پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک۔ ابوحمدان اشرف فیضی

پڑوسی کی اہمیت وضرورت: ہم ایک مخلوط ماحول میں زندگی گزارتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں، ہمارے ساتھ پاس پڑوس اور گلی محلے کے لوگ بھی بستے ہیں، ہمارے قریبی اور خاص لوگوں میں پڑوسی بھی بہت اہم ہوتے ہیں، بسا اوقات کسی ناگہانی آفت میں اہل خاندان اور اعزہ واقارب بعد میں پہنچتے ہیں جب کہ پڑوسی فوراً حاضر ہو جاتے ہیں، اسی لیے نیک وصالح پڑوسی کا وجود انسان کے لیے باعث سعادت بتایا گیا ہے، حدیث میں ہے:

«أربعٌ مِنَ السَّعَادةِ: الْمَرأةُ الصَّالِحُةُ، وَالْمَسكنُ الْواسِعُ، والْجَارُ الصَّالِحُ، والْمَركبُ الهنيءُ. وأرْبعٌ مِنَ الشّقاءِ: الجَارُ السُّوءُ، والمرأةُ السُّوءُ، والْمَرْكَبُ السُّوءُ، والْمَسْكنُ الضَّيِّقُ» (صحیح ابن حبان: 4032؛ صحيح الترغيب: 1914)’’چار چیزیں سعادتمندی کی علامت ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، آرام دہ سواری اور چار چیزیں بدنصیبی کی علامت ہیں: برا پڑوسی، بری عورت، بری سواری، تنگ گھر۔‘‘

اور برے پڑوسی سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ عَنْكَ» (سنن نسائی: 5502)

’’مستقل رہائش میں برے پڑوسی سے پناہ مانگو، کیونکہ عارضی پڑوسی توجلد بہ دیر تجھ سے دور ہوجائے گا۔‘‘ خود نبی ﷺ اپنی دعاؤں میں برے پڑوسی سے پناہ مانگتے تھے۔ (ملاحظہ ہو: مسند البزار: 8496؛ مسند ابو يعلى: 6536؛ مستدرک الحاكم: 1951؛ سلسلہ صحيحہ: 3943)

سیدنا علی فرماتے ہیں:

“الْجَارُ قَبْلَ الدّارِ وَالرَّفِيقُ قَبْلَ الطَّرِيقِ.” (بہجۃ المجالس: 1؍291؛ الآداب الشرعیہ: 2؍15)

’’ گھر بسانے سے پہلے پڑوسی دیکھ لو، سفر کرنے سے پہلے دوست دیکھ لو۔ ‘‘

پڑوسی کے مراتب وانواع:

پڑوسی کئی طرح کے ہوتے ہیں،ان میں درجات ہیں، بعض بعض سے افضل ہیں، ہمیں ان کے درجات وحقوق کا لحاظ رکھنا چاہیے مثلاً:

1۔ غیر مسلم پڑوسی: جسے صرف ایک حق حاصل ہوتا ہے اور وہ حق جوار ( ہمسائیگی کا حق) ہے۔

2۔ مسلمان پڑوسی: جسے دو حق حاصل ہوتے ہیں، پڑوسی کا حق اور اسلام کا حق۔

3۔مسلمان رشتے دار پڑوسی: جسے تین حق حاصل ہوتا ہے، پڑوسی، اسلام اور رشتے داری کا حق۔ (تفسیر القرطبی: 5؍184؛ فتح الباری: 10؍441)

پڑوسی کی حد: پڑوسی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟

اس کے بارے میں علماء کرام میں اختلاف ہے، بعض مشہور اقوال درج ذیل ہیں:

1۔ سیدنا علی سے مروی ہے:

“مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فُهُوَ جَارٌ.”

’’ محلے کے جتنے لوگ بغیر لاؤڈ اسپیکر کے مؤذن کی آواز سنتے ہیں وہ سب پڑوسی کہلائیں گے۔

2۔ جتنی دور تک کے لوگ اقامت سنتے ہیں وہ پڑوسی ہیں۔

3۔ جو مسجد میں آکر فجر کی نماز ہمارے ساتھ پڑھے وہ ہمارا پڑوسی ہے۔

4۔ چاروں طرف سے چالیس گھر کے لوگ پڑوسی ہیں، یہ قول عائشہ ، امام اوزاعی، امام حسن بصری اور امام زہری﷭ وغیرہ سے مروی ہے۔ (تفسیر القرطبی: 5؍185؛ فتح الباری: 10؍447؛ فتح القدير للشوكانی: 1؍743؛ جامع العلوم والحكم: 1؍347)

5۔ راجح بات یہ ہے کہ پڑوسی کا اطلاق عرف کے اعتبار سے ہوگا، علامہ آلوسی﷫ فرماتے ہیں:

“والظَّاهِرُ أنَّ مَبْنَى الْجِوَارِ عَلَى الْعُرْفِ .” (تفسیر الآلوسی: النساء: 36)

اس لیے کہ شرعی قاعدہ ہے کہ شریعت کے جو امور مطلق ہیں اور شریعت و لغت میں ان کے بارے میں کوئی ضابطہ نہ ہو تو وہاں عرف کا لحاظ ہوگا۔ (الأشباه والنظائر للسیوطی: 98؛ فتح القدير للشوكانی: 1؍743)

لہٰذا ایسی صورت میں عرف میں پڑوسی جسے سمجھا جاتا ہو وہ ہمارا پڑوسی شمار ہوگا۔

زیادہ حق دار پڑوسی:

ہمارے حسن سلوک اور تحفے تحائف کا زیادہ حق دار پڑوسی کون ہے؟ اس سلسلے میں سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول!

إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فَإِلَى أيِّهِمَا أهْدِي ؟ قَالَ: إِلَى أقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا (صحيح بخاری: 2259)

’’میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہو۔ ‘‘

غیر مسلم پڑوسی: دین اسلام دین رحمت ہے، جو سماج کے ہر طبقے کے ساتھ احسان و بھلائی اور انصاف کا حکم دیتا ہے، ہر ایک کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا اور اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف سے بچانا کامل ومثالی مومن کی علامت بتائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿‏ لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ (سورۃ الممتحنہ: 8)

’’ جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأمْوَالِهِمْ» (سنن نسائی: 4995)

’’مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں اطمینان رکھیں۔ ‘‘

دوسری حدیث میں ہے، نبیﷺ نے سیدنا ابوذر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

«وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ» (سنن ترمذی: 1987)

’’اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔ ‘‘

کتاب وسنت میں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی جو تعلیمات ہیں وہ عام ہیں جس میں مسلم، غیر مسلم، دوست، دشمن، قریبی اجنبی سب شامل ہیں، حافظ ابن حجر ﷫ فرماتے ہیں:

“واسْمُ الْجَارِ يَشْملُ الْمُسلِمَ والْكَافِرَ، والْعَابِدَ وَالْفَاسِقَ، والصَّدِيقَ والْعَدُوَ، والْغَرِيْبَ والْبَلَدِي، والنَّافِعَ والضَّارَ، وَالْقَريْبَ والْأجْنَبِي، والأقْربَ دارًا والأبْعدَ، ولَهُ مَراتِبٌ بَعضُها أعْلٰى مِن بَعضٍ، فَأعْلاها مَن اجْتَمَعَتْ فِيهِ الصِّفَاتُ الأوَلُ كُلُّها، ثُمّ أكثَرُها، وهَلُمّ جرًا، فَالْجَارُ الذِّي بَيْنَك وَبَيَنَه قَرَابَةٌ حَقُّه آكدُ مِنْ حَقّ الْجَار الْأجنَبي، وحقُّ الْجارِ الْمُسلمِ آكدُ مِنْ حَقّ الْجَارِ الْكَافِرِ، والْمُلَاصِقُ حَقُّه مُقَدّمٌ عَلَى حَقّ الْبَعِيدِ، وقد روى البخاري.” (صحيح بخاری: 2140)

عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت: قلت: يا رسول اللہ، إن لي جارين فإلى أيهما أهدي؟ قال: إلى أقربهما منك بابًا (فتح الباری: 10؍441)

’’پڑوسی کے اطلاق میں مسلم، کافر، عابد، فاسق، دوست، دشمن، اجنبی، مقیم، مفید، مضر، قریبی، دور والا، گھر سے قریب اور دور سب شامل ہیں اور پڑوسی کے کئی مراتب ہیں، جن میں بعض بعض سے اعلیٰ وافضل ہیں، ان سب میں سب سے اعلیٰ وہ ہے جس میں ابتدائی تمام صفات یا اکثر صفات داخل ہیں، جس میں زیادہ صفات ہوں وہ افضل ترین ہے اور وہ پڑوسی جس کے درمیان اور تمہارے درمیان رشتہ داری ہو اس کا حق اجنبی پڑوسی کے بہ نسبت زیادہ ہے اور مسلمان پڑوسی کا حق غیر مسلم پڑوسی کے بہ نسبت زیادہ ہے اور گھر سے متصل پڑوسی کا حق مقدم ہے دور رہنے والے پڑوسی سے۔ جیسا کہ بخاری میں عائشہ کی حدیث ہے: انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں میں ان دونوں میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپﷺ نے فرمایا: کہ جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہو۔‘‘

صحابہ کرام نے اسی پر عمل کیا ہے، وہ غیر مسلم پڑوسی کا بھی خیال رکھتے تھے اور ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرتے تھے جیساکہ حدیث میں ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أنَّهُ ذَبَحَ شَاةً فَقَالَ : أهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ : مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ (سنن ابو داؤد: 5152)

سیدنا عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو) میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: سیدنا جبرائیل مجھے برابر پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔ ‘‘

حسن سلوک کا تاکیدی حکم: اسلام میں پڑوسیوں کا بہت بڑا مقام ہے، ان کا عظیم حق ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم آیا ہے، بعض نصوص ملاحظہ فرمائیں:

1۔ احسان کا حکم: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾ (سورۃ النساء: 36)

’’اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘

آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے اپنے حق کے ساتھ بندوں کے حقوق ذکر کیے ہیں اور ان میں ایک حق پڑوسی کا بتایا ہے، اس سے پڑوسیوں کے حق کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

2۔ ایمان کا تقاضا: سیدنا ابو شریح (خویلد بن عمرو) خزاعی سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ» (صحيح مسلم: 48)

’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے۔‘‘

3۔ اکرام کا معاملہ: سیدنا ابوشریح عدوی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ سَمِعَتْ أذُنَايَ، وَأبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ (صحيح بخاری: 6019)

’’میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ ﷺ گفتگو فرما رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ ‘‘

4۔ حسن سلوک کی وصیت: سیدنا عبد اللہ بن عمر نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ (صحيح بخاری: 6015)

’’جبرائیل مجھے اس طرح باربار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک کر دیں۔ ‘‘

5۔ کامل مومن کی علامت:

سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ يَأخُذُ عَنِّي هٰؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟ فَقَالَ أبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: أنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا وَقَالَ: اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أغْنَى النَّاسِ، وَأحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ؛ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ» (جامع ترمذی: 2305)

’’کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گےاور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ ‘‘

6۔حسن اخلاق کا پیمانہ: ایک انسان کے اچھا اور برا ہونے کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ اس کا پڑوسی اسے اچھا کہے، پاس پڑوس کے لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ اتنا اچھا ہو کہ وہ اس کے حسن اخلاق کی گواہی دیں، غائبانہ طور پر اس کے نیک تذکرے کریں، اگر ایسا ہے تو گویا وہ اچھا انسان ہے، حدیث میں ہے:

سیدنا عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:

كَيْفَ لِي أنْ أعْلَمَ إِذَا أحْسَنْتُ وَإِذَا أسَأتُ؟ قَالَ النَّبِيُّﷺ: إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَك يَقُولُونَ : أنْ قَدْ أحْسَنْتَ، فَقَدْ أحْسَنْتَ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أسَأتَ، فَقَدْ أسَأتَ (سنن ابن ماجہ: 4223)

’’جب میں کوئی اچھا کام کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے اچھا کام کیا ہے؟ اور جب برا کام کروں تو کیسے جانوں کہ میں نے برا کام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کام کیا ہےاور جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے برا کام کیا ہے۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«خَيْرُ الْأصْحَابِ عِنْدَاللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ» (جامع ترمذی: 1944)

’’اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔‘‘

بعض حکماء سے منقول ہے:

“ثَلَاثٌ إذَا كُنّ فِي الرَّجُلِ لَمْ يُشَك فِيْ عَقْلِهِ وَفَضْلِه : إذا حَمِدَهُ جَارُهُ وقَرَابَتُهُ وَرَفِيْقُه.” (الآداب الشرعيہ: 2؍16)

’’تین چیزیں اگر کسی آدمی میں موجود ہوں تو اس کی عقل مندی اور فضیلت میں شک نہیں کیا جاسکتا : جب اس کا پڑوسی، رشتے دار اور دوست واحباب اس کی تعریف کریں۔ ‘‘

7۔ تحفے تحائف دینا: پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی ایک شکل یہ ہے کہ پڑوسی کو تحفے تحائف دئیے جائیں اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے، بوقت ضرورت مدد کی جائے۔

نبی کریمﷺ نے ابو ذر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

« يَا أبَا ذَرٍّ، إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأكْثِرْ مَاءَهَا، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَك»(صحيح مسلم: 2625)

’’ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو۔‘‘

اسی طرح خواتین کو تاکید فرمائی:

«يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ» (صحيح بخاری: 2566)

’’مسلمان عورتو! ہرگز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے (معمولی ہدیہ کو بھی) حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کے کھر کا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ أنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ.»(صحيح بخاری: 2463)

’’کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے نہ روکے۔ ‘‘

حسن سلوک کی بعض شکلیں:

 پڑوسی اگر غریب و کم زور ہے یا ضرورت مند ہے تو اس کی مالی مدد کرنا۔

 بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرنا۔

 خوشی میں مبارک بادی پیش کرنا اور غمی میں تسلی دینا۔

 اگر انتقال ہو جائے تو نماز جنازہ اور تدفین میں شریک ہونا۔

 پڑوسی کے آرام وراحت کا خیال رکھنا۔

 کسی بھی طرح تکلیف نہ دینا، جیسے بلند آواز میں گانا اور میوزک استعمال کرکے، گندگی ڈال کر، راستے میں سواری کھڑی کرکے یا ایسے جانور پال کر جن کی بدبو اور آواز سے تکلیف ہو، وغیرہ وغیرہ۔

 تحفے تحائف دینا۔

 پڑوسی کی غیر حاضری میں خاص طور پر اس کے مال ودولت، گھر بار اور خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا۔

 گھریلو اور راز کی باتوں کی حفاظت کرنا۔

 بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

 خیر خواہی کرنا۔

 احترام اور تکریم کرنا۔

 محبت کرنا اور بوقت ملاقات خندہ پیشانی سے سلام و مصافحہ کرنا۔

 تکلیفوں پر صبر کرنا اور کوتاہیوں کو درگزر کرنا۔

 دعوت قبول کرنا۔

 خیر و بھلائی کے کاموں میں شریک کرنا۔

 حسن ظن سے کام لینا۔

 پڑوسی کا کبھی ان کے رشتے داروں یا کسی سے اختلاف ہو جائے تو ان میں صلح کرانا۔

 غیر مسلم پڑوسی کو اسلام کی دعوت دینا، اپنے حسن اخلاق سے متاثر کرنا۔

بدسلوکی کی ممانعت: پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک یہ عظیم نیکی اور مبارک عمل ہے، جب کہ بدسلوکی یہ سنگین گناہ ہے اور موجب ہلاکت ہے، متعدد احادیث میں اس کی خطرناکی کو واضح کیا گیا ہے، بعض احادیث ملاحظہ فرمائیں:

1۔ ایذاء رسانی کی ممانعت:

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ» ( صحيح بخاری: 6018)

’’جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ ‘‘

2۔ کمال ایمان کی نفی

سیدنا ابو شریح بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ؟ قِيلَ : وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الَّذِي لَا يَأمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَه»

’’واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘‘(صحيح بخاری: 6016)

دوسری حدیث میں ہے:

«لَيْسَ الْمُؤمنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائعٌ» (الأدب المفرد: 112؛ مجمع الزوائد: 8؍170؛ مسند أبو يعلى: 2699؛ مسند والبیہقی: 20160؛ باختلاف يسير، صحيح الترغيب:2562)

’’وہ شخص مومن نہیں جو خود شکم سیر ہوجائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔‘‘

3۔ جنت سے محرومی:

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ

’’جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (صحيح مسلم: 46)

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے بارگاہِ نبوت میں عرض کیا:

إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأثْوَارِ مِنَ الْأقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّة » (مسند أحمد: 9675؛صحيح الترغيب:2560)

’’یا رسول اللہ ﷺ! فلاں عورت کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو ستاتی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ جہنمی ہے، پھر اس نے کہا یا رسول اللہﷺ! فلاں عورت نماز، روزہ اور صدقہ کی کمی میں مشہور ہے وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی، فرمایا: وہ جنتی ہے۔‘‘

4۔ سنگین گناہ: سیدنا عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«أوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ»

’’قیامت کے دن سب سے پہلے پیش ہونے والے دو فریق پڑوسی ہوں گے۔‘‘(مسند احمد: 17372)

دوسری حدیث میں ہے :

«كَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعْلقٍ بِجَارِهِ يَومَ الْقِيَامةِ، يَقُولُ: يَا رَبُّ! هٰذا أغلَقَ بابَه دُوْني، فَمَنعَ مَعْروفَهُ» (الادب المفرد:111؛ صحيح الأدب المفرد:81)

’’ کتنے پڑوسی قیامت کے روز اپنے پڑوسیوں سے چمٹے ہوئے ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی کے بارے میں کہے گا : اے میرے رب ! اس نے میرے سامنے اپنا دروازہ بند کر کے اپنی نیکی کو روک لیا تھا۔‘‘

پڑوسی کے ساتھ ایک بدترین شکل یہ ہے کہ پڑوسی کے گھر میں چوری کرنا اور پڑوس کی عورت کے ساتھ زنا کرنا، کیونکہ ایک پڑوسی اپنے پڑوسی پر اعتماد اور بھروسا کرتا ہے، اس کی غیر حاضری میں خاص طور پر اس کے پڑوسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پڑوس کے گھر کی خواتین کی عزت و عصمت کا محافظ ہو۔

سیدنا مقداد بن اسود بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:

مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَى؟ قَالُوا: حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِأصْحَابِهِ : لَأنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أنْ يَزْنِيَ بِامْرَأةِ جَارِهِ، قَالَ: فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ؟ قَالُوا: حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهِيَ حَرَامٌ، قَالَ : لَأنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أبْيَاتٍ أيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ (مسند احمد: 23854؛ مسند البزار: 2115؛ مسند الطبرانی:20؍257۔205، باختلاف يسير؛ صحيح الترغيب: 2404)

’’تم لوگ بدکاری کے متعلق کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا وہ قیامت تک حرام رہے گی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آدمی کے لیے دس عورتوں سے بدکاری کرنا اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے، پھر پوچھا : چوری کے متعلق تم لوگ کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا وہ حرام رہے گی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انسان کا دس گھروں میں چوری کرنا اپنے پڑوسی کے یہاں چوری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے۔‘‘

دوسری حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اسے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔

عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں:

سَألْتُ، أوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك، قُلْتُ : ثُمَّ أيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ أنْ تَقْتُلَ وَلَدَك؛ خَشْيَةَ أنْ يَطْعَمَ مَعَك، قُلْتُ : ثُمَّ أيٌّ؟ قَالَ: أنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ﴾ (صحيح بخارى: 4761)

میں نے (رسول ﷺسے)پوچھا، یارسول اللہ سے پوچھا گیا: کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا: اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا: اس کے بعد یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے فرمان کی تصدیق کے لیے نازل ہوئی:

﴿ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾

’’ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔‘‘

5۔ باعث ہلاکت: حدیث میں ہے:

«ومَا مِنْ جَارٍ يَظْلمُ جَارَهُ ويَقْهرُهُ حَتَّى يَحْمِلَهُ ذٰلكَ عَلَى أنْ يَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِهِ إلَّا هلكَ» (صحيح الأدب المفرد: 94)

’’جو کوئی شخص اپنے پڑوسی پر ظلم کرے اور اس کو اس حد تک ستائے کہ اس سے تنگ آکر پڑوسی اپنا گھر چھوڑ کر چلا جائے تو پڑوسی کو ستانے والا ہلاک ہو جائے گا۔ ‘‘

ظالم پڑوسی کی تکلیفوں پر صبر کرنا

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا:

«اذْهَبْ فَاصْبِر فَأتَاهُ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ، فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْألُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ: فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ، فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ، لَا تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ»

’’جاؤ صبر کرو، پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا:جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈال دو، تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ (سن کر) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے: اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ (گھر میں) واپس آجائیں آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 5153)

امام حسن بصری ﷫فرماتے ہیں:

“لَيْسَ حُسْنُ الْجِوَارِ كَفُّ الْأذٰى عَنِ الْجَارِ، ولٰكِنْ حُسْنُ الْجِوَارِ الصَّبْرُ عَلَى الْأذٰى مِنَ الْجَارِ.” (تنبیہ الغافلين: 1؍153؛ بہجۃ المجالس: 2؍292)

’’پڑوسی کو تکلیف نہ دینا ہی پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک نہیں ہے بلکہ حسن سلوک میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پڑوسی کی تکلیف پر صبر کرنا۔ ‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں