
چھپکلی مارنے کاحکم
سعدبن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ
أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا.
(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب قتل الوزغ: 2238- سنن أبو داؤد، كتاب الأدب، باب في قتل الأوزاغ: 5262)
’’نبیﷺنے چھپکلی کومارنے کاحکم فرمایااوراسے ’’فویسقہ‘‘کانام دیا۔‘‘
فویسقہ کامطلب ہے نقصان پہنچانے والاچھوٹاجانور۔ اس کومارنے کی ایک وجہ تویہ ہے کہ یہ بہت زہریلی ہوتی ہے اوردوسری وجہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کوآگ میں پھینکاگیاتواس نے پھونکیں مارکرآگ بھڑکانے میں حصہ ڈالاتھا۔ (صحيح بخارى، كتاب أحاديث الأنبياء:3359-صحيح مسلم:2237) اوربعض روایت میں نبیﷺ کایہ فرمان مذکور ہے کہ جوشخص چھپکلی کو پہلی ہی چوٹ میں ماردے اسے سونیکیاں ملیں گی۔ (صحيح مسلم:4022)
چیونٹی وغیرہ مارنے کی ممانعت
سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ
نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ. (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قتل الذر: 5267- سنن ابن ماجه، كتاب الصيد، باب ما ينهى عن قتله: 3224-إرواء الغليل للألبانى: 2490)
’’رسول اللہﷺ نے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُد ہُد اور لٹورا کومارنے سے منع فرمایا۔‘‘
لٹورا ایک پرندہ ہے جو چڑیوں کا شکار کرتا ہے اور کیڑے مکوڑے کھاتاہے۔
عبدالرحمان بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ ضِفْدَعٍ، يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ قَتْلِهَا.
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قتل الضفدع:5269)
’’ایک طبیب نے نبیﷺسے مینڈک کے بارے میں پوچھاکہ وہ اسے(مارکر)دوامیں ڈال سکتاہے؟ تو آپﷺ نے اسے مینڈک کو مارنے سے منع فرما دیا۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةٍ مِنْ قُرَى النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللّٰهُ إِلَيْهِ أَيْ إِنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ» (صحيح بخارى، كتاب الجهاد، باب إذا حرق المشرك المسلم هل يحرق: 3019-صحيح مسلم:2241)
’’ایک نبی کوکسی چیونٹی نے کاٹ لیا، توانہوں نے چیونٹی کی بستی کو ہی جلانے کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ جلا دی گئی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اگر ایک چیونٹی نے تمہیں کاٹ لیاہے تو تم نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی اُمتوں میں سے ایک اُمت کوہی جلا ڈالا ہے۔‘‘
اس حدیث سے چیونٹی کومارنے کی ممانعت کے علاوہ یہ بات بھی احاطۂ علم میں آتی ہے کہ صرف انسان و جِن اورفرشتے ہی نہیں بلکہ جانور، پرندے اورکیڑے مکوڑے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا فَدَخَلَتِ النَّارَ.» قَالَ: «لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا حِينَ حَبَسَتْهَا، وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ»
(صحيح بخارى، كتاب بدء الخلق، باب خمس من الدواب فواسق، يقتلن في الحرم:3318 -صحيح مسلم، كتاب السلام، باب تحريم قتل الهرة:2242)
’’ایک عورت کو بِلّی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، کیونکہ اس عورت نے اسے باندھے رکھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی اور وہ عورت (اسی کی وجہ سے) جہنّم میں چلی گئی۔ فرمایا کہ جب اس عورت نے اسے باندھا تو اسے نہ توکچھ کھانے کے لیے دیااورنہ پینے کے لیے، اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھالیتی۔‘‘
انگلیوں سے کنکری پھینکنے کی ممانعت
سيدنا عبداللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ
أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ الصَّيْدُ، وَلَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ، وَلَكِنَّهُ قَدْ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ . قَالَ: فَرَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ قَالَ: فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ ثُمَّ تَخْذِفُ، لَا وَاللّٰهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا وَكَذَا وَكَذَا. (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب النهي عن الخذف: 6220-صحيح مسلم، كتاب الصيد والذبائح:1954)
’’عبداللہ بن مغفل نے ایک آدمی کو درمیان والی دو انگلیوں سے کنکری پھینکتے دیکھا تو کہا کہ رسول اللہﷺ نے انگلیوں سے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور آپﷺ نے فرمایا:یہ نہ تو کوئی شکار مار سکتی ہے اور نہ ہی دشمن کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، البتہ کسی کا دانت توڑ دے گی یاکسی کی آنکھ پھوڑ دے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل نے اس کے بعد پھر اسے انگلیوں سے کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا: میں نے تجھے رسول اللہﷺ کی حدیث بیان کی ہے اور تُوپھربھی کنکری پھینک رہاہے، اللہ کی قسم!میں آج کے بعدتم سے بات ہی نہیں کروں گا اوراس کے علاوہ بھی کافی کچھ کہا۔‘‘
اسلحہ اٹھانے یااسے ننگالیے پھرنے کی ممانعت
ابوموسیٰ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«مَنْ حَمَلَ السِّلَاحَ عَلَيْنَا فَلَيْسَ مِنَّا»
(صحيح بخارى، كتاب الفتن:7071-صحيح مسلم، كتاب الإيمان:101)
’’جس نے ہم پرہتھیاراُٹھایاوہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
ہتھیار اٹھانے سے مراد ہے کہ کسی ہتھیار سے اپنے کسی مسلمان بھائی کی جان لے لینا یا اس پر تاننا؛خواہ اس کی جان نہ بھی لی جائے۔ کیونکہ ایک روایت میں اپنے مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار کا رُخ کرنے کی بھی ممانعت وارد ہوئی ہے اور اس کی وجہ آپﷺ نے یہ بتلائی ہے کہ شیطان کسی بھی لمحے اس کے ہاتھ سے وہ ہتھیار چلا سکتا ہے۔ (صحيح بخاری، کتاب الفتن:7072- صحيح مسلم:2617)
اور اسی اسنادسے ہی مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:
«إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ سُوقِنَا بِنَبْلٍ فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْصَالِهَا لَا يُصِيبُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَذًى» (صحيح بخارى، كتاب الصلاة:452-صحيح مسلم:2615)
’’تم میں سے جوکوئی شخص ہماری مسجدیابازارمیں سے تِیرلے کرگزرے تووہ اس کاپھَل تھامے رکھے، تاکہ وہ کسی مسلمان کونقصان نہ پہنچاسکے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ إِلٰى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ»
(السنن الكبرى للبيهقى: 8/23- مسند أحمد: 2/256-صحيح ابن حبان:1856)
’’جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف کسی لوہے سے اشارہ کرتاہے توفرشتے اس پرلعنت کرتے ہیں، اگرچہ وہ اس کاسگابھائی ہی ہو۔‘‘
مسجدمیں اورداہنی جانب تھوکنے کی ممانعت
ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوئِ أَعْمَالِهَا النُّخَامَةُ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ»
(صحيح مسلم، كتاب المساجد:553-مسند أحمد:5/180)
’’میری اُمت کے نیک اوربرے اعمال مجھے دکھائے گئے، تومیں نے ان کے نیک اعمال میں یہ عمل بھی دیکھاکہ جو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دی جاتی ہے، اور بُرے اعمال میں میں نے یہ عمل بھی پایا کہ جو مسجد میں ناک کی ریزش پھینکی ہو اور پھر اسے دفن نہ کیا ہو۔‘‘
اوّلاًتومسجدکے آداب میں سے یہی ہے کہ وہاں تھُوک، بلغم، رِینٹ اورناک کی ریزش وغیرہ پھینکی ہی نہ جائے، کیونکہ مسجداللہ تعالیٰ کاگھرہے اوروہ ہمارے گھروں سے زیادہ اس بات کاحق رکھتاہے کہ اسے پاک وصاف رکھاجائے۔ لیکن اگرایسی کوتاہی ہوبھی جاتی ہے توپھرایساکرنے والے پرلازم ہے کہ
اس پرکوئی مٹی وغیرہ ڈال کریاتودفن کردے یاپانی گراکراسے دھوڈالے، اوراگروہ یہ بھی نہیں کرتاتویہ برائی شمارہوگی اورمذکورہ حدیث کے مطابق نامۂ اعمال میں اس کاگناہ لکھاجائے گا۔
ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے قبلہ کی جانب ریزش پھینکی ہوئی دیکھی توایک کنکری لے کراسے صاف کردیا، پھرفرمایا:
«لَا يَتَنَخَّمْ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى.» وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «وَإِلَّا بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ فَدَلَكَهُ» (صحيح بخارى، كتاب الصلاة: 408- صحيح مسلم، كتاب المساجد:550)
’’تم میں سے کوئی بھی قبلے کی جانب نہ تھوکے اورنہ ہی اپنی دائیں جانب تھوکے، بلکہ اسے اپنے بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھُوکناچاہیے۔ ایک روایت میں اضافہ ہے کہ اگرایسابھی ممکن نہ ہو تو اسے اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے رگڑ لینا چاہیے۔‘‘
اپنی بائیں جانب یاپاؤں کے نیچے تھوکنے کی ناممکنہ صورت یہی ہوسکتی ہے کہ
آدمی مسجدوغیرہ میں ہو، توایسی صورت کے لیے یہ حکم فرمادیاکہ اسے اپنے رومال یاکسی بھی کپڑے میں وہ تھوک کرلینی چاہیے اور پھراسے رگڑلے، یوں اس کی حاجت بھی رفع ہو جائے گی اورمسجدکااحترام بھی باقی رہے گا۔
بچے کوگھُٹی دینااوراس کانام رکھنا
ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ
وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ.
(صحيح بخارى، كتاب الأدب:6198-صحيح مسلم، كتاب البر والصلة:2145)
’’میراایک بچہ پیداہواتومیں اسے نبیﷺکے پاس لے کرآیا، آپﷺنے اس کانام ابراہیم رکھا اور کھجور کے ساتھ اسے گھُٹّی دی۔‘‘
بچے کاکونسانام رکھنامستحب ہے؟
سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللّٰهِ عَبْدُ اللّٰهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة:2132 -سنن ترمذى:2834)
’’یقیناًاللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے سب ناموں سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اورعبدالرحمان ہیں۔‘‘
سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: «أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِمَا بَدَأْتَ، لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ، فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ لَا.» (صحيح مسلم:2137- سنن ترمذى:2836)
’’اللہ تعالیٰ کی نظرمیں سب سے زیادہ پسندیدہ کلام لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ہے، اَللّٰهُ أَكْبَرُ ہے، سُبْحَانَ اللّٰهِ اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ہے، توان میں سے جسے چاہے پہلے پڑھ لے کوئی مسئلہ نہیں ہے، اوراپنے غلام کانام یسار، رباح، نجیح اورافلح مت رکھ، کیونکہ تُو(اس کانام لے کر)کہے گا:کیاوہ ہے؟ وہ نہیں ہوگاتوجواب ملے گاکہ نہیں۔‘‘
اس حدیث میں چارناموں کاذکرکیاگیاہے، یسارکامعنیٰ ہے خوشحالی، رباح کامطلب ہے فائدہ ومنافع، نجیح کامعنیٰ ہے صابروثابت قدم اورافلح کامطلب ہے بہت کامیاب شخص۔ آخرمیں نبیﷺنے ان ناموں کی ممانعت کی وجہ بھی بیان فرمادی، مثال کے طور پر اگر کسی کانام یسارہو، جس کامطلب ہے خوشحالی، اورکوئی اس کاپوچھے کہ کیایسارہے؟ تواگروہ نہ ہوتواسے یہی جواب دیاجائے گاکہ یسارنہیں ہے، تواس کاایک مطلب یہ بھی نکلتاہے کہ خوشحالی نہیں ہے، اس لیے ایسے نام رکھناممنوع قراردیاگیاہے۔
جابر روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى، وَبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ بَعْدُ سَكَتَ عَنْهَا، ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ.
(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب كراهة التسمية بالأسماء القبيحة وبنافع ونحوه:2138)
’’نبیﷺنے اس بات سے منع کرناچاہاکہ (بچوں کے)یعلٰی، برکت، افلح، یسار، نافع اوراس جیسے نام رکھے جائیں، پھرمیں نے دیکھاکہ آپﷺ نے ان سے خاموشی اختیارکر لی (یعنی منع نہیں فرمایا) پھر آپﷺ وفات پاگئے اور (تادمِ وفات) آپﷺ نے اس سے منع نہیں کیا۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُدْعَى مَالِكَ الْأَمْلَاكِ، لَا مَالِكَ إِلَّا اللّٰهُ»
(صحيح بخارى:6206- صحيح مسلم: 2143)
’’روزِقیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بدترین نام اس شخص کا ہو گا جسے شاہانِ شاہ کے نام سے پکارا جاتا ہو گا، اس لیے کہ اللہ کے سواکوئی شہنشاہ نہیں ہے۔‘‘
٭٭٭
مولانا ابراہیم میرپوری کو صدمہ
ان کی چھوٹی ہمشیرہ کلمہ پڑھتے ہوئے اللہ کے پاس پہنچ گئیں۔احباب وعلماء کا اظہار تعزیت
صدر اسلامک ریلیف برطانیہ مولانا محمد ابراہیم میرپوری برمنگھم کی چھوٹی ہمشیرہ 58 سال کی عمر میں اللہ کو پیاری ہو گئیں، مرحومہ اپنےر شتہ دار خواتین کو اپنے گھر میں بلایا اور انہیں اتحاد واتفاق سے رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ شاید میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے۔ میرا تعاون کرنے میں میرے بڑے بھائی مولانا محمد ابراہیم میرپوری کا بڑا کردار ہے، ان کے لیے دعا کرتے رہیں کیونکہ آج کل وہ زیادہ بیمار رہتے ہیں، یہ کہہ کر وہ کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھ رہی تھیں کہ وقت موعود آ گیا اور وہ اللہ کے پاس پہنچ گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
ان کے شوہر جناب محمد شریف 28 پہلے وفات پا گئے تھے۔ اس کے بعد ان کی اہلیہ پانچ بیٹیوں اور دو بیٹوں کی شادی کی۔ کوٹلی میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ اقارب و احباب نے مولانا ابراہیم میرپوری سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور لغزشوں کو معاف فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا شعیب میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمل احمد عمری، برادر عجائب خان، حاجی دلپذیر احمد جنجوعہ، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور بہت سے علماء و احباب نے مولانا میرپوری سے اظہار تعزیت کیا۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
٭٭٭
تبصرہ کریں