رسول اللہ ﷺ کا پیغام قائدین و خادمین ملت کے نام۔محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

قائد کون؟ قوم کے رہنماور ہبر کو قائد کہا جاتا ہے، عرف عام میں یہ لفظ “لیڈر” سے مشہور ہو گیا ہے جو قوم کی قدم قدم پر رہنمائی کرتا ہے، سیاسی و سماجی زندگی میں لوگ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، مذہبی اصطلاح میں اسے “امیر” کہتے ہیں اور جمہوری اصطلاح میں ”صدر“ کہتے ہیں، بس فرق صرف اتنا سا ہے کہ ’’امیر‘‘ تادم حیات ہوتا ہے، یا وہ خود سبکدوش نہ ہو جائے اور امیر شوریٰ کا منتخب شدہ ہوتا ہے۔

اور صدر پانچ سالہ منتخبہ ہوتا ہے۔ فی زمانہ مسلمانوں کا کوئی متحدہ امیر نہیں ہے بلکہ دینی جماعتوں کے صدور امیر کہلائے جانے لگے اور یہ شرعی امیر نہیں ہوتے ، بعض علاقوں میں موروثی امارتیں قائم ہیں جو شرعی نہیں ہوتیں بلکہ یہ طرز ملوکیت ہے، جمہوری ملکوں میں امیر وصدر کے علاوہ کونسلر ، ایم یل اے، ایم پی، ایم یل سی، زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سی، وزیر سبھی قوم کے نمائندے تصور کئے جاتے ہیں جو قوم کا ووٹ لیکر منتخب ہوتے ہیں۔ جو بھی مسلمان قوم کا رہبر و رہنما اور نمائندہ بن جاتا ہے، اس کے لئے شریعت اسلامیہ رہنمائی کرتی ہے اور وہ شریعت کے اصول وضوابط کا پابند ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی مسلمان قائد یہ سمجھتا ہے کہ وہ رقم خرچ کر کے منصب حاصل کیا ہے اور اس پر قوم کی ذمہ داریاں اس طرح عائد نہیں ہوتیں ، جیسے امیر المسلمین پر عائد ہوتی ہیں تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ سب سے پہلے وہ مسلمان ہے، لہٰذاوہ شریعت کا مکلف ہوگا اگر کوئی بھی مسلمان قائد، لیڈر، نیتا شریعت کی پابندی نہیں کرتا اور انسانی حقوق اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا تو وہ عند اللہ مسئول رہے گا، اس ضمن میں جو تعلیمات رسول اللہ ﷺنے دی ہیں، اسے بیان کرنا ضروری ہے۔

ہر مسلمان قائد رہنما اور ہبر کو یہ جاننا ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«أَلاَوَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالَّا مِيْرُ الَّذِى عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَمَسْئُوْلٌ عَنْهُمْ »

’’ خبر دارسن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا ( یعنی ماتحت لوگوں ) کا نگہبان ہے اور قیامت کے دن اپنی رعایا سے متعلق باز پرس ہوگی ، لہٰذا امیر جولوگوں کا حاکم ہو وہ نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق باز پرس ہوگی ۔‘‘ (سنن ابوداؤد 2928)

قومی قائد کی ذمہ داری: اس حدیث شریف میں امیر، بادشاہ ، صدر، کونسلر ، ایم ایل اے، ایم پی ، ایم یل سی، وزیر سب شامل ہیں، جو کسی نہ کسی طرح قوم کی نمائندگی کرتے ہیں، اس ضمن میں وہ سب لوگ آجائیں گے جو قوم اور سماج کے نام پر خدمت خلق کی سوسائٹیاں اور ٹرسٹ چلاتے ہیں، وہ ایک طرف جمہوری نظام کے پابند ہیں تو دوسری طرف شریعت اسلامیہ کے بھی پابند ہیں، وہ یہ نا سمجھیں کہ وہ صرف جمہوری نظام کے پابند ہیں کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں، انہیں کسی نہ کسی طریقے سے انسانیت کی خدمت کا موقع میسر آیا ہے، عمومی طور پر عوامی منتخبہ نمائندے عوام کی حاجات کی تکمیل میں کوتاہی اور سست روی اختیار کرتے ہیں، وہ عوام سے ان کی تکالیف پر استفسار کرنا ضروری نہیں سمجھتے یا وہ عوام کوتسلی بخش جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے انہیں یہ اچھی طرح جاننا چاہئے کہ اللہ کے پاس ان کی سخت مسئولیت ہوگی، ایسے عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کو اپنے پیش نظر رکھیں ۔ حضرت ابومریم از دی کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا انہوں نے کہا: ” بڑے اچھے (وقت پر ) آئے میں نے کہا: میں آپ کو رسول اللہﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «مَنْ وَلَّاهُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ شَيْماً مِنْ أَمْرِ المُسْلِمِيْنَ فَاحْتَجَبَ دُوْنَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ احْتَجَبَ اللهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَتَهُ وَفَقْرِهِ »

’’جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائے تو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ سنا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا جولوگوں کی ضروریات کو سنے اور اسے پورا کر دے۔ (سنن ابوداؤد: 2948/3728)

آج مسلم امت کی زبوں حالی کی جو صورت حال ہے، دراصل قائدین کی غفلت اور لا پرواہی کا نتیجہ ہے، بے روزگاری عام ہے، جس کے سبب نوجوان نسل چوری، ڈکیتی اور قتل و غارت گری جیسی وارداتیں انجام دے رہی ہیں، ملازمتیں نہ ملنے کے سبب تعلیم یافتہ نوجوان نچلے درجے کے کام اختیار کئے ہوئے ہیں ،شعور کا فقدان ہونے کے سبب غریب طبقہ اپنی اولاد کو تعلیم دلانے سے قاصر ہے، مساجد میں بیت المال کا نظام قائم نہ ہونے کے سبب غیر مسلم رہن سنٹرز قائم کئے ہوئے ہیں اور سودی بازار عروج پر ہے، جہاں ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین کی عصمت لوٹی جارہی ہے، فاقہ کشی کے سبب خواتین جسم فروشی کا پیشہ اختیار کی ہوئی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ قائدین ، رہنماور ہبران حالات سے ناواقف و نا آشنا ہیں، چاہے وہ دینی رہنماء و پیشواؤں یا سیاسی قائدین سب ملت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں ۔ دراصل یہ لوگ اللہ کے ڈر سے بے خوف ہو چکے ہیں، تقاریر وخطابات جمعہ و اجتماعات کی شعلہ بیانی سے انقلاب و تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ میدان عمل کی ضرورت ہے۔

اطاعت امیر کے حدود: امیر، صدر اور قائد طاقت وقوت اور بالا دستی اور عوامی تائید کا دھونس جما کر لوگوں سے اپنے افکار و نظریات منوانے میں لگے ہوئے ہیں، چاہے وہ صحیح ہوں یا غلط عوام کو ماننے پر مجبور کرواتے ہیں، انہیں خوف زدہ کیا جاتا ہے ، جو بھی آدمی حق کہتا ہے یا حق کی آواز اٹھاتا ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ امیر کا فیصلہ ہے، ماننا پڑے گا؟ صدر کا فیصلہ ہے ماننا پڑے گا ؟ قائد کا فیصلہ ہے ماننا پڑے گا ! اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادت کو پیش نظر رکھنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيْمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ ، مَالَمْ يُوْمَرِ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أَمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ »

’’مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننالازم ہے، چاہے وہ پسند کرے یا نہ کرے، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے ، جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا۔ ‘‘ (سنن ابوداؤد: 2626)

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے، حضرت ابو التراب علی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لاَطَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» ’’الله عزوجل کی جہاں نافرمانی ہوتی ہو وہاں مخلوق کی اطاعت و تابعداری نہیں کی جاسکتی۔‘‘ (مسند احمد: 12116 ؛شرح السنۃ:3696 )

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

«لا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطع الله»

’’جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتا ،اس کی بھی اطاعت نہیں کی جائےگی۔‘‘ (فیض القدیر : 9901)

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ایک امیر (جن کا نام عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ تھا اور بعض نے کہا کہ علقمہ بن مجز رضی اللہ عنہ تھا ) کا واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو التراب علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور ایک آدمی کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ اس آدمی نے آگ جلائی اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کر دیا اور کہا: ہم آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کودنا چاہا، جب نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا:

«لَوْ دَخَلُوْهَا ، أَوْ دَخَلُوْا فِيْهَا ، لَمْ يَزَالُوْ فَيْهَا»’’اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے۔‘‘

اور فرمایا: «لاطَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي المَعْرُوْفِ»

’’اللہ کی معصیت و نافرمانی میں کسی کی اطاعت وفرمانبرداری نہیں ، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد :2625)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا: سنو ہم نے عرض کیا: ”یقینا ہم نے سنا“ (اس طرح آپ نے تین مرتبہ فرمایا، جب سب لوگ متوجہ ہو گئے ) تو آپﷺ نے فرمایا : ”بلا شک وشبہ میرے بعد امراء ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرنا، کیونکہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں آئے گا۔‘‘ (صحیح ابن حبان 279 ؛تخریج کتاب السنۃ:757 صحیح)

ذکر کردہ تمام احادیث سے اس بات کی تعلیم ملتی ہے کہ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کے کاموں میں امیر، صدر، قائد کی بات مانی جائےگی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے کاموں میں ان کی اطاعت نہیں کی جائےگی ۔غور کرو آج دینی جماعتوں میں انتشار مسلم قائدین کے اختلافات اس نافرمانی کا حصہ ہیں، مدارس، مساجد، مکاتب میں کتنی خونریزیاں ہو چکی ہیں دین اور اطاعت کے نام پر نفوس قدسیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر انگشت نمائی کی جارہی ہے اور زبان لن ترانی دراز کی جارہی ہے اور کروائی جارہی ہے، مساجد پر حملے کروائے جارہے ہیں ، سوشل میڈیا پر عزت ریزی کروائی جارہی ہے، غریب عوام پر ظلم و ستم کروایا جا رہا ہے، اسلام کی دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے داعی و داعیات مردو خواتین کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اور ان پر بے جانا جائز مقدمات درج کروائے جارہے ہیں، یہ سب رہبروں اور رہنماؤں کے اشاروں پر ہورہا ہے۔ چاہے وہ مذہبی رہنما ہوں یا سیاسی بازیگر، لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں چاہے وہ عالم دین ہو یا مفتی، علامہ ہو یا کوئی بھی قائد و رہنما، ان کے اشاروں پر نہ ناچیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو اپنے پیش نظر رکھیں ۔

قیادت و سیادت وبال جان: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں جو ابد ہی کا ڈر و خوف ہر وقت رکھنا چاہئے، چونکہ یہ دنیا عارضی ہے، نہ جانے موت کب آجائے اور اللہ کے ہاں کوئی معاون و مددگار نہ ہوگا، اسی لئے عہدوں کی طلب، مناصب کی خواہش نہیں رکھنی چاہئے ، بعض احباب میں عہدوں و مناصب کی خواہش بہت زیادہ ہوتی اور اس کے حصول کے لئے وہ جنگ و جدال سے کام لیتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے انہیں عزت و وقار نصیب ہوگا ۔ حالانکہ بات ایسی نہیں ہے بلکہ اس سے دوری اختیار کرنا چاہئے چونکہ یہ دنیا میں عوام الناس کے رو برو اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے رو برو سخت جو اہدہی کا معاملہ ہے، اس ضمن میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں :

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا:

« يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بن سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِذَا أَعْطِيْتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وَكِلْتَ فِيْهَا إِلَى نَفْسِكَ، وَإِنْ أَعْطِيْتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنَتْ عَلَيْهَا» ’’اے عبد الرحمن بن سمرة ! امارت واقتدار کی طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم اسے مانگ کر حاصل کرو گے تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپر د کر دئے جاؤ گے اور اگر وہ بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال رہے گی۔‘‘ (سنن ابوداؤد :2929 ؛ صحیح بخاری:6722)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُوْنَ عَلَى الاِمَارَةَ ، وَإِنَّهَا سَتَكُوْنُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً فَنِعْمَتِ المُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الفَاطِمَةُ »

’’ عنقریب تم لوگ امارت واقتدار و سرداری کی حرص کرو گے اور بلاشبہ یہ قیامت کے دن ندامت وشرمندگی اور حسرت وافسوس کا سبب ہوگی ، یہ دودھ پلاتے اچھی لگتی ہے اور دودھ چھڑاتے ہوئے بری محسوس ہوتی ہے (یعنی اس کی ابتداء اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن انجام برا ہوگا۔)‘‘ (سنن نسائی: 4216)

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو کسی سریہ کا امیر بنایا، وہ چلا گیا، جب وہ واپس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تم نے امارت ( سرداری، امیری) کو کیسا پایا؟ اس نے کہا : میں دوسروں کی طرح تھا، جب میں سوار ہوتا تو وہ بھی سوار ہو جاتے اور جب اتر تا تو وہ بھی اتر جاتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ صَاحِبَ السُّلْطَانِ عَلَى بَاب عَنَتِ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ»

’’يقیناً صاحب سلطنت شخص غلطی و معصیت کے دروازے پر ہوتا ہے، مگر جسے اللہ عز وجل بچالے ۔“ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی نہ آپ کے لئے اور نہ کسی دوسرے کے لئے ایسا کام کروں گا۔ نبی کریم ﷺاتنا ہنسے کہ آپ کے داڑھیں نظر آنے لگیں۔‘‘ (السلسلۃ الصحيحہ : 75)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ عَنِ الاِمَارَةِ وَمَاهِيَ؟ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ ، وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ ، وَثَالِتُهَا عَذَابٌ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَّا مَنَ عَدَلَ وَكَيْفَ يَعْدِلُ مَعْ أَقْرِبَيْهِ»(السلسلۃ الصحيحہ : 1733)

’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں امارت (اقتدار و سرداری) کے بارے میں بتادوں کہ یہ کیا ہے؟ اس کا پہلا مرحلہ ملامت ہے، دوسرا مرحلہ ندامت ہے اور اس کا تیسرا مرحلہ قیامت کے دن عذاب ہے، سوائے اس شخص کے جس نے انصاف کیا، لیکن وہ اقرباء کی موجودگی میں انصاف کیسے کرسکتا ہے۔‘‘

حضرات صحابہ طلب امارت سے بہت ہی دوری اختیار کرتے تھے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آخری وقت چل رہا تھا تو صحابہ کی ایک جماعت ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ ” آپ کسی کو اپنے بعد امیر نامزد کر دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”میں کس طرح یہ کام کر سکتا ہوں جبکہ مجھ سے پہلے ابو بکر(رضی اللہ عنہ) نے یہ کام نہیں کیا اور نہ ان سے پہلے محمدﷺ نے یہ کام کیا، تم ہی بتاؤ کہ میں کس کو امیر بناؤں؟ ہاں! اگر مغیرہ بن شعبہ کے غلام سالم زندہ ہوتے تو میں انھیں امیر بنادیتا ! لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے فرزند ارجمند عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کر دیں ( جو بڑے فقیہ ہیں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم ایسے شخص کو امیر بنانے کی سفارش کر رہے ہو جسے طلاق دینا تک نہیں آیا ، پھر فرمایا: ’’اگر امارت اچھی چیز ہے تو خطاب کے خاندان کا ایک آدمی اس سے مستفید ہو چکا ہے (اب دوسروں کو مستفید ہونے کا موقع دیا جائے) اگر امارت بری چیز ہے تو پھر خطاب کے خاندان کے سر یہ وہال کیوں لوں۔“ اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی اولا د کو امارت سے بچایا۔

تمام خلفائے راشدین کو بنا طلب کئے ہوئے امارت حاصل ہوئی۔ ان میں سے کوئی بھی امارت کا خواہشمند نہیں تھا، عوام الناس نے انہیں تقویٰ، پر ہیز گاری اور بزرگی کی بنیاد پرمنتخب کیا، خلفائے راشدین کے بعد ملوکیت کا آغاز ہوا پھر دوبارہ امت مسلمہ کی قیادت وسیادت تبدیل ہوئی اور خاندانی سلسلہ ٹوٹا ، بنا مانگے اور طلب کئے جس شخص کے حصے میں امارت و قیادت آئی وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تھے، جنہیں عمرثانی کہا جاتا ہے، انہیں بھی تقویٰ و پر ہیز گاری کے سبب منتخب کیا گیا تھا، امیر بنائے جانے کا علم وادارک تک انہیں نہ تھا۔ ان کے بعد پھر موروثی وراثت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔

ملت کو مشقت میں ڈالنے والے قائدین کے حق میں رسول اللهﷺ کی بددعا: امت مسلمہ کو مشقت و مشکلات سے دو چار کرنے والے امراء ، صدور وقائدین کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے بددعا کی ہے اور امت مسلمہ کے ساتھ ہمدردی کرنے والے قائدین کے حق میں دعا بھی کی ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ دعا) فرمایا:

«اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِيْ شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ جوشخص میری امت کے کام میں کسی چیز کا ذمہ دار بنا پھر اس نے ان پر مشقت و سختی کی تو تو اس پر مشقت و سختی فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور وہ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے تو اس کے ساتھ نرمی فرما۔‘‘ (صحیح مسلم: 4722)

اس حدیث شریف کے پیش نظر تمام قائدین کو چاہئے وہ علماء ہوں یا رہبر، مساجد کے ذمہ دار ہوں یا مذہبی جماعتوں کے رہبر، سیاسی قائدین ووزراء یہ جان لیں کہ انہیں اس بددعا کا مستحق بننا ہے یا دعا کا حقدار بننا ہے۔

مکار قائدین: اسی طرح وہ قائدین اور ہنماور ہبر، امراء، وسلاطین جنہوں نے قوم وملت اور رعیت کے ساتھ غداری و دھوکا دہی کی ہے، انہیں سخت تنبیہ کی گئی ہے۔

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

«مَا مِنْ عَبْدِ يَسْتَرْعِيْهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَّمُوْتُ يَوْمَ القِيَامَةِ وَهُوَ فَاقٌ لِّرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الجَنَّةَ »

’’کوئی بھی بندہ جسے اللہ تعالیٰ کسی رعیت کا حاکم بنائے اسے جس دن موت آئے وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعیت کا دھوکہ دینے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:4729 ؛ سلسلۃالصحيحہ:1782)

اسی طرح ایک اور حدیث میں اس طرح خبر دار کیا گیا ہے کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «مَا مِنْ عَبْدِ يَسْتَرْعِيْهِ اللَّهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيْحَةٍ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةِ الجَنَّةَ» ’’اللہ جس بندے کو کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ ان کے ساتھ خیر خواہی ( بھلائی و ہمدردی) نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔‘‘ ( متفق علیہ، مشكاة المصالح : 3687)

قائد عیب جوئی کا متلاشی نہ ہو: ملت اسلامیہ کے رہنماور ہبروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی خوبیوں کا احترام کرتے رہیں، باہمی کمزورویوں پر نظر نہ رکھیں، یہی معاملہ عوام الناس اور رعیت کے ساتھ بھی ہو ورنہ فساد و بگاڑ پیدا ہو جائیگا ۔

حضرت ابوامامہ اور حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہما نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْأَمِيْرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيْبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ »

’’جو حکمر ان لوگوں کے عیوب تلاش کرتا رہتا ہے تو وہ انہیں خراب کر دیتا ہے۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح 3708 ؛ سنن ابوداؤد: 3708 )

اللہ تعالیٰ ہماے قائدین، امراء ، صدور اور تمام ذمہ داروں کو اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

٭٭٭

مولانا ادریس مدنی گلاسگو کے والحد حاجی محمد حبیب جوار رحمت میں

مایہ ناز خطیب مولانا محمد ادریس مدنی فاضل مدینہ یونیورسٹی کے والد محترم بقیۃ السلف حاجی محمد حبیب 90 سال کی عمر میں وزیر آباد، منظور آباد میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

پسماندگان میں 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں شامل ہیں، مرحوم پابند شرع توحید وسنت کے علمبردار تھے، مولانا محمد ادریس مدنی نے نماز جنازہ پڑھائی، تدفین کے بعد مولانا شعیب الرحمٰن اور مولانا محمد ادریس مدنی نے قبر پر دعا کی، تقریباً 60، 70 علمائے کرام شریک جنازہ تھے۔

جن میں مولانا ابراہیم محمدی، علامہ برق التوحیدی، مولانا عبد الصمد معاذ، ڈاکٹر عبد الغفور راشد اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر وغیرہ شامل تھے۔

تعزیت کرنے والوں میں ڈاکٹر محمد حماد لکھوی، مولانا مطیع الرحمٰن باجوہ، مولانا محمد ادریس شاہد، حافظ آصف نذیر وغیرہ شامل ہیں۔ اللہ نے ان کے پوتوں اورنواسوں میں 20سے زائد حفاظ موجود ہیں، ان تمام کے حفظ مولانا مرحوم کا حصہ ہے۔

کئی مساجد کی تعمیر میں ان کا حصہ ہے، اللہ کے راستہ میں دل کھول کر مدد کرتے تھے۔

برطانیہ میں حاجی الطاف حسین رحمانی، برادر حافظ صہیب حسن مدنی، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، مولانا عبد الہادی العمری، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور بہت سے علمائے کرام وقائدین واحباب نے مولانا مدنی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ کریم بزرگ کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یارب العالمین

اللہ عزوجل نے ماہ رمضان المبارک میں اپنے پاس بلا لیا۔

جب آیا تھا تو دنیا میں سب ہنستے تھے تو روتا تھا

بسر کر زندگی ایسی کہ سب روتے رہیں تو ہنستاے جا

تبصرہ کریں