
اس ہفتہ دنیا بھر کی نظریں شام کی طرف لگی ہوئی تھیں کہ سوریا کے مضافات میں اٹھنے والی حکومت مخالفت کی لہر پچاس سالہ قدیم، طاقتور بعث پارٹی خصوصاً اسد فیملی کے اقتدار کا خاتمہ کر سکے گی۔ میدان سیاست اور میڈیا کے بڑے بڑے پنڈت حیران و ششدر رہ گئے کہ گیارہ دنوں کے اندر اندر اس مخالفت کی لہر طوفان کی شکل اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ طوفان بعث پارٹی کے دارالحکومت دمشق تک پہنچ گیا اور خود سر طاغوتی حکمران بشار الاسد کو اقتدار ، حکومت اور لاؤ لشکر چھوڑ کر پُراسرار طور پر ملک سے فرار ہونا پڑا ، اس مفرور جابر حکمران کو جائے پناہ ملی تو کمیونسٹ ملک روس میں وہ بھی روسی صدر کے ذاتی رحم و کرم کے باعث۔ ورنہ خدشہ تو یہی تھا کہ روسی حکومت بھی اس بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ایسے حکمرانوں کو بڑی طاقتیں اپنے مقاصد بروئے کار لانے تک خوب استعمال کرتی ہیں پھر انہیں پہچانتے بھی نہیں۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ بہت سے مسلم ممالک اور وہاں سیاہ وسفید کے سربراہان کی چابیاں کس کس کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں، اگرچہ کہ یہ قاعدہ اپنی جگہ مسلم ہے ’’ہر عروج را زوال است‘‘ لیکن طاقت کے نشہ میں چور حکمراں اس قانون اور ضابطہ سے ہمیشہ خود کو بالاتر سمجھتے چلے آئے ہیں کہ ہمارے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہیں ہو سکتا ۔
یہ پہلو بڑا ہی عبرتناک ہے کہ باپ اور بیٹے کی پچاس سالہ دور حکمرانی میں مقامی لوگوں پر کس طرح کے مظالم ڈھائے گئے ۔ ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بعض نامی گرامی دینی علماء ، شخصیات، اہل قلم، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کو پس زنداں کیا گیا کہ ان میں بعض کئی برس تک سورج کی روشنی نہیں دیکھ سکے۔
حافظ الاسد کے زمانہ میں حماۃ کا علاقہ تاراج کر دیا گیا ، وہاں سے جو جان بچا کر بھاگ سکتا تھا، وہ بھاگ کر کسی ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہوا، ورنہ اکثر بے دردی کے ساتھ موت کی نیند سلا دیئے گئے ، اجتماعی قبروں کی دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ سینکڑوں کو بے گور وکفن گڑھوں میں دبا دیا گیا ۔
بعض جیلوں اور عقوبت خانوں کے جب دروازے توڑے گئے تو جو مناظر کیمرے کی آنکھ سے دکھائے گئے دنیا ورطۂ حیرت میں پڑ گئی کہ
کیا اس دورہ میں بھی وحشت و بربریت کی یہ المناک تصاویر ممکن ہیں، شام میں حکمران ٹولہ کی ایک ہی پارٹی بعث کو قانونی حیثیت حاصل تھی، جس کے ارکان کی اکثریت نصیری فرقہ سے تعلق رکھتی ہے، جن کے عقائد و افکار کو بڑی مشکل سے شیعہ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، ورنہ ان کی اپنی ہی جداگانہ شناخت ہے اور عجیب اتفاق کہ ایسے ہی خود سر ڈکٹیٹرز اکثر مسلم ممالک کی قیادت پر قابض ہیں، جو حسب ضرورت دین کو اپنے سیاسی اور شخصی مصلحتوں کے لیے چابکدستی سے استعمال کرتے ہیں، جن کے ہاں قانون اظہار رائے کی آزادی کا کوئی مطلب نہیں۔ ایسے کئی معصوم لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے کہ ان کے متعلق صرف شبہ ہو جائے کہ وہ حکومت کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں:لیکن اس اقتدار کا نشہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کو اس سے محروم ہوتا ہوا اور ذلت و رسوائی سے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ہوا دیکھ کر بھی عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔
حکومت اور اقتدار کے مزے لوٹنے اور عیاشیوں میں مگن وزراء اور سیاہ وسفید کے مالک اپنی نجات کے لیے عجز و انکساری سے دوہائی دے رہے ہیں، خود کو اسد فیملی کی جانب سے عوام پر روا رکھے گئے مظالم سے اپنی لا تعلقی ثابت کرنے میں مگن ہیں، شام کے سابق وزیر اعظم کا یہ بیان دلچسپی سے خالی نہیں کہ بہت سی باتوں اور معاملات سے میں لا تعلق ہوں۔ میرے علم میں آخری رات یہ بات نہیں تھی کہ بشار ہمیں ایسے چھوڑ کر فرار ہو جائے گا۔ یہ اور
بات ہے، انقلابی ذمہ دار وزراء کی ان باتوں کو دھوکہ اور فریب سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان اعلیٰ حکومتی مناصب پر براجمان ظلم و بر بریت سے لا تعلق یا بے خبر رہے ہوں ، خود صدر کے بھائی ماہر الاسد جو کل تک صدر کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت کرنے کو باعث اعزاز سمجھتا تھا اور آج اپنے بھائی کی پر اسرار روانگی پر لعن و طعن کر رہا ہے، پھر خود وہ بھی بھاگ نکلا، اسے پناہ ملی تو پہلے ایران میں اور وہاں سے کسی گمنام جگہ منتقل ہو گیا۔ اس کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ
شامی باشندوں کے خلاف ستم ڈھانے والی فوج کے ہراول دستے کی کمان اسی کے ہاتھ میں تھی، جو اپنے مخالفین کو اذیت ناک سزائیں دینے اور ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کروانے کا مجرم ہے۔ ان دونوں مفرور بھائیوں کی دولت کا اندازہ لگاتے میں ماہرین مگن ہیں۔ کیونکہ یہ بھاری بھر کم رقم کا تخمینہ اربوں ڈالر میں ہے اور نہ جائے کس کس نام سے کہاں اور کسی حالت میں محفوظ کی گئی، روس کے دارالحکومت موسکو کے انتہائی مہنگے علاقہ میں ہی ان کے کئی فلیٹ ہیں اور باقی ممالک میں نہ جانے کیا رکھا ہوا ہے. ماہر الاسد منشیات کا کاروبار بھی کرتا تھا، ان کی عرب ممالک میں خوب ترویج کی گئی، اگر حکمران ٹولہ خود ہی منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث ہو تو کس قانون کے ذریعہ اس بلا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔
شام کے عقوبت خانوں میں مجبوس بعض قیدیوں کو جب آزاد کیا گیا، انہیں قائل کرنے میں خاصی دقت پیش آ رہی تھی کہ اب وہ آزاد ہو چکے ہیں، طویل عرصہ کے بعد سورج کی روشنی اور تازہ ہوا میں سانس لیتے ہوئے ساتھ بیٹھے لوگوں کو از راه ترحم للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا ہمیں واقعی آزاد کر دیا گیا ہے، کہیں دوبارہ اندر دھکیل تو نہیں دیا جائے گا ، ان کے کپکپاتے ہاتھ، تھر تھراتی آنکھیں اور بھرائی ہوئی آواز ان پر ہونے والے مظالم کا خود ہی پتہ دے رہی تھیں۔
سزائیں کیسی، لوہے کی تپتی ہوئی چار پائی جس کے نیچے چولہا جل رہا ہو اس پر قیدی کو لٹایا جاتا تاکہ یکبارگی گولی چلا کر موت کی نیند سلانے کے بجائے زندہ انسان کا بدن جلا کر بتدریج موت کے منہ میں دھکیلا جائے ، پینے کے لیے پانی دینے کا انداز ایسے کہ محافظ دریچہ سے قیدی کی سیل میں کچھ پانی انڈیل دیتا ،بیچارہ قیدی کسی ربر اسپنچ کی مدد سے اسے بھگو کر حلق میں نچوڑ لیتا، تا کہ حلق تر ہو سکے یعنی ان عقوبت خانوں کی نگرانی کے لیے انسان نما حیوانوں کو متعین کیا گیا تھا، جو سزاؤں کے نت نئے طریقے خود سے بھی تلاش کرتے اور انہیں دوسروں کو تڑپا کر تسلی ہوتی، بڑے جو چاہتے وہ دو قدم آگے بڑھ کر سزائیں دیتے، کسی کے دونوں ہاتھ چھت سے باندھ کر گھنٹوں کھڑا رہنے پر مجبور کیا جاتا ، اس پوزیشن میں کھڑا رہنے کے سبب قیدی اپنے ہاتھوں کی نعمت یا کار کردگی سے ہی محروم ہو جاتا اور کسی کے ناخن اکھیڑ دیئے جاتے۔
خواتین قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا کھا گیا، وہ کچھ زیادہ مختلف نہیں بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ خواتین کو ہوا و ہوس کا نشانہ بنانے اور عفت و عصمت تار تار کرنے والوں کی وہاں کمی نہ تھی۔
یہ نصیری، علوی، بعث پارٹی سے وابستگان کی داستانیں ہیں ، کیا ان عقوبت خانوں میں ہونے والے ان وحشیانہ مظالم کا سر براہان عالم کو علم نہیں تھا، یقینا بیشتر ان باتوں سے بڑی حد تک واقف تھے، لیکن اس کے باوجود ایسے ظالم و جابر طاغوتی حکمرانوں کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھتے اور انہیں وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا رہا، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ
’’ایں گناہیست کہ در شہرِ شما نیز کنند‘‘
اگر یہ مظالم گناه ہیں تو ان کے تو ہم بھی مرتکب ہیں ، جزئیات کا فرق تو ہو سکتا ہے ، ورنہ اکثر مسلم ممالک کے حکمرانوں اور وہاں رائج نظام میں یہ چیزیں کم و بیش مخالفین کے ساتھ روا رکھی جاتی ہیں، بنگلہ دیش میں مخالفین کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اور پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ کسی سے ڈھکا چھپا ہے، کہیں فوجی ذمہ دار تو کسی سرکاری مناصب پر مسلط کردہ رہنما، وه اپنے مخالفین کے ساتھ کیا کچھ نہیں کرتے۔ جس ملک کو حاصل کرنے کے لیے ہزاروں لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، لاکھوں خاندان متاثر ہوئے، اسے اقتدار کے لالچیوں نے دو لخت کر دیا اور اپنا قد بڑھانے کے لیے ملک کا سائز گھٹا دیا، اور جس بنیادی مقصد کے لئے حاصل کیا گیا اس سے اسے کوسوں دور کیا گیا ۔
حیرت تو اس وقت زیادہ ہوئی کہ بشار الاسد کی شام سے فرار کی رات ہی اسرائیل کی جانب سے اچانک حملہ کر کے شام کا ہوائی نظام اور جنگی جہاز تباہ کر دیئے گئے اور بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا گیا، ابھی مقامی یا شندے ظلم و ستم سے نجات کی خوشی منا ہی رہے تھے کہ انہیں اس غیر متوقع افتاد کا سامنا کرنا پڑا ، گویا بشار اور اس کے باپ کی مفاہمت تھی، اسرائیل کے ساتھ جب تک ہم اقتدار میں ہیں، تمہارے لیے چیلنج نہیں، اس دوران تم فلسطینیوں پر جو چاہو کر گزرو، ہمیں اقتدار عزیز ہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو، یہ نکتہ اکثر حکمرانوں کے درمیان مشترکہ طور پر پایا جاتا ہے کہ اقتدار ہمارا باقی رہے، چاہے اس کے عوض ملک، عوام، دین اور ملت کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے اور کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ۔
٭٭٭
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیئے کہ اس سے معاف کرا لے کیونکہ وہاں درہم ودینار نہیں ہوں گے قبل اس کے اس کے بھائی کا بدلہ چکانے کے لیے اس کی نیکیوں سے کچھ لیا جائے۔ اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“ (صحیح بخاری: 6534)
حقوق العباد کا معاملہ بہت سنگین ہے، اسے کسی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ اگر صاحب حق معاف کر دے تو الگ بات ہے بصورت دیگر اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ حدیث میں ہے: ’’اگر کسی جہنمی کا کسی جنتی کے ذمے کوئی حق ہو گا تو اہل جنت کو جنت میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی حتی کہ اس کا بدلہ لے لیا جائے، اگر کسی نے دوسرے کو بلاوجہ تھپڑ رسید کیا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔‘‘ صحابۂ کرام نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم تو وہاں ننگے بدن اور برہنہ پاؤں جائیں گے تو یہ بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’برائیوں اور نیکیوں کے ذریعے سے حساب چکایا جائے گا۔‘‘ (مسند أحمد: 3:؍495)
تبصرہ کریں