
28؍ اپریل 2000 ء مطابق 23 ؍محرم 1421 ھ جمعہ کا دن ، بریڈ فورڈ کے لیے تاریخی اور بابرکت ثابت ہوا، یہ دن مسلمانان بریڈ فورڈ کی آرزوں اور کوششوں کی کامیابی کا دن تھا ، جمعیت اہلحدیث کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والی محمدی مسجد کے افتتاح کا دن تھا، اس دن کے لیے وابستگان جمعیت بے چینی سے دن گن رہے تھے ،جمعیت کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والی یہ پہلی باقاعد، بڑی مسجد تھی، اگر چہ کہ اس وقت تک جمعیت کی زیر نگرانی چالیس سے زیادہ مساجد اور مدارس قائم ہو چکے تھے، ان میں بریڈ فورڈ کی قدیم مسجد بھی تھی، جسے ایک رہائشی گھر واقع کیمڈن ٹیریس خرید کر مسجد کی شکل دی گئی تھی۔ تین بیڈ روم کے گھر کی بالائی منزل امام کی رہائش گا اور زمینی منزل مسجد کے طور پر استعمال ہو رہی تھی، اس میں دو متوسط سائز کے ہال اور وضو کی جگہ بنائی گئی تھی، اسی عمارت میں جمعیت کی ابتدائی سرگرمیاں جاری تھیں، یومیہ نمازیں، خطبات جمعہ ، دروس قرآن اور تنظیمی نوعیت کے اجتماعات بھی یہیں منعقد ہوتے۔ اگر کبھی بڑے اجتماع کا پروگرام ہوتا تو کوئی ہال کرایہ پر حاصل کر لیا جاتا، ایک سال مرکزی جمعیت کی سالانہ دعوت کا نفرنس بھی یہیں منعقد ہوئی، مسجد کے قریب ہی کمیونٹی سنٹر میں یہ کانفرنس ہوئی، اس میں شرکت کے لیے دیگر شہروں کے علاوہ برمنگھم سے احباب کی ایک بس پہنچی تھی ۔
غرض دعوتی اور تنظیمی سرگرمیاں جاری تھیں اور مسجد کی تنگی کا سب کو احساس تھا، اس سے متصل ہی ایک وسیع پلاٹ برائے فروخت تھا، اسے احباب اور اخوان جماعت کے تعاون سے حاصل کر لیا گیا ، اس پر مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، اس کے لئے قدیم عمارت میں مختلف اجتماعات ہوئے، مولانا محمود احمد میر پوری ، ناظم اعلی مرکزی جمعیت کے ساتھ راقم شریک ہوتے رہے۔ اس بڑے منصوبہ کی تکمیل میں مختلف رکاوٹیں درپیش تھیں۔ بالآخر جناب مصدق حسین صاحب کی صورت میں ایک فعال، مخلص اور صاحب اثر و رسوخ کا رکن دستیاب ہوا، اس منصوبہ سے قبل وہ اپنی تجارتی ذمہ داریوں میں مصروف تھے، حاجی صاحب کی پرواز وہاں بلند سے بلند تر کی طرف ہوا کرتی، انہوں نے ایک شناسا کے ساتھ بیکری کا کام شروع کیا جو کہ بہت معمولی نوعیت کی بیکری تھی، پھر آگے بڑھتے ہوئے کشمیر کراؤن بیکری کی شکل اختیار کی، اس میں تیار کردہ کچھ ایٹم یہاں سے پسند کئے گئے اور قومی سطح پر سپر مارکیٹ میں جگہ دی گئی، کاروباری احباب جانتے ہیں کہ بڑے تجارتی مراکز میں جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا، جب اس میں کچھ مسائل ہونے لگے انہوں نے دوسرا برانڈ یارک شائر کاٹیج متعارف کروایا، پھر بتدریج کاروبار کا رخ بیکری سے پراپرٹی کی طرف موڑ دیا، وہ جانتے تھے :
اپنے ہم وطن اقبال کے بقول
ضمیر مغرب ہے تاجرانہ
ضمیر مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ
یہاں بدلتا نہیں زمانہ
تجارتی مصروفیات کے ساتھ وہ خدمت خلق سے غافل نہیں رہے، بیکری میں کام کرنے والوں کے ساتھ ان کے تعلقات مالک اور مزدور کے نہیں ، برادرانہ نوعیت کے ہوتے، بعض اوقات ان کی گھریلو اور ذاتی پریشانیوں کو بھی بیچ بچاؤ کر کے حل کرنے کی کوشش کرتے۔ زندہ دل اور ملنسار تھے ، رفاہی کاموں میں ان کی خاصی نیک نامی تھی، انہیں مختلف نوعیت کے پروگرام سیاسی ، سماجی اور دینی میں مدعو کرنا آسان ہوتا۔
حاجی صاحب نے تعمیر مسجد کے منصوبہ میں دلچسپی لی تو اپنی شبانہ روز محنت اور ذاتی اثر و رسوخ سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں گرانقدر کوشش کی۔ عموماًً ایسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے کسی ہمہ جہت شخصیت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، ہو سکتا ہے ، آپ کے پاس مال کی کمی نہ ہو لیکن رکاوٹیں صرف مالی ہی نہیں، کئی طرح کی پیش آتی ہیں، یہاں بھی کچھ ایسے ہی معاملہ تھا اور پھر یہ مسجد تعمیر بھی ہو رہی تھی، جمعیت اھلحدیث کی زیر نگرانی ، اس وقت بریڈ فورڈ میں شرک و بدعات اور علاقائی تعصب کا زور تھا، ایسے میں خالص توحید وسنت کی شمع جلانا بڑا چیلنج تھا، اس شہر میں قرآن و حدیث کی دعوت کیسے پروان چڑھی اور جماعت کی تاریخ کیا ہے، ایک تفصیل طلب موضوع ہے، یہاں ہم اس وقت تعمیر مسجد اور حاجی صاحب ہی کی حد تک بات محدود رکھتے ہیں۔ حاجی صاحب نے اس منصوبہ کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا، تعمیراتی کام کے لیے انہوں نے مختلف جتن کئے، مزدورں کی فراہمی، تعمیری سامان کا حصول اور قانونی نزاکتوں سے نبرد آزما ہونے وغیره و غیر، چومکھی لڑائی کے ساتھ کام آگے بڑھتا گیا اور پھر الحمد لله احباب کا دیرینہ خواب مکمل ہوا اور ایک وسیع و عریض شاندار مسجد کی عمارت مکمل ہو گئی، اس مناسبت سے افتتاحی پروگرام اور ایک تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں شرکت کے لیے بطور مہمان خصوصی رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے جنرل سیکرٹری الشیخ ڈاکٹر عبد الله بن عبد المحسن التركی سابق وزیر سعودی عرب برائے مذہبی امور اور اوقاف ایک وفد کے ہمراہ خصوصی طیارہ کے ذریعہ لیڈر ہوائی اڈے پہنچے، ان کے استقبال کے لیے جماعت کے مرکزی ذمہ داران ، مكتب الدعوه لندن کے مدیر الشیخ عبد الرحمن السعیدی اور حاجی صاحب کے فرزند اپنی گاڑی لئیے حاضر تھے، حاجی صاحب اپنی شخصی حیثیت اور مقام کے باوجود حسب ضرورت خود ڈرائیونگ کر کے احباب کو مختلف اجتماعات میں لے جایا کرتے تا کہ آمد ورفت کے مسائل بھی آسان ہوں اور اجتماعیت بھی باقی رہے۔ معزز مہمانوں کے استقبال کے بعد ان کے لیے مختص رہائش گاہ پہنچا دیا گیا ، کھانے کا پروگرام ایک ریسٹورنٹ میں تھا، لیکن مصدق صاحب نے از خود پیشکش کی کہ ریسٹورنٹ کے مقابلہ میں گھر پر زیادہ مناسب انتظام ہو سکتا ہے، ہم نے حاجی صاحب کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ وه اس کے لیے اصرار نہ کریں، کیونکہ پروگرام کی تیاری اور انتظامات میں وہ مصروف ہیں، ایسے میں ایک اضافی ذمہ داری کیوں لینا چاہتے ہیں، نیز ان موقعوں پر شرکاء کی تعداد بھی قابو میں نہیں رہتی، کیونکہ بہت سے احباب بن بلائے مہمان کی طرح معززین کے ساتھ شرکت کی غرض سے شامل ہو جاتے ہیں، لیکن حاجی صاحب کب راضی ہو سکتے تھے ان کا معاملہ تھا
دل کشادہ ہے میرا گاؤں کے آنگن کی طرح
کچھ لوگ مہمانوں کی تکریم اور ضیافت کر کے زیادہ سکون حاصل کرتے ہیں ۔ وہ خود کھانے سے زیادہ دوسروں کو کھلا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور یہ تو تھا بھی خاص موقع۔ عام حالات میں بھی وہ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ، ان کا گھر ہو یا آفس دستر خوان وسیع ہوتا۔ معززین کا کھانا ان کے ہی دولت کدہ پر رکھا گیا۔
کا نفرنس کی پہلی نشست نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی، شرکت کرنے والوں میں چرچ کے عیسائی نمائندے سینیکاگ کے یہودی نمائندے، مرکزی حکومت کی جانب سے وزیر مائک او برائن جو لندن سے اس پروگرام کے لیے بریڈ فورڈ پہنچے تھے اور مختلف اسلامی تنظیموں اور مساجد کے نمائندےکثیر تعداد میں موجو دتھے ۔
افتتاحی نشست کے بعد پروگرام کا مرکزی حصہ خطبہ جمعہ تھا ،اس میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ وسیع و عریض مسجد اور متصلہ بیرونی احاطہ، کار پارک وغیرہ سب کھچا کھچ بھر چکے تھے، لوگوں کا محبت بھرا شکوہ تھاکہ مسجد تعمیر ہی کی تو اتنی چھوٹی کیوں بنائی ! حالانکہ مسجد کا سائز چھوٹا نہیں لوگوں کا اشتیاق زیادہ تھا، منتظمین کے وسیع تعلقات کا یہ اثر تھا، اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہوئے سماج کے مختلف افراد کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا، ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
شیخ ترکی نے خطبہ جمعہ کے لیے ممبر پر قدم رکھا اور مؤذن نے صدائے توحید اللہ اکبر بلند کی تو بہت سے قدیم اور سنیئر کارکنوں کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں کہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ بریڈ فورڈ کے حصہ میں یہ سعادت آئی۔ وہ جانتے تھے کہ جب یہاں کام کا آغاز ہوا تو حالات کیا تھے، محسوس ہوتا تھا کہ شرک وبدعات کی آندھیوں میں توحید و سنت کا یہ چراغ کیسے روشن نہیں رہ سکے گا، بلا شک و شبہ اس کامیابی پر انہیں مسرت کا حق تھا، اس کامیابی کا بڑا حصہ قدیم کارکنوں، مخلص علماء کے ساتھ ساتھ حاجی صاحب کو جاتا ہے ۔
حاجی صاحب کچھ عرصہ سے پاکستان میں زیادہ وقت گزار رہے تھے، ان کا حساس دل ہر ایک کے لیئے تڑپتا تھا۔ بالآخر وہ خود اپنے دردِ دل کی تاب نہ لاتے ہوئے 4؍جنوری 2025ء کی سرشام لاہور میں 75 برس کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ، دوسرے دن سینکڑوں غمگساروں اور سوگواروں کی موجودگی میں اپنے ہی وطن سیالکوٹ میں نماز جنازہ ادا کی گئی، متصل قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ ان کے لیے ان شاء اللہ بہت سی نیکیاں صدقہ جاریہ بنیں گی ۔
مسجد محمدی بریڈ فورڈ کے درو دیوار ان کی دینی محبت اور مسجد کے ساتھ وابستگی کا ثبوت دیتے رہیں گے ۔
رب کریم مصدق حسین صاحب اور یہاں کے تمام احباب جو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ،سب کی مغفرت فرمائے ۔ انہیں فرمان نبوی ﷺ کا مصداق بنا دے:
«مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»
’’جو روئے زمین پر اللہ کے لیے مسجد بنائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔‘‘
٭٭٭
نیک اور پاکیزہ عورتوں کے حقوق اور ترجیحات
’’سلف صالحین کی بیویاں اپنے شوہروں کو کام کے لئے گھر سے نکلتے وقت تاکید کرتے ہوئے کہتیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ہمیں حرام مت کھلانا، ہم بھوک برداشت کر سکتی ہیں (جہنم کی) آگ برداشت نہیں کر سکتیں۔‘‘ (رسالۃ المسترشدين : 291)
٭٭٭
تبصرہ کریں