داعیان دین کے لیے گنج گراں مایہ حکمت (قسط 3)۔مولانا محمد عبد الہادی العمری

وفات نبیﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق کا پراز حکمت موقف

موت ایک اٹل حقیقت ہے ، ہر جاندار کو ایک دن مرنا ہے،كل نفس ذائقة الموت اس ثابت شدہ حقیقت کے باوجود موت کی تلخی بھی ایک ناقابل تردید صداقت و مشاہدہ ہے ۔مرنے والے کے لیے یہ ایک تکلیف دہ وقت ہوتا ہے، اس کے بے قابو پریشان اعضاء پھٹی ہوئی آنکھیں اس شخص کی تڑپ اور پریشانی کا پتہ دیتی ہیں، دنیا کی افضل ترین شخصیت رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے آخری لمحات میں نکلنے والے الفاظ خود اس کیفیت کا پتہ دے رہے ہیں۔

«إن للموت سكرات» (صحیح بخاری: 6510)

آپ اس حدت کو کم کرنے کے لیے اپنا دست مبارک پیالہ میں ڈالتے اور بھیگی ہوئی تر انگلیاں اپنی پیشانی پر پھیرنے لگتے ، موت کی تکلیف اور شدت سے مرنے والا تو دو چار ہوتا ہی ہے، لیکن اس کا اثر ان کے اعزہ واقارب اور دو ست احباب پر بھی اپنے اپنے تعلقات کے مطابق ہوتا ہے ۔

اسی لیے اس نازک موقع کے لیے تعلیمات نبوی میں کچھ ہدایات دی گئیں کہ موت کی خبر پر کیا کہنا اور کیا کرنا چاہئے۔ فرزند رسول ﷺ ابراہیم کے انتقال پر آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئی تھیں کہ یہ فطری تقاضا ہے لیکن زبان سے شکوہ و شکایت کے بجائے رضا و تسلیم کے الفاظ ادا ہو رہے تھے کہ ایسے ہی وقت صبر وضبط کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ۔

ظاہر ہے کہ رسول اکرم صلیﷺ کی شخصیت صحابہ کرام کے لیے سب سے افضل اور محبوب ترین تھی، آپ ﷺ کی صحبت میں گزرے ہوئے لمحات ان کے لیے متاع حیات تھے، آپ کے بدن سے لگا پانی ان کے لیے سرمایۂ زندگی ہوتا، آپ کے لعاب دہن کو وہ اپنے لیے باعث شفا و برکت جانتے ، آپ کے فرمودات پر عمل ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ لہٰذا جب آپ کی موت کی خبر مدینہ منورہ میں پھیلی تو اس کوہ گراں کے سبب جو صدمہ انہیں پہنچا اسے تصور میں لانا دشوار ہے، خادم خاص سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ہماری زندگی کا تابناک دن وہ تھا جب آپ ﷺ کی مدینہ میں تشریف آوری ہوئی اور تاریک ترین دن وہ تھا جب آپ کی وفات ہوئی۔

عن أنس رضي الله عنه ما رأيت يوماً قط كان أحسن ولا أضواً من يوم دخل علينا فيه رسول اللہ ﷺ، وما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه رسول اللہ ﷺ (جامع ترمذی: 3618)

میدان جنگ میں انتہائی کٹھن حالات میں بھی جن کے قدم ڈگمگاتے نہیں تھے اس خبر کے بعد ان کے قدم خود ان کے جسموں کو سہار نہ سکے ۔

اس دل فگار اور غمگین گھڑی میں سیدنا ابو بکر نے اپنی حکمت عملی، صبر اور بردباری سے اس کے اثرات کو بے قابو ہونے اور امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے بچا لیا، انہیں جب اس حادثہ جانکاہ کی خبر ملی وہ حجرہ نبوی پہنچے ۔

کسی سے کوئی تعرض نہ کیا، رسول اکرم ﷺ کے اوپر چادر ڈال دی گئی تھی، چہرہ سے چادر ہٹائی پیشانی مقدس کابوسہ لیتے ہوئے گویا ہوئے ، یہ وہ موت ہے جس سے کسی کو رستگاری نہیں، آپ نے پاکیزہ ترین زندگی گزاری اور قابل رشک حالت میں داعی اجل کو لبیک کہا ، اس کے ساتھ ہی جناب صدیق کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ، آواز بھرا گئی، پھر سے چادر چہرہ انور پر ڈال دی، اور مسجد تشریف لے گئے جہاں لوگ ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھے ، آپ نے سیدنا عمر فاروق جو ایک کو نہ میں کھڑے ہوئے تھے کہا کہ بیٹھ جاؤ، لیکن وہ اس وقت بے خودی اور وارفتگی کی کیفیت سے دوچار تھے انہوں نے صدیق اکبر کی بات سنی ان سنی کردی، جناب صدیق نے مزید الجھنے کے بجائے دوسری طرف کھڑے ہو کر اپنی گفتگو شروع کردی، اس نازک موقع پر فدائی رسول ﷺاور یار غار کی زبان سے حمد و ثناء کے کلمات سن کر مسجد میں موجود لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے ، جناب صدیق موقع کی مناسبت سے قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کچھ اس انداز میں کی کہ بڑے بڑے لیکچر، وعظ و نصیحت کی طویل گفتگو اس کے سامنے ہیچ تھی:

﴿ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ (سورة آل عمران : 44)

«من كان منكم يعبد محمداً فان محمداً قدمات و من كان منكم يعبد الله فان الله حی لا یموت » ( صحیح بخاری : 640 )

جناب صدیق کی زبان سے برجستہ اس آیات کی تلاوت حکمت و اعلیٰ بصیرت کا ایسا نمونہ تھی، محفل میں موجود بعض صحابہ کرام کہتے ہیں کہ یوں محسوس ہوا گویا ہم پہلی بار یہ آیت سن رہے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے نہ جانے کتنی مرتبہ آیت مذکورہ کی سماعت اور تلاوت کر چکے تھے۔ صحابی جلیل فاروق اعظم بھی سننے والوں میں شامل تھے، جناب صدیق کی زبان سے یہ آیت سنتے ہی ان پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ واقعی رسول اکرم ﷺ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی تندرست و توانا عمر فاروق کے قدم لڑکھڑا گئے وہ زمین پر گر پڑے ۔

ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا کہ ہمیں تو یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ آیت ابھی ابھی نازل ہوئی ہے ،کسی سے الجھے بغیر اور کسی کو انفرادی طور پر مطمئن کرنے کی سعی کے بغیر ہی سب مطمئن ہو چلے تھے کہ موت کا کلیہ رسول اللہ ﷺ پر نافذ ہو چکا ہے ، اس کے ساتھ ہی وہ اس ہیجانی کیفیت سے نکل کر اگلے مراحل کی طرف متوجہ ہوئے۔

ایک طرف تجہیز و تدفین کا مرحلہ تھا دوسری طرف مسلمانوں کی ولایت و امارت کا دشوار مسئلہ ، تعیین امیر کے بغیر امت مسلمہ کا شیرازہ منتشر ہونے کے خطرات منڈلا رہے تھے، قبائلی عصبیت کی چنگاریاں بھڑکنے میں دیر نہیں لگتی ، بر وقت امارت کا مسئلہ طے کرنے کے لیے نہایت دور اندیشی اور حکمت کی ضرورت تھی، مسجد نبوی سے قدرے دوری پر سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کی سرکردہ شخصیات اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جمع ہو چکی تھیں، قبل اس کے کہ وہاں سے کوئی اعلان ہو جائے، صدیق اکبر ، فاروق اعظم اور امین امت ابو عبيدة الجراح بر وقت وہاں پہنچے ، سلطنت اسلامیہ کی امارت جس کے ہزار ہا پیروکار اور وسیع رقبہ پر حکومت پھیلی ہوئی ہو ۔

اس کے لیے ذمہ دار اعلیٰ کا انتخاب آسان نہیں، علاقہ کے معمولی کو نسلر کے انتخاب میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو سامنے رکھا جائے تو اس کی نزاکت سمجھی جاسکتی ہے، مختلف تجاویز زیر غور تھیں، ان پر ردو کد اور بحث وتکرار جاری تھی، لیکن صدیق اکبر کا غیر متزلزل اسلوب اور فاروق اعظم کی جرأت مسئلہ کو حل کرنے کا سبب بنی ، جناب صدیق نے کہا کہ امیر مہاجرین میں سے ہوگا اور انصار ان کے وزراء، معاون اور مددگار ہوں گے ، اس کے لیے ابتدائی طور پر دو نام تجویز کئے کہ عمر فاروق اور ابو عبیدہ میں سے کسی کو منتخب کرلو، فوراً عمر فاروق نے دو ناموں کے بجائے ابو بکر صدیق کا اسم گرامی پیش کیا کہ ان سے بہتر کوئی اور شخص نہیں، بارگاہ رسالت میں جو مرتبہ جناب صدیق کو حاصل تھا، اس میں ان کا کوئی شریک و سہیم نہیں، حجۃ الوداع سے ایک سال قبل رسول اکرمﷺ نے سن 9 ہجری میں سیدنا صدیق کو امیر حج بنا کر بھیجا تھا، ان کی روانگی کے کچھ ہی دنوں بعد جب سور ۃ برات کی آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ کئے گئے اور جاری عہد و پیمان کے متعلق اہم اعلانات براء ت کے لیے عرب تہذیب کے مطابق اپنے گھر کے فرد سيدنا على بن ابى طالب کو اپنے نمائندہ خصوصی کے طور پر روانہ فرمایا، ، سيدنا على قافلۂ ابو بكر سے جا ملے تو سیدنا صدیق نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کو بطور امین بھیجا گیا یا مامور، سید نا علی نے وضاحت فرمائی کہ آپ ہی امیر رہیں گے اور میں مامور ہوں، پھر دوران حج مختلف موقعوں پرکئی اعلانات آئندہ کی پالیسی اور مشرکین عرب کے حوالہ سے کئے گئے ۔(صحیح بخاری: 626 )

اور آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری تین دن اپنے مصلے پر امامت صلاۃ کے لیے سیدنا ابو بکر ہی کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں۔

«مرو أبا بكر فيلصل بالناس» (صحیح بخاری: 99)

حکم نبویﷺ کے مطابق سید ناصدیق نے امامت کی اور وہاں موجود تمام صحابہ کرام ان کی اقتداء میں فرض نمازیں ادا کرتے رہے۔ لہٰذا سیدنا عمر فاروق نے کہا کہ ابو بکر آپ اپنا ہاتھ بیعت کے لیے آگے بڑھائیے ، محفل میں موجود لوگوں کی اکثریت نے بیعت کی، سقیفہ بنو ساعدہ میں موجود لوگوں کی بیعت کے بعد مسجد نبوی میں اجتماع عام ہوا، پہلے سیدنا عمر نے ابوبکر کے مقام و مرتبہ کے بارے میں گفتگو کی اور پھر بیعت عامہ ہوئی ۔

یوں امت مسلمہ کی قیادت کے اس نازک اور کٹھن مرحلہ کو حکمت و بصیرت اور انتہائی بالغ نظری کے ساتھ حل کر لیا گیا۔

امارت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے کلیدی خطاب میں سیدنا صدیق نے فرمایا :

“فإنى قد وليت علیكم ولست بخيركم فإن أحسنت فأعينونى وإن اسأت فقومونى … أطيعونى ما أطعت الله ورسوله فيكم فإذا عصيت الله ورسوله فلا طاعة لى عليكم.” (البدایۃ والنہایۃ: 5؍248)

مجھے سربراہ بنا دیا گیا ہے، حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں، میری بہتر کارگزاری میں میرا تعاون کرو اور کہیں خرابی ہو تو درست کردو جب تک اللہ اور اس کے رسول کی میں اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت بجا لاؤ اور اگر میں کہیں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو میری اطاعت نہ کرو ۔ سلطنت اسلامیہ میں عدل و انصاف کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہوگا کوئی کمزور یا طاقت ور نہیں، کسی پر ظلم اور نا انصافی کی گنجائش نہیں ہوگی ۔۔۔۔

جیش اسامہ کی روانگی :

سیدنا ابوبکر کے سامنے زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد مجاہدین کے حوالہ سے پہلا مرحلہ رومن امپائر کی خبر لینے کا تھا، دراصل رسول اکرم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں قیصری تسلط اور ریشہ دوانیوں کی خبر لینے کے لیے ایک بڑا لشکر تیار فرمایا تھا اور اس اہم لشکر کی قیادت سیدنا اسامہ بن زید کے سپرد فرمائی ، لشکر پا بہ رکا ب تھا ہی کہ آپ ﷺ کا مرض شدت اختیار کر گیا اور لشکر کی روانگی میں کچھ تاخیر ہو گئی اور بالآخر آپ ﷺ اس دار فانی سے کوچ کر گئے ، اس خبر کے ساتھ ہی نئے فتنے سر اٹھانے لگے ،کچھ لوگ فتنہ ارتداد میں مبتلا ہو گئے، کچھ لوگوں نے زکوٰة کی ادائیگی سے انکار کیا وغیرہ، مدینہ منورہ اور گرد و نواح میں بظاہر حالات ایسے تھے کہ اتنی بڑی فوج مدینہ سے دور بھیجنا نقصان دہ ہو سکتا تھا، کیونکہ دارالحکومت کو مضبوط و مستحکم رکھنے کے لیے وہاں زیادہ نفری کی ضرورت تھی ، ان حالات میں یہ مشورہ بادی النظر میں درست ہی دکھائی دیتا تھا، لیکن سیدنا صدیق کی دور رس نگاہ اور تربیت نبوی کے اثرات نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا، کہ جو لشکر رسول اللہ ﷺ نے ترتیب دیا ہو، اس میں تردد کا میں مرتکب نہیں ہو سکتا، انہوں نے اپنا دوٹوک موقف بیان کیا کہ اگر مدینہ منورہ، پر وحشی جانوروں اور جنگلی پرندوں کے حملہ کا خطرہ منڈلا رہا ہو تب بھی یہ لشکر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگا اور فیصلہ نبوی نافذ ہو کر رہے گا، پھر کچھ بہی خواہوں نے یہ مشورہ دیا کہ اتنی بڑی فوج کی قیادت سیدنا اسامہ کی جگہ کسی معمر تجربہ کار صحابی کے سپرد کی جائے، سید ناصدیق نے اس تبدیلی کو رسول اکرم ﷺ کے فیصلہ سے سرتابی کے مترادف قرار دیا کہ جس نوجوان کو رسول اللہ ﷺنے قیادت سونپی ہو میں اسے معزول کرکے کسی اور کا انتخاب کروں، اندیشہ ہے کہ اس میں مخالفت نبی کا پہلو نہ نکلے جس پر شدید وعید اور تنبیہ کی گئی ۔

﴿ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (سورۃ النور: 63 )

غرض مختلف اندیشوں اور خطرات کے باوجود حسب حکم و منشائے نبوی یہ لشکر اسامہ بن زید کی قیادت میں روانہ ہو گیا ،خلیفۃ المسلمین کچھ دیر لشکر کی معیت میں چل پڑے، سپہ سالار اسامہ سواری پر سوار تھے، سیدنا صدیق پیدل چل رہے تھے انہوں نے ادب و احترام میں امیر المومنین سے کہا کہ یا تو آپ سوار ہو جائیے یا مجھے بھی پیدل چلنے کی اجازت دیجئے، جناب صدیق نے دونوں ہی باتوں سے منع کیا نہ تم پیدل چلو گے اور نہ ہی میں سوار، کچھ دیر تو مجاہدین کے ساتھ اپنے پاؤں فی سبیل اللہ غبار آلود ہونے کی برکت حاصل کرلوں، اسی لشکر میں سیدنا عمر بن الخطاب بھی تھے ان کے لیے درخواست کی گئی کہ اس وقت ان کی مدینہ منورہ میں زیادہ ضرورت ہے، لہٰذا قائد لشکر نے امیر المومنین کی درخواست منظور کی اور سیدنا عمر کو روانگی سے مستثنی کر دیا۔

امیر المومنین کے حکمت سے پر جرأت مندانہ بروقت فیصلہ کے اتنے مثبت اثرات مرتب ہوئے کہ جس علاقہ سے یہ لشکر جرار گذرتا علاقہ کے لوگوں پر ہیبت طاری ہوتی کہ مسلمانوں کے ہاں گویا اتنی طاقت ہے کہ اس نازک گھڑی میں اتنی بڑی فوج دارالسلطنت سے دور جا رہی ہے تو مدینہ کی اندرونی طاقت کا عالم کیا ہوگا، یوں جو مدینہ کے خلاف اقدام کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے اپنے ارادہ سے باز آتے گئے۔ خلیفہ وقت کا کچھ دیر لشکر کے ساتھ چلنے کے سبب فوج میں جو چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ سیدنا اسامہ کو کیوں سپہ سالار بنایا گیا ، اس کے اثرات از خود زائل ہو گئے اور پھر حب رسول ﷺ کی برکات قدم قدم پر دیکھنے میں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فتح و کامرانی سے انہیں سرفراز فرمایا، نہایت شاداں و فرحان فائز المرام یہ لشکر واپس لوٹا ۔

یوں سیدنا ابو بکرصدیق نے اپنے یقین محکم اور پرازحکمت اقدامات کے ذریعہ سلطنت اسلامیہ کی بنیادیں مضبوط کیں کہ اساسیات دین میں لیت ولعل اور تذبذب کی گنجائش نہیں، اسی جرأت مندانہ موقف کے باعث فتنہ ارتداد کا طوفان کمزور پڑ گیا اور جنہوں نے ادائیگی زکوٰۃ سے انکار کیا، ان کی ہمتیں جواب دے گئیں کہ جناب صدیق اكبر کے جیتے جی دین میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں اور ان کا یہ جملہ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ثبت ہو گیا کہ

أينقص الدين وأنا حي

٭٭٭

لارڈ نزری احمد کی اہلیہ محترمہ انتقال فرما گئیں

لارڈ نزیر احمد کی ترقی میں ان کی اہلیہ محترمہ کا مثالی کردار تھا۔

برطانیہ کی معروف شخصیت جناب لارڈ نزیر احمد کی اہلیہ محترمہ 65 سال کی عمر میں رادھرم میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

نماز جنازہ میں اقارب واحباب کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور مرحومہ کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر وجمیل کی دعا کی گئی۔

لارڈ نزیر احمد کے مشیر مذہبی امور مولانا شیر خان جمیل احمد عمری نے رقت آمیز نماز جنازہ پڑھائی۔ مرحومہ بہت ہی نیک وصالحہ، مہمان نواز اور اچھے اخلاق وعادات سے متصف تھیں، اللہ کریم ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر ثاقب نے کہا کہ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ ہر بڑے مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح لارڈ نزیر احمد کے پیچھے ان کی اہلیہ مرحومہ کا ہاتھ تھا، مرحومہ سینکڑوں اقارب و احباب کو غمگین چھوڑ کر چلی گئیں ہیں۔ جنازہ میں مولانا سرفراز احمد مدنی، جناب خالد پرویز، مولانا محمد عبدالکریم ثاقب، جناب محمد غالب اور بہت سے عمائدین وقائدین شریک تھے، رادہرم میں تدفین عمل آئی۔ واضح ہو کہ سال گزشتہ لارڈ نزیر احمد کے دو بڑے بھائی جناب فاروق احمد اور جناب طارق احمد کی وفات سے لارڈ نزیر احمد صدمہ سے دوچار تھے کہ اب شریک حیات کی جدائی سے مزید بڑے صدمہ سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اللہ انہیں اس غم کو سہنے کی ہمت وطاقت عطا فرمائے۔ آمین

مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، چودہدری افتخار احمد، قاری محمد حمید الدین، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ کے قائدین وعلمائے کرام نے لارڈ نزیر احمد سے اظہار تعزیت کیا۔

پوری دنیا سے سینکڑوں اقارب واحباب نے لارڈ نزیر احمد سے اظہار تعزیت کی۔

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں لارڈ احمد کی زوجہ میں

٭٭٭

تبصرہ کریں