رسول اللہﷺکا پیغام طالب علموں کے نام۔محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

علم حاصل کرنے والے کو ’طالب علم‘ کہتے ہیں، علم کا طلب کرنے والا، جد و جہد کرتا ہے اور قربانیوں سے گزرتا ہے، عاجزی، انکساری، کفایت شعاری اور جفاکشی کے بغیر علم کا حاصل کرنا ناممکن ہے، قدیم زمانے میں علم حاصل کرنے کے لئے لوگ ہزاروں میل کا سفر، پیدل، گھوڑوں ، گدھوں اور خچروں، اونٹوں پر کیا کرتے تھے، نہ بھوک کی پرواہ تھی اور نہ پیاس کی پر واہ تھی، علم حاصل کرنے کی صرف لگن تھی۔ ایسے بہت سے تفصیلی واقعات ہیں جس کوذ کر کیا جاسکتا ہے۔

علم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے علم کی نعمت سے سرفراز فرماتا ہے، تمام علوم کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، اسی لئے علم کے حاصل کرنے میں اخلاص اور للہیت ضروری ہے، قرآن مجید علم کا سر چشمہ ہے اور احادیث نبوی اس علم کی عملی تفسیر ہے۔ تمام علوم وفنون کے جوار بھاٹے قرآن مجید ہی سے پھوٹتے ہیں، اسی لئے حصول علم کی راہوں کو قرآن مجید اور سنت مطہرہ نے ہموار کیا ہے۔

علم کیسے حاصل ہوتا ہے؟

اس کی رہنمائی رسول اللہ ﷺ نے کی ہے، جب تک کہ طالب علم ان طریقوں اور اصولوں کو نہیں اپنائے گا وہ کبھی بھی کامیاب طالب علم ثابت نہیں ہوگا ایک وہ زمانہ تھا جب کہ علوم وفنون میں مسلمان شہسوار تھے ، ہر علم کے موجد مسلمان گزرے ہیں، خصوصاً سائنس وٹیکنالوجی اور علم حساب کی ابتداء و ترتیب مسلمانوں کا کارنامہ ہے کیونکہ وہ مخلص بھی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر گامزن تھے۔ لیکن اس زمانے میں مسلمان تعلیم کے ہر شعبے میں انتہائی پسماندہ ہو گئے ہیں کیونکہ اخلاص وللہیت ختم ہو چکی ہے، اور وہ حصول علم کے میدان میں رسول اللہ ﷺ کے اصولوں سے ہٹ چکے ہیں ۔ طالب علم کے لئے جوضروری اصول رسول اللہ ﷺنے بتائے ہیں ہم اسے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

حصول علم فریضہ ہے

طالب علم کو اس بات کا علم ہوناضروری ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے فریضہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«طَلَبُ العِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح:218)

جس طرح نماز ، روزہ ، زکوٰۃ، حج فرائض میں داخل ہیں، اسی طرح علم کا حاصل کرنا فرض ہے، طالب علم کو چاہئے کہ وہ فریضہ سمجھتے ہوئے علم حاصل کرے۔

حصول علم کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ارشاد فرماتے ہیں کہ

«اغْدُ عَالِماً أَوْ مُتَعَلِّما وَلا تَغْدُ فِيْمَا بَيْنَ ذَالِكَ فَإِنَّ مَابَيْنَ ذَالِكَ جَاهِلٌ»

’’يا تو عالم بنو ، یا طالب علم بنو اس کے علاوہ کسی اور حالت میں نہ رہو گے، کیونکہ اس کی درمیانی حالت جاہل کی حالت ہے۔ ‘‘ (سنن دارمی:343)

لیکن آج کا مسلمان طالب علم، حصول علم کو ماں باپ کی، اساتذہ کی زبردستی سمجھتا ہے اور اسکول ومدرسہ اور کالج و یونیورسٹی کو وقت گزاری کا اڈہ سمجھتا ہے، اس لئے اسے علم حاصل نہیں ہورہا ہے۔ وہ ڈگری لے کر بھی بے علم ہے اور اس کے علم میں پختگی و استقامت نہیں ہے۔ لیکن صحابہ کرام ایسے طالب علم تھے جن میں اخلاص وللہیت پائی جاتی تھی ،انسان قبر کی لحد تک طالب علم ہی رہے گا۔

لسانیات کی اہمیت

مدینہ ہجرت کے بعد جب اسلامی انقلاب کا زمانہ آیا اور رسول اللہ ﷺ نے دیگر بادشاہوں اور اقوام کو اسلامی دعوت کے لئے خطوط لکھنا شروع فرمایا تو آس پاس کے علاقوں کی زبانیں مختلف تھیں ، عربی زبان کے علاوہ عبرانی زبان کا بول بالا تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی حضرت زید بن ثابت کو حکم دیتے ہیں کہ

’’ وہ عبرانی زبان لکھنا، پڑھنا سیکھ لیں اور فرمایا کہ مجھے یہودیوں پر اعتبار نہیں۔‘‘

حضرت زید نے تھوڑی سی مدت میں عبرانی زبان لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ لیکن آج کا مسلمان طالب علم کسی بھی زبان میں پختہ نظر نہیں آتا، عربی سے واقفیت تو 90 فیصد طالب علموں کو نہیں ہے، اسی طرح مادری زبان اردو سے لا تعلقی و بیزارگی پائی جاتی ہے، انگریزی میڈیم سے پڑھنے اور پڑھانے کا شوق تو ہے لیکن 60 فیصد طالب علم اس میں پختہ نہیں ، علاقائی زبان تو 99 فیصد نہیں جانتے ، اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں علم حاصل کرنے کی جدت و اشتیاق نہیں ہے۔

طالب علم مجاہد فی سبيل الله ہے

ہر مسلمان طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ علم کا حاصل کرنے والا اللہ کے راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی طرح ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ العِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيْلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ» (جامع ترمذی:2647)

’’جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے سفر کرتا ہے، تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں رہتا ہے۔‘‘

حصول علم کی جدوجہد گناہوں کا کفارہ

اسی طرح ایک اور حدیث میں طالب علم کو یہ کو شخبری سنائی گئی ہے کہ حضرت سخبرہ از دی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«مَنْ طَلَبَ العِلْمَ كَانَ كَفَّارَةٌ لِمَا مَضَى»

’’ جوشخص علم حاصل کرتا ہے تو یہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 2648؛ مسند دارمی: 567،ضعیف)

یہ ایسا طالب علم ہے جس کا مقصد علم حاصل کر کے اللہ کے بندوں کی خدمت کرنا ہے، علم حاصل کر کے اللہ کے دین کی خدمت کرنا ہے، علم حاصل کر کے مسلمانوں کا سہارا بننا ہے، اس مقصد کے لئے وہ دور دراز ہاسٹلوں میں رہتا ہے ، دور دراز کی یونیوسٹیوں میں پڑھنے کے لئے جاتا ہے، کھانے پینے کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے، والدین اور رشتے داروں سے دور اور ان کی غم و خوشی کی پرواہ نہیں کرتا، ایسے طالب علم کا اللہ محافظ ہوتا ہے۔

حصول علم کے لئے سفر

عہد صحابہ اور عہد تابعین و تبع تابعین اور اس کے بعد کے عہد میں لوگ حصول علم کے لئے دور دراز کا سینکڑوں میل کا سفر کیا کرتے تھے ، اپنے علاقوں کو چھوڑ کر دوسرے ممالک کا سفر کیا کرتے تھے اور علم حاصل کرتے تھے اور ایک ایک حدیث کو جمع کرتے ، جس کے سبب احادیث اور تاریخ کا ذخیرہ جمع ہوا۔ اور پانچ لاکھ نفوس کی سوانح حیات محفوظ کی گئی۔

حدیث میں ہے،حضرت قیس بن کثیر ﷫ کہتے ہیں: ”ایک آدمی مدینہ منورہ سے حضرت ابوالدرداء کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے ، انہوں نے اس سے پوچھا: میرے بھائی ! تم یہاں تک کس چیز کے لئے آئے ہو؟ اس نے کہا: ایک حدیث شریف سیکھنے کے لئے یہاں آیا ہوں ! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم ( نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سیکھا ہے ) رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہو ۔ سیدنا ابوالدرداء نے کہا : کیا تم تجارت کرنے کے لئے تو یہاں نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، تو ابو الدرداء نے کہا: کسی اور ضرورت کی تکمیل کے لئے تو نہیں آئے ہو؟ اس شخص نے کہا جی نہیں ! ابو الدرداء نے کہا: تو تم صرف ایک حدیث رسول سیکھنے کے لئے یہاں تک آئے ہو۔ اس نے کہا: جی ہاں!۔‘‘ (مسند احمد 22085) ( یہاں ہم نے روایت کو مختصر بیان کیا پیچھے یہی روایت مکمل آئے گی )

دمشق، ملک شام میں واقع ہے، مدینہ سے اس کی مسافت تقریبا 600 کیلو میٹر کی پر ہوگی ۔ اتنی دور جا کر علم حاصل کرنا اور نامساعد حالات میں بہت بڑی بات تھی، اسی لئے ایسے طالب علموں کے لئے یہ خوشخبری سنائی گئی ہے۔ ان لوگوں کی محنتوں ہی سے اسلام کی تاریخ محفوظ ہوئی ، محدثین کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ انہوں نے اسماء الرجال میں پانچ لاکھ لوگوں کی تاریخ اور سیرت کو محفوظ کیا ہے، کسی بھی مذہب کے پیروکاروں نے ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا، اسی لئے ان مذاہب کی حقیقت سوائے داستان کے اور کچھ نہیں ۔ قرآن وسنت ، اسلامی تاریخ اور سیرت کے تحفظ کے لئے یہ قربانیاں آج بھی دی جا رہی ہیں، تا کہ قیامت تک ان ساری چیزوں کا تحفظ ہو سکے۔

لیکن آج کا طالب علم جب گھر سے دور علم حاصل کرنے کے لئے جاتا ہے تو وہ بالکل آزاد اور اوباش ہو جاتا ہے ۔ ماں باپ کی تمناؤوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے، اس لئے امت کو کوئی قابل نوجوان نہیں ملتا جو قوم کی امیدوں کو پورا کر سکے۔

حصول علم کا مقصد

طالب علم کو چاہئے کہ وہ حصول علم کے مقصد کو اپنے پیش نظر ر کھے، حصول علم کا مقصد اپنے آپ کو قابل بنانا ہے اور اس علم کو انسانیت کے حق میں نفع بخش بنانا ہے اور جو کچھ سیکھا ہے، وہ دوسروں کو سکھانا ہے۔ اگر کوئی مسلمان غرور و تکبر اور اترانے اور مقابلہ آرائی کے لئے ، ایک دوسرے کو کم تر و برتر ثابت کرنے کے لئے علم حاصل کرتا ہے تو وہ علم اس کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا، سيدنا کعب بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ طَلَبَ العِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْلِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْيَصْرِف بِهِ وُجُوْهِ النَّاسِ أَدْخَلَ اللهُ النَّارَ»(جامع ترمذی:2654)

’’جو شخص علماء سے مناظرہ ( مقابلہ ومجادلہ ) کرنے کے لئے ، نادانوں کو شبہات میں مبتلاء کرنے کے لئے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے علم حاصل کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔‘‘

کسی بھی شعبہ میں علم حاصل کرنے والے کے لئے یہ نصیحت ہے، چاہے وہ دین کی تعلیم حاصل کرنے والا ہو یا کوئی ڈاکٹر انجینئر بن رہا ہو، یا کوئی سائنٹسٹ بن جائے، ہر کسی کو یہ حدیث پیش نظر رکھنا چاہئے۔ عموماً لوگوں نے علم کی تقسیم کر لیا ہے، دینی علم و دنیوی علم، حالانکہ ہر علم کا آبشار قرآن مجید وسنت رسول ہے، ہر علم امت مسلمہ کے لئے ناگزیر ہے، اس لئے یہ تعلیمات تمام علوم کا احاطہ کرتی ہیں۔

اسی طرح علم حاصل کرنے کا مقصد باطل اور غلط افکار ونظریات پر مبنی نہ ہو جو انسانیت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو یا اقوام وملل کی تہذیب و تمدن و ثقافت کو تباہ و تاراج کر دے، فحش و منکرات اور بے حیائی کے فروغ کا سبب بن جائے ، حلال و حرام کی تمیز کوختم کر دے اور انسانیت کو ایک اللہ کی عبادت سے غافل کر کے بندوں کو بندوں کا غلام بنادے، بت پرستی کا سبب بن جائے ۔ جس طرح آج مغربی دنیا کر رہی ہے، ایسے علم کے لئے جہنم کی خبر سنائی گئی ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ طَلَبَ العِلْمَ لِغَيْرِ اللهِ، أَوْاَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

’’ جس شخص نے غیر اللہ کے لئے علم حاصل کیا ، یا اللہ کے علاوہ غیر اللہ کی رضامندی چاہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :258)

حصول علم کے لئے محنت و جدوجہد:

طالب علم کو چاہئے کہ حصول علم کی راہ میں محنت و جدو جہد جاری رکھے اور پوری لگن اور محنت کے ساتھ علم حاصل کرے، وہ جس مقصد کے لئے بھی علم حاصل کرے، اسے مخلص ہونا چاہئے، کیونکہ مقاصد کی تکمیل انسان کے اختیار میں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے ہر آدمی کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے اور تقدیر کا جاننے والا صرف اللہ ہی ہے، کیونکہ علم کے ذریعہ سے روزی نہیں ملتی ، روزی تو اللہ کے اختیار میں ہے، جس پر چاہے کشادہ کرے اور جس پر چاہے تنگ کرے، لیکن علم انسان کو فضیلت عطا کرتا ہے، علم کے سبب انسان باوقار بن جاتا ہے، علم انسان کو انسان بناتا ہے، علم انسان میں تمیز پیدا کرتا ہے۔ علم حاصل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ طَلَبَ العِلْمَ فَأَدْرَكَهُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ فَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الآخرِ»’’جو شخص علم تلاش کرے اور اسے پالے تو اس کے لئے دوا جر ہیں اور اسے نہ پاسکے تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔‘‘ (سنن دارمی:342)

طالب علم کے لئے بشارتیں

طالب علم کے لئے بڑی خوشخبریاں سنائی گئی ہیں، سيدنا ابوالدرداء بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا:

«مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيْهِ عِلْماً سَلَكَ اللهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الجَنَّة، وَإِنَّ المَلائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَارِ ضَا لِطَالِبِ العِلْمِ، وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِم مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الحِيْتَانَ فِي المَاءِ»

”بیشک جو آدمی علم حاصل کرنے کے لئے کسی راستے میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے اور بے شک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم ( علم حاصل کرنے والے) کے لئے بخشش کی دعائیں کرتی ہیں جتی کے پانی کے اندر مچھلیاں بھی۔‘‘ (مسند احمد: 22058)

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے، حضرت زر بن حبیش بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت صفوان بن عسال کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: کس لئے آئے ہو؟ میں نے کہا: ”علم حاصل کرنے کے لئے“ صفوان نے عرض کیا ، میں رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

«مَا مِنْ خَارِجِ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ العِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ المَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ» (سنن ابن ماجہ : 226)

’’جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لئے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں۔‘‘

حصول علم کے لئے دعا

مسلمان طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ حصول علم کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں، کیونکہ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ کا نور گنہگاروں کو نہیں دیا جاتا ہے، نفع بخش علم اللہ سے طلب کرنا چاہئے، سیدنا انس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اَللَّهُمَّ اِنّى اَعُوْذُبِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَدُعَاءِ لَا يُسْمَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ثُمَّ يَقُوْلُ : اَللَّهُمَّ اِنّى اَعُوْذُبِكَ مِنْ هَؤلَاء الْأرْبَعِ»

’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جس میں (اللہ کا) ڈرنہ ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے ( قبول نہ کی جائے ) اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو۔‘‘ پھر فرماتے ہیں:

”اے اللہ ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘ (سنن نسائی: 5472)

اسی طرح ایک اور دعا بھی سکھائی گئی ہے:

«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلْكَ عِلْمَانَا فِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلاً»(سنن ابن ماجہ :925)

’’اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔‘‘

لیکن ہمارے طالب علموں میں عبادت کا شوق کہاں ہے؟ وہ تو فلم بینی ، ٹک ٹاک، اور واٹس اپ، و نیز عشق و معاشقہ کے غلام بنے ہوئے ہیں، انہیں دعا کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اللہ ہماری نسلوں کو توفیق عطا فرمائے، اللہ ان میں عبادات کا شوق پیدا فرمائے ۔ (آمین)

اضافہ علم کے لئے سوالات کرنا

طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاذ سے اس بات کے بارے میں سوال کرے جو وہ نہیں جانتا، اپنے اس سبق کے بارے میں سوال کرے جو اسے سمجھ میں نہ آتا ہو ،سوال کرنے سے علم بڑھتا ہے اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، ہر استاذ یہی چاہتا ہے کہ طلباء اس سے سوال کریں، لیکن ہمارے طلباء وطالبات سوالات کرنے سے کتراتے ہیں، اکثر طالب علم سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتے، یا تو وہ شرما جاتے ہیں یا تو بے تو جہی برتتے ہیں۔

حضرت سعید بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے فرمایا:

مَالَكُمْ لَا تَسْأَلُونَنَا أَفَلَسْتُمْ

’’تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم ہم سے سوال نہیں کرتے ؟ کیا تم طالب علم نہیں ہو؟ ۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ 26940)

طالب علم اور سادگی:طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ سادگی اور تواضع اختیار کرے،شان و شوکت اور عیش پسندی طالب علم کو غافل بنا دیتی ہے، حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ

رَأَيْتُ سَبْعِيْنَ مِنْ أَهْلِ الصُّفَةِ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءُ، إِمَّا بُرْدَةٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ ، قَدْ رَبَطُوْهَا فِي حنَاقِهِمْ ، فَمِنْهَا مَا يَبلَغُ نِصْفَ السَّاقِ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الكَعْبَيْنِ، فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَبْدُ وَ عَوْرَتُه

’’میں نے صفہ کے ستر طالب علموں کو دیکھا ، ان میں سے کسی کے پاس بھی چادر نہ تھی، سوائے دھاری دار چادر کے، یا موٹے کمبل کے اور اس کو انہوں نے اپنی گردنوں میں باندھا ہوتا، ان میں سے کچھ کے ٹخنوں تک، وہ کپڑے کو اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھا کر لیتے تا کہ ستر نہ کھل جائے۔‘‘ (سنن کبریٰ للبیہقی : 3303)

لیکن موجودہ زمانے کے طالب علم صرف عیش پسندی، گاڑی، بیک، کار، قیمتی کپڑے، ہوٹل بازی ، پارٹی بازی، دولت کا اسراف، فلم بینی ، میں پڑے ہوئے ہیں اسی لئے تعلیم کے میدان میں پیچھے نظر آتے ہیں۔ انکی دلچسپی حصول علم میں کم نظر آتی ہے۔

استاذ کا ادب

طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کا ادب واحترام کرے، جب تک وہ اساتذہ کا ادب و اکرام نہ کریں گے، انہیں علم حاصل نہیں ہوگا کیونکہ استاذ روحانی والد کا مقام رکھتا ہے، حضرت موسیٰ کو جب اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر سے علم سیکھنے کا حکم دیا تو وہ خضر کو تلاش کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت ہی اکرام وادب سے عرض کیا:

﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْداً﴾

’’ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں یا آپ کے پیچھے پیچھے چل سکتا ہوں تا کہ آپ مجھے اس علم و دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔‘‘ (سورۃ الکہف:66)

امام ذہبی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں:

’’جب عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ حدیث کا سبق پڑھاتے رہے ہوتے تو ان کے شاگرد اور طلباء ایسے بیٹھے ہوتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں یا جیسے وہ نماز میں مشغول ہوں، اسی طرح احمد بن سنا رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن مہدی کی مجلس میں لوگ اس قدر انہماک سے بیٹھے ہوتے کہ نہ کوئی مسکراتا ، نہ کوئی کھڑا ہو تا حتی کہ کوئی قلم کی بھی آواز پیدا نہ ہونے دیتا اور اس طرح سبق کی طرف متوجہ ہوتے کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں اور اگر کسی کو مسکراتا یا بات کرتا دیکھ لیتے تو جوتا پہنتے اور مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے۔‘‘ (السیر : 201۔202)

محمد بن محمد الخادی استاذ کے ادب و احترام کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ

’’میری رائے میں استاذ کا حق تمام حقوق سے بڑھ کر ہے اور اس کا پاس ولحاظ رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيْرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيْرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا» (صحیح الترغيب : 101)

’’وہ شخص میرا امتی ہی نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے اور عالم کا حق نہ پہچانے۔‘‘

لیکن آج کے طالب علموں میں استاذ کا ادب کہاں؟ استاذ کا مذاق اڑانا، جماعتوں میں ہنسی مذاق، اساتذہ کو برے القاب سے پکارنا ، اساتذہ کو مارنا، گویا طلباء اساتذہ کونوکر و غلام سمجھتے ہیں، آج کل تو طلباء کی ایک بری عادت یہ ہو چکی ہے کہ اگر کوئی استاذ کسی طالب علم کو سزا دے تو وہ اس استاذ کے خلاف گروپ بنا کر سڑکوں پر پٹائی کرتے ہیں، کیا اس طرز عمل سے علم حاصل ہو گا ؟ مسلمان طالب علم کو چاہئے کہ وہ اپنے اساتذہ کی عزت واحترام کرے کیونکہ ہمارے نبیﷺ نے اس کی تعلیم ہمیں دی ہے۔

وقت کی پابندی

طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اوقات کا پاس ولحاظ رکھے وقت کو ضائع نہ کرے، بلکہ صبح سویرے نیند سے بیدار ہو اور اپنے اسباق کو یاد کرے، اگر طالب علم وقت کی قدر نہیں کرے گا تو وقت بھی اس کی قدر نہیں کرے گا ، امام شعبہ رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ ’’ آپ نے کیسے علم حاصل کیا؟ ‘‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ

” بِنَفْي الاعْتِمَادَ، وَالسَّيْرُ فِي البَلادِ، وَصَبْرٌ كَصَبْرِ الحِمَارِ ، وَبُكُوْر كَبُكُوْرِ الغُرَاب”

’’ خود پر اعتماد نہ کرنے، مختلف شہروں کا سفر کرنے ، گدھے کے صبر کی طرح صبر کرنے ، اور کوے کی طرح صبح سویرے جاگنے سے۔‘‘ (الرحلۃ فی طلب الحديث : 196)

ہمارے طالب علم بالکل الٹے ہیں وہ رات بھر جاگتے ہیں اور عین اسکول کے وقت اٹھتے ہیں، نہ ہوم ورک پورا کرتے ہیں اور نہ سبق کی یاد دہانی مکمل ہوتی ہے، کوئی ٹائم ٹیبل ان کے پاس نہیں ہے اور نہ والدین اس جانب توجہ دیتے ہیں، دعوتوں اور ناچ گانوں کے شوق نے انہیں تعلیم سے غافل کر دیا ہے، جس کے سبب عین امتحانات کے وقت پریشان حال نظر آتے ہیں ، چیٹنگ کا سہارا لیتے ہیں اور بدنام ہو جاتے ہیں۔

حضرت عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک بڑے اور عظیم محدث وفقیہ گزرے ہیں جن کے متعلق ان کی سیرت میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا اور اپنے اس منقسم وقت کے ساتھ وہ انصاف کرتے تھے اسے ضائع نہیں کرتے تھے، بالآخر مکہ کے فقیہ ہوئے جن کے علم و اجتہاد پر حضرت عبد اللہ بن عمر بھی فخر کرتے تھے۔

آخیر میں مسلم مینجمنٹ کے مدارس ، اسکولز، اور کالجز و جامعات کے ذمہ داران سے گزارش کرتے ہیں کہ ہماری نسلوں کی اخلاقی تربیت کے لئے اپنے علماء، ائمہ، مشائخین کوکم از کم ہفتہ واری سطح پر مدعوکریں اور ان کی تقاریر ، وعظ ولکچرز منعقد کریں اور بچوں کو آداب اسلامی، اخلاقیات کی تعلیم و تربیت دیں شاید کہ کچھ اصلاح ہو جائے ، جہاں کلچرل پر گرومز رکھے جاتے ہیں، ناچ گانے کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں، جو کسی بھی طرح مسلم مینجمنٹ کے لئے سزاوار نہیں، لیکن اپنی نسلوں کے مستقبل کے لئے یہ کام ضرور کریں۔ یہ نہ سمجھیں کہ اسکول ہماری تجارت ہے، بلکہ یہ جان لیں کہ جن مسلم بچوں کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے، اللہ اس کے متعلق سوال کرنے والا ہے ، وہاں ہم سوال سے نہیں بچ سکتے ، جہاں تک بچوں کے اخلاق بگاڑ کا سوال ہے، اس کے ذمہ دار کسی حد تک اسکول و مدارس بھی ہیں جو اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے طالب علموں کو شعور عطا فرمائے ، ہماری نسلوں کو علم کی بلندیوں پر فائز فرمائے ۔ (آمین)

نعت

اب اپنے لیے بیش نہ کم آپؐ کے ہوتے

دیکھیں گے کسی اور نہ ہم آپ کے ہوتے

گزرے نہ قیامت میں قیامت کوئی ہم پر

ٹوٹے نہ کہیں اپنا بھرم آپ کے ہوتے

ہم اور فقیروں کو بھلا شاہ کہیں گے!

اے شاہِ امم شاہِ امم آپ کے ہوتے!

ہم سے کبھی ہو گی نہیں تقلید کسی کی

سر ہو گا کہیں اور نہ خم آپ کے ہوتے

گردن میں کوئی طوقِ غلامی نہیں رکھتے

ہم آپ کے سرتابہ قدم آپ کے ہوتے

ہیں آپ اگر ساتھ تو پھر ساتھ ہے سب کچھ

کیا چیز ہیں کیخسرو وجم آپ کے ہوتے

کہتے ہیں سکینت جسے حاصل ہے دلوں کو

آنکھیں کبھی ہوتی نہیں نم آپ کے ہوتے

اپنے لیے بے فیض ہے کوفی ہو کہ صوفی

آنکھوں میں عرب ہے نہ عجم آپ کے ہوتے

ہم خیر نہ لکھیں گے کسی کا بھی قصیدہ

ہو گا نہ سبک سار قلم آپ کے ہوتے

ڈاکٹر رؤف خیر، حیدر آباد، دکن

٭٭٭

ڈڈلی کے عبد العزیز قریشی کو صدمہ

ڈڈلی کے معروف مستری جناب عبد العزیز قریشی کی اہلیہ 48 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحومہ پابند شرع موحدہ تھیں۔ جناب عبد الشکور قریشی مستری کی چھوٹی ہمشیرہ تھیں۔ جامع مسجد کوئنس کراس ڈڈلی میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور قریبی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ نماز جنازہ سے قبل مولانا حبیب اللہ اثری نے موت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ہم سب پر آنے والا ہے، لہٰذا ہم اپنی قبر اور حشر کی تیاری کر لیں۔ پسماندگان میں 4 بیٹیاں سوگوار ہیں، جنازہ میں عبد الباسط بلیک برن، حاجی ذوالفقار قریشی، جناب محمد عمر، جناب عابد جنجوعہ اور بہت سے اقرباء و احباب شریک تھے، چوہدری عبد الرشید اور ان کے بچوں نے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دعا ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ بچوں اور اقرباء کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

٭٭٭

برمنگھم کے راجہ محمد صدیق بھی رمضان میں چل بسے

موزلے برمنگھم کے رہائشی راجہ محمد صدیق الیکٹریشن 80 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم برمنگھم کی بزرگ شخصیت حاجی عبد اللطیف جنجوعہ کے داماد تھے اور بڑے ہی شریف النفس اور لوگوں کی مدد کرنے والے انسان تھے، اللہ نے چار بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی ہوئی تھی۔ عبد الجلیل، عبد المحب، عبد النقیب، عبد الحلیم، عبد الرقیب، عبد الوحید نبیل شبیر، محمد عمر، عابد جنجوعہ، آصف زرگر، شعیب ساگر، اسرار احمد، تبریز طارق، ثاقب شبیر، مولانا ابراہیم میرپوری اور بہت سے احباب واقرباء نماز جنازہ میں شریک تھے، بہت سے احباب نے ان کے بچوں سے اظہار تعزیت کیا۔ دعا ہے کہ رب کریم مرحوم کوجنت الفردوس میں داخلہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

تبصرہ کریں