو نواح کی کی شاہراؤں کا ایک نقشہ پیش کر دیا ہے اور پھر مسجد اقصیٰ میں قدم رکھتے ہی ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے مراحل ، شاہ بابل کے ہاتھوں اس کی تباہی ، یہود کی بابل کی اسیری، دوبارہ واپسی، ہیکل ثانی کی تعمیر اور پھر رومی کمانڈر کے ہاتھوں اس کا گرایا جانا تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
فتح عمری سے اسلامی دور کا آغاز ہوتا ہے اور پھر بنی امیہ کا ذکر ہے کہ جن کی بھر پور کوششوں سے مسجد اقصیٰ اور مسجد گنبد صخرہ کی خوبصورت عمارتیں اس قطعہ زمین پر جلوہ گر ہوسکیں۔
مسجد اقصیٰ اپنی قدامت اور اس کے پہلو میں گنبد صخرہ ایک حسین جھومر کی شکل میں اب تک مسلم و غیر مسلم سب کے لیے اپنے دامن میں ایسی کشش رکھتے ہیں کہ لوگ اس قطعہ مقدس کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔ حافظ صاحب نے ان دونوں کے دروبار کے مفصل تذکرے کے ساتھ مصلی مروانی کا بھی بخوبی تعارف کروایا ہے جوا کثر زائرین کی نگاہوں سے مخفی رہتا ہے۔
گنبد صخرہ کے حوالے سے یہاں حضرت عمر کی آمد اور کعب الاحبار سے ان کی بات چیت اور اس سے متعلقہ روایات کی چھان بین کا حق ادا کر دیا ہے۔
حافظ صاحب نے مسجد اقصیٰ میں اپنی حاضری کا والہانہ انداز میں ذکر کیا ہے۔ وہ امام مسجد صخرہ شیخ علی العباس اور امام مسجد اقصیٰ شیخ یوسف الزربائی ، قدس زکوۃ کمیٹی کے رکن شیخ محمد الرحیبی سے اپنی ملاقاتوں ، ان کے برادرانہ رکھ رکھاؤ اور زائرین مسجد اقصیٰ کے لیے ان کی نیک خواہشات کا بھی بخوبی تذکرہ کرتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کی بیرونی فصیل کی جالیوں سے جھلکتی قبروں میں وہ ہندوستان کے ایک عظیم سپوت ، بطل راہ حریت مولانا محمد علی جوہر کی آخری جائے استراحت کا بھی حوالہ دیتے ہیں اور ایسے ہی ان تمام معزز ہستیوں کا بھی جو قبرستان ’’ماملا‘‘ کے مکین بن چکے ہیں۔ پھر ایک فلسطینی گھرانے سے ملاقات جو شہیدوں کی رسم وفا کا آئینہ دار تھا۔ پہلے دن کی مصروفیات کا اختتام حافظ صاحب کی اہلیان فلسطین سے محبت اور چاہت کا عنوان تھا۔ اگلے چھ دنوں میں حافظ صاحب کی مصروفیات جن مقامات کا احاطہ کرتی رہیں، ان کی طرف اشارہ کرتا چلاجاتا ہوں لیکن قارئین سے التماس ہے کہ وہ ان اشارات کی تفصیل سے بہرہ ور ہونے کے لیے اس دلکش سفرنامے کے اوراق خود پلٹیں۔
1۔ جبل زیتون: اس سے مراد کیا ہے اور اس کے دامن میں کیا کچھ سمایا ہوا ہے اور اس ضمن میں مسجد سلمان فارسی ، مقام رابعہ بصری اور غار سلیمانی کے مشاہدات کاذکر ہے۔
2۔ کنیسۃ القیامہ اور فتح عمری سے لے کر اب تک اس کا محفوظ رہنا، مسلمانوں کی وسعت ظرفی اور رواداری کا ایک کھلا نشان ہے اور اس ضمن میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی داد و دهش، فراخ ظرفی اور انصاف پسندی کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔
3۔یروشلم کا تذکرہ ہو اور اسرائیلی بر بریت وسفا کی کا تذکرہ نہ ہو، ایسا ناممکن ہے۔ حافظ صاحب کے صرف سات دن کے قیام کے دوران مسجد اقصیٰ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آجاتا ہے جس میں تین فلسطینی جام شہادت نوش کرلیتے ہیں۔
4۔ حبرون (الخلیل) کا سفر جس کے دوران والدہ یوسف کی قبر حل حلول میں مقام یونس کے دیکھنے کا ذکر ہے اور پھر شہر الخلیل، مسجد ابراہیمی کا ذکر جس کے وسط میں ایک دیوار بنا کر اسے یہود اور مسلم، دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ قبور انبیاء اور زوجات انبیاء پر فاتحہ خوانی اور پھر مسجد الخلیل میں صلاح الدین ایوبی کے منبر کا ذکر ہے جو ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔
5۔ سیدنا عیسی کی جائے ولادت بیت اللحم، مسجد عمر فاروق، بیت اللحم کے چند مقدس غار اور کئی دوسری مساجد کے احوال بتائے گئے ہیں۔
6۔ بحر مردار کے راستے میں مقام موسیٰ کی زیارت ، کیا یہاں واقعی حضرت موسی کی قبر ہے؟
حافظ صاحب کا تحقیقی قلم اس گتھی کو خوب سلجھارہا ہے۔ یہ سمندر جو خود قوم لوط کی بستیاں اٹھنے کی بنا پر وجود میں آیا، کیا اس کی زیارت کے لیے آیا جا سکتا ہے؟ اس فقہی مسئلہ پر بھی خامہ فرسائی کا حق ادا کیا گیا ہے۔
7۔ بحر مردار سے واپسی کے سفر میں اریحا(Jericho) کے قدیم شہر کے خدو خال کو موضوع سیاحت بنایا گیا ہے۔
میں خود اس راستے سے گزرا ہوں لیکن وقت کی کمی کی بنا پر صرف اریحا کے سنگ میل پر نظر ڈالنے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ حافظ صاحب کی تحریر نے میری معلومات میں سے اضافہ کیا۔ خاص طور پر ارائیں برادری اور اریحا کے تعلق سے، یاسر عرفات کا ایک والہانہ تذکرہ بھی اس مناسبت سے رقم ہو گیا ہے۔
8۔ یروشلم کی دوسری جانب جبل مکبر ہے جہاں میں ایک ساعت کھڑا رہا ہوں، حافظ صاحب نے مکبر اور تکبیر کے حوالے سے یہاں اپنے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔
9۔ یروشلم کے محلہ مسعودی اور مسجد عمر کی زیارت ، فتح بیت المقدس کے وقت عیسائیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا تھا اس کے تناظر میں تاریخ کا حوالہ اور پھر صلاح الدین ایوبی کی ایک تصویر کا تذکرہ اور بعد ازاں اسرائیلی فوجیوں کی بندوقوں کے سایہ میں مسجد اقصیٰ کا داخلہ اور نماز کی ادائیگی اور بعد ازاں ایک فلسطینی ابو محمد کی ضیافت میں شرکت اور اس کی دکان کے حوالے سے ایک سرنگ کی دریافت کی عجیب داستان ۔
10۔ محلہ داؤد، محلہ مغاربہ اور دیوار گریہ کی تاریخ اور اس کی حقیقت کے بارے میں ایک مستند تحریر جو کہ مسجد براق کے تذکرے پر ختم ہوتی ہے۔
1۔ طریق درد و آلام (یعنی وہ راستہ جہاں بقول نصاری حضرت عیسی کو اپنی صلیب اٹھائے اپنی جائے صلیب تک جانا تھا) کے ایک گوشے میں ایک فلسطینی بھائی امجد ہاشمی کے شاندار ریسٹورانٹ کا تذکرہ جہاں مسلمان زائرین کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔
12 ۔ واپسی کا سفر کہ جس میں سرزمین لُدّ ( کہ جہاں اسرائیل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ واقع ہے) پر کثرت سے اُگائے جانے والے درخت ’’غرقد‘‘ کا حدود اربعہ بتایا گیا ہے اور احادیث میں اس کے ذکر کی مناسبت بیان کی گئی ہے۔
ائیر پورٹ پر حافظ صاحب چند یہودیوں کے ساتھ دوستانہ بات چیت کا بھی لطف اٹھاتے رہے اور یوں یہ دلکش ، دلر با گنجینہ معلومات اور دور حاضر کی ہفوات اسرائیلیات تیشۂ حافظ کی تا بر توڑ ضربات سے بھر پور سفرنامہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور لبوں پر حافظ صاحب کے لیے دعائے خیر کے الفاظ آجاتے ہیں۔
آخر میں اپنی ایک گزارش حافظ صاحب کے گوش گزار کرتا چلوں کہ جس کے لیے ان کی توجہ کا طلب گار ہوں۔
’’مروان نے قبہ الصخرہ کیوں بنایا؟ ‘‘
اس عنوان کے تحت صفحہ 52 سے 54 تک حافظ صاحب نےیعقوبی، ابن کثیر، دمیری اور ابن تغری بردی کے حوالے سے ایک رائے کا اظہار کیا ہے کہ مروان نے قبہ الصخرہ جیسی عالی شان عمارت عبداللہ بن زبیر کی مخاصمت میں آ کھڑی کی تھی بلکہ اہل شام کو حج پر جانے سے کلی روک دیا تھا اور حج کے متبادل کے طور پر لوگوں کو گنبد صخرہ کی طرف مائل کیا تھا۔
حوالے کے طور پر ابن کثیر کی روایت لیکن انگریزی ترجمے کے ساتھ ذکر کی گئی ہے۔ میں حافظ صاحب سے ملتمس ہوں کہ وہ مندرجہ ذیل نقاط کی روشنی میں اس رائے پر نظر ثانی کریں یا اس دوسری رائے کا بھی ذکر کرتے چلیں جسے ڈاکٹر محمد ضیاء الریس نے اپنی کتاب (عبدالملک بن مروان والدولة الأمویہ ) میں اور توفیق محمد عبد الجواد نے اپنی تالیف’’تاریخ العمارة الفنون الاسلامیہ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
1۔ حافظ صاحب نے ابن کثیر کا حوالہ دیا ہے ( بزبان انگریزی)۔ یہ عبارت البدایہ والنہایہ کی جلد 8 میں صفحہ 340 پر موجود ہے۔ ابن کثیر نے 66 ھ کے حالات کے تحت بحوالہ ’’صاحب مرآة الزمان‘‘ تحریر کیا ہے کہ اس سال عبد الملک نے بیت المقدس کی چٹان پر گنبد اور جامع الاقصیٰ کی تعمیر شروع کی تھی جوسن 73 میں پایہ تکمیل تک پہنچی اور اس کے بعد بطور سبب عبداللہ بن زبیر کی مخاصمت کا ذکر کیا ہے۔
اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ ان دونوں عمارتوں کی تعمیر عبدالملک کے زمانے میں شروع ہوئی تھی۔ مروان کا زمانہ خلافت بہت مختصر تھا، صرف دس ماہ۔
2۔ عبدالملک اپنی فقاہت ، علم اور علماء کی قدر و منزلت کے حوالے سے معروف ہے، اس لیے اس کام کی نگرانی کے لیے قاضی رجاء بن حیوۃ اور اپنے آزاد کردہ غلام یزید بن سلام کا انتخاب کیا۔
یہ دونوں اتنے امانت دار انسان تھے کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایک گراں قدر رقم بشمول سیم وزر بچ گئی تھی، انہوں نے خلیفہ کو لکھا کہ وہ اس رقم کا کیا کریں؟
خلیفہ نے جواباً لکھا کہ ہم تمہیں یہ رقم بخشتے ہیں۔ ان دونوں نے انکار کیا بلکہ یوں تک کہا کہ اگر ہمیں اپنی خواتین کا زیور بیچ کر بھی اس عمارت کے حسن کو دوبالا کرنا پڑتا ہے تو ہم کر گزرتے ہیں تو خلیفہ نے حکم دیا کہ پھر یہ ساراسونا، چاندی گنبد اور دروازوں کی تزئین وآرائش پر لگا دیا جائے جس کی تعمیل کی گئی۔
3۔یروشلم کی عمارات بازنطینی تہذیب و ثقافت کی آئینہ دار تھیں اور عبدالملک چاہتا تھا کہ ایک ایسی عمارت کھڑی کی جائے جو اسلامی اور عربی تہذیب کی عکاس ہو اور لوگ اس کے سامنے رومی اور بازنطینی نقش و نگار کو بھول جائیں۔ اس لیے عبدالملک نے ان دونوں عمارتوں (مسجد اقصیٰ اور گنبد صخرہ) پر پانی کی طرح رقم خرچ کی اور واقعی دنیا آج تک یروشلم کے قبہ صخرہ کے حسن کےسحر میں گرفتار ہے۔
عبدالملک نے عربی تہذیب کو اجاگر کرنے کے لیے کئی دوسرے کام بھی کیے۔ سرکاری رجسٹروں (یعنی دیوان ) کی زبان فارسی اور رومن سے عربی میں تبدیل کی گئی۔ عربی سکے ڈھالے گئے اور شہر القدس کو عربی تہذیب کا گہوارہ بنایا گیا۔
4۔ زیادہ سے زیادہ کہا جاسکتا ہے کہ بنوامیہ کو اس بات کا خدشہ رہتا تھا کہ اہل شام جب حج کے لیے جاتے ہیں تو انہیں عبداللہ بن زبیر کی بیعت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، اس لیے وہ شامیوں کے حج پر جانے کے خواہاں نہ تھے لیکن عبد الملک جیسے فقیہ اور صاحب علم سلطان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ گنبد صخرہ کو حج کے ایک متبادل کے حیثیت سے متعارف کرائے۔
5۔ یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ سیاسی مخاصمت (اموی، علوی، عباسی وغیرہ) کی وجہ سے بعد میں آنے والے مؤرخین اپنی ذاتی وابستگیوں کی بنا پر کئی بے سند باتیں ذکر کرتے چلے جاتے ہیں جنہیں اگر حدیث کی جانچ کے اصولوں سے نہ سہی بلکہ عقلی اور بے تعصبی کی آنکھ سے دیکھ لیا جائے تو انصاف کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں اور اس کی ایک بڑی مثال جنگ جمل، صفین اور واقعہ کر بلا کے ضمن میں ان بہت سی بے سروپا حکایات سے ہے جو میزان عقل و دانش میں پوری نہیں اترتی ہیں۔
٭٭٭
افضل ترین قبر
شيخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
قبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أفضل قبر على وجه الأرض وقد نهى عن اتخاذه عيداً فقبر غيره أولى بالنهي كائناً من كان .
’’رسول اللہ ﷺ کی قبرِ مبارک زمین پر افضل ترین قبر ہے، اور اسے میلہ گاہ بنانے سے منع کر دیا گیا ہے تو آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی قبر سے ممانعت تو بالأولی ہے چاہے وہ کسی کی بھی ہو۔‘‘
(اقتضاء الصراط المستقيم: 2؍172)
٭٭٭
دوستی کی حفاظت کرنا
امام شافعی اپنے شاگرد یونس بن عبد الاعلی کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”اے یونس! اگر تمہیں کسی دوست کے متعلق ناپسندیدہ بات پہنچے تو دشمنی پالنے اور تعلق ختم کرنے میں جلدی نہ کرو، کیونکہ شک یقین کو زائل نہیں کرتا۔ بلکہ تم اس دوست کو ملو اور اس کو بتاؤ کہ مجھے تمہارے متعلق یہ اور یہ بات پہنچی ہے۔ بہتر ہے کہ بات پہنچانے والے کا نام بھی لے لو۔ پھر اگر دوست انکاری ہو تو اس سے کہو : ٹھیک ہو گیا، تم میرے لیے اس مخبر سے زیادہ سچے اور قابلِ اعتبار ہو۔ اور مزید مت کریدو۔ اور اگر وہ دوست اُس بات کا اعتراف کرے تو دیکھو کہ اس کا کوئی معقول عذر ہو سکتا ہے، اسے قبول کر لو۔“
(حلیۃ الأولياء : 9؍121)
٭٭٭
کشادگی اور آسانی آپ کا مقدر ہو گی
امام ابن قیم فرماتے ہیں:
“عندما تيأس من كُلِّ شيء وتتعلَّقُ بالله وحده بصدق وتدعوه بيقين : فإنَّ الفرَج والتيسير يأتيك مِنْ حيث لا تحتسب….”
’’جب آپ ہر چیز سے مایوس ہو جائیں اور صدقِ دل سے ایک اللہ سے تعلق قائم کر لیں اور پختہ یقین کے ساتھ اس کو پکاریں تو پس کشادگی و آسانی وہاں سے آپ کے پاس آئے گی جہاں سے آپ اس کا تصور بھی نہیں کرتے۔۔۔‘
(الفوائد لابن القيِّم: ص 86)
تبصرہ کریں