
دنیا میں ہر روز مختلف قسم کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں، ان حادثات سے لوگ عموماً سرسری طور پر گزر جاتے ہیں اور کبھی بعض کے متعلق کچھ معلومات خبر کی حیثیت سے حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں،حالا نکہ ان میں غوروفکر کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں، اگر کوئی تھوڑا بھی غور کرے تو سبق آموز اور عبرت کی بہت سی باتیں ہوتی ہیں اور مؤمنانہ اسلوب یہ ہے کہ اردگر کے حالات پر غور کرے ، اس وسیع کائنات میں پھیلی بہت سی نشانیاں معرفت الٰہی کا ذریعہ ہی ہیں :
﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ﴾ (سورۃ الحجر: 75)
’’ گہری نظر سے جائزہ لینے اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ اور ان نشانیوں کو دیکھ کر ایک مؤمن کی زبان سے نکلتا ہے:
﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورۃ آل عمران: 191)
’’بار الہا تو نے یہ چیزیں بے سبب نہیں بنائی، تیری ذات بہت بلند اور پاکیزہ ہے ، ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔‘‘
چند روز قبل اسی ماہ ائیرانڈیا کا ایک جہاز 171 بوئنگ احمد آباد سے اپنی اڑان بھرنے کے چند سکینڈ کے اندر تباہ ہو گیا، جہاز میں سوار مسافر اور عملہ کے جملہ 242 افراد ایک منٹ کے اندر اندر ایسے لقمہ اجل بن گئے کہ جھلسی ہوئی نعشوں کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی، ان میں صرف ایک مسافر اس المناک حادثہ میں معجزاتی طور پر زندہ بچ سکا، جہاز میں سوار مرنے والوں کے علاوہ کچھ لوگ گھروں میں بیٹھے معمولات زندگی میں مصروف تھے، ان میں سے تقریبا 30 افراد اس ناگہانی آفت کا شکار ہو گئے ، ان مرنے والوں میں عملہ کے وہ افراد بھی شامل تھے جو جہاز کے حرکت کرتے ہی مسافروں کے سامنے کھڑے ہو کر کچھ ہدایات دیتے ہیں کہ اگر ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے تو بچاؤ کی کیا تدبیریں اختیار کرنی چاہیے، ایمر جنسی حالات میں نقصانات سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور تو اور ان میں سے بھی کوئی محفوظ نہیں رہ سکا، مسافروں کو بچاؤ کے طریقے بتانے والے تربیت یافتہ لوگ خود اپنی جان بھی نہ بچا سکے ۔ ان مرنے والے میں ہر شخص کی اپنی ایک کہانی ہے۔
اس حادثہ کے اسباب کا پتہ لگانے کے لیے ماہرین کی مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہیں، جو مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی اپنی رپوٹیں متعلقین کو پیش کریں گی ، گو کہ درست اسباب کی منصفانہ نشاندہی مشکل ہے کیونکہ اس کے ساتھ کئی ممالک اور کمپنیوں کے اپنے اپنے مفادات وابستہ ہیں، تاہم یہ تحقیق و تفتیش کا مادی اسلوب ہے، اس کا ایک مؤمنانہ اسلوب بھی ہے، غور کرنے والوں کے لیے، اس میں عبرت اور سبق کے متعدد پہلو ہیں:
﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ﴾ (سورۃ النور: 44)
’’ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ۔‘‘
قرآن مجید میں بہت سی قوموں کا ذکر کیا گیا کہ انہیں اپنی قوت اور ترقی پربڑا ناز تھا، اسی نشہ میں انہوں نے طاقتوروں کو پیدا کرنے والے مالک حقیقی کو فراموش کیا ، اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کا انکار کیا اور اس کی تعلیمات سے روگردانی کی اور پھر ان مغرور قوموں کا انجام تباہی کی شکل میں سامنے آیا ۔
﴿فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ﴾(سورۃ العنكبوت: 40)
مختلف سرکش قوموں کا ذکر کر کے کہا کہ ہر ایک کو اس کے جرم کی پاداش میں گرفت میں لے لیا گیا ۔
جہاز کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کتنی عارضی ہے ، موت کا وقت اور جگہ کا تعین رب العالمین کی جانب سے طئے کیا جا چکا ہے۔وقت مقررہ سے سرمو تجاوز ممکن نہیں ، چاہے کوئی ہوائی جہاز میں سفر کر رہا ہو یا اپنے گھر میں آرام کر رہا ہو، یا اپنے مستقبل کے سہانے خواب سجائے میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں ظہرانہ سے لطف اندوز ہو رہا ہو۔. جن کی موت کا وقت نہیں آیا تھا فرشتوں نے انہیں جہاز میں سوار ہونے سے دور کر دیا ، حالانکہ اسی جہاز میں انہوں نے اپنی سیٹ بک کروائی ہوئی تھی، بروقت ائیر پورٹ پہنچنے کا اہتمام کر رکھا تھا کیونکہ انٹرنیشنل جہاز کے مسافروں کو پیشگی طور پر یہ ہدایات دی جاتی ہیں، لیکن ائیر پورٹ تک کا راستہ ان کے لیے معمول سے زیادہ طویل ہو گیا کہ پہنچتے پہنچتے اتنی دیر ہوگئی کہ انہیں جہاز میں سوار ہونے کا موقع نہیں دیا گیا، اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کی سیٹ بک نہیں تھی، وہ جستجو کر رہے تھے کہ کسی طرح سیٹ مل جائے ، تاخیر سے پہنچنے والوں کی سیٹیں ان منتظرین کو دے دی گئیں ۔ گویا جن کی سیٹیں پہلے سے بک تھیں ان کی موت کا وقت نہیں آیا تھا انہیں پیچھے کر کے ان لوگوں کو آگے بڑھا دیا گیا جن کی موت کا وقت آپہنچا تھا ، ریزرویشن کے باوجود جنہیں سوار ہونے کا موقع نہیں ملا، ان کے چہرے لٹک گئے وہ کبھی اپنی قسمت کو کوستے عملہ سے الجھ پڑتےاور جنہیں سوار ہونے کا موقع ملا وہ اپنی قسمت پر نازاں اور پرسکون تھے کہ ہمیں جگہ مل گئی ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ﴿ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ (سورۃ یاسین: 38)
’’یہ ہے فیصلہ اللہ کا جو ز بر دست اور جاننے والا ہے۔‘‘ اور جب اس حادثہ کی اطلاع ملی تو لوگ حواس باختہ ہو گئے کہ کائنات کا کوئی پروردگار ہے جس کے قبضہ قدرت میں حقیقی کنٹرول ہے، کوئی تو ہے جو اس کارخانہ زندگی کا نظام چلا رہا ہے، اس حادثہ میں کچھ ایسے لوگ بھی مرے جو اس جہاز میں سوار ہی نہیں تھے ، وہ اپنے گھروں میں روز مرہ کے معمولات میں مصروف تھے کہ ان پر جہاز آگرا ، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شعلوں کی زد میں آگئے ، اس سے معلوم ہوا کہ موت کا تعلق وقت مقررہ کے ساتھ ہے ، جب بھی مقررہ وقت آجائے، وہیں انسان کو دبوچ لیا جاتا ہے:
﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ (سورۃ النحل: 61)
’’جب کبھی ان کی اجل آجائے پھر لمحہ برابر آگے پیچھے ہونے کی مہلت نہیں دی جاتی۔‘‘ اور اس اجل کو پردۂ غیب میں رکھا گیا ہے، سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے کوئی اس سے باخبر نہیں، اگر مقررہ وقت ہو چکا ہو تو گھر میں بیٹھا ہوا شخص بھی موت کے منہ میں چلا جائے گا، اور اگر نہیں ہوا تو پر خطر حالات میں بھی انسان محفوظ رہے گا۔
﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ (سورۃ الدہر: 30)
’’اللہ کا چاہا ہی پورا ہوکر رہے گا، بیشک اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے۔‘‘
یہیں سے تقدیر پر ایمان کی بات واضح ہوتی ہے جو کہ عقیدہ اسلامی کا ایک اہم رکن ہے اور ہر قضاء و قدر پر ایمان انسان کو ایسی توانائی اور اعتماد فراہم کرتا ہے کہ محیر العقول کا رنامے اس سے سرزد ہوتے ہیں اور حیرت انگیز نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کے اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کی گئی نصیحت نہایت اہمیت رکھتی ہے :«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ»
(جامع ترمذی: 2516)
’’یقین رکھو کہ امت کے تمام افراد جمع ہو کر اگر تمہیں کوئی ایسا فائدہ پہنچانا چاہیں جو اللہ نے نہیں مقدر کیا ہے، تمہارے لیے تو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر سب مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر نہیں کیا تو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘‘
ہمارے لیے ایک طرف تقدیر پر ایمان کی اہمیت بتائی گئی تو دوسری طرف انسان کو ترغیب دی گئی کہ اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کرنے کے لیے ضروری وسائل اور درست اسباب بروئے کارلائے۔ یہاں نہ سستی اور کاہلی کی گنجائش ہے کہ محنت اور کوشش کے بغیر انسان تقدیر کا سہارہ لے اور نہ ہی اپنے زور بازو پر کلی تکیہ کرے ۔
اس دردناک حادثہ میں ایک سبق ہے سب کے لیے کہ اپنے اعمال کو درست رکھے ، نہیں معلوم کہ کب زندگی کا چراغ گل ہو جائے، کیونکہ آخرت میں کامیابی کا انحصار انسان کے آخری عمل پر ہے کہ کس پر اس کا خاتمہ ہوا اسی کے مطابق میدان محشر میں کامیابی یا ناکامی کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھمایا جائے گا۔فرمان نبوی ﷺ ہے۔:
«إنما الأعمال بالخواتيم» (صحیح بخاری: 6607)
’’اعمال کا دارو مدار اختتامی عمل پر ہے کہ وہ کس طرح کا تھا۔‘‘ لہٰذا گنا ہوں سے اجتناب ضروری ہے اور اگر بشری تقاضے سے لغزشیں ہو گئیں تو رجوع الی اللہ اور تو بہ میں جلدی کرے ، نہیں معلوم کہ کب اور کہاں پروانہ اجل آ جائے:﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾ ’’کوئی نہیں جانتا کہ کل کا دن کیا ہونے والا ہے اور کوئی کہاں اور کس حال میں مرنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ لقمان : 34)
ویسے ایک مؤمن صبح اور شام بستر پر جاتے اور بیدار ہوتے ہوئے جب دعاء مسنون پڑھتا ہے تو اسی موت کو یاد کرکے پہلے تجدید ایمان کرتا ہے :
اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا اور الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
اس واقعہ کا ایک پہلو وصیت کے متعلق ہے کہ اگر کوئی کسی مسئلہ میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو دو راتوں کا بھی انتظار نہ کرے مگر یہ کہ اس کی وصیت تحریری صورت میں ہونی چاہئے :
«مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ» (سنن نسائی:3465)
کیونکہ نہیں معلوم کہ وصیت کا وقت مل سکے یا نہیں، بلکہ موت کے علاوہ بھی کچھ ایسی بیماریاں ہیں جن میں آدمی کی دماغی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، وہ زبان تو زبان اشاروں سے بھی مدعا نہیں بیان کر سکتا۔
احمد آباد کے ہوائی اڈہ سے متصل جہاز کا حادثہ ایک خبر ہی نہیں بلکہ سبق اور عبرت کا بڑا ذریعہ ہے۔
﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴾ (سورۃ ق: 37)
تبصرہ کریں