عدل واحسان کے زندگی پر کرشماتی اثرات۔پروفیسر سینیٹر ساجد میر

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ (سورة النحل: 90)

حمد و ثنا اور شکر و تعریف، اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک اور خالقِ کُل ہے اور درود و سلام سرور انبیاء، محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے۔

ہمارا دین،اسلام ایک مکمل رہنمائی دینے والا دین ہے۔ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے اگر ہم اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کریں، تو اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک جامع اور مکمل دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لوگوں کے لیے بطور دین پسند کیا ہے۔ اس دین میں اگر عبادات کے طریقے بتائے گئے ہیں تو آپس کے معاملات، کاروبار، تعلقات اور جنگ کےبارے میں بھی رہنمائی دی گئی ہے۔ امن میں کیا کرنا ہے؟ معاشرے اور ملک کی سطح پر کیا کرنا ہے؟ انفرادی سطح پر کیا کرنا ہے؟ ہمارے دین اسلام میں ان ساری چیزوں کی تفصیل واضح طور پر بتا اور سمجھادی گئی ہے۔

اسلام نے جو معاشرہ اور جو سوسائٹی بنائی ہے،جولو گ بنائے ہیں، نبی کریم ﷺاور اللہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے، جو قوم بنی یا جو معاشرہ بنا، وہ ایک بہترین معاشرہ تھا۔ آپس میں محبت، مودت، مساوات، ایک دوسرے کا احساس، ایک دوسرے کا خیال، قربانی کا جذبہ اور ایثار کا جذبہ، یہ ساری چیزیں اس کے اندر موجود تھیں۔ اس لیے کہ انہوں نے قرآن کریم کی یہ بنیادی تعلیم اپنائی تھی:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ﴾ (سورة النحل: 90)

اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا حکم بھی دیتا ہے اور نیکی اور احسان اور اچھا سلوک کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔

اسلام سے پہلے جو مذاہب یا معاشرے تھے یا جو قومیں تھیں، وہ کبھی ایک انتہا کی طرف نکل گئے، کبھی دوسری ایکسٹریم اور انتہاء کی طرف چلے گئے۔ عیسائیوں کے پاس جو تعلیم تھی، اس میں انصاف کی بجائے احسان پر زیادہ زور تھا، مثلاً آج بھی بائبل میں عیسیٰ سے منسوب یہ قول موجود ہے ، انہوں نے اگر کہا ہو گا تو کسی خاص سیاق و سباق میں کہا ہو گا۔شاید یہود کی سختی دور کرنے کے لیےکہا ہو گا۔ بہرحال تعلیم یہ تھی کہ اگر تمہیں کوئی ایک تھپڑ مارتا ہے تو اپنا دوسرا رُخسار بھی اس کے آگے کر دو کہ جناب یہاں بھی اپنا شوق پورا کر لو۔ایک مارا ہے، دوسرا بھی مار لو۔اگر تمہیں کوئی بیکار میں پکڑتا ہے کہ بغیر اجرت کے تم میرا یہ کام کرو،بوجھ اٹھاؤ یا کوئی اور کام کرو،وہ اپنا بوجھ اٹھواکے زبردستی ،بغیر معاوضے کے،تمہیں ایک میل تک چلانا چاہتاہے تو کہو جی میں تو تین میل تک چلنے کےلئے تیار ہوں،آگے کہیں جانا ہے تو میں اس کے لئے بھی حاضر ہوں۔یہ ضرورت سے زیادہ نرمی ہے،جس کی طرف وہ نکل گئے۔

دوسری طرف یہودی تھے، جو سختی کی طرف چلے گئے اور انہوں نے سخت ترین احکام خود پر نافذ کر لیے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی کہا : ٹھیک ہے، پھر بھگتو، اگر تم سختی کی طرف جاؤ گے تو میں بھی تمہیں نرمی کی طرف نہیں لے کے آؤں گا۔ اگر ان لوگوں میں عدل تھا تو وہ خود ان کے اپنے لیے تھا، اپنے لوگوں کے لیے تھا، دوسروں کے لیے ،اجنبیوں کے لیے،دوسری قوموں کےلئے نہیں تھا۔یا پھر وہ کبھی ایک انتہا کی طرف چلے جاتے تو کبھی دوسری شدت کی طرف چلے جاتے۔

اسلام نے بیلنس یعنی توازن قائم کیا، یعنی عدل بھی ہو اور احسان بھی ہو۔ ایک طرف یہ حکم دیا:

«وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ » (سورة الشوری :15)

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکی زبان مبارک سے کہلوایا کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے درمیان عدل کروں، انصاف کروں۔فرمایا:

﴿ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ (سورة الحديد: 25)

لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں، انصاف قائم کریں۔

دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ﴾ (سورة الرحمن: 9)

یعنی ناپ تول میں بھی انصاف ہو، برتاؤ میں بھی انصاف ہو، سلوک میں بھی انصاف کرو۔

مزید فرمایا:

﴿وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ (سورة الحجرات: 9)

اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے۔

اسی طرح فرمایا:

﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾ (سورة المائده: 8)

متقی بننا چاہتے ہو؟ تقوی اپنانا چاہتے ہو؟ تقویٰ اپنے اندر لانا چاہتے ہو؟ تو تم انصاف کرنا سیکھو، تقویٰ خود بخود آ جائے گا اور پھر اس سے بڑھ کرعدل کے ساتھ احسان بھی ہو، نیکی بھی ہو۔ احسان کیا ہے؟ کسی کو اس کے حق کے بغیر دینا یا حق سے زیادہ دینا۔ حق دینا انصاف ہے، حق سے زیادہ دینا اور بغیر حق کے بھی دینا ، یہ احسان ہے ۔ فرمایا:

﴿ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ﴾ (سورة البقره: 237)

آپس میں مہربانی کرنا مت بھولو۔یہ سبق ہمیشہ یاد رکھو، جو اسلام نے احسان یا نیکی کرنے کا، دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کا تمہیں دیا ہے۔ ان دو اصولوں کی بنیاد پر سماج یا سوسائٹی قائم کی ہے۔ اقتصادی اور معاشی طور پر بھی یہ دو اصول سامنے رکھے، سماجی طور پر بھی اور سیاسی طور پر بھی۔ قومی زندگی کے یہی تین بڑے دائرے ہوتے ہیں ۔

ان دو اصولوں کی بنیاد پر سماجی لحاظ سے اخوت اور مساوات آئی۔ یہ دو چیزیں، جن کی ایک طرف برواحسان، عدل و انصاف ہے۔ ان دونوں نے معاشرہ اور قوم بنائی جس کے اندر اخوت اور مساوات تھی اور بھائی چارہ تھا۔ یہ برو احسان کے نتیجے میں مساوات ہے، یہ عدل و انصاف کے نتیجے میں۔

مساوات کیا ہے؟ یعنی چھوٹا ہو یا بڑا ہو، غریب ہویا امیر ہو، انصاف سب کو ملے گا۔ ظلم کسی پر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ظالم کے بارے میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ بہت بڑا ہے، بہت طاقتور ہے اور بہت امیر ہے، اس لیے اسے ظلم کرنے کی کھلی چھٹی ملنی چاہیے، نہیں، اس کا ہاتھ پکڑا جائے گا۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا:

«اُنْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» (صحيح البخارى: 2443)

اپنے بھائی، یعنی دوسرے انسان اور مسلمان کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔

صحابہ نے کہا: جی مظلوم کی مدد کرنے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن ظالم کی مدد کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اس کا ہاتھ پکڑو، اسے ظلم سے روکو۔ یہ اس کی مدد ہے اور دنیا میں تکلیفوں سے بچانے کے لیے یہ اس کی مدد ہے کہ اس کا ہاتھ پکڑو، اسے ظلم سے روکو۔‘‘

اسی طرح جہاں تک مساوات کا تعلق ہے، وہ مثالیں آپ کے علم میں ہیں، آپ سنتے رہتے ہیں۔ میں ان میں سے ایک دو دہراتا ہوں۔ خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں کی جو سلطنت تھی ، ان کے درمیان ایک چھوٹی سی سرحدی ریاست تھی۔ اس کے حاکم کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی۔ یہ سفر کر کے وہاں سے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو لے کے مدینے آ گیا۔ حضرت عمر کے زمانے میں اس نے اسلام قبول کر لیا۔ مسلمانوں کے اندر بڑی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پانچ سو کے قریب لوگوں کا مسلمان ہونا بہت بڑی بات تھی، خوشی کی بات تھی۔

لیکن اس کے ساتھ بڑی خوشی یہ تھی کہ یہ سرحدی ریاست اگرچہ چھوٹی تھی مگر اس کے باشندے مضبوط لوگ تھے، تو شام کی طرف سے رومی سلطنت کا جو حصہ تھا، اس کی طرف سے مسلمانوں کو حملے ، زیادتی اور جنگ کا خطرہ رہتا تھا۔ تو اب احساس یہ پیدا ہوا کہ یہ حصہ درمیان میں ہوگا تو کچھ نہ کچھ تو انہیں روکے گا اور ہماری مدد کرے گا۔رومیوں کے لیے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے یہ چیز ایک رکاوٹ ہو گی، چنانچہ بڑی خوشی منائی گئی۔

اس نے حضرت عمر سے عرض کیا کہ میں مسلمان ہو گیا۔ اب میں مکے جا کے، حرم جا کے عمرہ کرنا چاہتا ہوں۔ کہا اچھی بات ہے، جاؤ۔ اس نے احرام کی قیمتی چادریں اوڑھ رکھی تھیں۔ طواف کرتے کرتے اس کی چادر پر کسی دیہاتی عرب بدو کا پاؤں آگیا۔ وہ اس کے پیچھے طواف کر رہا تھا۔ اسے اس بات پہ اتنا غصہ آیا کہ اس نے پلٹ کے اسے تھپڑ مار ديا، تھپڑ آنکھ پہ لگا اور آنکھ کا نقصان ہو گیا۔ وہ فریاد لے کے حاکم وقت کے پاس جا پہنچا۔ سیدنا عمر نے عمرے کے بعد اسے بلایا اور کہا کہ یہ بدو فریاد کر رہا ہے کہ تم نے تھپڑ مار کے اس کی آنکھ کا نقصان کر دیا ہے۔ تم اسے راضی کرو یا بدلہ دو، معافی مانگ لو، یہ معافی قبول کرے تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ بھی تمہیں اتنا ہی زور کا تھپڑ مارے گا اور تمہاری آنکھ پر مارے گا تاکہ اس کا بدلہ پورا ہو۔

تو اس نے آگے سے کہا :

“عَیْنُهُ بِعَیْنِیْ؟” (نوادر الخلفاء:213)

یہ کیسی بات ہے؟ ایک بدو اور بادشاہ کی آنکھیں برابر تو نہیں ہو سکتیں۔ میں بادشاہ ہوں، نواب ہوں، امیر اور حاکم ہوں۔ یہ ایک عام سا بندہ ہے، تو اس کی آنکھ اور میری آنکھ میں بڑا فرق ہے۔ میری آنکھ قیمتی ہے۔ اس کی آنکھ کی کیا قیمت؟ لیکن آپ نے فرمایا،ہمارے ہاں بطور انسان عدل و انصاف ہوتا ہے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بدو کون ہے اور بادشاہ کون؟

اس پر وہ بگڑ گیا، لیکن اس نے بات دل میں رکھی۔ کہنے لگا کہ اچھا، مجھے مہلت دیں، میں کل تک کوئی فیصلہ کروں گا کہ میں نے کیا کرنا ہے، مہلت ملتے ہی وہ راتوں رات اپنے ساتھی کو لے کے واپس نکل گیا۔ اس نے اسلام بھی چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر نے یہ سب کچھ قبول کر لیا، برداشت کر لیا، لیکن بے انصافی نہیں کی۔ ہماری تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں، لیکن میں اس تفصیل میں نہیں جا رہا۔

مساوات اور برابری کے لیے اسلام نے ایک ہی فضیلت کا معیار تسلیم کیا ہے اور وہ ہے تقویٰ، ارشادِ ربانی ہے:

﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ﴾ (سورة الحجرات: 13)

جو زیادہ متقی ہے، وہ زیادہ بہتر ہے، وہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی معیار نہیں کہ کوئی مالدار زیادہ ہے، حسین اور خوبصورت زیادہ ہے، قوم قبیلے والا ہے، خاندان والا ہے، گورا ہےیا کالا ہے، جو بھی ہے، اس سے اسلام کے نظامِ انصاف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ارشاد ہے:﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ﴾ (سورة الحجرات: 13)

اور اس کے علاوہ کوئی فضیلت کا معیار نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے میں یہ مساوات قائم تھی۔ پھر مساوات کے حوالے سے دوسری بات یہ کہ سب کی بنیادی ضروریات پوری کرنا، یہ اسٹیٹ اور ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ جیسا کہ حضرت عمر کی بات مشہور ہے کہ انسان تو انسان، دور عراق میں دریائے دجلہ کے کنارے اگر کوئی کتا،نجس جانور،پلید جانوربھی اگر بھوک سے مرتا ہے تو عمر ( ) اس کے لیے اپنے آپ کو ذمہ دار اور جواب دہ سمجھتا ہے کہ تیری حکومت اور تیری سلطنت میں ایک کتا بھی کیوں بھوکا مرا، بطور حکمران تو نے اس کا انتظام کیوں نہیں کیا؟یہ وہ معاشرہ تھا اور یہ وہ تعلیم تھی جو اسلام لے کر آیا۔

پھر اقتصادی لحاظ سے بھی اسلام نے یہی دو اصول، عدل و احسان کے مقرر فرمائے۔ اسلام میں انفرادی ملکیت کی اجازت ہے، لیکن اس میں دوسروں پر خرچ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ایک تو زکوٰۃ ہے، زکوٰۃ کے علاوہ بھی خرچ کرنا ہے۔ آج بھی بعض لوگ زکوٰۃ کا حساب لگاتے ہیں اور اس کے اندر ہی سے خیرات کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں کرتے۔

ادھر زکوٰۃ کی رقم ختم ہوئی، ادھر ان کی خیرات ختم ہوئی، ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔جتنے بھی وسائل ہیں ان میں سے زکوٰۃ اگر نکلتی ہو تو اس کو ادا کر کے اس کے علاوہ بھی صدقہ خیرات کرو۔ اس زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کے ذریعے سے مال کی آلودگی یعنی مال کمانے اور اسے استعمال کرنے کی گندگی کو دور کیا جاتا ہے۔ جیسے اقبال نے کہا :

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف

منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں

اسلام کا تصورِ ملکیت یہ ہے کہ تم مال کے امانت دار ہو، مالک نہیں ہو۔ یہ امانت ہے جو اللہ نے تمہارے سپرد کی ہے۔ جو مال، جو رزق اور جو چیز اللہ نے دی ہے، وہ ایک امانت ہے۔ اس کو اپنے آپ پر خرچ کرنے کی اجازت ہے، بچوں پر خرچ کرنے کی اجازت ہے، لیکن اس میں جو ضرورت مندوں کا، مسکینوں اور حقداروں کا حق بھی ہے، وہ بھی دینا ہے۔

اب یہ دیکھئے کہ سیاسی دائرے میں عدل و احسان کے اصول کس طرح نافذ کیے گئے ۔ یہاں ’انصاف سب کے لیے‘ کا ماحول ملتا ہے،جیسا کہ نبی کریم ﷺکے فرمان سے اس کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے۔ مدینہ میں چوری کا واقعہ ہو گیا تھا۔ ایک اچھے قبیلے، بنو مخزوم قبیلے سے اچھے خاندان کی عورت،جس کا نام فاطمہ تھا، اس نے چوری کی اور یہ پکڑی گئی۔ ہاتھ کاٹنے کی سزا نافذ کرنے کا اعلان ہوا۔ قبیلے والے سفارش لے کے آگئے کہ جی ساری عمر کا داغ ،ہاتھ کٹا ہوا ،ہمارے لیے نہیں، پورے خاندان، پورے قبیلے کے لیے بدنامی کا سبب بن جائے گا، کوئی اور سزا دے دیں، یہ سزا نہ دیں،تو نبی کریم ﷺنے ایک حتمی بات ارشاد فرمائی کہ

« لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا» (صحيح بخارى: 3475)

یہ تو فاطمہ بنو مخزوم کی عورت ہے، میری اپنی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کو بھی نہ چھوڑتا، چنانچہ اس امیر اور باوقار قبیلے کی عورت پر بھی ہاتھ کاٹنے کی شرعی سزا نافذ کی جاتی ہے۔

اب ایک دوسرا منظر دیکھیے، بدر کے قیدی آئے ہیں۔ رسیاں باندھ کے انہیں مسجد کے اندر رکھا ہوا ہے۔ ان میں آپ کے چچا حضرت عباس بھی ہیں۔ ان کی بھی رسیاں کسی ہوئی ہیں، وہ ذرا تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔ یہ دیکھو،صحابی اٹھے اور انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کرنا چاہیں، تا کہ تکلیف کم ہو۔ آپ کو اپنے چچا سے بڑی محبت تھی اور آپ ان کا بڑا احترام کرتے تھے، لیکن آپﷺ نے فرمایا، یا تو سارے قیدیوں کی رسیاں اسی طرح ڈھیلی اور ہلکی کرو یا ان کی بھی اسی طرح رہنے دو، انصاف کا تقاضا یہی ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیق خلیفہ بنتے ہیں تو قوم سے خطاب کرتے ہیں کہ

” والضَّعِيفُ مِنْكُمْ قَوِيٌّ عِنْدِي حَتَّى أُزِيْحَ عِلَّتَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَالْقَوِيُّ فِيكُمْ ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ مِنْهُ الْحَقَّ إِنْ شَاءَ اللَّه.” (البداية والنهاية: 6/305)

تم میں سے جو کمزور ہیں، وہ اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھیں،حکومت کی طاقت ان کے پیچھے اور ان کے ساتھ ہے ۔خلیفہ ان کو ہر ظلم اور ہر زیادتی سے بچائیں گے۔ وہ کمزور نہیں ہیں، حکومت ان کے ساتھ ہے اور جو اپنے آپ کو بڑا طاقتور سمجھتے ہیں، خواہ طاقت دولت کی ہو، طاقت جسم کی ہو یا طاقت منصب کی ہو اور وہ طاقت کے غرور میں،طاقت کے زور میں دوسروں پر ظلم کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں، وہ جان لیں کہ حکومت ان کا ہاتھ پکڑنے کے لیے موجود ہے، میں موجود ہوں، میرے نزدیک وہ طاقتور نہیں ہیں۔ اگر وہ ظالم ہیں تو ان کی طاقت ختم کی جائے گی، توڑ دی جائے گی۔ یہ ہے وہ انصاف جو اسلام نے اس مدنی معاشرے کو فراہم کیا۔اور پھر آپ نے فرمایا کہ”أَطِيْعُوْنِى مَا أَطَعْتُ اللهَ وَرَسُوْلَهُ.” (البداية والنهاية: 6/305)

مجھے تم نے حکمران بنایا اور خلیفہ بنایا۔ اب میری اطاعت بھی تم نے کرنی ہے۔ میری بات بھی ماننی ہے، لیکن کب تک؟ جب تک میں خود قرآن وسنت کے دائرے کے اندر رہتا ہوں۔ اللہ کے رسول کی مانتا ہوں، تب تک تم بھی میری مانو۔

“أَطِيْعُوْنِي مَا أَطَعْتُ الله فِيْكُمُ، فَإِذَا عَصَيْتُهُ فَلَا طَاعَةَ لِيْ عَلَيْكُمْ.” (البداية والنهاية: 6/305)

اگر میں اللہ رسول کی نافرمانی کروں۔ پھر میری اطاعت تم پر لازم نہیں ہے۔ پھر بے شک جو مرضی کرو۔ حضرت عمر نے بھی اپنے وقت میں یہی کہا تھا، فرمایاتھا:”مَنْ رَأَى مِنْكُمْ فِيّ اِعْوِجَاجاً فَلْيُقَوِّمْهُ.” (التفسیر المنیر: 4/33)

تم میں سے کوئی بھی میرے اندر اگر کوئی ٹیڑھا پن دیکھتا ہے، غلطی دیکھتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ میں غلط جانب اور غلط طرف جاتا ہوں، تو مجھے سیدھا کریں، میں سیدھا ہونے کے لیے تیار ہوں، مجھ پر تنقید کریں، مجھے سمجھائیں، مجھے سیدھے راستے پر لے کر آئیں تو یہ انصاف کی بات تھی۔ رسالت مآبﷺ کی خدمت میں سیاسی دائرے میں انصاف کے علاوہ، آزادی فکر وعمل بھی اسلام کی عطا ہے۔ شریعت کے دائرے کے اندر سوچنے کی اور کام کرنے کی آزادی ہے ۔ایک جوان لڑکی آئی،جوان عورت نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں آ کر کہا کہ میرا والد ایسی جگہ شادی کرنا چاہتا ہے، جو مجھے پسند نہیں۔ میں وہاں شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ لڑکی نے کہا کہ اس معاملے میں، میں صرف یہ دکھانا چاہتی تھی، ثابت کرنا چاہتی تھی کہ اس معاملے میں باپ کو کلی اختیار حاصل نہیں ہے، کہ وہ جدھر چاہے مرضی سے میری شادی کر دے۔ اسے عورت کی مرضی، بیٹی کی مرضی پوچھنی ہوگی، معلوم کرنی ہوگی۔میں صرف یہ دکھانا چاہتی تھی،اب جدھر اور جہاں باپ کی مرضی ہو وہاں میری شادی کر دے، میں تیار ہوں۔(صحیح بخاری: 5138) یہ آزادی فکر وعمل ہے جو اسلام نے لوگوں کو بخشی۔

اسی طرح بریرہ ایک لونڈی تھی۔ اس کے خاوند کا نام مغیث تھا، وہ بھی غلام تھا۔ بریرہ کو آزادی ملی تو اس نے کہا کہ اب میں اس غلام کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ آپ نے صلح صفائی کرنے کی کوشش کی، آپ نے فرمایا: کتنا عرصہ اس کے ساتھ گزارا ہے۔ باقی بھی اس کے ساتھ ہی رہو تو اچھا ہے ، اس نے کہا کہ کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، میں اس بارے میں حکم نہیں دیتا، بس سفارش کرتا ہوں۔ اس نے کہا: بطورِ حکمِ نبی ہوتا تو مجھے منظور تھا، مگر سفارش کے معاملے میں میری مرضی ہے، میں مانوں یا نہ مانوں ۔ تو اس نے خاوند کو چھوڑ دیا۔ اس نے کہا: میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ (صحیح بخاری :456)

یہ آزادی ہے، جو شریعت کے دائرے کے اندر اسلام نے دی۔ پھر سیاسی دائرے میں امانت کی تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین بیت المال کو اپنی ذاتی جاگیر اور ذاتی خزانہ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ قومی خزانے پر عوام کا اور عام آدمی کا حق تسلیم کرتے تھے اور قومی خزانے کا اپنے لیے استعمال بھی حتی الامکان نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر نے بیت المال سے معمولی تنخواہ قبول کی اور اس میں سے بھی جب بچت شروع ہوئی تو کہا کہ اسے کم کر دو۔بڑھانے کا مطالبہ نہیں کیا۔

پھر سیاسی دائرے میں خدمت کا اصول بھی اسلام کا شاندار عطیہ ہے۔ حکومت اور حکمرانوں کے لیے سیدنا عمر کا جذبۂ خدمت بھی مشعلِ راہ ہے۔ حضرت عمر کا رات کو گشت کرنا، چل پھر کے مدینہ اور قرب و جوار کے حالات دیکھنا کہ اس وقت کوئی ضرورت مند تو نہیں، کوئی مصیبت میں تو نہیں اور پھر اس کی مصیبت دور کرنا، ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا۔ یہ سب اسلامی نظام کے تحت حکمران کے جذبۂ خدمت کی شاندار مثالیں ہیں۔ اگر ہم انہی اصولوں کو اپنائیں تو آج بھی دنیا کے لیے ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک ایک نمونہ بن سکتا ہے۔ لیکن ہم ان اصولوں سے دور چلے گئے، ہم نے سنہری اصولوں کو چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں ہم زوال اور پستی کا شکار ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اصولوں کی حقیقت اوران کی اہمیت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭٭٭

حاجی جلال الدین کو صدمہ

جامع مسجد محمدی کے نمازی حاجی جلال الدین کی بڑی بیٹی 60 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحومہ نیک وصالحہ تھیں، پسماندگان میں والدین کے علاوہ 3 بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔شوہر نامدار کا نام جناب محمد نصیر احمد ہے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین

جامع مسجد محمدی میں مولانا عبد الہادی العمری نے نماز جنازہ پڑھائی اور برمنگھم میں تدفین عمل میں آئی۔ احباب واقارب کی کثیر تعداد شریک جنازہ تھی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں