فوت شدہ نمازوں کے متعلق
حدیث نمبر: 111
عَنْ أنس بن مالك رضي الله عَنْه قال : قال رسول اللَّه ﷺ : «مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إذَا ذَكَرهَا، لا كَفَّارَةَ لَهَا إلاَّ ذَلِكَ، وتَلاَ قوله تعالى : ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾». ولمسلمٍ «مَنْ نَسِيَ صَلاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إذَا ذَكَرَهَا».
رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها، ولا يعيد إلا تلك الصلاة، برقم 597، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب قضاء الصلاة الفائتة، واستحباب تعجيل قضائها، واللفظ له، برقم 684.
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو اسے جب یاد آئے پڑھ لے یہی اسکا کفارہ ہے اور یہ آیت تلاوت کی “وَاَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِیْ” کہ میری یاد کے لیے نماَز قائم کر اور مسلم شریف کی روایت ہے جس نے نماز نہیں پڑھی یا وہ اسے پڑھے بغیر سو گیا تو اسکا کفارہ یہ ہے کہ اسے جب یاد آئے پڑھ لے۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – مَنْ نَّسِیَ : جو بھول گیا۔
2 – فَلْيُصَلِّهَا : تو چاہئےکہ وہ اسے پڑھ لے ۔
3 – اِذَا ذَكَرَهَا : جب وہ اسے یاد آ جائے ۔
4 – نَامَ : وہ سو گیا ۔
5 – كَفَّارَتُهَا : اسکا کفارہ ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔بھولنے یا سو جانے کی وجہ سے اگر نماز رہ جائے اور اسکا وقت ختم ہو جائے تو یاد آنے پر اس نماز کی قضاء واجب ہے۔ اور ایسے شخص پر وقت پر نہ پڑھنے کا کوئی گناہ نہیں ( بشرطیکہ جان بوجھ کر نہ ہو ) کیونکہ سونے والا یا بھولنے والا شرعی احکام کا مکلف نہیں ہے۔
2۔اس میں نماز کی اہمیت کا علم ہوتا کہ نماز کا فریضہ ہر صورت ادا کرنا ہے بغیر شرعی عذر کے اس کو چھوڑا نہیں جاسکتا ہے۔ اگر رہ جاۓ اور اس نماز کا وقت ختم ہوجاۓ تو تب بھی اس کا پڑھنا فرض ہے ایسی صورت میں اس ادائیگی کو قضا کہتے ہیں اور وقت پر پڑھنے کو ادا کہتے ہیں۔ شرعی عذر کی وجہ سے ایک نماز یا ایک دن کی نمازیں قضا پڑھنے کی سنت میں دلیل موجود ہے البتہ قضا عمری بدعات میں سے ہے۔ اگر کئی دنوں یا مہینوں یا سالوں کی نمازیں رہ گئی ہوں تو ان کے لیے صرف توبہ ہے اور آئندہ نماز کا اہتمام کرنا لازم ہے۔ واللہ اعلم ۔
3۔یاد آتے ہی فورا نماز کی ادائیگی ضروری ہے اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے ایسی نماز ممنوع و مکروہ اوقات میں بھی پڑھی جاۓ گی۔
4۔ شرعی عذر کی وجہ سے فوت شدہ نماز کا کوئی اور مالی یا بدنی جرمانہ وغیرہ نہیں سوائے اس کہ وہی نماز ادا کرے جو رہ گئی ہے۔
5۔ہر نماز کا وقت مقررہ ہے اسی میں اس کو پڑھنا ضروری ہے البتہ شرعی عذر کی بنا پر دو نمازوں کو ایک کے وقت میں ادا کرنا جائز ہے جیسے سفر یا بارش وغیرہ میں۔ یا شرعی عذر کی وجہ سے فوت شدہ نماز/ نمازوں کی ادائیگی ان کے اوقات مقررہ کے علاوہ بھی جائز ہے۔
6۔بھول یا سونے کی وجہ سے نماز رہ جانے کی صورت میں صرف وہی نماز پڑھنے کا حکم ہے ایسا نہیں ہے کہ اگلے دن اس نماز کو اس کے اپنے وقت میں دوبارہ پڑھے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنا
حدیث نمبر: 112
عَنْ جابر بن عبد اللَّه رضي الله عَنْه : «أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رضي الله عَنْه كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ العِشَاءَ الآخِرَةِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاةَ».
رواه البخاري، كتاب الأدب، باب من لم يرَ إكفار من قال ذلك متأولاً أو جاهلاً، برقم 6106، ومختصراً في كتاب الأذان، باب إذا طول الإمام، وكان للرجل حاجة فخرج فصلى، برقم 700، ومسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة في العشاء، برقم 80- (465)، واللفظ له.
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے پھر اپنی قوم کی طرف لوٹتے پھر انہیں یہ نماز پڑھاتے۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – يُصَلِّیْ : وہ نماز پڑھتا ہے یا پڑھے گا ۔
2 – العِشَاءُ الْآخِرَةُ : عشاء۔
3 – يَرْجِعُ : وہ واپس لوٹتا ہے یا لوٹے گا ۔
4 – تِلْكَ الصَّلَاةَ : وہی نماز۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔نوافل ادا کرنے والے کی امامت میں فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
2۔فرض ادا کرنے والے کی اقتداء میں نفلی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
3۔فرض نماز کا اعادہ جائز ہے جبکہ مصلحت اس کی متقاضی ہو مثلاً ایک شخص نے اکیلے نماز پڑھی پھر مسجد میں داخل ہوا جماعت ہو رہی ہو تو وہ بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائے۔ یا جماعت سے پڑھی لیکن دوسری مسجد میں گیا جہاں وہی فرض نماز پڑھ رہے ہیں یہ ان کے ساتھ بھی پڑھ سکتا ہے۔
4۔اسی طرح اگر امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہو تو جس نے ابھی تک ظہر کی نماز نہیں پڑھی ہے وہ امام کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی عصر پڑھے۔
٭٭٭
زندگی اور موت
زندگانی خدا کی نعمت ہے
اس کے ہر پل کی قدر و قیمت ہے
وہ جو گزری سو ایک حسرت ہے
کوئی دم ہے تو اک غنیمت ہے
اک تماشا ہے دیکھنے میں مگر
اس کو سمجھو تو ایک عبرت ہے
کچھ بھی اپنا نہیں کسی کا یہاں
دینے والے کی اک امانت ہے
حق اسی کا ہے مال ہو جس کا
یہ ازل سے اُصولِ فطرت ہے
جب بھی چاہے وہ دے کے لے لے اسے
دینے والے کی بادشاہت ہے
آنکھ کھلتی ہے موت آنے پر
زندگی ایک خواب غفلت ہے
سب ہی پیتے ہیں ، سب کو پیٹا ہے
زندگی پیاس ، موت شربت ہے
رب کے منکر کو بھی یقیں اس پر
موت ایسی اٹل حقیقت ہے
کیا ہی چپ چاپ اس کا نقارہ
کتنی خاموش اس کی ضربت ہے
موت ہے اک مہین سا پردہ
ہے ادھر زیست، اُدھر قیامت ہے
گو نہیں ہے یہ اختتام حیات
پھر بھی اس کی دلوں پہ ہیبت ہے
موت رہتی ہے اس کے ساتھ سدا
دل کی دھڑکن سے اس کی قربت ہے
مرنے والے بھی بات کرتے ہیں
یہ فسانہ نہیں حقیقت ہے
جینے والے اگر نہیں سنتے
ان کی کوتاہی سماعت ہے
مرنے والوں کی خامشی پہ نہ جا
خامشی میں عجب بلاغت ہے
اہلِ مرقد کا سُن پیام ذرا!
رشكِ لقمان اس میں حکمت ہے
کہہ رہے ہیں زبانِ حال سے وہ
موت منزل نہیں ، مسافت ہے
کوئی سمجھا نہ جیتے جی اس کو
اک معما ہے ، اک بجھارت ہے
موت عقدہ نہیں ہے اے غافل
یہ تو عقدہ کشائے فطرت ہے
خاک میں خاک ہو گئے مُردے
زنده واعظ ہر ایک تربت ہے
موت سب سے بڑا ہے درس حیات
موت سب سے بڑی نصیحت ہے
خواجہ محمد عارف برمنگھم
٭٭٭
عشرہ ذی الحجہ میں مستحب اعمال
کثرت سے تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کہنا
اس عشرہ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی، بڑائی اور حمد و ثناء بکثرت کرنی چاہئے۔ اس بارے میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾ (سورۃ الحج : 28)
اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں۔ یہاں ایامِ معلومات سے مراد ماہِ ذو الحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: «مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللہِ وَلَا أَحَبُّ اِلَیْهِ مِنَ الْعَمَلِ فِیْهِنَّ مِنْ هَذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ، فَأَکْثِرُوْا فِیْهِنَّ مِنَ التَّهْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ» (صححه أحمد شاكر في المسند، 5446 ، وشعیب أرناؤوط : 6154)
ذو الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر كوئی دن ایسے نہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دنوں كی بہ نسبت زیادہ عظمت والے ہوں اور ان میں کیے گئے نیک عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہو۔ پس ان ایام میں بہت زیادہ لا الہ الا الله ، الله اكبر اور الحمد لله پڑھا کرو۔
تبصرہ کریں