داعیان دین کے لیے گنج گراں مایہ حکمت (قسط 5)۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

سیدنا عمر فاروق کا قبول اسلام اور ہجرت

سیدنا عمر بن خطاب کی زندگی حکمت، شجاعت، جرأت ،فراست اور اعلیٰ اقدار حکومت کی درخشاں مثال تھی۔ صحابی جلیل سیدنا عبد الله بن مسعود کی ان کے حق میں شہادت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ سیدنا عمربن الخطاب کے قبول اسلام کے ساتھ ہی ہماری حیثیت مضبوط ہوتی گئی۔ بجا طور پر ان کا اسلام فتح و کامرانی کا ذریعہ ثابت ہوا، ان کی ہجرت نصرت و کامیابی اور دور امارت رحمت تھا، ہمارے لیے تو مسجد الحرام میں کھلے عام نمازوں کی ادائیگی بھی ان کے اعلان اسلام کے بعد ہی ممکن ہو سکی ۔ (فتح الباری: 7؍ 48؛ 1؍ 545)

جب تک وہ مکہ مکرمہ میں رہے، اپنے اسلام کا اعلان اور پرچار کرتے رہے اور جب ہجرت کا فیصلہ کیا گیا تو اس وقت کے حالات کے مطابق ہر مہاجر اور عازم سفر کی ممکنہ کوشش ہوتی کہ اس پروگرام کو مخفی رکھا جائے لیکن سید نا عمر کا سفر ہجرت بھی اعلان اور اظہار کے ساتھ طئے پایا ۔

سیدنا علی بن ابی طالب فرماتےہیں کہ میرے علم کے مطابق ہر مہاجر نے اپنے سفر کو خفیہ رکھا سوائے عمر بن خطاب کے ، انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو تیر اور تلوار سے مسلح ہو کر کعبۃ اللہ کے قریب پہنچے، اطمینان سے طواف کیا ، مقام ابراہیم پر دو رکعات ادا کیں ، پھر مشرکین کی مجالس کا رخ کیا جو صحن کعبہ کے اطراف مختلف ٹولیوں میں بیٹھے یہ منظر دیکھ رہے تھے، انہیں اپنے پروگرام سے آگاہ اس رعب و دبدبہ سے کیا کہ ان کی ہمتیں جواب دے گئیں اور کہا کہ تمہارے چہرے خاک آلود ہوں جس کی خواہش ہو کہ اس کی ماں اپنے لخت جگر سےمحروم ہو جائے اس کی اولا د یتیم ہو اور بیوی بیوہ ہو ، وہ مجھ سے حدود حرم کے باہر ملے ، ان مشرکین میں سے کسی نے ان کا مقابلہ کرنے یا تعاقب کرنے کی ہمت نہیں کی ۔

بلا شک وشبہ بعض اوقات کچھ چیزوں کو مخفی رکھنے میں کچھ حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں، تو کبھی ظاہر کر نے میں حالات کے مطابق کچھ مصلحتیں ہوتی ہیں۔ اس کا انتخاب آدمی کی معاملہ فہمی اور دور اندیشی پر مبنی ہوتا ہے ۔

تعیین خلیفہ کے سلسلہ میں فاروقی موقف

رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ایک انتہائی اہم اور حساس مسئلہ مسلمانوں کے امیر کی تعیین کا تھا۔ یہ بہت ہی کٹھن اور نازک معاملہ تھا ، اس میں معمولی درجہ کی بے احتیاطی بھی تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی اور اس غلطی کا خمیازہ تادیر بھگتنا ہوتا۔ سقیفہ بنو ساعدہ میں جہاں مختلف تجاویز زیر غور تھیں، جناب صدیق اکبر کا غیر متزلزل موقف کہ امارت کے لئیے مہاجرین میں سے کسی کو منتخب کیا جائے اور انصار ان کے وزراء اور معاونین ہوں گے۔ اس کے لیے سید نا عمر کی فراست اور جرات کام کرگئی کہ ابتدائی مرحلہ میں وہاں موجود صحابہ کی اکثریت نے جناب صدیق ہ کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر جناب صدیق اکبر نے مسجد نبوی میں اعلان عام کیا اور وہاں بیعت عامہ ہوئی، اس بیعت سے پہلے سید نا عمر نے تمہیدی گفتگو فرمائی جو حکمت اور مصلحت سے پُر تھی ۔ اس میں مقام صدیق کے متعلق دلنشین اور حقائق سے بھر پور گفتگو کی۔ لوگوں نے جوق در جوق صدیق اکبر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان دونوں موقعوں سیدنا عمر فاروق کی فہم وفراست اور جرات و بصیرت نمایاں تھی ۔

سفر بیت المقدس

یوں تو خلیفہ ثانی سیدنا عمر کے عہد امارت میں حکمت و مصلحت، دور اندیشی اور معاملہ فہمی کی متعدد مثالیں ہیں۔

ان میں ایک نمایاں مثال ان کی سفر ایلیاء ’بیت المقدس‘ کی ہے، اس سفر میں عبرت اور بصیرت کے مختلف پہلو ہیں، یہ امیر المومنین کے سفر کا منظر نامہ ہے، جن کے اسم گرامی کی دھاک اس وقت کی عظیم طاقتوں کو سرنگوں کر دی تھی، جن کے نام کی ہیبت سے دشمنان دین پر لرزہ طاری ہو جاتا ۔

حرمین شریفین کے بعد اہم ترین خطہ کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیےامیر المومنین روانہ ہوئے تو ظاہری شان و زیبائش سے بے نیاز، عجر و انکساری کا نمونہ بن کر عام سی سواری اونٹ پر سوار اور نہایت سادہ لباس زیب تن کئے ہوئے، ایلیاء پہنچنے سے پہلے الجابیہ پہنچے تو وہاں موجودبہی خواہوں نے مشورہ دیا کہ آگے لوگ آپ کے دیدار کے منتظر ہیں، لہٰذا اس علاقہ کے حالات کے مطابق اپنی سواری بدل لیجئے۔ عمدہ سواری اور لباس فاخرہ کا انتظام کر دیا گیا لیکن امیر المؤمنین نے یہ کہہ کر ان کی غلط فہمیاں دور کر دیں کہ کہ ہمیں الله تعالیٰ نے اسلام کے سبب عزت بخشی ، لہٰذا ہم اپنی اصلی طاقت کے سرچشمہ سے انحراف کر کے مال ومتاع اور دنیا کی رنگینیوں میں اپنی عزت کے متلاشی نہیں ہو سکتے اور اپنے ہی اونٹ

پر سوار رہنا پسند کیا اور اپنے ہی لباس کو ترجیح دی ۔

نحن قوم أعزنا الله بالإسلام فلا نطلب بغير الله بديلاً

حسن اتفاق کہ اس وقت انہوں نے جو جبہ زیب تن کیا ہوا تھا‎، وہ پرانا ہونے کی وجہ پیوند زدہ تھا، سیدنا فاروق کے رفیق خاص سینا ابو عبید الجراح جو پہلے سے مجاہدین کے ساتھ علاقہ میں موجود تھے، نے ہمت کرکے سفارش کی ، اپنے دیرینہ رفیق، اسلام کے سپاہی، عشرہ مبشرہ میں ایک کی سفارش پر سیدنا فاروق نے سرد آہ بھرتے ہوئے حیرانگی سے فرمایا کہ ابو عبیدہ کاش تمہارے بجائے کوئی دوسرا یہ بات کرتا، کیا تمہیں یاد ہے کہ ہم دنیا کی نظروں میں کمزور اور حقیر تھے، عددی قوت میں بھی کم تر لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت تمہیں عزت بخشی، لہٰذا دین میں ہی عزت تلاش کرو، ورنہ تمہیں ذلیل اور رسوا ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اور پھر اس تواضع و انکساری کے ساتھ بیت المقدس پہنچے ، امیر المومنین کا یہ انداز خود کئی غیر مسلم عیسائی ذمہ داران کے لیے باعث اطمینان ثابت ہوا کہ جس شخصیت کے ساتھ معاہدہ طے کرنا ہے اس کی ذات میں ہمیں وہ ساری نشانیاں دکھائی دے رہی ہیں جن کے ہم متلاشی تھے، کسی لڑائی اور مدبھیڑ کے بغیر ہی یہ علاقہ فتح ہو گیا۔

كنیسۃ القیامہ میں اجتماع :

سیدنا عمر اسی شان بے نیازی کے ساتھ جب یہاں پہنچے ، اعیان علاقہ اور سر بر آوردہ شخصیات کے ساتھ میٹنگ منعقد ہوئی ، آج کا یہ اجتماع کوئی عام اجتماع نہیں بلکہ فاتح قوم مسلمانوں کے امیر کا شکست خوردہ لوگوں کے ساتھ تھا، اس کے لیے سلطنت اسلامیہ کی نہایت اہم شخصیات جمع ہوئی تھیں ، عبد الرحمن بن عوف، معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، خالد بن وليد وغيره وغیره اجتماع کے لیے کنیسہ القیامۃ کا انتخاب کیا گیا، اس چرچ کی نصاری کے ہاں بہت زیادہ اہمیت ہے، ان کے خیال کے مطابق اسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دی گئی ان کی نعش تین دن یہاں پڑی رہی پھر اللہ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا ، اسلامی عقیدہ کے مطابق یہ تصور خود غلط ہے نہ انہیں پھانسی دی گئی اور نہ ہی قتل کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے محفوظ حالت میں اٹھا لیا :

﴿وَمَا قَتَلُوُهْ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ (سورۃ النساء: 157)

بہر حال نصاریٰ کے ہاں یہ بہت ہی مقدس چرچ ہے ۔ دوران میٹنگ جب نماز کا وقت آیا تو امیر المؤمنین نے باہر نکل کر ایک جگہ نماز ادا کی ، اس وقت وہاں ایک مسجد ’ مسجد‎ عمر‘ ہے۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ بعد میں مسلمان اس چرچ پر اپنا حق نہ جتائیں کہ ان کے امیر نے یہاں نماز ادا کی، یہیں پر وہ تاریخی دستاویز لکھی گئی۔ جو اسلامی رواداری، عفو و درگزر ، مروت اور رحمدلی کی تابناک مثال ہے کہ فتح و نصرت طاقت اور حکومت کے باوجود صحابہ کرام اور سلف صالحین نے مغلوب اور محکوم قوموں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس معاہده کو جسے ’العہدة العمریۃ” کہا جاتا ہے، ایک نقل مسجد عمر کی دیوار پر نصب ہے، پھر اس معاہدہ پر مذکورہ صحابہ کرام کے بطور گواہ کے دستخط لیے گئے ، اس سے سیدنا عمر کی معاملہ فہمی اور دور اندیشی واضح ہو رہی ہے کہ بعد ان شکست خوردہ لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کا اندیشہ نہ رہے ۔

شخصی آزادی اور مساوات

عدل فاروقی کی چہار دانگ عالم شہرت تھی ، عدل وانصاف کا پیمانہ اتنا متوازی اور درست تھا کہ اس میں نہ کسی شخص کو امتیاز حاصل تھا اور نہ ہی کسی کا جاہ و منصب خلل انداز ہو سکتا، وسیع و عریض سلطنت اسلامیہ میں ہر شخص کو آزادی حاصل تھی، ہر ایک کے لیے مساوی مواقع حاصل تھے۔ امیر المؤمنین تک ہر ایک کی رسائی آسان تھی ۔

ایک تاریخی واقعہ کے ذریعہ بہت سے اہم نکات سمجھے جا سکتے ہیں ۔ سيدنا عمر و بن العاص جو شجاعت و بہادری میں ضرب المثل اور حسن انتظام میں نادر المثال تھے۔ فاتح مصر اور حکمران تھے، ان کے دور اقتدار میں نوجوانوں کے درمیان کشتی اور گھوڑ سواری کے مقابلے ہوا کرتے ایک مرتبہ ان کے اپنے فرزند کے مقابلہ میں عام سا نوجوان سبقت لے گیا ، اس شکست کے خلاف فرزند گورنر عمرو بن عاص کچھ کبیدہ خاطر ہو کر اس پر حملہ کر دیا ، اس غیر متوقع اور غیر منصفانہ حملہ پر بازی جیتنے والا جوان بجائے اس کے کہ مقامی عدالت یا گورنر کے سامنے شکایت کرتا۔ مرکزی عدالت عظمی مدینہ منورہ پہنچ کر امیر المؤمنین سے شکایت کی۔ اگرچہ کہ یہ علاقہ کا معمولی سا واقعہ تھا۔

اس شکایت کا ازالہ مقامی طور پر بھی ممکن تھا لیکن امیر المؤمنین نے اس کی تلافی کےلیے جو اسلوب اختیار کیا وہ وسیع سلطنت کے تمام کارندوں کے لیے سبق آموز تھا اور اس کے ساتھ ہی اس واقعہ میں فاروقی قوت و سطوت کی شان بھی نمایاں ہے کہ اپنے کارندوں اور عمائدین سلطنت پر فاروقی گرفت کتنی مضبوط تھی، امیرالمومنین نے مدعی علیہ نوجوان محمد بن عمر وبن العاص کو گورنر سمیت دار الحکومت طلب کیا، جب وہ پہنچے تو مجمع عام میں مدعی سے واقعہ دریافت کیا، جرم ثابت ہونے پر کہ ابن الاکرمين، نجيب الطرفين اور عالى حسب و نسب شہزادہ محمد کو اسی عام نوجوان سے سزا دلوائی اور اس موقع پر یہ تاریخی جملہ کہا کہ

جو مختلف مناسبتوں سے نقل کیا جاتا ہے.:

من استبعدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا

لوگوں کو غلام بنانے کا اختیار تمہیں کس نے دیا ہے، جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنم دیا ہے۔

تبصرہ کریں