صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیاء اللہ کی کرامتیں (قسط18)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

اصحاب کہف کے نوجوانوں کی کرامت

﴿نَّحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ ﴾

ہم ان کا صحیح واقعہ آپ کے سامنے بیان فرما رہے ہیں ، یہ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی ، ہم نے ان کے دل مضبوط کر دئیے تھے جب کہ یہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان و زمین کا پروردگار ہے۔ ناممکن ہے کے ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو پکاریں۔ (سورۃ الکہف: آیت نمبر 13۔14)

یہ نوجوان حضرت عیسیٰ کے زمانے میں تھے یا ان سے پہلے ایک بادشاہ کے زمانہ میں تھے، جس کا نام دقیانوس تھا، انہوں نے ایمان بچانے اور مشرک بادشاہ اور مشرک لوگوں سے بچنے کے لئے ایک پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔ اللہ پاک نے 309 سال تک سلا دیا اور جب وہ بازار سے کچھ خریدنے کے لئے بستی میں گئے تو لوگوں کو پتہ چلا کہ ان کے پاس تین سو سال پرانے سکے ہیں پھر ان مشرک لوگوں کے ڈر سے وہ واپس اپنے غار میں آگئے جہاں پر وہ 309 سال سوگئے تھے اور وہی غار ان کے لئے قبرستان بن گیا۔ عام طور پر ہم بوڑھے اور بزرگ آدمیوں کو ولی سمجھتے ہیں، نوجوانوں کو نہیں ! اس واقعے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :

﴿إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى﴾

یعنی وہ نوجوانوں کی ایک جماعت تھی، کچھ لوگوں نے کہا کہ اصحاب کہف تین تھے اور چو تھا ان کا کتا تھا، کچھ لوگوں نے کہا کہ اصحاب کہف چار تھے اور پانچواں ان کا کتا تھا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ اصحاب کہف پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا اور کچھ کہیں گے کہ اصحاب کہف سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا ۔ (سورة الكہف :22)

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صحیح تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور تھوڑے سے آدمی جانتے ہیں۔ (سورة الكہف :22 )

سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا کے ان تھوڑے جاننے والوں میں میں بھی شامل ہوں ۔ اصحاب کہف سات ہی تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ (ابن جریر )

ممکن ہے اصحاب کہف کی شریعت میں اپنی حفاظت کے لئے کتاپالنے کی اجازت ہو، جیسا کہ امت محمدیہ میں بھی کھیت ومکان کی حفاظت کے لئے کتا پال سکتے ہیں، مگر اسے گھرکے اندر نہیں رکھنا چاہیے، گھرکے اندر رکھیں تو روزانہ ایک قیراط ثواب کم ہوگا ۔

نیکوں کی صحبت اپنانے اور بروں کی صحبت سے بچنے کے لئے شیخ سعدی نے کہا:

پسرے نوح با بداں بنشت خاندان نبوتش گم شد

سگے اصحاب کہف روزے چند، پئے نیکاں گرفت مردم شد

سیدنا نوح کے بیٹے نے بروں کی صحبت اختیار کی اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، اصحاب کہف کا کتا چند روز نیک لوگوں کے ساتھ رہا اور انسان بن گیا ، نیک لوگوں کے ساتھ کتے کا ذکر ہو گیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتے کو بھی ان اللہ کے ولیوں کے ساتھ کردیا ، 309سال ان اولیاء اللہ کے ساتھ ان کا کتا بھی سوتا رہا اور مشرک بادشاہ اور مشرک لوگوں کے ڈر سے دوبارہ اسی غار میں داخل ہوئے اور سوگئے ۔

سورہ کہف کی آیت 9 سے 26 تک ان نوجوانوں کا ذکر خیر ہے ۔

حضرت خضر کی کرامت

حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ میں نے رحمت عالم ﷺسے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے کہ ایک دفعہ سیدنا موسیٰ اسرائیلوں میں کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے ، آپ سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑے عالم کون ہیں ؟ فرمایا :

میں ہوں، تو سیدنا موسیٰ کو یہ جواب دینا تھا۔ اللہ اعلم بالصواب ’’اللہ بہتر جانتا ہے ، اس لیے آپ پر اللہ کا عتاب نازل ہوا، اللہ نے وحی بھیجی کے دریاؤں کے سنگم پر میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے، بولے اے رب! میں کیسے ان سے ملاقات کروں؟ فرمایا: تو شے دان میں مچھلی رکھ لو، پھر تم جہاں اس مچھلی کو گم پاؤ گے وہیں وہ ملیں گے،آخر کار حضرت موسیٰ نے مچھلی توشہ دان میں رکھ کر پوشع کو لے کر چل پڑے ، جب ایک چٹان کے پاس آئے تو وہاں سوگئے ، توشہ دان میں حرکت ہوئی اور مچھلی وہاں سے نکل کر دریا میں کود پڑی اور دریا میں ایک سوراخ سا بن گیا ۔ پانی وہاں ملا نہیں ،بلکہ جم گیا تاکہ معلوم ہو کہ یہاں کوئی چیز گئی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ بیدار ہوئے تو یوشع نے یہ واقعہ سیدنا موسیٰ کو بتانا بھول گئے، پھر یہ دونوں چلتے ہے، جتنا دن باقی تھا، چلتے رہے پھر رات بھر چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو سیدنا موسیٰ کو یوشع نے اپنا بھولا ہوا واقعہ سنایا کہ مچھلی تو بڑے انوکھے انداز میں پانی میں راہ بنا گئی، اور یوشع کو بڑا تعجب ہوا۔پھر دونوں اپنی چھوڑی ہوئی منزل کی طرف لوٹے تو انہوں نے حضرت خضر سے ملاقات کی اور اپنے آنے کی غرض وغایت بیان کی۔ حضرت خضر نے کہا کہ تم صبر نہیں کر سکو گے، موسیٰ نے کہا: ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے، چنانچہ وہ سمندر کے کنارے چلتے رہے، اتنے میں ایک کشتی گزری، کشتی والوں سے کہا گیا کہ تم ہمیں سوار کر لو، چنانچہ وہ سیدنا خضر کو پہچان گئے اور بغیر اجرت کے ان کو سوار کر لیا ، تھوڑی دور جانے کے بعد حضرت خضر ان کی کشتی کے ایک حصہ کو توڑ دیا ۔ حضرت موسیٰ بول پڑے کہ کشتی والے جو بغیر اجرت کے ہمیں کشتی میں بٹھایا ہے، تم نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کے ان کی کشتی کو بگاڑ دیا ۔

حضرت خضر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کے تم صبر کرنا اور میرے بتانے سے پہلے اعتراض نہیں کرنا، سیدنا موسیٰ نے وعدہ کیا کہ آئندہ نہیں کروں گا، ساحل پر اتر کر جانے لگے تو وہاں بچے کھیل رہے تھے، سیدنا خضر نے ایک بچہ کو مار دیا ، تو حضرت موسیٰ نے کہا کہ ایک معصوم بچے کو ناحق تم نے مار دیا ہے؟ حضرت خضر نے کہا کے میں نے کہا تھا کہ تم اس وقت تک صبر کرنا جب تک کہ میں خود تمہیں بتا نہ دوں، حضرت موسیٰ نے دوسری مرتبہ معذرت چاہی اور وعدہ کیا ، آئنده میں اعتراض نہیں کروں گا، آگے گئے تو ایک علاقے میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں نے ان لوگوں کی ضیافت نہیں کی اور نہ انہیں کوئی مہمان رکھا، حضرت خضر نے دیکھا کے اس علاقہ میں ایک دیوار گرنے کے قریب تھی۔

حضرت خضر نے ہاتھ کے اشارہ سے اُسے سیدھی کر دیا ، حضرت موسیٰ نے کہا کہ ایسے لوگ جنہوں نے ہمیں کھانا نہیں کھلایا تم نے ان کی دیوار مرمت کردی؟ حضرت خضر نے کہ اب تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ہو، اس اس لئے میں تمہیں اور اپنا علم سکھا نہیں سکتا اور جو کچھ تم نے دیکھا ہے، میں اس کی حقیقت بتاتا ہوں ۔چنانچہ حضرت خضر نے ان تینوں کاموں کے تعلق سے بتا دیا کہ جس پر حضرت موسیٰ نے صبر نہیں کیا تھا اور فوراً حضرت خضر پر اعتراض کر دیا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کاش موسیٰ نے صبرکیا ہوتا ، تاکہ اللہ اور بھی واقعات ہم پر منکشف فرما دیتا۔ (صحیح بخاری)

سورۃ الکہف آیت 60 سے 82 تک کی آیات میں واقعہ ذکر کیا گیا ہے ! آپ نے خضر کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو خضر اس لیے کہا گیا کہ وہ ایک دفعہ خشک گھاس پر بیٹھ گئے تھے، اتنے میں آپ کے نیچے سبز گھاس لہلانے لگی۔ (صحیح بخاری)

مذکورہ بالا تینوں کاموں کی مصلحتوں کو خضر نے حضرت موسیٰ سے بیان کر دیا۔

1۔ کشتی کا کچھ حصہ توڑنے کو حضرت موسیٰ نے برا کام سمجھا اور انہیں ٹوکا دراصل اس کی وجہ یہی تھی کے یہ غریب لوگوں کی کشتی تھی اور آگے ایک ظالم و جابر بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو غصب کر لیا کرتا تھا، ٹوٹی ہوئی کشتی کو وہ چھوڑ دیتا تھا، ان مسکینوں کی کشتی کو بھی اس نے چھوڑ دیا ۔

2۔ جو بچہ حضرت خضر نے قتل کیا تھا اس کی گھٹی میں کفر تھا۔ ( ابن جریر) قریب تھا کہ یہ حسین وجمیل بچہ ماں باپ کو کفر کی طرف مائل نہ کر دے ، چنانچہ اس بچے کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک نیک و صالحہ بچی عطا فرمائی، جب بچے کو قتل کیا گیا تو اسکی ماں کے پیٹ میں مسلمان بچی کا حمل تھا۔ (ابن جریج)

3۔ تیسرا واقعہ ایک بخیل اور کنجوس لوگوں کی بستی تھی، جہاں پر ان لوگوں کو کھانا نہیں دیا گیا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو وہ بخیل اور کنجوس لوگ یتیم کا خرانہ لوٹ لیتے اس لئے اللہ کے حکم سے حضرت خضر نے اس دیوار کو سیدھی کر دیا تا کہ وہ بڑے ہو کر اس دیوار سے خزانہ نکال لیں ۔ اللہ نیک لوگوں کی اولاد کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں ضائع نہیں کرتا ہے ۔

٭٭٭

جمعیۃ اہلحدیث ڈڈلی کے چوہدری محمد یوسف وفات پا گئے

ڈربی کی کاروباری شخصیت اور مولانا محمود میرپوری کے دوست 90 سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

برطانیہ بھر سے علمائے کرام اور احباب واقارب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر نماز جنازہ سے قبل مولانا منیر قاسم، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولاناعبد الستار عاصم اور مولانا شفیق الرحمٰن شاہین نے چوہدری محمد یوسف کی خوبیاں بیان کیں۔

مولانا عبد الہادی العمری نے نماز جنازہ پڑھائی، پسماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں سوگوار ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ کریم اس قدیم جماعتی بزرگ کو جنت الفردوس میں داخلہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

٭٭٭

ابوبکرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: ”زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1947)

تبصرہ کریں