
حدیث نمبر: 107
عَنْ أبي قتادة ــ الحارث بن ربعي ــ الأنصاري رضي الله عَنْه قال : قال رسولﷺ : «إذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ».
(رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا دخل أحدكم المسجد فليركع ركعتين، برقم 444، وفي أبواب التهجد، باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى، واللفظ له، برقم 1163، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب تحية المسجد بركعتين، وكراهة الجلوس قبل صلاتهما وأنها مشروعة في جميع الأوقات، برقم 714)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
حضرت ابوقتادہ سلمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – اِذَا دَخَلَ : جب وہ داخل ہوا ۔
2 – فَلَا يَجْلِسْ : پس نہ بیٹھے ۔
3: حَتَّى يُصَلِّيَ: یہاں تک کہ وہ ( نماز ) پڑھے۔
4: رَكْعَتَيْنِ: دو رکعتیں۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔ اس حدیث کا پس منظر اس طرح ہے کہ ایک دفعہ سیدنا ابوقتادہ مسجد میں آئے تو رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ابوقتادہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔
رسول اللہ ﷺ نے ابوقتادہ سے فرمایا:
تجھے بیٹھنے سے قبل دورکعت پڑھنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ عرض کیا:میں نے آپ کو اور دیگرلوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا،اس بناپر میں بھی بیٹھ گیا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دورکعت پڑھے۔(صحیح مسلم: صلاۃ المسافرین حدیث 1655
2۔ مسجد میں داخل ہونے والے کے لئے تحیۃ المسجد پڑھنا جمہور اہل علم کے نزدیک مستحب عمل ہے۔ کیونکہ کئی صحابہ کرام سے بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھنا ثابت ہے اور ان کو نبی کریم ﷺ نے دو رکعت پڑھنے کا حکم نہیں دیا مثلاً سیدنا کعب بن مالک مسجد نبوی میں داخل ہو کر رسول الله ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے۔ اس حدیث سے امام نسائی نے استدلال کیا ہے کہ دو رکعتیں پڑھے بغیر بیٹھنا جائز ہے۔ (سنن النسائي ۔732 وسنده صحيح)
3۔ مسجد میں داخل ہونے کے لیے باوضو ہو کر داخل ہونا افضل اور مسجد کے آداب میں سے ہے ۔
4۔اگر کوئی تحیۃ المسجد پڑھے بغیر بیٹھ جائے تو اس سے تحیۃ المسجد ساقط نہیں ہوگا بلکہ اٹھ کر اسے ادا کرنا ہوگا اور اس کی ادائیگی کے لیے کوئی وقت ممنوع نہیں کیونکہ اس کا تعلق سببی نماز سے ہے۔
5۔تحیۃ المسجد کی جگہ کوئی اور فرض، سنت، نفل نماز پڑھ لی تو یہ تحیۃ المسجد کو کفایت کر جائیں گی الگ سے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
6۔بعض لوگوں کے نزدیک ممنوع اوقات میں تحیۃ المسجد سمیت کوئی بھی نماز پڑھنا ممنوع ہے جبکہ راجح قول یہی ہے کہ قضا اور سببی نمازیں مستثنیٰ ہیں۔
7۔مسجد الحرام کا تحیۃ طواف ہے البتہ جو طواف نہ کرے اس کے لیے دو رکعت ہی تحیۃ المسجد ہیں۔
حدیث نمبر: 108
عَنْ زيد بن أرقم قال : «كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ منا صَاحِبَهُ، وَهُوَ إلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاةِ، حَتَّى نَزَلَتْ ﴿حَافِظُواْ عَلَى الصَّلَوَاتِ والصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ (وَنُهِينَا عَنِ الْكَلامِ) ».
(رواه البخاري، كتاب العمل في الصلاة، باب ما ينهى من الكلام في الصلاة، برقم 1200، وكتاب التفسير، باب وقوموا للَّه قانتين، برقم 4534، وجملة: «ونهينا عن الكلام» ليست في البخاري، وإنما هي لمسلم فقط، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب تحريم الكلام في الصلاة، ونسخ ما كان من إباحة، برقم (538)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ہم نماز میں باتیں کیا کرتے تھے ہم میں سے ایک نماز میں اپنے پہلو میں کھڑے ہوئے ساتھی کے ساتھ بات کر لیا کرتا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:
“وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قَانِتِیْنَ
“تو ہمیں چپ رہنے کا حکم دیا گیا اور ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔
حدیث مبارکہ بعض الفاظ کے معانی:
1 – كُنَّا نَتَكَلَّمُ : ہم باتیں کیا کرتے تھے ۔
2 – وَهُوَ إلٰى جَنْبِهِ : وہ اس کے پہلو میں ہے ۔
3 – وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قَانِتِيْنَ : اور کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر ۔ یعنی دنیاوی باتیں اور بے جا حرکات نہ کرو۔
4 – فَأُمِرْنَا : پس ہمیں حکم دیا گیا ۔
5 – بِالسُّكُوتِ : خاموش رہنے کا ۔
6 – نُهِيْنَا : ہمیں منع کر دیا گیا ۔
7 – عَنِ الْكَلامِ : گفتگو سے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔اسلام کے ابتدائی مرحلے میں نمازکےدوران بقدر ضرورت باہمی گفتگو کرنا جائز تھی پھر یہ ممنوع ہوگئی۔
2۔”قُوْمُوْا لِلَّهِ قَانِتِیْنَ “آیت کے نزول کے بعد نماز کے دوران گفتگو کو منسوخ کر دیا گیا۔
3۔اب اگر کوئی نماز کے دوران باتیں کرے گا تو اس سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ الا یہ کہ بھول کر یا جہالت کی وجہ سے ہو جائے۔
4۔مذکورہ آیت کریمہ میں قنوت سے مراد دنیاوی باتیں وغیرہ نہ کرنا ہے۔
5۔حدیث کے ذریعے سے ناسخ و منسوخ کا علم ہوتا ہے۔
6۔ونهينا عن الكلام۔ یہ الفاظ بخاری میں نہیں ہیں بلکہ مسلم میں ہیں۔
7۔بات کرنا بھی عمل ہے جیسا کہ امام بخاری اس کو كتاب العمل في الصلاة میں لے کر آئے۔
٭٭٭
ڈڈلی کے ظفر اقبال جنجوعہ کے جوان بیٹے کا اچانک انتقال
گھر میں قیامت صغری بپا، ڈڈلی میں ایک کہرام مچ گیا
ڈڈلی کے مخلص اور نمازی شخصیت حاجی ظفر اقبال جنجوعہ کے جواں فرزند شہزاد ظفر بعمر 43 سال اچانک حرکت قلب رکنے کی وجہ سے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم نوجوان نے شادی نہیں کی مگر اپنی ساری زندگی قوم وملت کی ترقی اور بہبود کے لیے صرف کر دی، مختلف غریبوں ممالک میں جا کر وہاں مدرسے بنانا، مساجد کا نظام مضبوط کرنا، غریبوں کی مدد کرنا، ان کا وطیرہ بن گیا تھا، وہ اسی کام اور دھن میں مگن رہے، یہاں تک کہ ان کا وقت موعود آ گیا، جنازے میں شریک ہر پیر وجواں اور مردو خواتین کی زبان پر اسی نوجوان کی تعریف تھی، ہمیشہ ہنسنا اور مسکرانا ان کا شیوہ تھا، کوئی کتنا بھی غصہ کرے، مگر یہ اللہ کا بندہ ان کے جواب میں مسکراتا تھا، بہت ہی نیک صالح نوجوان تھے، انتقال کے بعد بھی چہرہ پر مسکراہٹ تھی، بقول علامہ اقبال
نشانِ مردِ مومن با تو گویم
چوں مرگ آمد، تبسّم بر لب اوست
اسی فارسی شعر کا ڈاکٹر ثاقب نے اس طرح ترجمہ کیا ہے:
سکرات کے عالم میں مؤمن کا ہے یہ عالم
دل میں بھی مسرت ہے، رخ پر بھی بحالی ہے
مرحو نے پسماندگان میں والد، ایک بڑے بھائی، بھابی، چار بہنیں اور بہت بڑی برادری غمگسار چھوڑ گئے ہیں۔
نماز جنازہ جامع مسجد ڈڈلی میں ادا کی گئی، جس میں پورے برطانیہ سے اقرباءو احباب اور دوست، علماء ومشائخ تشریف لائے تھے، جنازہ سے قبل مولانا محمد عبد الہادی العمری اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ’موت‘ پر خطاب کیا۔ الشیخ محمد عارف المکاوی نے نماز جمعہ پڑھائی اور مرحوم کے بڑے بھائی حافظ محمد اکرام جنجوعہ نے چھوٹے بھائی کی نماز جنازہ پڑھائی، جناب ایاز احمد جنجوعہ اور دیگر برادرز نے کہا کہ ڈڈلی مسجد میں اتنا بڑا جنازہ اب تک نہیں ہوا۔ اللہ نے اتنے لوگوں کو بھیجا کہ جس پر بہت تعجب ہوتا ہے۔ راجہ محمد ندیم، حاجی محمد اکرم جنجوعہ، ڈاکٹر راجہ منیر، حاجی اللہ دتہ جنجوعہ، جناب محمد عمر، ڈاکٹر احسان عمر، جناب اعجاز عمر، محمد سعید، مولانا حبیب اللہ اثری، حاجی غلام ربانی، حاجی بدر الدین جنجوعہ، جناب عابد محمود جنجوعہ، جناب یوسف اسلام، جناب محمد یونس جنجوعہ، حاجی جہانگیر، حاجی عبد المجید، حاجی ذوالفقار قریشی، جناب عبد الرحمٰن قریشی، جناب عبد السلام حیدرآبادی، شیخ عبد الفتاح افریقی، حافظ محمد عبد الرافع ریاضی، برادر عبدالفتاح عبد الہادی، جناب راشد محمود جنجوعہ، برادر ہارون رشید جنجوعہ اور بہت بڑی خلقت موجود تھی، قبر پر شیخ عارف المکاوی اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے دعائے مغفرت کی اور اشکبار آنکھوں سے پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
صد سالہ بزرگ کی وفات پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا کہ یہ کہیں ایک نوان وفات پا گیا ہے۔
٭٭٭
امام علاء الدین المرداوی الحنبلی لکھتے ہیں:
’’جس پر فرض روزے باقی ہوں کیا اس کے لئے اس سے پہلے نفلی روزہ رکھنا جائزہے ؟ اس بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کا دو قول ہے…، پہلا قول یہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہے ایسا روزہ صحیح نہیں ہوگا ، اور یہ مذہب حنبلی کا مفتی بہ قول ہے …، اور امام احمد رحمہ اللہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ یہ جائز ہے اور اس کا نفلی روزہ صحیح ہے…، میں (امام المرداوی) کہتاہوں یہی دوسرا قول ہی درست ہے ‘‘ (الإنصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف للمرداوی:3؍350)
تبصرہ کریں