رمضان کے بعد ہم کیا کریں؟۔حافظ زبیر بن خالد مرجالوی

ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے ماہ رمضان جلوہ گر ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے رخصت بھی ہو گیا۔ مہینے بھر کے اس قلیل عرصہ میں بندہ مسلم نے انتہائی غیر معمولی دلچسپی کے ساتھ اللہ کی عبادت کی ، ہر کوئی نیکیوں میں مسابقت کرتا ہوا دکھائی دیا، مسجدیں نمازیوں سے آبادر ہیں ، انفاق فی سبیل اللہ پر خوب عمل ہوا، رات کی تاریکیوں میں خوب قیام کا اہتمام ہوا، مہینے بھر روزے رکھ کر خوب اجر کمائے ، قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور سننے کا ماحول بھی خوب رہا، محبت ، اتحاد، ایثار اور خدمت کے مناظر بھی خوب دکھائے دیئے اور مہینے بھر کے لیے کتنے لوگوں نے اپنی زندگیاں تبدیل کر لیں، جو کبھی مسجد کے قریب نہیں آیا تھا وہ صف اول کا نمازی دکھائی دیا۔

لیکن یہ کیا ہلال عید کے ساتھ ہی ساری فضا بدل گئی ، اچانک مسجدیں ویران ہو گئیں، قرآن غلافوں میں لپیٹ کر طاقوں میں سجا دیئے گئے، کل تک جو لوگ تہجد و نوافل تک کا التزام کرتے تھے آج بے دریغ فرائض و واجبات سے غفلت برتنے لگے، کیا ہم اللہ کی بجائے رمضان کی عبادت کرتے ہیں؟ کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ حالات و تغیرات کا سیل رواں ہمیں بہا لے جاتا ہے؟

رمضان تو گزر گیا اس میں جو نیک اعمال کیے ،سو کیے، اب ان کے بعد ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ ہمیں رمضان کے بعد کیا کرنا ہے؟ آئیے ان کا تذکرہ کرتے ہیں:

1۔ شکرگزاری

ماہ رمضان اپنی بے پنارہ رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوا اور جلد ہی ہم سے رخصت بھی ہو گیا، مالک کی اس عظیم نعمت پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جس نے ہمیں صحت و عافیت اور ایمان کی حالت میں ایک بار پھر سے اس نعمت سے مالا مال فرمایا، قرآن مجید میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾ (سورة ابراہیم :7)

’’اور جب تمہارے رب نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گذاری کرو گے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگرتم ناشکری کرو گے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے۔‘‘

2۔ محاسبہ نفس

رمضان گزرتے ہی دوسرا کام اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ماہ رمضان آیا اور گزر گیا، اگر اس رمضان سے میں کس حد تک فائدہ حاصل کر سکا ہوں؟ کیا میں صحیح معنوں میں نمازی بن گیا ہوں؟ کیا میں صحیح معنوں سے منہیات سے باز آ گیا ہوں؟ کیا میری زبان کا استعمال بہتر ہو چکا ہے؟ کیا اب بھی بات بات پر میں جھوٹ تو نہیں بول رہا؟ کیا جو روزے کا اصل مقصد اور روح تھی، میں نے اسے پالیا ہے؟ اور کیا میں اس ماہ رمضان میں اپنے مالک حقیقی سے اپنی بخشش کرو ا سکا ہوں؟

یہ اور اس سے ملتے جلتے سوالات کے مثبت جوابات اگر ہمارے پاس ہیں تو پھر یقیناً ہم مبارک باد کے مستحق ہیں اور اگر ان سوالات کے جواب ہمارے پاس نہیں تو پھر فکر کیجئے کہ کہیں آئندہ رمضان بھی یوں ہی نہ گزر جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ روزہ کی روح اور اس کے اصل مقصد کو نہ ہی تو ہم سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی رمضان کے بعد اس سے حاصل ہونے والی تربیت کو باقی گیارہ مہینوں میں اپناتے ہیں۔ کچھ یہی صورت حال ہم دیگر عبادات کے ساتھ بھی کرتے ہیں جنہیں ہم نے رسمی انداز میں ادا کرنے کو ہی تمام غرض وغائیت سمجھ رکھا ہے۔ اقبال اس حقیقت کو یوں اجاگر کرتے ہیں :

نماز وروزہ و حج وزكوة

یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں

جواب شکوہ میں اقبال مزید لکھتے ہیں:

رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے

3۔ نیکیوں کی حفاظت کیجئے

معروف ہے کہ نیک کام کرنا آسان اور اسے سنبھال کر رکھنا بہت مشکل امر ہے۔ تو اس مشکل کام کو کرتے ہوئے نیکیوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ ضائع نہ ہوں، اُن پر گناہوں کی گردنہ پڑے۔ نفاق

یا تکبر کا کیڑا نہ لگے جو ہماری ساری نیکیاں برباد کر دے، نیکیاں کہیں دکھاوے کا شکار نہ ہو جا ئیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ایسے بڑے بڑے گناہوں سے بچیں اور کوشش کریں کہ دوسروں کی برائی نہ کریں۔ اللہ نہ کرے ہماری نیکیاں کسی اور کے کھاتے میں چلی جائیں اور ہمیں خبر ہی نہ ہو۔

بھائیو! نیکیاں ہم نے کیں ،شب بیدار یاں ہم نے کیں، نوافل ہم نے پڑھے، صدقات ہم نے دیئے، روزے ہم نے رکھے، قرآن مجید کی تلاوتیں ہم نے کیں، توبہ واستغفار ہم نے کیے مگر قیامت کے دن یہ نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں ڈھونڈ رہے ہیں لیکن نظر نہ آئیں اور پتہ چلے کسی نوکر کی دل آزاری کی تھی، ہمسائے کی ٹوہ لگائی تھی ، رشتہ داروں کی غیبت کی تھی، کسی کو گالی دی تھی، کسی کا ناحق مال کھایا تھا، کسی کی چغلی کی تھی کسی کو ناحق قتل کیا تھا۔ چنانچہ تمام کی تمام نیکیاں ان کے پاس چلی گئیں۔ کچھ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ہے، جسے سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے صحابہ کرام سےسوال کیا:

أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

کیا جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا : ہمارے ہاں وہ شخص مفلس ہے جس کے پاس دولت اور ضروریات زندگی نہ ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں وہ شخص مفلس ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکوۃ لے کر آئے گا، اور ( ساتھ میں ) اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، تو ان میں سے ہر ایک کو اس کی نیکیاں دی دے جائیں گی ، پھر جب اس کی نیکیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور ابھی حساب باقی ہوگا تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 2581)

اسی طرح انسان کی طبیعت ہے کہ اسے کسی نیک عمل کا پتہ چلتا ہے تو بہت جوش و خروش سے وہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ دل جمعی کے ساتھ اس نیک کام کو کرتا رہتا ہے، مگر آہستہ آہستہ اس نیک کام سے اس کا دل بھر جاتا ہے اور پھر اس کو ایک اور نیک کام کا پتہ چلتا ہے تو اب وہ پہلے والے نیک کام کو چھوڑ کر دوسرا کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر کچھ دن اس کا جوش وجنون چڑھا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک اور نیک کام کا پتہ چلتا ہے، اب وہ دوسرا کام چھوڑ کر تیسرا کام شروع کر دیتا ہے۔ یہ طرز عمل تو نیکیوں کو پروان چڑھانا نہ ہوا۔ اس کو ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں:

ایک باغ ہے، اس میں آپ نے ایک پودا لگایا ، اس کی خوب حفاظت کی ، جب وہ ہرا بھرا ہو گیا تو آپ نے ایک اور پودا لگایا، اب دوسرے پودے پر اتنی توجہ ہو گئی کہ پہلے والے سے بالکل لا پرواہ ہو گئے اور اس کو نظر انداز کر دیا۔ اب آپ اسے نہ پانی دیتے ہیں اور نہ کھاد، نہ دیکھ بھال کرتے ہیں ، تو وہ مرجھا جائے گا اور اگر آپ کی یہی روش رہی تو کبھی بھی مکمل باغ نہیں بن سکے گا۔ اسی طرح اگر پچھلی نیکیوں کو نظر انداز کیے جائیں اور نئی نیکیاں کرتے چلے جائیں تو نیکیوں کا باغ نہیں لگ سکتا۔ آپ کی زندگیوں میں نیکیوں کی بہارنہیں آسکتی۔ اس کے لئے پچھلی نیکیوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اور مزید نیکیوں کا بھی اہتمام کرنا ہے۔

سال کے تمام مہینے ہی عبادت کے لیے بہار ہیں اگر چہ ان کی فضیلت مختلف ہے، اسی طرح ساری زندگی ہی نیکیاں کمانے اور بندگی بجالانے کا قیمتی موقع ہے۔ اس لیے رمضان ہو یا غیر رمضان اللہ کی بندگی میں کسی بھی طرح فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

4۔ اعمال صالحہ پر استقامت اختیار کیجئے

بندہ مومن ہمیشہ نیک اعمال کرتا ہے۔ وہ رمضان المبارک ہو یا دیگر مہینے، وہ ایسے ہی اعمال اختیار کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو اور اس عمل کو ہر گز نہیں کرتا جو مرضی الٰہی کے خلاف ہو۔ جیسا کہ شاعرنے کہا:

نہ مطلب ہے گدائی سے ، نہ یہ خواہش کہ شاہی ہو

الٰہی ہودے وہ کچھ جو مرضی الٰہی ہو

رمضان المبارک کا سارا مہینہ ہم نیکیوں سے اپنا دامن بھرتے رہے، اس مبارک مہینہ کی برکتیں اور سعادتیں ہمارے مقدر میں آتی رہیں، سارا مہینہ رحمت الٰہی کی چادر ہم پر تنی رہی ، سوال یہ ہے کہ کیا برکتوں کا یہ سلسلہ ماہ رمضان کے بعد ختم ہو جائے گا، رحمتوں کی جو چادر ہم پر سایہ فگن تھی ، کیا ماہ رمضان گزر جانے کے بعد کھینچ لی جائے گی؟ ہر گز نہیں! ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر اہلیت پیدا کریں ، اپنے دامن کو اس قابل بنائیں کہ اس میں ہم دنیاو آخرت کی برکتیں سما سکیں ، ہم اپنے اندر اتنی لیاقت پیدا کریں کہ سایۂ رحمت کے نیچے ٹھہرنے کے حقدار بنیں۔

ماہ رمضان میں ہمیں خیر و خوبی اس لئے عطا کی گئی تھی کہ ہم نے پر ہیز گاری اختیار کی تھی ، پورا مہینہ تقوی وطہارت کے پابند رہے اور اس کے گزر جانے کے بعد اگر ہم تقوی و پرہیز گاری پر استقامت کے ساتھ جمے رہیں تو ضرور ہماری زندگی خوشگوار رہے گی ، اگر ماہ رمضان کی طرح دیگر مہینوں میں ہمارے عقائد واعمال سے متعلق مستقل مزاجی پائی گئی تو یقیناً ہم خیر وبرکت سے بہرہ وررہیں گے اور ضرور اللہ رحیم کی کرم نواز یاں ہمیں اپنی آغوش میں لے لیں گی ، جیسا کہ رب العالمین کا وعدہ ہے، سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ (سورة الاعراف : 156)

’’اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئی ہے تو میں اسے ضرور ان کے حق میں لکھ دوں گا جو پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘

ماه رمضان رخصت ہوا، فیضان الٰہی نہیں!

یا درکھیں ! ہم نے ماہ رمضان کو تو رخصت کیا ہے لیکن فیضان الٰہی کو رخصت نہیں کیا، قرآن کی تلاوت کو رخصت نہیں کیا ، اعمال خیر کو رخصت نہیں کیا، جس طرح ہم رمضان المبارک میں اعمال خیر انجام دیا کرتے تھے، اس سلسلہ کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں، اس مہینہ میں ہمارا ہر قدم نیکی اور بھلائی کی طرف اٹھا کرتا تھا،صبر وشکر ہمارا شیوہ بن چکا تھا، یہ رفتار و کردار ماہ رمضان کے بعد بھی باقی رہے۔ ماہ رمضان میں ہمارا ہر عمل شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہوا کرتا تھا، رمضان المبارک کے گزرنے کے بعد اس اطاعت واتباع میں تساہل اور غفلت نہ ہونے پائے ۔ ایمان والوں کا یہ شعار نہیں کہ وہ احکام الٰہی سے انحراف کریں، رمضان کے روزہ داروں کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ اس مہینہ کے گزر جانے کے بعد ارشادات نبوی سے روگردانی اختیار کریں، کیونکہ شریعت تو ایمان والوں پر ہر حال میں لاگور ہے گی۔

دین پر ثابت قدم رہنے والے دارین میں سعادتمند

رمضان المبارک ہو یا دیگر مہینے ، ہر حال میں شریعت مطہرہ پر استقامت ضروری ہے اور دین پر استقامت ہی کامیابی ہے، رب العالمین نے اپنے کلام مجید میں ان بندوں کو سراہا ہے جو اپنے عقیدہ و عمل میں ثابت قدم رہتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ﴾ (سورة حم السجدة : 30)

’’جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ تبارک و تعالیٰ ہے ، پھر (اس پر) ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اتریں گے ( اور کہیں گے کہ ) تم خوف نہ کرو اور نہ رنجیدہ ہو اور جنت ( کے ملنے ) پر خوش ہو جاؤ! جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ‘‘

ایک بندہ مؤمن میں اپنے عقیدہ و عمل پر استقامت تادم زیست رہنی چاہئے ، مرتے دم تک وہ احکام اسلام پر ثابت قدم رہے اور اپنے حسن عمل پر مداومت وپابندی کرے تبھی وہ دارین کی سعادتوں کا حق دار ہوگا، حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يا أَيُّهَا الَّذِينَ أَمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾

’’اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو ! جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسلام کی حالت پر ہی دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔‘‘(سورۃ آل عمران : 102)

نبی کریم ﷺکو بھی استقامت کا بطورِ خاص حکم :

اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

﴿فَاسْتَمْسِكُ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِراطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ (سورة الزخرف :43)

’’بس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوطی سے تھامے رکھیں بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں۔‘‘

ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿فَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ﴾

’’اس لیے اے محمد ﷺ تم اس دین کی طرف دعوت دو اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے، اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ۔‘‘ (سورۃ الشورى : 15)

استقامت سے اللہ کی نعمتوں کے دروازوں کا کھل جانا:

استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور ایسےلوگوں کو وافر مقدار میں رزق دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿وَأَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْناهُمْ مَّاءً غَدَقا﴾ (سورة الجن : 16)

’’اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راہ راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے۔‘‘

استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ کے ہاں انعام

ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کے لئے اپنے انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءُ﴾

’’ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ، ہاں نا انصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔‘‘ (سورة ابراہیم: 27)

استقامت کا حصول مکمل یقین و اعتماد سے ہے:

استقامت اسی وقت ملتی ہے جب استقامت کے حصول کا دلی یقین اور مکمل اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَوْلَا أَنْ تَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا﴾ (سورۃ الإسراء : 74)

’’اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ آپ ان کی طرف کچھ مائل ہو جاتے ۔“

استنقامت اللہ کو پسند ہے:

سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ»

’’تمام اعمال میں اللہ کے ہاں زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں ہمیشگی اختیار کی جائے اگر چہ وہ عمل کم ہی (کیوں نہ ) ہو۔‘‘ (صحیح بخاری: 6464)

پرفتن حالات میں بطور خاص استقامت اختیار کرنے کا حکم نبوی:

پرفتن حالات میں بھی دین پر استقامت اختیار کرنے کا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:

«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»

’’نیک اعمال کرنے میں جلدی کیا کرو۔ فتنے رات کی تہہ در تہہ تاریکی کی طرح امڈتے چلے آئیں گے۔ کئی مؤمن صبح کے وقت ایمان کی حالت میں ہوں گے اور شام کفر کے عالم میں کریں گے۔ دنیا کی حقیر متاع کے لیے دین کا سودا کرلیں گے۔“ (صحیح مسلم: 118)

رمضان کے بعد نیک اعمال پر استقامت اختیار کرنے کے طریقے :

چند ایک ایسے طریقے پیش خدمت ہیں جن کے سبب ہم ماہ رمضان کے بعد بھی نیک اعمال پر قائم رہ سکتے ہیں:

پہلا طریقہ : سب سے پہلے اور ہر چیز سے پہلے ، ہدایت اور نیک عمل پر قائم رہنے کے لیے اللہ سے اُس کی مدد طلب کرنا ہے، قرآن وحدیث میں استقامت میں معاون چند ایک ادعیہ یہ ہیں:

پہلی دعا:

﴿رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ (سورۃ آل عمران : 8)

”اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو کج رو نہ بننے دینا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرمانا بے شک تو تو دینے والا ہے۔‘‘

دوسری دعا :

﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْراً وَثَبَتْ أَقْدَامَنَا﴾ (سورۃ البقره : 250)

”اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمارے قدم جما دے۔“

تیسری دعا:

سیدنا انس سے ایک دوسری دُعا بھی مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺاس دعا کو کثرت سے مانگا

کرتے تھے:

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلَى دِينِكَ

”اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ (جامع ترمذی: 2140)

چوتھی دعا:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ

’’یا اللہ ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی مانگتا ہوں۔‘‘

(سلسلہ صحیحہ: 3228)

دوسرا طریقہ: قرآن مجید سے تعلق جوڑا جائے:

کثرت سے صحیح ثابت شدہ الفاظ اور عدد اور کیفیات میں اللہ کا ذکر کرنا اور استغفار کرنا، گوکہ یہ عمل بہت آسان اور چھوٹا ہے لیکن اس کا فائدہ بہت بڑا ہے کہ یہ ایمان اور دل کو مضبوط کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا

ارشاد ہے:

﴿قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبَتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾ (سورة النحل: 102)

’’کہہ دیجئے! اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں تا کہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے۔‘‘

تیسرا طریقہ: اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے: چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (سورۃ الانفال : 45 )

”اے لوگو جوایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

چوتھا طریقہ: شریعت کے احکامات کے سامنے سرخم تسلیم کرنا:

اللہ کے مقرر کردہ فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنے نفس پر جبر کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا﴾(سورة النساء : 66 )

’’اور اگر وہ وہی کچھ کر لیتے جو انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ بات ان کے حق میں بہتر اور زیادہ ثابت

قدمی کا موجب بن جاتی۔‘‘

پانچواں طریقہ: انبیاء ﷩ کے حالات زندگی کا مطالعہ کیجئے:

قرآن کریم ثابت قدمی کا باعث اس وقت بنے گا، نیز انبیائے کرام﷩ کے واقعات و حالات پرغورو خوض انسان کو ان کے طریقے پر چلنے میں معاونت فراہم کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

﴿وَكُلَّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُئوادَكَ﴾ (سورۃ ہود : 120)

”اور ہم رسولوں کے حالات کی ایک ایک خبر آپ سے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کے دل کو مضبوط کر دیں۔‘‘

پہلی امتوں کا اپنے نبیوں کو جھٹلانا، نبیوں کا ان کی ایذاؤں پر صبر کرنا۔ آخر اللہ کے عذاب کا آنا، کافروں کا برباد ہونا، نبیوں رسولوں اور مومنوں کا نجات پانا، یہ سب واقعات ہم تجھے سنا رہے ہیں ۔ تا کہ تیرے دل کو ہم اور مضبوط کر دیں اور تجھے کامل سکون حاصل ہو جائے۔

چھٹا طریقہ : مختلف اوقات میں لیکن کثرت سے عام اسلامی موضوعات پر مشتمل صحیح دلائل والی کتب کا مطالعہ کرتے رہنا یا دیگر ذرائع سے ان کو سنتے رہنا۔ ساتواں طریقہ: نفلی عبادات ادا کرنے کے لیے اپنے نفس پر جبر کرنا، خواہ تھوڑی ہی ادا کی جائیں لیکن ہمیشگی کے ساتھ ادا کی جائیں کیونکہ یہ اللہ کومحبوب ہے۔

آٹھواں طریقہ : علمی مجلسوں میں شرکت کی جائے ، مثلاً : قران وحدیث سے مزین عقیدے اور عبادات کے دروس اور دینی تقاریر سنی جائیں۔

نواں طریقہ: برے لوگوں، بُرے دوستوں اور ایسی تمام چیزیں اور ایسے تمام اعمال جو دل کو فساد میں مبتلا کرتے ہیں اور ایمان کو کمزور کرتے ہیں، مثلاً: ٹی وی اور ڈش وغیرہ پر حرام چیزوں کو دیکھنا اور سنا، موسیقی اور گانے سننا، بلاضرورت بازاروں میں پھرنا ، بد اخلاقی، فحاشی، دیگر غیر اسلامی یا اسلام کے نام پر غلط معلومات پر مبنی کتابوں، اخباروں، رسالوں کا پڑھنا، ایسے تمام اشخاص اور چیزوں اور کاموں سے مکمل اور ہر طرح کی دُوری اختیار کی جانی لازم ہے۔

دسواں طریقہ: اللہ کے سامنے فوری اور سچی تو بہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی سچی توبہ سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے، اور جب اللہ خوش ہو گا تو وہ اپنے بندے کو اپنی اطاعت میں قوت اور ہمیشگی عطا فرمائے گا۔

5۔ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء

اسلام دین فطرت ہے، شریعت اسلامیہ کے تمام احکام میں انسانی فطرت و طبیعت کی بھر پور رعایت کی گئی ہے۔ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں جو انسان کے لیے پریشانی اور تنگی کا باعث ہو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَج﴾

’’اللہ نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔‘‘ (سورة الحج : 78)

یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کا کوئی حکم انسان کی قدرت و استطاعت سے باہر نہیں ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ اسلام نے ہر ایک کی جسمانی ساخت اور ذہنی قوت کے اعتبار سے اس کو شرعی احکام کا مکلف اور پابند بنایا ہے۔

بعض لوگوں کو کسی مجبوری کے تحت روزہ چھوڑنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو ایسے لوگوں کو حکم ہے کہ وہ بعد میں اس کی قضا دے دیں، اسی حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

شرعی عذر کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزے کی قضاء ضروری ہے:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾

’’تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرئے۔‘‘

مسافر کے روزے کی قضا:

سید نا حمزہ بن عمر و اسلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

«هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا، فَحَسَنُ وَمَنْ أَحَبُّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ ید»

’’(یعنی دوران سفر روزہ چھوڑنے کی اجازت ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو ا سے اختیار کر لے تو بہتر ہے اور جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔‘‘ (صحیح مسلم: 1121)

حاملہ اور مرضعہ کے روزے کی قضاء:

حاملہ اور دودھ پلانے والی بھی مسافر کی طرح ہے جیسا کہ سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ، أَوِ الصِّيَامَ»

”بے شک اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور نصف نماز اور حاملہ اور دودھ پلانے والی خاتون سے روزہ ساقط کر دیا ہے۔ (جامع ترمذی: 715،سنن ابن ماجہ: 1667)

اگر مرنے والے پر قضاء کے روزے ہوں؟

جو شخص ایسی حالت میں فوت ہو گیا کہ اس کے ذمے روزے تھے تو یہ روزے اس کا ولی (وارث ) رکھے گا۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

«مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ»

’’اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے وہ روزے رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری : 1952؛صحیح مسلم: 1147)

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ میت کے جتنے روزے ہوں، ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے تو یہ صیح نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب روایت ہے:

«مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ»

” جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے تو اس کی طرف سے ہر دن

کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔‘‘ (جامع ترمذی: 718، ضعیف)

حائضہ اور نفاس والی عورت کی قضا:

حائضہ اور نفاس والی عورت روزہ نہیں رکھے گی بلکہ وہ بعد میں اس کی قضا دے گی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ، فَذَلِكَ نُقْصَانُ دِينِهَا»(صحيح بخاری: 1951)

’’کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے۔‘‘

میت کی طرف سے نذر کے روزے رکھنے کا حکم :

ورثاء کو چاہیے کہ میت کی طرف سے نذر کے روزے رکھیں۔ سید نا ابن عباس سے روایت ہے کہ

أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ ﷺ فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَقَالَ : أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ»

’’رسول الله ﷺکے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے نذر کے روزے ہیں، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپﷺنے فرمایا: مجھے بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی ؟ اس نے کہا: ہاں تو آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1148؛ صحيح بخاری: 1953)

ایسا بوڑھا شخص جو نہ روزہ رکھ سکے اور نہ ہی قضا دے سکے وہ کیا کرے؟

اسے چاہئے کہ وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔

سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ بڑی عمر کے بوڑھے جو روزہ چھوڑ دینے کی رخصت دی گئی ہے وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے اور اس پر کوئی قضاء نہیں۔‘‘ (صحیح دارقطنی:2؍205)

رمضان کی قضا پے در پے روزوں کے ساتھ یا الگ الگ؟

دونوں طرح درست ہے جیسا کہ سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ

«لَا بَأْسَ أَنْ يُفَرَّقَ لِقَوْلِ الله تَعَالَى: ﴿فَعِدَةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾

’’(رمضان کی قضاء مسلسل نہیں بلکہ ) الگ الگ روزے رکھ کر دی جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلو ( یہ نہیں فرمایا کہ پے در پے روزے رکھو ۔‘‘ (صحیح البخاري تعليقا (قبل الحديث: 1950)

رمضان کے روزوں کی قضاء تاخیر سے بھی درست ہے:

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ

رمضان کے جو روزے مجھ سے چھوٹ جاتے تھے شعبان سے پہلے مجھے ان کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی ۔“ (صحيح بخاری: 1950)

کیا جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے والا قضا دے گا ؟

سید نا ابو ہریرہ اور سید نا عبد اللہ بن مسعود سے مرفوعا مروی ہے کہ

«مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا مَرَضٌ لَمْ يَقْضِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِنْ صَامَهُ»

’’اگر کسی نے رمضان میں کسی عذر اور مرض کے بغیر ایک دن کا بھی روزہ نہ رکھا تو ساری عمر کے روزے

بھی اس کا بدلہ ( قضا) نہیں ہو سکتے۔‘‘ (صحیح بخاری تعليقا (قبل الحديث : 1935)

سعودی مستقل فتاوی کمیٹی والے کہتے ہیں:

’’رمضان کے روزے ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہیں اور جان بوجھ کر مکلف شخص کا روزہ چھوڑ دینا بہت بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ بعض اہل علم کا موقف یہ ہے کہ ایسا شخص کا فر ومرتد ہے اور اس پر خالص تو بہ اور کثرت کے ساتھ اعمال صالحہ مثلاً نفلی عبادات وغیرہ کی ادائیگی واجب ہے اور اس پر لازم ہے کہ دینی شعائر کی پابندی کرے مثلا: نماز، روزہ، حج اور زکوۃ وغیرہ دینا۔ علما کے اقوال میں زیادہ صحیح یہی بات ہے کہ اس پر کوئی قضا نہیں کیونکہ اس کا جرم اس سے بڑا ہے کہ قضا سے اس کے روزے کی کمی پوری ہو جائے۔‘‘ (فتاوى اسلامیہ: 3؍154)

6۔شوال کے چھ روزے

سید نا ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺنے فرمایا:

«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِنَنًا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ »

’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم: 1164)

نبی مکرمﷺ نے اس کی شرح اور تفسیر اس طرح بیان فرمائی ہے کہ

جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اس کے پورے سال کے روزے ہیں۔ کیونکہ: الحسنة بعشرة أمثالها جو کوئی نیکی کرتا ہے اسے اس کا اجر دس گنا بڑھا کر ملتا ہے۔

جیسا کہ سیدنا ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

«مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ كَانَ تَمَامَ السّنَةِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا»(سنن ابن ماجہ: 1715)

’’جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے پورے سال کے روزے رکھے ہوں۔ جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لیے اس جیسی دس (نیکیوں ) کا اجر ہے۔‘‘

لہذار مضان المبارک کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہوا اور چھ دنوں کے روزے سال کو پورا کرتے ہیں۔

اسی طرح امام ابن خزیمہ﷫ نے سید نا ثوبان سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«صِيَامُ رَمَضَانَ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ السِّتَةِ أَيَّامٍ بِشَهْرَيْنِ، فَذَلِكَ صِيَامُ السَّنَةِ»

’’رمضان المبارک کے روزے دس گنا اور شوال کے چھ روزے دو ماہ کے برابر ہیں تو اس طرح کہ پورے سال کے روزے ہوئے۔‘‘ (قال الاعظمی: اسنادہ صحیح صحیح ابن خزيمہ: 2115)

چھ روزے رکھنے کے فوائد

1۔رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا پورے ایک سال کے فرضی روزوں کے برابر ہے، وگر نہ تو عمومی طور پر نفلی روزوں کا اجر و ثواب بھی زیادہ ہونا ثابت ہے، کیونکہ ایک نیکی دس کے برابر ہے۔

2۔شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فوائد میں یہ بھی ہے کہ یہ روزے رمضان المبارک کے روزوں کی کمی اور نقص کو پورا کرتے ہیں۔ کیونکہ روزہ دار سے حالت روزہ میں کمی ہو جاتی ہے اور گناہ بھی سرزد ہو جاتا ہے جو کہ روزہ کے ثواب میں کمی کا باعث بنتا ہے اب اس کمی کو پورا کرنے کیلئے رسول اللہ ﷺ نے ہماری رہنمائی فرمادی کہ شوال کے چھ روزے رکھنے سے فرض روزوں میں ہونے والی کمی پوری ہو جاتی ہے اس طرح بندے کو چھ نفلی روزوں کا ثواب بھی مل جاتا ہے اور رمضان کے فرضی روزوں کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے۔

3۔رمضان کے بعد روزہ ر کھنے کی عادت پڑ نا رمضان کے روزوں کی قبولیت کی بھی نشانی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کا عمل قبول فرماتا ہے تو اسے مزید اعمال صالحہ کی تو فیق عطا فرماتا ہے۔ تو جس شخص نے کوئی نیک عمل انجام دیا اور اس شخص کو اسکے بعد بھی عمل صالح کی توفیق مل گئی تو یہ دلیل ہوگی کی کہ اس کا پہلا عمل بارگاہ رب العزت میں شرف قبولیت پاچکا ہے۔

رمضان کے روزوں کی قضاء کے بعد شوال کے چھ روزے:

یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھیں اور بعض کہتے ہیں کہ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا سے پہلے بھی روزے رکھے جاسکتے ہیں۔ ہماری رائے

میں دوسرا موقف زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں ان خواتین کے لیے سہولت ہے جن کے عام طور پر رمضان کے روزے رہ جاتے ہیں، ویسے بھی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا»

’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے ( بھی ) رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔‘‘ (مسند احمد : 14302)

شوال کے چھ روزوں کی قضاء

شوال کے روزے ختم ہونے کے بعد ان روزوں کی قضاء نہیں ہے کیونکہ یہ روزے سنت ہیں اب ان کا وقت ختم ہو گیا خواہ وقت کسی عذر کی وجہ سے ختم ہوا ہو یا بغیر کسی عذر کے۔

٭٭٭

بشارتِ عید

مردِ مؤمن کو بشارت ہو مسلماں کو نوید

عید آئی ہے بڑی شان سے پھر آئی ہے عید

قدرتِ حق کے اشارات، درخشاں انجم

کہیں پرویں، کہیں زہرہ ہے کہیں ہے ناہید

پھر شبِ یاس کی ظلمت کا جگر چاک ہوا

مسکراتی ہے سحر، جاگی ہے صبح امید

بہرہ یابِ شرفِ مرگ شہادت جو ہوا

پا لیا اس نے تو اعزازِ حیاتِ جاوید

رب کعبہ کی قسم، رب محمدؐ کی قسم

عید ہے بندۂ مؤمن کی بس اللہ کی دید

اسے مردہ نہ کہو زندۂ جاوید ہے وہ

جو بصد شوق ہوا، راہِ محبت میں شہید

کر لیا اپنے خداوند کو جس نے راضی

عید اس کی ہے حقیقت میں اسی کی ہے عید

اشک نے درد کی روداد سنا ہی ڈالی

نہ اشارات ہوئے ہیں نہ کوئی گفت وشنید

عید کی رات مبارک ہے مقدس ہے جہاں

عید کا دن بھی ہے لاریب وہیں روزِ سعید

صرف اللہ کے لیے سب سے خفا ہو جانا

یہی ایماں کی ہے پہچان، یہی ہے توحید

رنگ رلیوں میں گزر جائے اگر عید کا دن

عید وہ عید کہاں ہے، وہ الم ناک وعید

آج اسلام ہے مغلوب جہاں میں افسوس

اور مہجور ہے مظلوم ہے قرآنِ مجید

سرخ رو ہوں گے زمانے میں ہم ان شاء اللہ

شاملِ حال رہے گی جو خدا کی تائید

دلِ افسردہ کو تم جلد سنبھالو حماد

غرفۂ چرخ سے پھر جھانک رہا ہے مہِ عید

ابولبیان حماد العمری

٭٭٭

تبصرہ کریں