داعیان دین کے لیے گنج گراں مایہ حکمت (قسط 3)۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

مشہور یہودی عالم عبد اللہ بن سلام کا قبول اسلام

یہودو نصاری کو قرآن مجید میں عموماً اہل کتاب سے تعبیر کیا گیا، اس کے مختلف معانی ہیں ۔ ایک مشہور مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے درمیان الٰہی کتاب، آسمانی پیغام نازل کیا گیا، جو پیغام ربانی کے مخاطب اولین تھے، اگر چہ کہ یہ ایک اعزاز ہے لیکن ان لوگوں نے اس اعزاز کو غلط رنگ و معانی دینے کی کوشش کی۔ ان یہودیوں میں چند نامی گرامی ہستیاں تھیں، جن کے علم و فضل کے سب قائل اور معتقد تھے۔ ان میں ایک نام عبداللہ بن سلام کا تھا جو تورات کے ماہر اور علم و عقل میں پختہ اور فہم و فراست میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے، انہیں جب رسول اکرم ﷺ کی مدینہ منوره تشریف آوری کی اطلاع ملی تو انہوں نے چاہا کہ کتاب مقدس میں مذکور نشانیوں کے ذریعہ آپ ﷺ کو آزمائیں کہ واقعی آپﷺ اللہ کے نبی ہیں۔ گویا آپ کی مخالفت یا تائید سے پہلے آپ کو پرکھنا چاہا، جب آپﷺ کے چہرہ انور پر نظر پڑی، تو آپﷺ کی شخصیت ان کے دل پر اثر کرگئی، تاہم اطاعت و اتباع کے فیصلہ سے قبل مزید تحقیق کرنے کا ارادہ کیا، انشراح صدر کے لیے کچھ سوالات کئے ، قیامت ، جنت اور خلق انسان کے متعلق جن کے بارہ میں جانتے تھے کہ صرف نبی برحق ہی ان کے درست جوابات دے سکتے ہیں، جب آپ ﷺ نے اس کے شافی و کافی جوابات دیئے تو پہلے ہی آپﷺ کے رخ انور کے اسیر ہو چکے تھے، اب جب جوابات بھی تسلی بخش ملے تو اعلان اسلام میں تا خیر نہیں کی، شہادتین کا اقرار کر دیا ، لیکن انہوں نے خود یہ رائے دی کہ میرے قبول اسلام کی تشہیر سے پہلے یہودیوں سے میری شخصیت کی بابت کچھ دریافت کر لیا جائے اور آپ ﷺ بھی چاہتے تھے کہ تشہیر اسلام کو مناسب وقت تک کے لیے مخفی رکھا جائے، اس سے کئی فائدے متوقع تھے، اس وقت مدینہ منورہ کے گرد نواح میں کثرت سے یہودی آباد تھے، یہودیوں کی ایک نمائندہ جماعت جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے ان سے عبد اللہ بن سلام کے بارے میں استفسار فرمایا، یہودی نمائندوں نے ایک زبان ان کی نہایت تعریف کی اور کہا کہ “هو سيدنا واعلمنا.” وہ ہمارے سردار اور پختہ علم رکھنے والے ہیں، ان کے مقام ومرتبہ اور فہم وفراست کی تعریف کی، پھر آپ ﷺ نے انہیں اشارہ دیا کہ آئیں اور لوگوں کے سامنے اسلام کے بارے میں خود بتائیں، ابھی تک یہودی بھی اس سے ناواقف تھے کہ ان کے سردار اور عالم خود دین اسلام قبول کر چکے ہیں۔ انہوں نے جب اسلام کی حقانیت اور رسول اکرمﷺ کی صداقت بیان کرتے ہوئے قبول حق کی اپنے لوگوں کو دعوت دی تو وہ سخت مخصمہ میں پڑ گئے کہ اب کیا کریں۔

قبول اسلام کا مطلب اپنی شکست اور رد اسلام کا معنی حقیقت کا انکار ! ابھی تک یہودی نفسیاتی برتری کا شکار تھے۔ اسی برتری اور حاسدانہ جذبات کے تحت ان کی اکثریت نے قبول حق سے انکار کر دیا بلکہ دیگر کلمہ گو لوگوں سے یہی توقع لگائے بیٹھے تھے کہ وہ بھی دین کا انکار کر دیں۔﴿ حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم ﴾ (سورۃ البقرہ: 109)

عبد اللہ بن سلام ان اوائل صحابہ میں ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ کے ابتدائی زمانہ میں ہی اسلام قبول کرنے کا شرف پایا، پہلے ہی سے وہ کتاب مقدس کے عالم تھے، اپنے علم و ذاتی مقام کے ذریعہ دین اسلام کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک مرتبہ زنا کی سزا کا مسئلہ درپیش تھا، یہودیوں نے اس مسئلہ میں نبی کریم ﷺکی عدالت میں پیش ہونے کو ترجیح دی، شاید کہ دربار نبوی سے جو سزا صادر ہو وہ تورات میں ذکر کردہ سزا سے کم ہو۔ آپﷺ نے اپنی طرف سے فیصلہ دینے کے بجائے ان سے خود تو رات کا حکم معلوم کیا، انہوں نے کچھ غلط بیانی سے کام لینا چاہا، عبد الله بن سلام جو تو رات کے ماہر تھے انہوں نے یہودی چالاکی کو پکڑ لیا کہ مسئلہ بیان کرنے میں غلط بیانی کی جا رہی ہے۔ پھر تو رات سے مسئلہ نکال کر انہیں بے نقاب کیا کہ وہاں اس جرم کی وہی سزا ہے جو قرآن مجید میں مذکور ہے۔ صادق مصدوق ﷺ نے فرمایا: دور جا ملیت میں مقام و رتبہ رکھنے والوں کے لیے اسلام میں بھی اہم مقام ہوگا ، بشرطیکہ ہ دین سمجھیں اور اسلام پر ثابت قدم رہیں۔

«خِيَارُهُمْ فِي الجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ، إِذَا فَقُهُوا» (صحيح بخارى: 3353)

غزوہ احزاب اور نعیم بن مسعود کا قبول اسلام:

مسلمانوں کے خلاف غزوہ احزاب نہایت نازک اور پیچیدہ جنگ تھی۔ شوال کا مہینہ سن5 ہجری مشرکین مکہ نے اسلام دشمن تمام قوتوں کے ساتھ یکبارگی حملہ کا منصوبہ بنایا۔ مختلف قبائل کو اس لڑائی میں شرکت پر آمادہ کر کے ایک بھاری جماعت کے ساتھ مدینہ منورہ کا رخ کیا تاکہ شہر کے امن و امان کو تہہ وبالا کر کے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے پسپا کر دیا جائے، بڑی تیاری اور مکرو فریب کے ساتھ مدینہ کی جانب یہ لشکر چل پڑا ، رسول اکرمﷺ کو جب اس کی اطلاع ملی، آپﷺ نے حسبِ سنت دفاع کے لیے مشورہ فرمایا۔ سیدنا سلمان فارسی کی تجویز پسند کی گئی کہ مشرکین کو تقسیم کرنے کے لیے شہر کے اطراف اہم راستوں پر خندقیں کھودی جائیں ،تاکہ اکٹھے وہ مدینہ پر چڑھائی نہ کر سکیں،ان کے منتشر اور منقسم دستوں کو آسانی سے قابو کیا جاسکے گا، جنگی حکمت عملی کے اعتبار سے اس رائے کو پسند کر کے تیاری شروع کر دی گئی۔ عین موقع پر عرب کے بڑے قبیلہ غطفان کے ایک شخص نعیم بن مسعود نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا، سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک طرف خطرناک جنگ اور یلغار سے بچاؤ اور دفاع کی تیاری جاری تھی اور دوسری طرف دعوتی سرگرمیاں بھی کم نہیں ہوئی تھیں۔ نو مسلم نعیم بن مسعود ایک زیرک اور نڈرشخص تھے، مشہور قبائل میں ان کی قدر ومنزلت تھی۔ آپ ﷺ نے ان کے اسلام کی تشہیر نہیں فرمائی بلکہ انہیں خفیہ مہم سونپی گئی کہ مشرکین کو آپس میں لڑانے ان کے اتحاد کو کمزور کرنے کی تدبیر اختیار کی گئی ۔ مشرکین اپنی پلاننگ کے برعکس مدینہ کے باہر ہی پڑاو ڈالنے پر مجبور ہوگئے کہ اپنے منصوبہ کے مطابق وہ سب اکٹھے حملہ نہیں کر سکتے تھے اور چیدہ چیدہ دستوں کو خندق پار بھیجنے میں ان کی ہلاکت اور بربادی کا خطرہ تھا ، خندق کا کوئی تجربہ نہیں تھا، یہ حربہ پہلی بار اختیار کیا جا رہا تھا، مسلمانوں کی طرف سے ، ادھر نَو مسلم نعیم میں مسعود اپنی خفیہ مہم میں متحرک ہو گئے۔

مشہور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو پہلے کمزور کیا اور غطفان سے ان کا اعتماد ختم کیا اور غطفان کا اعتماد مقامی یہودیوں سے کمزور ، یوں مختلف بڑے قبائل آپس میں دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ فرد واحد نے مخالفین کے مضبوط جھتوں کو بے یقینی کی کیفیت سے دو چار کر دیا۔ پھر اس جنگ کا محاصرہ بھی طویل ہوتا گیا، آپس میں اعتماد مجروح ہو چکا تھا، لہٰذا بغیر کسی باقاعدہ جنگ کے انہیں واپس لوٹنے میں ہی عافیت دکھائی دی، وہ بے نیل مرام لوٹ گئے اور نبی کریم ﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کو بشارت دی کہ اس کے بعد مشرکین عرب اجتماعی حملہ تم پر نہیں کر سکیں گے۔ نہ تمہارے خلاف اجتماعی پیش قدمی کرسکیں گے، بلکہ ہم پیش قدمی کریں گے ۔

الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ (صحیح بخاری: 4110)

سیدنا سلمان فار سی- سیدنا ابو درداء

سیدنا سلمان فارسی نے کہ مکہ سے ہجرت کی بلکہ اپنے پیدائشی وطن ایران سے تلاش حق کی خاطر ہجرت کرکے طویل مسافت اور کٹھن مراحل طئے کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، جن کی بابت رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یا :

کہ اس دھرتی پر ایسے بھی کچھ لوگ ہیں، جنہیں اگر معلوم ہو کہ حق زمین پر نہیں آسمان کی بلندیوں پر ہے تو ستاروں تک کمبندیں ڈال کر حق حاصل کرنے میں دریغ نہیں کریں گے ۔

لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ (صحیح بخاری: 4897؛ صحیح مسلم: 6498)

حصول حق کی خاطر انہیں بڑی قربانیاں اور طویل جد و جہد کرنی پڑی، ان تلخ وشیریں حالات سے ان کی زندگی نہایت متوازن ہو چکی تھی، ان کا ہاتھ سیدنا ابو درداء کے ہاتھ میں دیا گیا۔ جو شب زنده دار، نہایت عبادت گزار، بڑی حد تک دنیا سے بے نیاز تھے، جب اپنے نو وارد بھائی کو لئے گھر پہنچے اور کچھ شناسائی بڑھی تو دیکھا کہ انصاری بھائی کی زندگی کی گاڑی کچھ غیر متوازن رخ اختیار کی ہوئی ہے، گھر کی حالت اور خاتون خانہ کی بود و باش خبر دے رہی ہے کہ یہاں زندگی گزرنے کے تقاضوں سے بڑی حد تک چشم پوشی برتی جا رہی ہے، سیدنا سلمان مہاجر نے گھر کے حالات معلوم کر کے مشفقانہ انداز سے اپنے انصاری بھائی ابو درداء کو زندگی میں اعتدال بر قرار رکھنے کے کچھ اداب اس انداز سے بتائے کہ ترک دنیا کی بو بھی نہ آنے پائےاور آخرت فراموشی کا احساس بھی نہ ہو۔ سیدنا سلمان فارسی کی متوازی گفتگو اور زندگی کے سنہرے اصولوں پر رسول اکرم ﷺ نے مہر تصدیق ثبت فرمادی کہ

” صدق سلمان “

إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ (صحیح بخاری : 1968 )

اپنے خالق پروردگار کا تم پر حق ہے، کچھ نفس کا حق ہے اور اہل و عیال کے حقوق ہیں ، ہر ایک کا حق ادا کیا کیجیے۔ زندگی گزارنے کا یہ متوازن قاعده اور معتدل اصول ہیں۔

اس کو اپنا کر انسان کی زندگی بڑی پر سکون ہو جاتی ہے ، یہاں نہ جوگیوں اور سنیاسیوں اور راہبوں کا اپنایا ہوا ترک ِ دنیا کا تصور ہے اور نہ ہی لا دین : رب بیزار، کلچر کی گنجائش ہے کہ

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوباره نیست

مذکوره واقعہ سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ نو وارد مہاجر مدینہ کے انصاریوں سے صرف وصول کرنے والے ہی نہیں تھے، بلکہ جو کچھ دے سکتے دے رہے تھے، اسی حسین امتزاج سے مدنی معاشرہ تشکیل پا رہا تھا جن میں چاروں طرف سے خیر عام ہو رہا تھا ، جس کی جھولی میں جو خیر تھا، وہ ڈال رہا تھا۔

انصار اور مہاجرین کے درمیان اخوت

رسول اکرم ﷺ نے مکہ مکر سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد جن امور کی انجام دہی میں ترجیحی بنیادوں پر پہل کی ان میں ایک اہم مسئلہ جس کا مشاہدہ چشم فلک نے روئے زمین پر پہلی بار کیا۔ وہ انصار مدینہ اور مہاجرین مکہ کے مابین اخوت اسلامی قائم کرنا تھا، مدینہ منورہ میں مختلف قبائل رہائش پذیر تھے ، ان میں باہمی رقابت اور چپقلش اتنی شدید تھی کہ دو بڑے قبیلوں کے مابین جاری لڑائی اور خانہ جنگی تقریبا 120 سال چلتی رہی ، تاریخ عرب میں حرب بعاث بہت مشہور ہے، جو مدینہ کے دو بڑے قبیلوں اوس اور خزرج کے درمیان جاری تھی، نَو وارد مہاجرین دور جاہلیت کے پروردہ اور قدیم عربی تہذیب کے خوگر تھے ان میں باہمی جنگ و جدال ، طبقاتی کشمکش اتنی زیادہ تھی کہ

وہاں یہ مقولہ مشہور تھا کہ

كذاب ربيعه أحب إلينا من صادق مضر

ربیعہ اور مضر دو بڑے قبیلے تھے، عربی اشعار اور عربوں کے درمیان رائج محاوروں اور ضرب الامثال سے ان کی تہذیب اور فکر و نظر کی عکاسی ہوتی ہے۔

کہ ربیعہ برادری کا جھوٹا شخص بھی مضر برادری کے سچے سے بہتر اور محبوب ہے۔

وہ اس تہذیب کے پروردہ اور ان عادات کے خوگر تھے۔ ایسے میں رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی توفیق خاص سے ان کے درمیان محبت، الفت اور اخوت کا ایسا رشتہ قائم فرمایا، جس کی کوئی نظیر نہیں پیش کی جا سکتی۔

﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ (سورۃ الانفال: 63)

مدینہ منورہ میں مہاجرین اجنبی اور پردیسی تھے جو اپنے وطن ، گھر بار، دهن دولت اور بعض اہل و عیال کو اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے تھے، ان نَوواردوں کے اقتصادی اور تمدنی مسائل ایسے حل فرمائے کہ ان کے لیے سرزمین مدینہ محبوب اور اس کے باشندے عزیز تر بن گئے۔ انصار مدینہ نے آنے والوں کو اپنے گلے لگایا اور اتنی محبت اور سہارا دیا کہ خونی رشتہ دار بھی مات کھا گئے، اور اپنی عظمت کے ایسے تابندہ نقوش چھوڑے کہ انصاریوں کی وارفتگی کی مثال بھی تلاش نہیں کی جاسکتی۔

سیدنا سعد بن ربیع انصاری کے سپرد سیدنا عبد الرحمن بن عوف مکی کا ہا تھ تھما یا کہ آج سے تم دونوں بھائی بھائی ہو، سیدنا سعد بن ربیع اپنے نَو وارد نئے بھائی کو گھر لے گئے اور خود سے پیشکش کی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بڑی دولت دی، باغ، کھیت، زمین سب کچھ کی فراوانی ہے، آج سے میں چاہتا ہوں کہ مال و متاع کو دو حصوں میں تقسیم کر کے نصف کے مالکانہ حقوق تمہارے حوالہ کردوں اور دل پر ہاتھ رکھ کر انصاری صحابی کے بہی خواہی کا اندازہ کیجئے کہ کہا : میری دو بیویاں ہیں ، تم یہاں اجنبی ہو ، شریک حیات تلاش کرنے میں کچھ دشواری ہو سکتی ہے۔

اگر تم پسند کرو تو ایک کو طلاق دے دوں تاکہ عدت گزرنے کے بعد تم اس کے ساتھ نکاح کرسکو ۔ زر، زن اور زمین کی خاطر لوگ نہ خونی رشتہ داروں کو پہنچانتے ہیں اور نہ ہی اداب مروت و شرافت یا اصول و قوانین کی پاسداری کرتے ہیں اور اد ھر بن مانگے سب کچھ بخشنے کی پیشکش کی جا رہی ہے ۔یہ اور بات ہے کہ اجنبی مہا جر سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اس فیاضی کا اتنی ہی شان، بے نیازی اور خود داری سے جواب دیا کہ میرے بھائی ! اللہ! تمہارے جذ بہ کو قبول فرمائے، تمہیں مزید برکتوں سے ہمکنار کرے، مجھے تمہاری صرف اخلاقی مدد کی ضرورت ہے اور بس ! یہاں کے بازار اور طور طریقے سے باخبر ہونا چاہتا ہوں، اس نیت کے ساتھ بازار میں قدم رکھا، ذہن تجارتی تھا۔ بازار مدینہ کے انداز سمجھتے گئے اور قدم جماتے گئے ، جلد ہی اتنے خود کفیل بن گئے کہ انصاری خاتون سہلہ بنت عاصم کے ساتھ اپنے خرچ پر شادی بھی کرلی . اخوت اسلامی کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ آپس میں رشتہ داریاں بھی قائم ہونے لگیں ۔ ورنہ بعض قبائل میں دوسرے قبیلہ کے فرد کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی سے زیادہ زندہ درگور کرنے کو ترجیح دی جاتی ۔ اس بھائی چارگی کا فائدہ ﴿‏ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ قدم قدم پر دیکھنے ہیں آ رہا تھا۔

میثاق مدینہ

مدینہ منورہ اور گردو نواح کثرت سے یہودی آباد تھے۔ جہاں ان کے اپنے مسائل تھے، ان کی ریشہ دوانیاں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کچھ کم نہ تھیں۔

دوسری طرف منافقین کی اپنی سازشیں اندرونی صفوں میں انتشار کا سبب بن گئی تھیں، مشرکین کی اپنی عداوت اور نفرت بھی عروج پر تھی۔

ان میں کسی نئی حکومت کی تشکیل جو خالص الٰہی تعلیمات کی روشنی میں ہو، انجام دینا بہت ہی پیچیدہ اور دشوار مسئلہ تھا، لیکن اس کٹھن مقصد کو آپ ﷺ نے ناخن تدبیر سے ایسے سلجھایا کہ باہمی خونریزی اور نفرت کے بجائے ایک دوسرے کے حقوق کے رکھوالے اور خیر تقسیم کرنے والے بن گئے، اس کے لیے ایک معاہدہ امن اور دستور ترتیب دیا گیا ، جو کہ متمدن دنیا کا پہلا تحریری دستور ثابت ہوا جو کہ باشندگان مدینہ منوره مسلمان یہودی اور مشرکین تمام کے حقوق کا ضامن اور سب کے لیے پروانہ امن و سلامتی ثابت ہوا ۔

اس دستور کے کچھ بند ملاحظہ فرمائیے:

 اہالیان مدینہ منوره تمام انصار و مہاجر مسلمان، غیر مسلم یہودی، نصرانی، مشرکین سب کو شہری حقوق حاصل ہوں گے ۔

 ہر ایک اپنے اپنے معتقدات اور دین کی پیروی کر سکے گا ۔

 ہر باشندہ کی ذمہ داری ہوگی کہ شہری امن و امان کو باقی رکھنے کی کوشش کریں اور سرحد پار سے حملہ آور کو اجتماعی انداز میں روکیں ۔

 ہر باشندہ کے لیے عدل و انصاف کے برابر کے مواقع ہوں گے، یہودیوں کی جان ، عزت اور مال اور دین محفوظ ہوں گے، اس کے لئے انہیں مخالفین ریاست کے ساتھ عدم تعاون کے اصول پر عمل کرنا ہوگا ۔

 شہر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے داخلی اور خارجی نزاعات اور لڑائی جھگڑے سے گریز کرنا ہوگا ، اور باہمی اختلافات میں نبی کریم محمد مصطفی ٰ ﷺ کو سینئر اتھا رٹی اور فیصل کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا ۔

یوں اس میثاق کے سبب مختلف مذاہب کے پیرو کاروں کو مدینہ منورہ میں امن وامان کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے گئے ، اور پہلی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی جو تمام رعایا، افراد کے لیے عدل و انصاف اور مساوات کے اصولوں پر تھی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں