
زیارتِ قبور
قبروں کی زیارت تین قسموں پر ہے:
1۔زیارت ِ شرعیہ
اس سے مراد یہ ہے کہ قبروں کی زیارت درج ذیل مقاصد کے پیش نظر کی جائے:
ا۔آخرت کی یاد دہانی۔
ب۔قبروں میں مدفون افراد کو سلام کرنا۔
ج۔اُن کے لیے دعا کرنا۔
2۔ زیارتِ بدعیہ
یہ کمال توحید کے منافی اور ذرایعِ شرک میں سے ایک وسیلہ ہے۔ اس میں کئی امور شامل ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
ا۔اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے قبر کے پاس جانا۔
ب۔قبر سے حصول خیرو برکت چاہنا، یعنی اس سے تبرک لینا۔
ج۔قبر پر ایصال ِثواب کے لیے جانا۔
د۔کسی قبر کے لیے بہ طورِ خاص سفر کرنا۔
3۔زیارتِ شرکیہ
یہ عقیدۂ توحید کے منافی ہے اور اس سے مراد ہے : صاحبِ قبر کے لیے کوئی ایسا عمل بجا لانا جو عبادت کی اقسام میں شامل ہے،مثلاً:
ا۔اللّٰہ تعالیٰ کے بجاے اسے پکارا جائے اور اس سے دعا مانگی جائے۔
ب۔اس سے اعانت طلب کی جائے اور فریاد رسی چاہی جائے۔
ج۔ اس کے نام کی نذر مانی جائے یا اس کے لیے جانور ذبح کیا جائے۔
جادو
تعریف
لغت کی رُو سے جس چیز کے وجوہ و اسباب پوشیدہ اور انتہائی لطیف و دقیق ہوں، اُسے سحریعنی جادو کہتے ہیں۔
اصطلاحی زبان میں اس سے مراد وہ دم،جھاڑ پھونک، منتر، تعویذ، دوائیں اور جڑی بوٹیاں ہیں جو بہ اذنِ الہٰی قلب و بدن پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
جادو کے اقسام
اس کی دو قسمیں ہیں:
1۔شرک اکبر
جو جادو جن اور شیاطین کے ذریعے کیا جائے، وہ شرک اکبر میں داخل ہے۔ اس میں جنوں اور شیطانوں کی عبادت کی جاتی ہے، نیز انھیں سحر زدہ شخص پر مسلط کرنے کے لیے ان کا قرب حاصل کیا جاتا اور ان کے سامنے سر بہ سجود ہوا جاتا ہے۔
2۔فسق وعدوان
اس سے مراد وہ جادو ہے جو ادویات یا جڑی بوٹیوں کے ذریعے کیا جائے؛ ہاتھ کی صفائی اور نظروں کو دھوکا دینا بھی اسی میں شامل ہے۔
جادو گر کا حکم
ا۔ اگر اس کا جادو پہلی قسم (شرک اکبر ) سے تعلق رکھتا ہے تو وہ کافر ہے اور اسے مرتد ہونے کی بنا پر قتل کر دیا جائےگا۔
ب۔اگر جادو گر کا سحر دوسری قسم میں سے ہے تو اسے کافر تو قرار نہیں دیا جائے گا، البتہ اسے فاسق و نا فرمان کہا جائے گا؛ اور اگر حاکم اور ذمہ دار اتھارٹی مناسب سمجھے تو اس کے جادوئی حربوں اور حملوں سے بچنے کے لیے اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔
جادو کفر ہے
اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشادِ مبارک ہے:
﴿ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ﴾ (سورۃ البقرہ: 102)
’’دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے، یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمایش ( کے لیے) ہیں، سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو۔‘‘
لہٰذا جو شخص جادو کرے، اس کی تعلیم حاصل کرے، اسے سیکھنے کی کوشش کرے، یا اس پر اظہارِ پسندیدگی کرے، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
نُشْرَۃ کا حکم
جس شخص پر جادو کا اثر ہو، اُس سے جادو اتارنے کو نُشرہ کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
1۔پہلی یہ ہے کہ جادو کا علاج جادو ہی سے کیا جائے؛ یہ حرام اور شیطانی عمل ہے۔
2۔ دوسری قسم وہ علاج معالجہ ہے جو دم، تعوذِ شرعی اور جائز ادویات سے کیا جاتا ہے؛ یہ جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جادو گروں سے باخبر اور محتاط رہنے کی تلقین
یہ امر لازم ہے کہ لوگوں کو معاشرے میں موجود ساحروں اور جادو گروں سے باخبر رکھا جائے اور انہیں ان سے محتاط رہنے کی تاکید کی جائے؛ اس لیے کہ یہ انکارِ منکر اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا اہم تقاضا ہے۔
جادو گر کو پہچاننے کے علامات
جب کسی معالج میں درج ذیل علامتوں میں سے کوئی ایک علامت بھی نظر آئے، تو بے شک و شبہہ وہ جادو گر ہوگا:
1۔مریض سے اس کا اور اس کی والدہ کا نام پوچھے۔
2۔ مریض کی کوئی چیز طلب کرے، مثلاً: کپڑا، رومال، قمیص یا چغہ وغیرہ۔
3۔ اعداد یا مختلف لکیریں کھینچ کر نقش تیار کرے۔
4۔مختلف قسم کے منتر اور ناقابل فہم کلمات پڑھے۔
5۔ذبح کرنے کے لیے مخصوص اوصاف کا حامل جانور طلب کرے اور ذبح کرتے ہوئے اس پر اللّٰہ تعالیٰ کا نام نہ لے؛ پھر اس کا خون ان جگہوں پر چھڑک دے جو مریض کے لیے باعث تکلیف ہیں، یا پھر اس جانور کو کسی ویران مقام پر پھینک دے۔
6۔مریض کو ایسا حجاب یا پردہ دے جو مربع شکل کے چوکور خانوں پر مشتمل ہو اور ان میں مختلف حروف اور اعداد لکھے ہوں۔
7۔منہ ہی منہ میں ایسے الفاظ بولے جن کے معنی معلوم نہ ہوسکیں۔
8۔مریض کو کچھ اوراق دے کہ وہ انہیں جلا کر ان کی دھونی لے۔
9۔ مریض کو زمین میں دفن کرنے کے لیے کچھ اشیا دے۔ (ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے عاملوں، جادو گروں اور بنگالی بابوں میں یہ تمام علامات موجود ہیں لیکن اس کے با وصف لوگ ان کے دام تزویر میں پھنس کر متاع دین و دنیا لٹاے جا رہے ہیں!اعاذنا اللّٰہ منہ، خدا ہدایت نصیب فرمائے ۔آمین (مترجم))
غیب دانی اور علم نجوم(الکھا نۃ و العرافۃ)
کاہن کی تعریف
جو شخص جنوں اور شیطانوں کے ذریعے زمانۂ مستقبل میں ہونے والے کسی کام کی خبر دے، اُسے کاہن کہتے ہیں۔
عّراف(نجومی) کی تعریف
اس سے مراد وہ شخص ہے جو خفیہ طریقوں سے امورِ حاضرہ کی معرفت کا دعویٰ کرے، مثلاً جاے سرقہ اور گم شدہ چیز کی نشا ن دہی کرے۔
غیب دانی کا دعویٰ کفر ہے
اِس لیے کہ یہ قرآن کریم کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا رشاد ہے:
﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾ (سورة النمل: 65)
’’فرما دیجیے کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں، غیب کا علم نہیں رکھتے، سواے اللّٰہ کے۔‘‘
غیب کی خبریں بتانے والوں کی اقسام
1۔ جو شخص جنوں کے ذریعے غیب کی باتیں بتائے، اُسے کاہن کہا جاتا ہے۔
2۔زمین میں لکیریں کھینچ کر غیبی امور کی خبر دینے والا رَمَّا ل کہلاتا ہے۔
3۔ جو ستاروں کے ذریعے غیب کی خبر دے، اسے مُنَجِّم کہتے ہیں۔
4۔پوشیدہ ذرایع سے گم شدہ اور مسروقہ چیزوں کا پتا بتانے والے شخص کو عرّاف کا نام دیا جاتا ہے۔
کاہنوں ، نجومیوں اور جا دو گروں کے پاس جانے کا حکم
1۔پہلی یہ کہ کوئی ان کے پاس جاکر باتیں پو چھے لیکن ان کی تصدیق نہ کرے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور ایسا کرنے والے کی نماز چالیس روز تک قبول نہ ہو گی۔ اس کی دلیل حضور نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہے:
«مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»
’’جس نے کسی نجومی کے پاس جاکر کچھ دریافت کیا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔‘‘ (صحیح مسلم:223)
2۔دوسری صورت یہ ہے کہ ان سے کوئی چیز دریافت کرے اور پھر اسے سچ سمجھے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ یہ محمد رسول اللّٰہ ﷺ پہ نازل شدہ دین سے کفر ہے۔ اس کی دلیل حضرت رسول اللّٰہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے:
«مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ»
’’جو شخص کسی نجومی اور کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے شریعتِ محمد ﷺ کا انکار کر دیا۔‘‘ (مسند احمد:2؍429؛ مستدرک حاکم:1؍8؛ سنن الکبری للبیہقی:8؍13)
٭٭٭
رمضان البارک کے مقدس ترین مہینے میں روزے کی وجہ سے روح کو صفائی اور پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح گندے کپڑے کو گرم پانی اور صابن سے دھویا اور پاک وصاف کیا جاتا ہے اسی طرح بھوک پیاس کی آگ اور تقویٰ و پرہیزگاری کے صابن سے مہینہ بھر میں گناہوں کی آلائشوں سے نجات ملتی ہے، روح چمک اٹھتی ہے اور روزہ دار کا باطن صاف ستھرا اور پاکیزہ ہوجاتا ہے۔ چونکہ اسلام ظاہری وباطنی دونوں صفائی پر مکمل زور دیتا ہے اس لئے عید کے روز حکم ہے کہ تمہارا باطن صاف اور ستھرا ہے تو ظاہر بھی خوب صاف اور ستھرا رکھو، خوشبو لگاؤ اور عید گاہ میں اپنے ظاہر و باطن کی صفائی میں یکسانیت کا مظاہرہ کرو۔ آج کل ہم بڑی حد تک عید کو اُس کی اسلامی اور شرعی روح سے بیگانہ کرچکے ہیں۔
تبصرہ کریں